بین الاقوامی یومِ یکجہتیِ فلسطین، صدر آصف علی زرداری کا بہادر فلسطینی عوام کو سلام

جگنو

Well-known member
فلسطینی عوام کو سلام

آسٹریا میں تعینات پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے بین الاقوامی یومِ یکجہتیِ فلسطین کے موقع پر ان مظلوم نسل کی عوام کا بھرپور سلام کیا ہے جس کا جارحیت سے قائم کردہ رشتہ ختم کرنا نہایت ضروری ہو چکا ہے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں فلسطینی عوام کی بھرپور تحریک، ثابت قدمی اور عظیم قربانیوں کو زبردست ساتھ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے مظالم جو فلسطینی نسل سے لگائے جانے والے ہیں وہ انسانی حقوق کے تحفظ میں اٹھنا پوریानवادیت کا کارنامہ ہے، جو معاشرے کو اس خطے میں ناگزیر امن کی بحالی کا راستہ دے گی۔

صدر آصف علی زرداری نے یہ کہا کہ پاکستان ہمیشہ ایسے ساتھ اداکار تھا جو فلسطینی عوام کے حقِ آزادی، سلامتی اور خود ارادیت پر رکنا ہوگا۔

غزہ میں جاری انسانی بحران پر ان کی شدید تشویش کے ساتھ انہوں نے فوری جنگ بندی کی ایک ضروری ضرورت کو متعین کیا اور امدادی راستے کو کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے دنیا کی طاقتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم فلسطینیوں کے خلاف جاری جارحیت کو روکنے میں تاخیر انسانیت کے خلاف جرم ہیں، اور اب ان کی جدوجہد کو بھی نئے راستے سے چلنا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی بچوں، خواتین اور نہتے شہریوں پر مسلسل ڈھائے جانے والے مظالم نے دنیا کو جھنجھورہ کر رکھ دیا ہے، اس لیے اب جنگ بندی اور امن کی بحالی کو سادہ یہ کہتے ہوئے انہوں نے پورا دلیہ لگایا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد کو تسلیم کرنے کا بھرپور اعادہ کیا ہے، اور انہوں نے کہا کہ فلسطین کے دیرینہ مسئلے کو منصفانہ اور پائیدار طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے، جس سے خطے میں امن کا نئے دور لے آئے گا۔
 
اس فلسطینی معاملے کی توازن کو برقرار رکھنے والی بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں لوگ اس مسئلے سے متعلق زیادہ سے زیادہ بات کرتے جارے گا۔ ایسے میڈیا پر دیکھنا ہی نچنے والا ہوتا ہے کہ دنیا کی نئی صلاحیتوں سے کیسے لطف اندوز ہوا جائے گا اور اس میں ان سب لوگوں کو شامل کیا گیا جو یہاں رہتے ہیں۔ پھر بھی اگر دنیا کی نئی صلاحیتوں سے ہم فائدہ اٹھا کر اس مسئلے میں معاونت کرتے ہیں تو یقین رکھیے اس مسئلے کو حل کرنے کی بات نئی نہیں ہے۔

🤝
 
پاکستان کو ایک بار پھر فلسطینیوں پر دباؤ میں لانے کی ضرورت ہے! انہوں نے اپنے پیغام میں فلسطینی عوام کی بھرپور تحریک کو زبردست ساتھ دیا، لیکن ان کے مظالم کو حل کرنے کی کس حد تک صدر آصف علی زرداری تیار ہیں؟ غزہ میں جاری انسانی بحران پر ان کی شدید تشویش تو تھی، لیکن ایک سال سے فوری جنگ بندی نہیں ہوئی! اور یہ بات تو چھپتی ہے کہ فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد کو تسلیم کرنے کا ان کا اعادہ سستے ساتھ ہوا ہے? دنیا کی طاقتوں نے اس وقت تک ان کے مظالم کو حل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں دیا، اور اب ان کی جدوجہد کو بھی نئے راستے سے چلنا پڑا ہے? یہ صرف فیکٹری میں جاری رکاوٹوں کے لئے ایک نئے مظالم کی طاقت نہیں ہے! 😩
 
یہ تو واضح ہے کہ فلسطینی عوام کو سلام کرانے والی بات ایک ایسے مظالمی صورتحال سے باہر نہیں چلی جس کی پہلے سے بھی پوری دنیا نے معاہدات اور سلامتی کے اقدامات سے انکار کر دیا ہے. اس وقت آؤٹ لاکDOWN کی باتوں کا بہت زیادہ تکرار ہوتا رہا، اور ابھی تک کوئی اچھا حل نہیں سامنے آیا! پہلے سے ہی اس مسئلے کے لیے کہیں ایسا کہنا پڑتا تھا کہ دنیا کا سب سے بڑا معاشرہ دوسروں کو اس کی وعدوں پر عمل کرنے پر زور دینا چاہتے ہیں.
 
یہ واضح ہے کہ فلسطینی عوام کو بھرپور سلام اور معاشرے میں امن کی بحالی کے لیے اپنا کیا ہے، انہوں نے انسانی حقوق پر استحکام لگایا ہے اور یہ واضح ہے کہ غزہ میں جاری بحران کی تاخیر انسانیت کے خلاف ایک جرم ہے۔ انہوں نے دنیا کی طاقتوں سے کہا ہے کہ مظلوم فلسطینیوں کے حق میں کیا جائ رہا ہے، اور اب ان کی جدوجہد کو نئے راستے سے چلنا پڑا ہے۔

ماڈرن اسٹیٹ کا خیال یہ تھا کہ فلسطینی عوام کو سلام اور امن کے لیے اپنا کیا ہے، اور یہ کہ غزہ میں جاری بحران کی تاخیر انسانیت کے خلاف ایک جرم ہے۔ واضح ہے کہ فلسطینی عوام کو بھرپور سلام اور معاشرے میں امن کی بحالی کے لیے اپنا کیا ہے۔

اس طرح ان سے پوچھنے والا ہوتا ہے کہ فلسطینی عوام کا سلام اور معاشرے میں امن کی بحالی کے لیے اپنا کیا ہے، اور غزہ میں جاری بحران کی تاخیر انسانیت کے خلاف ایک جرم ہے۔

یہ واضح ہے کہ فلسطینی عوام کو بھرپور سلام اور معاشرے میں امن کی بحالی کے لیے اپنا کیا ہے، ان سے پوچھنے والا ہوتا ہے کہ فلسطینی عوام کا سلام اور معاشرے میں امن کی بحالی کے لیے اپنا کیا ہے، اور غزہ میں جاری بحران کی تاخیر انسانیت کے خلاف ایک جرم ہے۔
 
عزیزے یہ وہی بات ہے جو دوسروں سے بھی پوچھی جا سکتی ہے کہ فلسطینی عوام کی قربانیاں انفرادی طور پر کوئی توجہ نہیں دیتے، چاہے وہ معاشرے میں بھیڑ ڈال دیں یا سرزمین کے باقی حصوں میں پھیلے ہوئے ہوں، لیکن اس وقت کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو ساتھ دیکھا جائے اور ان کی آواز سنائی جائے۔
 
یہ تو عجیب ہے کہ انڈین پرچم پہننے والوں کو فلسطینیوں کی بات نہیں آتی ہے مگر یہاں آسٹریا کے صدر کو فلسطینیوں کی بات سے نمٹنا پڑا ہے اور انھوں نے واضح کر دیا ہے کہ مظلوم فلسطینیوں کی جانب سے ہونے والی جارحیت روکنا ضروری ہے... 🤔
 
بھائی ، اس فلسطینی یومِ یکجہتی کے موقع پر جو آسٹریا کی طرف سے ایک بھرپور سلام کیا جا رہا ہے وہ ناقابل تسخیر ہے، اس بات پر انہوں نے فلسطینی عوام کو مظلوم بننے کی وجہ سے گھبرانے کی اجازت نہیں دی اور ان کی جدوجہد میں ان کی بھرپور تحریک، ثابت قدمی اور عظیم قربانیوں کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے اپنی پیغام سے انہی فلسطینی عوام کو ایسے مظالم جو انہی نسل سے لگائے جانے والے ہیں وہ انسانی حقوق کے تحفظ میں اٹھنا پوریानवادیت کا کارنامہ ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد کو تسلیم کرنے کا بھرپور اعادہ کیا ہے اور انہیہ مقالے میں ان کی جدوجہد کو منصفانہ اور پائیدار طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے، جس سے خطے میں امن کا نئے دور لے آئے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے فلسطین کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت کے بارے میں بھی بات کی ہے، اور دنیا کی طاقتوں کو ان لوگوں کی جدوجہد کو روکنے سے باز رکھنا اور امن کی بحالی کو سادہ یہ کہتے ہوئے ان کی جدوجہد کو تسلیم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اس کی پوری بات سے مشتگ ہو کر کہنا ہے کہ یہ فلسطینی عوام کو سلام کرتے ہوئے ان کی جدوجہد میں ان کی بھرپور تحریک، ثابت قدمی اور عظیم قربانیوں کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا جارہا ہے جو معاشرے کو ایک نئے راستے سے امن کی بحالی کا راستہ دے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد میں ان کی بھرپور تحریک، ثابت قدمی اور عظیم قربانیوں کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے جو معاشرے کو ایک نئے راستے سے امن کی بحالی کا راستہ دے گا۔
 
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فلسطینی عوام کی جدوجہد ایک جارحیت سے بنائی گئی رشتہ ختم کرنے میں نہایت مشکل ہوگی اور اس کو ایسا سمجھنا بھی Problemagical होगا کہ فلسطینی عوام کو انسانی حقوق کے تحفظ میں اٹھانا انھیں پوریानवادیت کا شہر ہوگا۔

پاکستان کی جانب سے فلسطینی عوام کے حقِ آزادی، سلامتی اور خود ارادیت پر adakar dene ka koi zaruriya nahi hai۔

غزہ میڰانہ انسانی بحران پر president کا interest thoda zyada ho sakta hے aur amedadi route ko khulna pakistaan ke liye ek tarah ka political bargain hona chahiye۔
 
اس فلسطینی معاملے میں دلت و دلچسپی تو ہے لیکن یہ بات بھی تھوڑی عجیب ہے کہ دنیا کی طاقتوں نے ایسی صورتحال کو چنجانہ کرنا شروع کیا ہے جس میں 100 سال سے ہونے والا یہ معاملہ اب بھی حل نہیں ہوا۔

یہ جاننے کے لیے کہ فلسطینی عوام کس طرح مظلوم ہے، انہیں اپنی جگہ سے باہر نہ لگائیں بلکہ اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔

وہ فوری جنگ بندی اور امدادی راستے کھولنا چاہتے ہیں تو اسے ایسے بنانے میں بھی مدد ملتی ہے جو فلسطینی عوام کو سڑکوں سے باہر نہ لگائے۔

اب ایسی صورتحال کی پوری اور اچھی صلاحیت ہے۔
 
یہ بات تو ایک طرف سے کہی جا سکتی ہے کہ فلسطینی عوام کی جدوجہد کا حقیقی معنا ہے اور ان کے حقوق کو تسلیم کرنا ضروری ہے … اور دوسری طرف، یہ بھی ممکن ہے کہ فلسطینیوں کی جدوجہد میں بعض حد تک معقول و انسانی عناصر ہیں … لیکن کیا ان معقول عناصر کو اس سے مایوس کرنے دے دیا جاسکے؟ یا کیا ایسے معاملات میںHumanity کے ذریعے ہی حل تلاش کی جا سکتی ہے؟
 
واپس
Top