’’بکھری ہے میری داستاں‘‘ | Express News

بطخ

Well-known member
”بکھری ہے میری داستاں“
اعظم الحق صاحب کی خود نوشت سے شروعت ہوئی تھی مگر اس پر تبصرہ اب تک نہیں کیا گیا، پہلے بڑے بھائی جان کی وفات کے سانحے سے گذرنا پڑا تو انھوں نے انسان اور کائنات کی تخلیق کے بارے میں ایک صاف صRF نقطہ نظر پیش کر دیا۔

اعظم الحق صاحب شاعری سے ساتھ ساتھ نثر کے بھی مہار تھے اور انھوں نے کالم نگار کی حیثیت سے اپنا لوہا منوایا ہے، میں ان کا مستقل قاری ہوں اور اس کی ایک بڑی وجہ ان کا بے داغ کردار ہے، وہ ملٹری اکاؤنٹس سروس میں اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے مگر انھوں نے اپنا دامن ہر قسم کی آلودگی سے بچائ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جب انھوں نے لکھنا شروع کیا تو بہت سے دوسرے قلم کاروں کی طرح تعصّب اور جان بداری کے قلم سے نہیں لکھا۔

انھوں نے اس میدان میں قلمی دیانت اور دانشورانہ غیر جانبداری قائم رکھی، انھیں ایک سیاسی لیڈر سے بڑی توقعات تھیں لہٰذا انھوں نے 2018 میں اسے سپورٹ کیا مگر جب اُس نے اپنی کارکردگی سے مایوس کیا اور دیانت، انصاف اور میرٹ کو دوسروں سے بھی زیادہ پامال کیا تو وہ اس کی حمایت سے دستبردار ہوگئے مگر وہ موجودہ حکمرانوں کی غلطیوں پر انھیں بھی تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے۔

میں نے ان کی خود نوشت چند نشستوں میں ہی پڑھ لی ہے، مصنف نے زمانہ طالب علمی کا کچھ حصّہ اس دھاکہ یونیورسٹی میں رکھا جو کبھی ہماری مشرقی پاکستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی تھی اور جس کا تعلیمی معیار مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) سے کہیں بلند تھا۔

اظہار صاحب نے اُن ایام کو اتنی محبّت سے یاد کیا ہے کہ کتاب کے پہلے ساٹھ صفحات اس کے لیے مختص کردیئے ہیں، بنگالی طلباء کی محبّت اور مہمان نوازی کے واقعات بھی لکھے ہیں، وہاں کے اساتذہ کے اعلیٰ معیار کی تصویر کشی بھی کی ہے۔

ان کے ساتھ مغربی پاکستان کی نام نہاد اشرافیہ، بیوروکریسی اور حکمرانوں کے غیر منصفانہ سلوک کا بھی ذکر کیا ہے اور بڑی درد مندی کے ساتھ بنگالی بھائیوں کا کیس بڑے موثر انداز میں پیش کیا ہے۔

مغربی پاکستان کے کسی سیاستدان یا دانشور نے شاید ہی کبھی اس قدر پیار میں گندھی ہوئی تحریر میں اُن کا مقدمہ پیش کیا ہو، ڈھاکہ یونیورسٹی کے احوال میں انھوں نے اپنے روم میٹ اور دوست کا بھی ذکر کیا ہے جو سی ایس ایس کرکے ڈی ایم جی میں شامل ہوا اور ڈپٹی کمشنر بھی بنا۔

لکھتے ہیں ’’حد سے زیادہ ذہانت اور ڈی ایم جی میں ہونے کے باوجود اعلان عظم کا سول سروس کا کیرئیر ناقابل رشک رہا‘‘ اس کی ایک وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ ’’وہ سارے کام جو اس کے سینئر چھپ کر کرتے، وہ برملا کرتا۔‘‘

اس نے کبھی کچھ نہیں چھپایا، کھلی کتاب رہا، یہ کتاب ضرورت سے زیادہ کھلی رہی، یہاں تک کہ اوراق اڑنے لگے‘‘ اب ’کھلی کتابوں‘‘ میں بہت اضافہ ہو چکا ہے، پہلے تو پھر بھی کوئی پوچھنے والے ہوتے تھے۔ کچھ سینئرز کا ڈر اور کچھ میڈیا کا خوف ہوتا تھا۔

مگر اب تو انھیں کسی کا ڈر خوف نہیں رہا، پہلے تو کبھی کبھار ایسے ’’دیدہ دلیر‘‘ افسوں کے پرزے بھی اڑ جاتے تھے مگر اب تو اوراق تک نہیں اُڑتے۔ سابق مشرقی پاکستان کے ذکر میں انھوں نے تحریکِ پاکستان کے مجاہد ایک انگریزی معاصر کے سابق ایڈیٹر الطاف حسین کا بھی بخوبی تعارف کرادیا ہے۔ جو بہت ضروری تھا، ویسے اب اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ

یہ منزل انھیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے۔ اظہار الحق صاحب نے اپنی داستانِ حیات میں اپنے والدین اور grandparents کا ذکر جس محبّت اور عقیدت کے ساتھ کیا ہے، وہ بڑا ہی قابلِ تحسین ہے۔

جدید تہذیب جب سے گھروں میں گھسی ہے، بچوں کے لیے دادا اور دادی بالکل irrelevant ہو گئے ہیں بلکہ والدین کے ساتھ بھی ان کا تعلق کمزور ہوگیا ہے، مگر اظہار الحق صاحب کی اپنے والدین کے ساتھ انسیت اور محبّت ان کے آخری سانس تک برقرار رہی۔

کتاب کے یہ ابواب بڑے ہی سبق آموز ہیں اور نئی نسل کو ضرور پڑھنے چاہئیں۔ انھوں نے درست لکھا ہے کہ ’’کوئی گوشت پوست کا بنا ہوا انسان برداشت نہیں کرسکتا کہ کوئی دوسرا شخص اس پر سبقت لے جائے‘‘۔

یہ باب پڑھ کر نوجوانوں کو پتہ چلے گا کہ کس طرح والدین کی دعاؤں کے طفیل دور افتادہ گاؤں کا بچہ سول سروس کے آخری زینے تک پہنچتا ہے اور پھر کس طرح خدمت گذار بیٹے کی ہر تکلیف اور ہر آزمائش میں والدین کی دعائیں ڈھال بن کر اس کی حفاظت کرتی ہیں۔

بچے کچھ بھی بن جائیں، والدین کے لیے بچے ہی رہنے چاہئیں اور انھیں والدین کو یہ محسوس کراتے رہنا چاہئے کہ وہ والدین خاص طور پر والدہ کے لیے اسی طرح بچے ہیں جس طرح پچاس سال پہلے تھے۔

کل ہی ہمارے پرانے دوست اور کلاس فیلو (جو سیکریٹری خارجہ بن کر ریٹائر ہوئے) میری نئی کتاب افکارِ تازہ میں والدہ صاحبہ کی یاد میں لکھے گئے مضمون کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتا رہے تھے کہ انھیں بھی اپنی والدہ سے بے پناہ عقیدت اور محبّت تھی۔

اور وہ سفیر بن کر بھی اپنی والدہ محترمہ سے مل کر اُس طرح لاڈ پیار کیا کرتے جس طرح چار پانچ سال کی عمر میں کیا کرتے تھے۔ افسوس کہ جدیدیت کے تحفوں (بشمول موبائل فونز) نے مل کر اولاد کی والدین کے ساتھ جذباتی انسیت اور لازوال محبّت کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔
 
”میری ماءُ کی ہار نہیں، مجھے وہی جائہ دیکھنی ہے جہاں میرا پاپا تھا“ #آزماالحق_صوفی #میریداستانیں
 
عظیم حقیقت یہ ہے کہ اظہار الحق صاحب نے اپنی تحریریں لکھنے کے بعد بھی غلطیوں میں پھنسنا جاری رکھا ہے، وہ جو کہ اس کی تحریریں لکھتے ہوئے دیکھتے تھے ان پر اب تک کسی بھی شخص نے تبصرہ نہیں دیا۔ وہ لوگ جو اپنی غلطیوں کی وجہ سے لاشک رہے ہوتے تھے ان کو اس کی تحریریں دیکھنے والا ایسا کچھ نہیں دیکھتا جو اس کے غلطیوں کو واضح کر سکتا ہو۔
 
ایسا یقیناً اپنی خود نوشت میں اظہار الحق صاحب نے سول سروس میں چلے جانے کے بعد کس طرح مختلف مقامات پر رہنے، کیسے محض بھیڑوں اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی مہارت اور قدر کو ظاہر کیا ہے جس میں ان کی شاعری اور نثر دونوں پر نظر آتی ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی یقینی طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے دل کی گہریت سے اور لوگوں کے ساتھ اپنی حقیقی مٹی سے لکھتے تھے، انھوں نے ہمیشہ اپنی آخری قلمی صفت پر فخر کیا ہے کہ وہ کبھی بھی تعصّب اور جان بداری سے کچھ لکھتے نہیں، وہ بھیڑوں میں چلے جانے والے کلاکی اور پانچے پر جسمان کا محسوس نہیں کر رہتے ۔
 
تجربہ دھونے میں بھی نہیں آتی کیوں؟ اگر دوسروں کے شوقات اور رہن سہن شوقات کو یقیناً پورا کرنا ہوتا تو اس میں سے ایک جو بھی نئی وہ کچھ لاکھ کی سے زیادہ کوشش کرے گی وہ ہر وقت اپنے والدین کو پیار اور محبت سے بھری ہوئی باتوں سے بھرا ہوا کچھ چھپانے کی جگہ نہیں دیتا۔
 
ہاں یہ بات تو صاف ہے کہ اس نے وہاں سبق نہیں سیکھے جو کبھی بھارتی نہاتین کی بھرپور مخالفت کر رہے تھے، اُنھوں نے ہی بھارتی فوج میں اپنا سرجہ لگایا کئی بار ۔
 
عظم الحق صاحب کی خود نوشتیں پڑھ کر مجھے بھی اُس کے ساتھ مل کر ان کا شکر گزارنا چاہئیے۔ وہ ایک طاقتور شخص تھے جو اپنے جذبات سے لالچ نہیں کرتا اور اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ جب تک انسان نے اپنی معاشرتی وہلے کیوں رکھا ہے، وہ ہمراہ نہیں جا سکتا۔

انھوں نے اپنے تحقیقی کام کے ذریعے اس حقیقت کو یقینی بنایا ہے کہ اگر معاشرتی وہلے دور پھینٹے جائیں تو ہمیں نہیں مل سکتے اور اُن سے نہیں باہمی تعلقات بنایا جا سکتا۔

ان کے تحریریں پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دوسروں کی بھی اسی طرح عادتوں کا اشارہ کرتا تھا، جیسا کہ ان کا یہ بات کہ وہ ملک میں ہی نہیں رہ سکتے لیکن اس وقت کی حکمرانوں کو اُس پر حق پھیلانے کے لئے اپنی زندگی کا بدلایا تھا، وہ سب کچھ ہمیشہ ہی واضع کرتا تھا۔
 
وہاں تک کہ بنگالی طلباء کی محبت اور مہمان نوازی کے واقعات کا ذکر کرنا ان کے لیے بہت اچھی بات ہے، انھوں نے وہاں کے اساتذہ کے اعلیٰ معیار کی تصویر کشی بھی کی ہے، یہ محض ایک دوسرے کو یاد رکھنے اور فخر کرنے کے لیے ہے مگر وہاں کے معاشروں میں یہ سارے لوگ بھی نہیں تھے، انھوں نے اس فیلڈ میں اپنی کھلکٹی اور ذاتی شان کی بات کر دی ہے۔
 
عظیم اعظم صاحب کی اس خاندانی قمیض کی ڈائریکٹر کپشن میرا خاص احترام ہے، وہ ایک جگہ پہلے سے نہیں آئے تھے لیکن دوسری جگہوں میں انھوں نے اپنے ڈرامے کی رانی لکھی ہے، اس کو پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک سہارے جیسے ہیں جو کبھی بھی نہیں آئے تھے مگر انھوں نے اپنے سفر میں پھنس کر ایسا بنایا ہے، انھوں نے ایک سہارا جو چاہتا تھا وہی کیا، انھوں نے اپنی زندگی کی دھول کو سفید کیا۔
 
ہاں ایک بات یقینی ہے اعظم الحق صاحب کی کتاب وہی کامیابی سے پڑھی گئی جو ان کی لکھنی کی طاقت اور جوش میں ہوئی تھی، اس لیے بہت لوگ اس پر مایوس نہیں رہنے چاہئیں۔

ان کی کتاب میں وہی محبت اور عshawرت ایک دوسری کے ساتھ پائی گئی تھی جو انھوں نے اپنی زندگی میں دیکھی ہے، اُن کی تحریر اس حقیقت کو پہچاننے کی کوشش کرتی ہے کہ وقت کا ختم ہونے کے بعد بھی یہ محبت اور محبت کی تعلقات جاری رہ سکتے ہیں۔
 
اس وقت کی سیاسی رہنماؤں نے سول سروس کرنے والوں کے ساتھ ان کے تعلقات کو توڑا ہے، پھر بھی اعظم الحق صاحب نے اپنی ایسی تحریریں لکھی ہیں جو کسی کی جھلکی ہی بھی نہیں دیتی ۔ ان کا یہ رہنما کردار تو اب تک کسی کی سائن پہنانے سے کفیل نہیں ہوا، وہ اپنی داستانیں لکھ کر لوگوں کو ایسی ہی زندگی کی راہ بھی رکھتی ہے جو انھوں نے خود رچی تھی۔
 
”جب ایک گروہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو وہ آپ کی دیکھ بھال کرتا ہے، جب ایک گروہ لوگ آپ کو نہیں دیکھتے تو وہ آپ کی دیکھ بھال کرنے والے نہیں ہوتے۔“
 
اظہار صاحب کی اپنی نئی کتاب افکارِ تازہ میں لکھا ہوا یہ بات ایک دلچسپ بات ہے کہ وہ اُس وقت سے زیادہ محبت اور عقیدت اپنے والدین کی طرف نہیں ہارائیں گے جس کا اعلان عظم کے سول سروس کے کیرئری میں ڈھل کر کامیابی حاصل کرنے کے بعد وہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنی والدین کی طرف محبت اور عقیدت کم کرنے میں کوئی جھلک ہار رہے ہیں، بلکہ وہ یہاں تو ایک سیاسی اور سوشل مڈیہ منظر نامہ کا حصہ بنتے ہیں، لیکن ایسے حالات میں بھی ان کا جذبہ اور محبت آپ کو اس کی کتاب پڑھنے سے بھی محسوس ہوتا ہے، وہ ایسی باتوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہ ان میں مریض یا مرے ہوئے لوگوں کو بھی اپنی ماں اور دادی کی طرح محبت کا احساس حاصل ہوتا ہے، ایسے حالات میں وہ پوری دیر اپنے والدین کی طرف سے محبت اور عقیدت کو برقرار رکھتے رہتے ہیں، جو ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اور جس سے وہ اپنے کام میں بھی اعجاز پہنچاتے رہتے ہیں۔
 
اس کتاب میں ایک کئی واقعات نہیں ہیں جو اس کے مصنف سے نہیں معلوم۔ مثال کے طور پر یوں کہ لکھا گیا ہے کہ ’’ایک اور شخص کے جسم کو گولیاں لگائیں‘‘ مگر انھوں نے کسی کی تفصیل نہیں دی ہے۔

اس کا ایک اور پریشانی کا ماحول تازہ دلی میں سائنسدانوں، عالمی شہرت والے وائس ریسپانڈنٹ، نوبیل انام یافتہ، نوجوانوں کی ایک جماعت میں ہے جو آج بھی یہ بات کے لیے جانا جاتا ہے کہ وہ نئی دنیا کے تعلیمی نظام کو ہمیشہ سے بہت آگے بڑھانے میں ہمیشہ معاون رہے ہیں۔

اس نے لکھا ہے کہ ’’دنیا کو پہلی بار اس طرح دیکھنا بہت یادگار ہوگا‘‘ اور وہ یقین رکھتا تھا کہ ’’اس نئی دنیا میں سائنسدانوں کی پہچان انھیں زیادہ سنزور دی جائیگی‘‘ ۔

اور آج اُنھیں کوئی سایہ نہیں پہنایا گیا جو وہ سمجھتے تھے۔
 
انھوں نے کبھی بھی بہت کچھ چھپایا نہیں، اس لئے جب وہ خود نوشت شروعات کرنے پر آگے آئے تو کوئی پوچھنے والا نہیں رہا۔
 
واپس
Top