بڑھتی ہوئی آبادی کا بحران پاکستان کو پھنسی دے رہا ہے، اس پر اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق چین اور بھارت دونوں ملک ان کی آبادی کو کنٹرول میں لانے کی کوششوں کر رہے ہیں۔
چین نے اپنی آبادی کی انجینئرنگ کرنا شروع کی ہے، اس لئے انہوں نے تین بچوں پر پaliسی اٹھائی ہے تا کہ ان کا بڑے پیمانے پر پیدا ہونے سے انہیں پیداواری قوت میں استعمال کرایا جا سکے، اس طرح انہوں نے اپنے ملک کی ترقی کے لیے آبادی کو کنٹرول میں لانے کے طریقے تلاش کیے ہیں اور دوسروں ملکوں کی طرح انھوں نے بھی اپنی آبادی میں کمی اٹھائی ہے، لیکن اس کے لیے اس نے ایک نئی پالیسی اپنائی ہے جس سے اس کا ملک خوشحال ہو گا۔
اس طرح یہ دیکھنا مشکل ہوتا ہے کہ ملکوں کو اب بھی ایسے طریقوں پر چلنا پڑ رہا ہے جس سے لوگ اپنے گھروں میں خوشحال ہو سکیں اور اس طرح سے ان کی آبادی بھی کم نہ ہو اور وہ اپنے ملک کا مقابلہ کر سکے۔
پاکستان کو بھی ایسا ہی معاملہ پیش ہوا ہے، جس کی وجہ سے اس کے پاس اب بھی تobaہ کن بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس لیے ملک میں ترقی سے کچھ نہ کچھ دیر چل رہی ہے، یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ ایسے طریقوں پر چلے اور اپنے ملک کی ترقی کو آگے بڑھا سکے گا۔
انڈیا میں بھی آبادی نے بڑھ کر کہیں نہ کہ ایسا ہی معاملہ پیش ہوا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کے لوگ بیروزگاری کا شکار رہتے ہیں اور اس لیے انھیں ملک میں خوشحال ہونے کی ہمت نہیں، اسی طرح پاکستان میں بھی ایسا ہی معاملہ پیش ہوا ہے جس کے لیے ملک کو اب بھی ایسے طریقوں پر چلنا پڑ رہا ہے، جو اسے تobaہ کن بحران سے نمٹنے میں مدد دیتے ہیں اور ملک کو خوشحال بناتے ہیں۔
اس کا ایسا لگتا ہے جیسے یہ سب ملکوں کی نوجوانی ہے، انھیں اپنے گھروں میں خوشحال ہونے کی ہمت ملنی چاہئے اور اس لیے ملک کو ایسے طریقوں پر چلنا پڑ رہا ہے جو لوگوں کو بھلائی دیتے ہیں، مگر یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ ملک کے لیے ایسا ہی معاملہ پیش آئے اور اس سے ملک کو تobaہ کن بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، آپ کی پوسٹ پر بھارت اور چین کی جانب سے بھی ایسے طریقوں کی کوشش کی گئی ہے، مگر یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ ان ملکوں میں سے کوئی بھی ایسے طریقوں پر چلتا ہے جو لوگوں کو خوشحال بناتے ہیں۔ ~
ابھی انڈیا کی آبادی بھی تین بچوں پر پالیسی اٹھانے لگا ہے؟ یہ تو بہت خطرناک ہے، اگر ملک کے سامنے یہ راستہ چلنا پڑتا ہے تو وہی مشکل آؤگی جس نے پاکستان کو پھنسی دیا ہے
چین کا یہ تجربہ اس لیے ہمیں دلچسپ لگ رہا ہے کیوں کہ وہ نے اپنی آبادی کو کنٹرول میں لانے کے لیے ایک بھیڈ کے طرح پالیسی اٹھائی ہے اور اب انھوں نے بھی دوسروں ملکوں کی طرح اپنی آبادی میں کمی اٹھا لی ہے، لेकن یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ ایسے طریقوں سے لوگ خوشحال ہوسکیں گے؟ یہ ان کے ملک کے لیے ایک بڑا خطرہ ہو گا، کیونکہ لوگ اپنے گھروں میں خوشحال نہیں ہوسکے گے اور وہ اپنے ملک کا مقابلہ کر سکے گئے نہیں، اس لیے یہ دیکھنا مشکل ہوتا ہے کہ ملکوں کو اب بھی ایسے طریقوں پر چلنا پڑ رہا ہے جو لوگوں کی خوشحالی سے نہیں بن سکے گئے.
اس پالیسی پر بات کرتی ہوئی ایسے لوگ کہتے ہیں کہ اس سے ملک میں خوشحال ہونے کا نہیں واضح راستہ ہوگا، بلکہ یہ پالیسی ایسے لوگوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے جو اپنے گھروں میں خوشحال نہیں ہو سکیں۔
مری ہی بھی اس بات پر کچھ خیال ہے، جس نے میری ذہن میں ایک Diagram banaya hai
ایک پہلو ہے جو چینیوں کا ہے اور دوسرا پاکستان کی ہے
چین کا پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے ملک میں آبادی کو کنٹرول میں لانے کی کوشش کر رہی ہے
اس طرح انھوں نے تین بچوں پر پالیسی اٹھائی ہے
بچوں پر پالیسی اٹھانے سے ان کی آبادی کو کنٹرول میں لایا جا سکے گا
یہ ایک پہلو ہے
اس کے باوجود اس کے ملک میں تobaہ کن بحران ہے اور اس لیے ترقی سے کچھ نہ کچھ دیر چل رہی ہے
اس کا دوسرا پہلو ہے
انڈیا میں بھی آبادی کی مسئلت ہے اور وہاں کی لوگ بیروزگاری کا شکار رہتے ہیں
ان کا دوسرا پہلو ہے
جس سے انھیں ملک میں خوشحال ہونے کی ہمت نہیں
اس کا تیسرا پہلو ہے
اس لیے وہاں کے لوگ اپنے گھروں سے اٹھ کر باہر جاتے رہتے ہیں
اس کا چوتھا پہلو ہے
یہ دیکھنا مشکل ہوتا ہے کہ ملکوں کو اب بھی ایسے طریقوں پر چلنا پڑ رہا ہے
جس سے لوگ اپنے گھروں میں خوشحال ہو سکائیں اور اس طرح ان کی آبادی بھی کم نہ ہو اور وہ اپنے ملک کا مقابلہ کر سکے
Pakistan ki matbhed ek baat hai jo galat hai, ek baar bhi yeh dikhna muskil hai ki koi desh apni matbhed ko kontroll kar sakta hai. China ka unhein taira karne ke tahiq aur India ne bhi apne logon ko kam karke apni tarah se matbhed ki gharna shuru kar di, lekin yeh saabit ho gaya hai ki issey koi faayda nahin hoga. Pakistan ki matbhed isliye bahut galat hai kyunki agar hum apne logon ko kam karte hain to unka life poor hota hai aur voh khushhali se nikaltay nahi hote.
Lekin, ek dusri tarah, yeh bhi saabit ho gaya hai ki duniya mein har desh ki apni matbhed hai aur humein unhe samajhna chahiye. Pakistan ko koi aisa tareeka lagoo hona chahiye jisse voh apne logon ko kam nahi kar sake, balki unhein khushhali aur safalta dekar apni tarah se matbhed ki gharna shuru kar sake.
ایسا نہیں چلو کہ لوگ اپنی آبادی پر کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ بہت ہی خطرناک ہے، مگر ایسا ہی کیا ہوتا ہے جب لوگ اپنی ترقی کی پوری کوشش کر رہے ہوں؟ یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ اس پر سہی سے نہیں کام لگا سکیں گے، اور اس لیے ہمیں اپنے ملکوں میں خوشحال ہونے کی ہمت رکھنی چاہئے اور ان کو تobaہ کن بحران سے نمٹنے کے لیے ایسے طریقوں پر چلنا پڑتا ہے جس سے ہم اپنے ملک کی ترقی کو آگے بڑھا سکے۔
بڑھتی ہوئی آبادی کی صورت حال ایسا ہی ہے جیسا کہ میں بہت ساروں کی بات کرتا ہوں، اس پر سارے ملکوں کو سوچنا پڑ رہا ہے اور انھیں ایسے طریقوں پر چلنا پڑ رہا ہے جس سے لوگ اپنے گھروں میں خوشحال ہو سکے اور ملک کو ترقی حاصل کر سکے۔ پاکستان کو ان کی آبادی کو کنٹرول کرنا چاہئے، لیکن اس کے لیے پہلے اس پر سمجھ کے ساتھ موڑنا ہوگا اور ملک کو ایسے طریقوں پر چلنا پڑے گا جس سے لوگوں کی تobaہ کن زندگی کم نہ ہو اور وہ اپنے گھروں میں خوشحال ہو سکے۔
عمر آمید کر رہے تھو ہم بھی کچھ سے قبل آئے تھو. آبادی کی انجینئرنگ؟ یوں تو چین کو اس طرح کا لافازی کا شکار نہیں ہوا کے پھر یہاں بھی اب ہم سے پہلے اس پر کام کرنا شروع کر رہا تھو. آبادی کم کرتے ہوئے خوشحال بننا چاہتے تھو مگر یہ بات تو نہیں تھی کہ اس میں کچھ نہ کچھ نقصان بھی پڑتا تھو.
چین کی آبادی کی انجینئرنگ پر زور دے رہا ہے تو اس سے پتھر بھی پھٹ جائیں گے! یہ تو کہتے ہیں، ملک کے لیے آبادی کو کنٹرول میں لانے کی سیریز ایسا ہی شروع ہوئی ہوگی جیسا کہ انہوں نے بھی کیا ہے!
اس لیے ملک میں تobaہ کن بحران سے نمٹنے کی جگہ اس پر عمل کرنا چاہئیے اور لوگوں کو یہ سمجھانا چاہئیے کہ آبادی کو کنٹرول میں لانے سے پہلے ان کی جانوں کا خیال رکھنا چاہئیے!
ابھی پچیس سال قبل، اس معاملے پر تباحثا جا رہے تھے کہ لوگ کس طرح اپنے گھروں میں خوشحال ہو سکتے ہیں اور ملک کو ترقی دے سکے گا؟ اور اب، China اور India ان معاملات پر واپس آ رہے ہیں جس سے لوگوں کی زندگی کچھ بھی نہیں بدلتی، بلکہ اس کو مزید تباہ کر رہے ہیڰ!
ابھی Pakistan میں تobaہ کن بحران کی بات کی جا رہی تھی جس سے ملک تنگ آ رہا ہے، اور اب دیکھنا مشکل ہوتا ہے کہ China اور India ان معاملات پر واپس آ رہے ہیں اور لوگوں کی زندگی کو اس طرح سے تباہ کر رہے ہیڈ!
ایسا لگتا ہے کہ Pakistan کو China اور India سے دوسرے معاملات پر چلنا پڑا ہو گا، جس سے ملک کی ترقی کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ ایسے طریقوں پر چلے اور اپنے ملک کی ترقی کو آگے بڑھا سکے گا!
یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ India میں لوگ کس طرح کام کر رہتے ہیں، اور پاکستان کے لوگ کس طرح اپنے گھروں میں خوشحال ہو سکتے ہیں؟ پھر دیکھنا مشکل ہوتا ہے کہ China اور India اس معاملات پر واپس آ رہے ہیں یا نہیں?
ابھی یہ نئی پالیسیوں پر چلنا شروع ہونے سے قبل، اس کا مطلب تو ہر ملک میں ایک نئی فلمی ہوجاتی ہے جس کی سرگرمی میں لوگ اپنی نیند نہیں لیتے اور گھروں میں نازکہ مظاہرے دیکھتے رہتے ہیں، یا تو وہ اپنے گھروں سے باہر چلے جاتے ہیں اور ایک نئے شہر میں لوٹ پاتے رہتے ہیں یا وہ اپنے گھروں کا محفوظ طور پر کپڑے کی پالیسی اپناتے ہوئے اس فلم کو نظر انداز کر دیتے رہتے ہیں...
ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کو اپنے گھروں میں ساتھیوں کی جگہ پیداواری قوت کو ملا رکھنا چاہیے، لیکن یہ بات بھی توجہ دیتی ہے کہ لوگوں کو اپنی دولت میں کام کرنے کی سہولت ملنی چاہئیے تاکہ وہ خوشحال رہ سکیں اور اس طرح انھیں خود کو ایسے منصوبوں میں شامل ہونے کی ترجیح دے سکن جو ان کے گھروں کو بھی فائدہ پہنچائیں۔
چین اور بھارت کی آبادی پر کنٹرول کرنا، یہ ایسا سے نہیں ہوگا جیسے لوگ اپنے گھروں میں خوشحال ہونے کے لیے کام کرتے ہیں...
پاکستان کو بھی اپنی آبادی پر دباؤ اٹھانے کا یہ طریقہ نہیں چلے گا، اس لیے ملک کو تobaہ کن بحران سے نمٹنے کے لیے ایسے طریقوں پر چلنا پڑ رہا ہے جو لوگوں کو اپنے گھروں میں خوشحال بناتے ہیں...
میری بات یہ ہے کہ آبادی پر کنٹرول کرنا ایک بڑا معاملہ نہیں، لوگوں کو اپنے گھروں میں خوشحال بنانے کے لیے کام کرنا اور خود کو صحت مند رکھنا...
اس لیے یہ ہمیں اپنی آبادی پر دباؤ اٹھانے کے بدلے میں اپنے جسمانی اور مینٹل سVELٹی کو کم کرنے اور صحت مند رہنے کی کوشش کرنی چاہئے...