بچوں کی آن لائن سکیورٹی کیلئے نیا قانون نافذ

شعرونثر

Well-known member
متحدہ عرب امارات میں ایسے نئے قانون کی آواز ہو رہی ہے جو بچوں کے لیے انٹرنیٹ کا سوال کھینچنے میں مدد کر سکتے ہیں،لیکن اب اس سلسلے میں ایک آم ترانہ ہوا ہے جس سے ملک کا تمام پتھر سرج رہ گئے ہیں۔

دنیا بھر میں بچوں کی انٹرنیٹ پر لپٹن ایک ایسی چیلنج بن گئی ہے جو کہ کبھی کوئی نہ کوئی نے سمجھ لیا ہوتا ہے۔ لیکن متحدہ عرب امارات میں ایک نیا قانون نافذ کردیا گیا ہے جو بچوں کی آن لائن سکیورٹی کیلئے ہے، اس کے تحت والدین کو اپنی مرضی سے ان کے لیے پلاٹ فارمز کی نگرانی کرنا ہوگی، نئے قانون میں ایسی شرائط شامل ہیں جو لوگوں کو سمجھنے میں چیلنج ہیں۔

نئے اماراتی قانون کے مطابق والدین کو اپنے بچوں کی دیجیٹل سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہوگا، انہیں پورا ایم ٹی وی، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر ہونے والے تمام مواد کے درجہ حرارت کو دیکھنا ہوگا، یہ بھی نئے قانون کا حصہ ہے جس سے والدین کو انکے بچوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا ہوگا۔

نئے قانون میں ایسی پابندیاں شامل ہیں جو دوسرے ممالک سے نہیں ملتیں۔ یہاں بچوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کی ذمہ دار ڈیجیٹل کمپنیاں بھی ہوں گی، ان کو ایسے مواد پیش کرنا ہوگا جو کہ نوجوانوں اور بچوں کے لیے منصفانہ اور محفوظ ہوں گے۔

یہ بھی نئے قانون میں شامل ہیں کہ والدین کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو آن لائن تشدد، بلیک میلنگ، فراڈ اور غیر اخلاقی مواد سے محفوظ بنائیں۔ نئے قانون میں ایسے مواد کے درجہ حرارت کو دیکھنا ہوگا جس سے بچوں کی صحت مند ماحول پیدا ہوا ہوگا۔
 
یہاں تک کہ متحدہ عرب امارات میں نئے قانون کی آواز آ رہی ہے، لوگوں کو اس پر فھرست رکھنا پڑ رہا ہے کہ یہ کیا حقیقت ہے اور نہیں ۔ ایسے بچوں کی ہم جانتے ہیں جو اپنے مرضی سے کھیل ساتھ انٹرنیٹ پر پھوسدے ہیں، اور ان کی والدین کو بھی یہی حقیقت ہے۔ لیکن نئے قانون میں شامل ہونے والی پابندیاں کا مقصد ایسی پالسیوں سے لے کر وہاں تک پہنچنا چاہیے جہاں بچے اپنی صحت مند زندگی کو آجھا ڈالتے ہیں۔
 
یہ تو ایک بڑی بات ہے، بچوں کے لیے محفوظ انٹرنیٹ کا سوال ہمیں حل کرنے میں مدد کر سکتا ہے، لیکن اب دیکھ رہا ہوں کہ لوگ اس قانون پر بہت تیز تیز بات کر رہے ہیں، کچھ لوگ یہاں تک کہ ایسے پابندیاں شامل ہونے کی نامندگی کرتے ہیں جو پورے دوسرے ممالک میں موجود ہیں، یہ تو بے فایده ہیں...
 
اس نئے اماراتی قانون سے بچوں کے لیے انٹرنیٹ کا سوال کھینचनے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن والدین کو اپنے بچوں کی دیجیٹل سرگرمیوں پر نظر رکھنا پڑے گا؟ یہ ایسا لگتا ہے جیسے کہ والدین کو ان کے لیے ایک نئی مرمت کرنی ہوگی۔ میں انھیں بتاتا ہوں کہ کچھ ملک کہتے ہیں کہ "نائٹ رائیڈرز" بھی ایسا ہی ہیں، جہاں والدین کو اپنے بچوں کی دیجیٹل سرگرمیوں پر نظر رکھنا پڑتا ہے اور ان کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے۔ میرے خیال میں نئے اماراتی قانون سے بچوں کے لیے انٹرنیٹ کا سوال کھینچنے میں مدد مل سکتی ہے، اور والدین کو اپنے بچوں کی دیجیٹل سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
 
یہ نئے قانون بچوں کے لیے ایک بڑا فائدہ دے سکتا ہے، لہٰذا یہ بھی ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں کی محفوظی کیلئے تاجہ پہ ہوں اور ان کے لیے سیکورٹی کو prioritise karein 🙏

لگتا ہے کہ یہ قانون نوجوانوں اور بچوں کی دیکھ بھال کیلئے ضروری ہے، لہٰذا اسے ٹھیک سے سمجھنا اور ان کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرنا چاہیے 😊

اس قانون کی نافذات کیلئے تمام ملکی گورننگ Bodies ko milna chahiye, taki yeh sunishchit ho jae ki har bache ka digital khela risk free ho 🤝
 
عرب امارات میں انٹرنیٹ پر لپٹنے کے بارے میں ہمیں ابھی بھی سنہری بات کہنی پڑتی ہے۔ نئے قانون کے تحت والدین کو اپنے بچوں کی دیجیٹل سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہوگا، یہ ایک اچھی بھرپور بات ہے لیکن ابھی تک نئے قانون کے بارے میں زیادہ بات نہیں کی گئی ہے۔

میری رाय یہ ہے کہ بچوں کو ایک سائٹ پر صرف ایسا ہیڈفون کھینچنا پڑے جو ان کے والدین کی مرضی سے ہو، اس طرح وہ اپنی سائیڈ لائن کے بارے میں بھی پورا کنٹرول رکھ سکیں گے۔
 
یہ نئے قانون ہر طرح کی پرہیز کی بات کرتا ہے، لیکن یہ سوال ہے کہ اس قانون میں ہم کیسے اپنے بچوں کو محفوظ بنائئیں؟ وہاں ایک بات یقینی ہے جوڈے والدین ہیں جنہیں اپنی مرضی سے پلاٹ فارمز کی نگرانی کرنا ہوگا، یہ تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے بچوں کو محفوظ رکھ سکائیں؟

میں اس بات سے متعقد ہوں گا کہ یہ نئے قانون کبھی بھی ہمیشہ نہیں پورا کر سکتا، والدین کی ذمہ داری اور ان کی صلاحیتاں میں فرق ہو سکتا ہے، لیکن یہ کہنا کہ انہیں اپنے بچوں کو محفوظ بنانے کے لیے پوری ذمہ داری ہے، میں تو اس بات پر متفق ہوں گا۔
 
اس نئے قانون سے پتا چalta ہے کہ یہ بچوں کو انٹرنیٹ کے خطرے سے محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے؟ یا یہ تو ایک اور طریقہ ہے، جس سے والدین کو اپنے بچوں کی انٹرنیٹ پر لپٹن پر دھیروں میں چھپا دیا جائے؟

اس قانون کے تحت والدین کو ہمیشہ ہی اس بات کو نظر رکھنا ہوگا، لیکن یہ Question ہے کہ یہ کیسے سंभالے گا؟ اور اگر وہ بھی ناکام ہو جاتا ہے تو کیا یہ نئے قانون ہی ایسا نہیں بنتا جو بچوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے؟
 
یہ نئی قانون بچوں کی ایک بڑی بھلائی ہے، مجھے یہ کہا جائے تو یہ سے انٹرنیٹ پر چیلنج پہنچنے والے بچوں کو محفوظ ماحول میں لایا جا رہا ہے. مجھے کہا جائے تو یہ ایک نئی سوچ ہے، بچوں کی صحت کے لئے اس کے پابندیاں اچھی ہیں. مجھے یہ کہنا پڑرگا کہ ایسے قانون کے نال انٹرنیٹ پر safest platform bani rahegi jo kids ko secure rakhegi.
 
یہ نئے قانون ایک بار پھر آم ترانہ کی لہر میں سرج رہا ہے، یہ تو یقیناً بچوں کی سکیورٹی کیلئے ضروری ہے لیکن والدین کو ابھی بھی اپنی مرضی سے پلاٹ فارمز پر نظر رکھنا کیسے ممکن ہے؟ آج تک نہیں دیکھا گیا تھا کہ کس بچے کو والدین کی مرضی کے برعکس انٹرنیٹ پر جानے دیا जائے گا؟
 
یہ نئے قانون ایک چیلنج کا ساتھ ہے، آج کل والدین کو اپنے بچوں کی انٹرنیٹ پر لپٹن کے بارے میں سوال پیدا کرنا پڑتا ہے تو آگے چل کر ایسا قانون نافذ کرنا، یہ ایک بدلाव ہے جو اس وقت تک ضروری تھا جب تک کہ بچوں کی انٹرنیٹ پر لپٹن کے بارے میں سچائی نہیں تھی۔

اس قانون کے تحت والدین کو اپنی مرضی سے اپنے بچوں کی دیجیٹل سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہوگا، یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے جو کہ کبھی کوئی نہ کوئی نے سمجھ لیا ہوتا ہے لیکن اب اس قانون کے تحت وہ ذمہ دار ہوں گے، یہ ایک بڑا فرائض ہے جو والدین کو اپنی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
 
یہ لوگ بہت ہی پوری طرح سمجھ رہے ہیں کہ میرے بیچے نے کیا کیا کیوں؟ ہمیں یہاں آپنے بچوں کو آن لائن پر چھڑکایا ہوا تھا، اب آپ ان کے لیے پورا دیکھنا شروع کرنے کے لیے قانون بناتے ہیں؟ یوں تو یہ پورے معاشرے پر بھارpoor آگ لگا دی جائے، میرے گروپ میں بھی اس کے متعلق کچھ لوگوں نے بات کی ہوگی، وہ ہم سب کو ایک دوسرے سے پوچھنے لگے گے، ہمیں اس پر مزید توجہ دینے کی آواز کرنی چاہیے نہیڹیں؟
 
اس نئے اماراتی قانون سے والدین کے لئے بچوں کی انٹرنیٹ پر رکاوٹ آجاز کرنا ہوگی، لیکن ایسا کہنے سے پہلے یہ سوال ہوتا ہے کہ اس قانون میں کوئی غلطی ہے یا نہیں؟

مٹار۔ https://arabnews.com/node/1743148
 
اس نئے اماراتی قانون سے لڑتے لڑتے بچے ایسے مواد کھیل رہے ہیں جو ان کے صحت مند ماحول کو توڑ دے رہے ہیں! والدین کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسے مواد سے محفوظ بنائیں جو ان کی صحت اور منصفانہ ہو، لیکن یہ کبھی بھی ممکن نہیں ہوگا!
 
یہ واضح ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں لوگوں کو اپنی بچوں کی انٹرنیٹ سیکیورٹی پر دیکھ رکھنا ہوگا، اس نئے قانون کے تحت والدین کو بھی ہی ایسے مواد کا انتخاب کرنا ہوگا جو آن لائن تشدد اور غیر اخلاقییت سے محفوظ ہوں گے۔ یہ بات بھی ملحوظ ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کی دیجیٹل سرگرمیوں پر بھی دیکھنا پڑے گا، ان کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ یہ نئے قانون بھی چاہتے کہ لوگوں کو سمجھنے میں مدد کی جائے کہ کس طرح انٹرنیٹ سیکیورٹی کو محفوظ اور آمن ہونا چاہیے۔
 
ایسے نئے قانون کے لائے اب ہمारے ملک میں ایسی پابندیاں شروع ہوئی ہیں جو بچوں کی انٹرنیٹ پر رکھنے کی ضرورت کو سمجھ رہی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسے معاملے بھی آئے ہیں جس سے لوگ متعصبانہ ہو کر آ رہے ہیں۔ نئے قانون میں والدین کو اپنے بچوں کی دیجیٹل سرگرمیاں پر نظر رکھنا پڑے گا، جس سے ان کے لیے محفوظ ماحول فراہم ہوگا، لیکن یہ بھی ایک اچھا پلیٹ فارم نہیں ہوگا جو والدین کی مرضی سے کام کرتا ہو، جس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ والدین پر بھی ایسی پابندیاں رکھی گئی ہیں جس سے وہ اپنے بچوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کر سکیں گے۔
 
مجھے لگتا ہے کہ یہ قانون بچوں کی ایک اہم پہلو پر زور دیتا ہے، جنہیں لوگ ابھی تک بہت کم جانتے تھے۔

ایسا کہنا ہے
```
+---------------+
| بچوں کی |
| صحت مند |
| ماحول بنانا|
+---------------+
| |
| والدین کی ذمہ |
| داری سونپی گئی |
| ہے کہ وہ اپنے |
| بچوں کو ہم ہر |
| Material سے محفوظ |
| بنائیں |
+---------------+
```

اس قانون کی آواز سے ابھی ہمیں سمجھنے کی کوشش کرنا ہوگی کہ بچوں کی ایک بھرپور زندگی بھی انٹرنیٹ کے ذریعے ہوسکتی ہے، لیکن اس میں والدین کا کردار اور ذمہ داری بھی بہت اہم ہے۔
 
واپس
Top