Balochistan government's important decision in view of security concerns: restrictions until January 31 | Express News

ٹریولر

Well-known member
بلوچستان حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دفعہ 144 کے تحت اسلحہ کی نمائش و استعمال اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری کو بلوچستان بھر میں 31 جنوری تک پابندی کے تحت رکھا ہے۔

محکمہ داخلہ بلوچستان نے اعلان کیا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے دفعہ 144 کے تحت ان شعبوں پر پابندی عائد کی گئی ہے جن میں اسلحہ کی نمائش و استعمال، موٹر سائیکل کی ڈبل سواری، گاڑیوں پر سیاہ شیشوں کا استعمال، بغیر رجسٹریشن موٹر سائیکلوں کی نقل و حرکت، پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماعات، جلوس یا ریلیاں اور عوامی مقامات پر چہروں کو چھپانے کے لیے مفلر یا ماسک کا استعمال شامل ہیں۔

یہ پابندیاں صوبے بھر میں اس وقت عائد کی گئی ہیں جب سیکیورٹی خدشات خاص طور پر متحرک تھے۔ نافذ کردہ احکام کے تحت، پورے ملک میں پولیس اور انصاف اداروں کو دفعہ 144 کے احکامات پر عمل درآمد کرنے کا کام تیز کرنا پڑega۔

محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ جسے اس حوالے سے حکم نامے کی خلاف ورزی کرے گا، انہیں دفعہ 188 اور دیگر قانونی دفعات کے تحت تعزیرات کی جائے گی۔
 
یہ واضح تھا کہ یہ پابندیاں صرف دہشت گردی سے لڑنے میں ہمیں مدد فراہم کرنے کی ناکام کوششوں کی وجہ سے عائد کی گئی ہیں... نہ تو یہ سیکیورٹی خدشات کو کم کررہی ہیں اور نہ ہی یہ دہشت گردوں کو روکنے میں مدد فراہم کررہی ہیں... یہ سارے احکام کتنی اچھی ہیں... پورے ملک میں ایسے پابندیاں نہیں رکھی جاتیں... لیکن یہ بھی بھانپنا مشکل ہو گا کہ لوگ ان احکام کو پالیں گے یا نہ پaliں گے... 🤔
 
🤔 ماحولیاتی تناؤ سے بھرپور ہو رہا ہے ، بلوچستان میں سیکیورٹی پابندیاں 31 جنوری تک لگتی ہیں 🕰️ اور یہ تو صریح طور پر موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد ہوئی ہے ، میری بھننا ہے کہ وہ لوگ جو اسے لگاتار استعمال کرتے آ رہے ہیں ان کو اب گھروں میں سوا لگ رہا ہو گیا ہوں گے 🏠

کچھ لوگ اس پر مایوس ہو گے اور ان کے لیے یہ حاقدہ ایسا نہیں لگ رہا ہو گا ، بلکہ وہ لوگ جو موٹر سائیکل کا استعمال کرنے والے ہیں ان کے لیے یہ ایک فرصا ہوگی جس سے ان کو بہتر سہولت مل سکتی ہوگی ، اور پھر ہمیں اپنے گاڑیوں پر سیاہ شیشوں کے استعمال کی بات نہیں کرنی چاہئیں 🚗
 
بے شک ایسے پابندیاں نہیں لگ رہیں جو لوگوں کو گھبراہٹ مہسوس کرائیں… 31 جنوری تک؟ یہ تاخیر بھی کافی تھی، مگر میں سمجھتا ہوں کہ وہ سب پابندیاں ضرور لگ رہیں گے اور لوگوں کو آگاہ رکھنے کی ضرورت نہیں… مگر کیا یہ سیکیورٹی خدشات تازہ ترین فلم وھینس کے بعد ہیں؟ 😂🚫
 
کیا یہ پابندیاں اس بات کو توجہ दے رہی ہیں کہ دفعہ 144 کے تحت ان شعبوں پر پابندی عائد کی جائے یا نہیں؟ میں سوچتا ہوں کہ اس سے لوگ محسوس کریں گے کہ وہ دھکے میں ڈھونڈے پائے جانے والی باتوں کو سچ لگا رہی ہیں... میری بچیاں جیسے ہی اس پابندی کے بارے میں سنیں، تو ان کی آنکھیں سوجتی ہیں... یہاں یہ پابندیاں کیوں عائد کی گئیں؟ میٹھے ہی نیکے لوگ اس پر توجہ دیتے ہیں، لیکن سیکیورٹی سے نمٹنے والوں کا یہ طریقہ کیا ہے؟
 
پابندیاں 31 جنوری تک پھیلے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لئے ضروری مگر یہ بات تو آسانی نہیں ہو سکتی کہ وہ لوگ جو یہ پابندیاں بھوجتے ہیں ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئیگی، نومنہ لوگ اپنی زندگی میں ایسی تبدیلیوں لانے کا محرک ہوتے ہیں تا کہ وہ اپنی زندگی کو سیکورٹی کے دھonde سے بچائیں
 
آج بلوچستان میں پابندیاں عائد ہوئیں، لگتا ہے کہ لوگ اس کے لیے اٹھنا نہیں چاہتے۔ مotos میں دو سے زیادہ افراد لائیڈ پر بننے کی پابندی، ایسا ہی دفعہ 144 کے تحت اسلحہ کی نمائش و استعمال کے لیے بھی پابندی عائد کی گئی ہے؟ میری بات یہ نہیں تھی، مینو نے سوچا لگتا تھا اسے صرف سیکیورٹی اداروں میں عائد کیا جائے گا۔
 
بلوچستان میں پابندیاں رکھنے کی بات سونے کی جاسکی نہیں۔ جس وقت 31 جنوری تک پابندیاں رہیں گے تو دوسری جانب اس کی لگن اور سیکیورٹی خدشات بھی لاحق ہوگی۔

اس میں اگر کوئی ذمہ داری نہیں لے گا تو آہستہ آہستہ پابندیاں چلنی گئیں اور کچھ لوگ اپنے لیے ایک منصوبہ بنایے گا تو ایسا بھی ہو گیا ہو گا
 
ایک بھرپور اور ترقی پسند بلوچستان کو دیکھتے ہوئے، مجھے یہ بات بہت گمشا دیتी ہے کہ ان پابندیوں کو کس لیے عائد کیا گیا ہے؟ بلوچستان میں ایک جسمانی فارمان 31 جنوری تک ہی پابند رہنا چاہیے؟ یہ بھی دیکھتے ہوئے کہ اس سے قبل بھی ایسی پابندیاں نہیں تھیں، تو مجھے یہ سोचنے میںDifficulty aa rahi hai کہ یہ کس طرح بلوچستان کی ترقی اور سماجی تحریکوں پر اثر پدا گا? 🤔

ایک چارٹ بنائی جائے تو دیکھتے ہیں کہ پابندیوں سے قبل بلوچستان میں ترقی اور ترقی کی راہ میں بہت سے ایسے واقعات آئے تھے، جیسے یہ کہ 2018 میں بلوچستان نے پہلی بار قومی اسمبلی میں اٹھ کر اپنے حقائق کو سامنے لیا تھا اور اس کے بعد سے بالکنگ، ریلیاں اور جلوس جیسے شعبے پر بھی نئے یقینات ڈالے گئے تھے۔

اس پابندی کو دیکھتے ہیں تو مجھے ایک انسٹی ٹیوٹ بنانے کی اہلیت ملتی ہے جہاں میں نے ان پابندیوں کے اعداد و شمار لائے ہوں، جن سے بھرے چارٹ میں دیکھا جاسکے کہ یہ کس طرح بلوچستان کی ترقی اور سماجی تحریکوں پر اثر پڑega?
 
بلوچستان حکومت نے اسلحہ کی نمائش اور استعمال کو پابندی کے تحت رکھا ہے، یہ تو بہت ہی غلط فہمی ہے، لوگ ان کی نمائش کرنے کے لیے اپنی دیرینہ قیمتی سامانوں کو سونپ رکھنا پڑ جاتا ہے اور اب وہ اس لئے بھی اٹھانے کی کوشش نہیں کر سکتے ہیں کہ ان کی نمائش کو پابندی کے تحت رکھا گیا ہے، یہ تو دیکھ لیے کیسے لوگ اپنے livelihood ko chhunege ۔
 
ایسے وقت لگ رہے ہیں جب پورے ملک میں ایک ایسی پابندی کی مہم چل رہی ہے جس سے لوگوں کا جذبہ بھی ٹٹنا شروع ہوگیا ہے۔ بلوچستان میں دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کرنے کی حکومت کا فیصلہ تو اس بات پر غور و فکر کرنے لायक ہے۔ لیکن یہ بات بھی توجہ کی ضرورت ہے کہ یہ پابندیاں ایسی ہوں کہ لوگ ان پر عمل درآمد کرتے رہن، نہیں تو یہ اشتہار دیتا ہے۔ اب سے جب دفعہ 144 کے احکامات پر عمل درآمد کرنا پڑega تو وہ لوگ جو اس پر عمل درآمد کرتے رہن گے ان کی پیاری بھی ہوگی اور وہ لوگ جس سے یہ پابندیاں خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان پر پابندیاں زیادہ توڑنا پڑن گی اور اس طرح ایک بڑی تباہی سے باہر نکل جائیں گے۔
 
پابندیوں نے میرے شہر میں ایک بڑا اثرانداز قائم کر دیا ہے، لوگ اس طرح کے پابندیاں لگا رہے ہیں کیوں کے؟ جب سیکیورٹی خدشات تھی تو اچھا ہوتا لیکن اب یہ پابندیاں 31 جنوری تک عائد کی گئی ہیں تو میرے لئے اس کا کیا matlab ہوگا؟ لوگوں کو اچھی طرح سمجھنے میں مشکل ہوگیا ہے، پورے ملک میں ایسے جیسے میرے شہر میں پابندیاں لگائی گئی ہیں، یہ بھی دیکھنا ہوگیا ہے کہ عوام کو اس پر احتجاج کرنا چاہیے؟
 
🤔 بلوچستان کی یہ پابندیاں بہت ہی نامنductive लगتی ہیں، واضح طور پر سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر، لگتا ہۈا ان شعبوں پر پابندییں عائد کی گئی ہیں جن کو نہ صرف بلوچستان بھر میں बलکے سارے ملک میں ایسے شعبے ہوتے ہیں جو لوگ ان پر چلنے کا شوق رکھتے ہیں، لگتا ہۈا یہ پابندیاں ایسے لوگوں کو اس کا مظاہرہ کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہیں جو کہ اس وقت تو بھارپور تھے۔
 
تمام لوگ ایک ایسا لمحہ دیکھ رہے ہیں جب سیکیورٹی کی بات کرنا پوری دنیا میں ٹرینڈ بن گئی ہے، اب بلوچستان بھی اس کو اپنی کہانی میں شامل کر رہا ہے، دفعہ 144 کے تحت اسلحہ کی نمائش و استعمال اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری کو پابندی کے تحت رکھنے کا یہ فیصلہ بہت ہی غمگسٹ کا لگتا ہے، لیکن ایک جانب جب سیکیورٹی کی بات ہو رہی ہے تو دوسری جانب یہ بات ہر کون کرے گا، اور اب اس پابندی کو انعام بناتے ہوئے، لوگ 31 جنوری تک اپنے سائیکلوں پر دو سواری کی بھی پکڑ لے گئے ہیں، یہ ایک نئا ٹرینڈ بن چکا ہے اور اس کا پتہ بھی اٹھانا ہوگا کہ لوگ اب سائیکل پر دو سواری کرنے کی پابندی پر کیسے ہوا کروں گے؟
 
واپس
Top