ایک نئی ناکاموں کی قیادت میں آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے بنگلہ دیشی ٹیم نے اپنا سکواڈ اعلان کر دیا ہے۔ اور یہ سکواڈ قومی ٹیم کو عالمی سطح پر مضبوط کارکردگی حاصل کرنے کے لیے نوجوان اور تجربہ کار دونوں کی طاقت میں شامل کیا گیا ہے۔
ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیش کی قیادت لٹن داس کی سونپی گئی ہے اور سیف حسن کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے جبکہ سلیکشن کمیٹی نے اس پر یقین کیا ہے کہ لٹن داس کی مستقل کارکردگی اور قیادت کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔
دوسرے جانب جو کھلاڑی ایسے نہیں چھوڑے گئے جنہوں نے بیٹنگ میں خراب کارکردگی دکھائی ہے ان میں جاکر علی شامل نہیں کیا گیا اور یہ واضح ہے کہ اس سال وہ مایوس کن رہے ہیں، جس میں وہ صرف 378 رنز بنائے جو کہ ٹی ٹوئنٹی میچز کی تعداد سے پتلا ہے۔
سکواڈ کا ایک اور اہم حصہ اسے فاسٹ باؤلر ٹاسکن احمد کی واپسی کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے، ان کی واپسی نے بنگلہ دیشی ٹیم کو تیز باؤلرز پر خاص زور دینے پر مجبور کیا ہے تاکہ اس سے بھارتی اور سری لنکن کنڈیشنز میں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکائیں۔
بڑا چمت کا اچھا ہے کہ بنگلہ دیش نے ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے اپنا سکواڈ اعلان کر دیا ہے، ابھی یہ رکھنے میں نہیں آئیں گے اس کی پوری طاقت کو نوجوان اور تجربہ کار دونوں کی طاقت میں شامل کیا گیا ہے، لٹن داس کی قیادت سے یہ ٹیم عالمی سطح پر مضبوط کارکردگی حاصل کرنا چاہتی ہے۔
لٹن داس کی سونپی گئی ہے اور سیف حسن کو نائب کپتان مقرر کیا گیا، ان سب کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔
اس سال کھلاڑی جو نہیں چھوڑے گئے وہ ایسے ہیں جنہوں نے بیٹنگ میں خراب کارکردگی دکھائی ہے، جاکر علی کی کامیابی میں بھی ان کو کچھ نقصان ہوا ہے، لگتا ہے انہیں اپنے مہلوں سے باہر نہیں آنا چاہیے اور اس سے ان کو بہتر بنانے کا موقع مل گیا ہے۔
فاسٹ باؤلرز پر خاص زور دینے کی بات آئی ہے، ٹیسٹ میچز میں ان کے ساتھ چلتے ہوئے ان کو ایک اچھا فیلڈنگ ڈیونٹ نہیں مل سکا، لگتا ہے انہیں اپنی پوری طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔
مریں اچھا لگ رہا ہے کہ بنگلہ دیش ٹی 20 ورلڈ کپ میں بہت اچھے سکواڈ کے ساتھ ہٹ گئے ہن، لٹن داس نے بہت بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کی قیادت سے ٹیم کو مضبوط بنایا جا سکta hai
دوسری بات یہ ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت اور سری لنکا کے خلاف بہت بہترین نتائج حاصل کرنے کا وہم رہتا ہے، اس لیے بنگلہ دیش کو یہ زور دینا چاہیے کہ وہ تیز گیند بازوں پر زیادہ زور دیں اور انھیں اپنے ساتھ مل کر فیلڈنگ کرا لیں ہیں، لہٰذا ٹیم کو یہ بھی ایک اچھا پلاان بننا چاہیے ہیں۔
کیا یہ اس کیومن ٹی 20 ورلڈ کپ جیتنا ہو گا؟ لٹن داس کو نئے اسکواڈ میں رکن بنایا گیا تو انھیں سلیکشن کمیٹی سے بھی یقین ملا، لیکن وہ کس قدر ایسی کارکردگی پیش کرے گا؟ جو کھلاڑی 378 رنز میں ہی بناتے ہیں تو اس نے بھی اپنی جگہ کی یقین دہانی کی ہو گی، اور اس ٹیم کو مایوس کن کارکردگی سے دوچار کیا جائے گا، یا ایسا مچھلڈا ہو گا؟
یہ سکواڈ بھارپور ہے، میرے لئے یہ سب ناکاموں کی قیادت کے لیے ایک واضح سیاہ و سایہ کا اشارہ ہے، انھیں بھی ٹی20 ورلڈ کپ میں فینٹازی کرنا پڑے گا، میرا یقین ہے لٹن داس کی قیادت سے ٹیم کو بھارتی اور سری لنکن کنڈیشنز میں بہتری حاصل ہوگی۔ تیسکین احمد کا واپسی اسٹاک کھیل میں ایک نئی جان ہے، میرے لئے یہ ٹیم کو بھرپور کارکردگی حاصل کرنے کی صلاحیت ہوگی۔
یہ بھی دیکھو، ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھی بنگلہ دیش اور ان کی تیز گیندबازوں کی کہانی ہو گی؟ میرے لئے ایسا خیال ہے کہ لٹن داس کپتان کے طور پر اپنی کارکردگی میں بھی کمی نہیں آئی، اس لیے انہیں ٹاپ گیندبازوں سے منسلک کرنا ہی کوئی بات نہیں۔ تیسری کھلاڑیوں کی چھوٹی اور مایوس کن کارکردگی ایسے کھلاڑیوں کے لیے لگنے والا بہت سا ٹھیک نہیں ہے جو ان میں خراب رہے ہیں، اب یہ کہیں کہ بنگلہ دیش کو اچھے نتائج حاصل کرنے کی شان ملے؟
تمارے اسکواڈ میں لٹن داس بھی شامل ہیں نا وہ ایک اچھا کپتان ہوگا جو مہرے سے ٹورنامنٹ جیتا ہوا ہوگی اور سیف حسن کو نائب کپتان مقرر کرنا بھی اچھاdecision ہوگا ان دونوں کی قیادت سے ہم کو ہمیں یقین رہے گا!
ایسا کہتے ہیں اور نہیں کہ ہر ٹیم میں ایسا کرنے والا یہ شخص ہوتا ہے جو اچھے ٹورنامنٹز میں اچھا کارکردگی دکھاتا ہے لیکن لٹن داس کو ایسی طرح کی ٹیم میں ان کا استعمال کیا جائے گا جس نے اس سے اپنی کارکردگی بدل دی ہو؟ ہر ٹیم میں کسی نے ہی اس طرح کا ریکارڈ بنایا ہو گا اور اس کا فیصلہ تو ایک کھلاڑی کی دلی اور جذبات پر چلے گا… یہ ٹیم بھی ایسی ہے جس نے کسی نے اپنی فٹ بال کی زندگی پر دباو دیا ہو گا
یہ سب کچھ تو بہت ہی دل چسپ ہے! میری رائے میں بنگلہ دیش کی ٹیم کو ایسا سکواڈ دیا گیا ہے جو وہ سنی گئے تھے، لٹن داس کی قیادت نے ٹی 20 ورلڈ کپ کو بھی جیتنے کے لیے ایک نئی ناکاموں کی قیادت میں آئے ہیں!
میں یہ بات سے متفق ہoon کہ ٹی ٹوئنٹی میچز میں 378 رنز بنانے والوں کو بھی اپنی جگہ سے باہر نہیں چھوڑا گیا، اور اس کے ساتھ ہی ٹیم کی پوری کارکردگی کو دیکھنا۔
سکواڈ میں فاسٹ باؤلرز کی موجودگی، ان کی واپسی نے ٹیم کو ایک نئا دور لایا ہے!
یہاں تک کہ بنگلہ دیش کی ٹیم نے اپنا سکواڈ اعلان کر دیا ہے تو یہ سمجھنے کے لیے ہمیں ایسا کئی سالس اٹھا رہے تھے کہ انہوں نے اپنی ٹیم کی قیادت لٹن داس کی کرتے ہوئے ہی 2017ء میچز جیت سکیں گے. اور اسکواڈ میں ان کی واپسی پر بھی خاص زور دیا گیا ہے، ان کی کارکردگی کے حوالے سے ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے اپنے عالمی ٹورنامنٹ میچز میں بھی اسی رہنمائی کی ہے.
اےے کیا کرتے ہیں بنگلہ دیشی ٹیم نے یہ سکواڈ اعلان کر دیا اور اس میں زیادہ سے زیادہ نوجوان اور تجربہ کار شامل کیے ہیں، میں ان کے لیے بھاری امیدیں رکھتی ہوں، لٹن داس کو کپتان کے طور پر چھوڑا گیا ہے اور سیف حسن کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے جس کی بات بہت سچ ہے، ان دونوں کی قیادت اور کارکردگی میں یقین ہے
بھارتی اور سری لنکن ٹیمز کو تیز باؤلرز پر زور دینا پورا کھیل ہے، جس کی واپسی سے ناواقف ٹیموں کے لیے ہر چیلنج کا موازنہ محسوس ہوتا ہے، اور میں بھی یہاں تک اس بات پر یقین کرتا ہوں کہ ٹیم نوجوان اور تجربہ کار دونوں کی طاقت سے بھرپور کارکردگی دکھائی دی گئی ہو گی، یہ کھیل بھی دیکھو گیا ہے کہ ٹیم نے ایسی سٹریٹجیز اپنائیں جس سے انہیں یقین ملتا ہو گا!
عجیب کہ اُنھوں نے جاکر علی کو بھی اس سکواڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ایسا کہنے والے کہ وہ مایوس کن رہے ہیں؟ یہ دیکھو چلو کون سا رہنا اچھا ہے؟ پوری ٹیم میں تو وہ 378 رنز بنائے تھے، اور اب انھیں قائدین کی جگہ لینے کا موقع ملا ہے؟ ایسے میچز میں بھی کہو یہ نوجوان، انہیں تجربہ کاروں کی تازگی حاصل کرنی چاہئے اور ان کی طاقت کو مدنظر رکھنا چاہئے؟ ۞
یہ سکواڈ بڑا ڈرامائی ہے! لٹن داس کو کپتان بناتے ہوئے انہوں نے بھارتی اور سری لنکن ٹیمز کو کچھ بھی گنجائش نہیں دی، یہ تو اس کی صلاحیت پر مشتمل ہے!
وہ جو چھوڑے گئے وہ مایوس کن رہے ہیں، لیکن دیکھیے ڈرامے کا ہی نتیجہ ہے!
فاسٹ باؤلرز پر زور دینے پر مجبور ہونے سے ان کی کارکردگی میں بھی کمی آئے گی، لکین یہ تو ڈرامے کا پہلو ہے!
یہ بھی ٹی 20 ورلڈ کپ کو دیکھ کر توجہ پہنچا رہا ہے کہ نوجوانوں کی طاقت سے مل کر نئی ناکاموں میں بھی اپنی صلاحیتوں کو نمائش دیکھنا چاہیے۔
آپ کی بنگلہ دیشی ٹیم اچھی سے لگ رہی ہے، وہ اس کھلاڑی کو نہیں چھوڑے گئے جنے بیٹنگ میں خراب کارکردگی دکھائی ہے، یہ ایک بھرپور ملازمت ہے جس کی وہ طاقت سے لڑیں اور اس کا انہیں فائدہ ہو۔
بنگلہ دیش کی ٹیم میں جو ٹاسکن احمد شامل ہوئے وہ اس کی واپسی نے ٹیم کو تیز باؤلرز پر خاص زور دینے پر مجبور کیا ہے، لیکن یہ بات پتہ چلی گئی ہے کہ بھارت اور سری لنکا سے مقابلہ کرنے کے لیے انہیں اپنی فٹنس میں بھی زیادہ تیزی دکھائی دی جا رہی ہے۔
یے دیکھو! 2026 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیش کی ٹیم کو نوجوان اور تجربہ کار دونوں کی طاقت میں شامل کرنا ایک بڑا وعدہ ہے! لٹن داس کپتان کے طور پر انہیں تیز کارکردگی حاصل کرنے کا موقع ملا ہے اور اس پر یقین ہے؟
اس ٹیم کی واپسی میں ٹاسکن احمد، جو پچھلے سیزن کے دوران فاسٹ باؤلر رہے تھے، شامل ہونے نے ٹیم کو اس سے بھارتی اور سری لنکن کنڈیشنز میں بہتر نتائج حاصل کرنے کی اور ایسے نہیں چھوڑا جو بیٹنگ میں خراب کارکردگی دکھاتے ہیں... جاکر علی! وہ مایوس کن رہ گئے تھے اور صرف 378 رنز بنائے!
لیکن یہ کہا نہیں کہ ان کے لئے چانس نہیں ہے? ایسے نہیں کہ وہ ٹیم کو اپنی نمائندگی کرنے کی اور فاسٹ باؤلرز پر خاص زور دینے کا موقع ملا ہو؟ یہ تو ایک بڑا सवाल ہے!