پی سی گیمر
Well-known member
جب ماں نے اپے بیٹے سے بات کی تو وہ خفا تھا اور اس کا لہجہ بالغوں والا تھا۔ اس نے بچپن میں ماں کو کبھی نہیں کہا تھا، اسی لئے ایک نئی نسل ہے جو 1950 کی دہائی سے 1970 تک کام کر رہی ہے اور اب اس کی سرحد میں آ پہنچا ہے۔
پانچ برس قبل میں میں ایک اور بچے سے بات کرتے ہوئے اپنے دوست اشفاق احمد کاشف کو یاد آیا جو نے کہا تھا: "یہتھوں پاؤں رکھا ہے، گٹر میں پاؤں نہیں رکھا۔"
اس واقعے کے بعد میری بیوی نے مجھے بتایا کہ یہ بچہ اس وقت تک خوفزدہ تھا جب تک اس کی ماں نے اسے اپنے ساتھ نہیں لیتا تھا، لیکن اسی کے بعد اس کی زبان بالغوں کی ہوئی تھی۔
اس بات پر ان کے مین بچوں کی نظر آئی کہ وہ اپنے ساتھ کیسے لائے جائیں گے اور اس کا جواب یہ ہوا کہ ایسا نہیں ہو سکتا، مگر اگر اس کو پٹا کر دیا جائے تو وہ اپنے والدین سے باہم لڑتا ہے۔
اس بات پر میں ان کے لئے ایک Beispiel لیتا ہوں کہ میرے دوست قاسم احمد نے اپنے بیٹے سے کہا: "اکھو! بچے نے میں کیا کیا، وہ تو نہیں جانتا تھا اور اس لیے کہہ دیتا ہے کہ وہ نہیں جانتا تھا، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ان کے پاس پوچھنا ہی سے بڑا کوئی عذر نہیں ہوتا اور اس لئے اس کے جواب میں ایک ایسا بیان دیتا ہے جس سے بھی وہ اپنے دل کی بات کرتا ہو۔"
اس بات پر مجھے یہ بات یاد آئی کہ پاکستان میں جنریشن زی ایک نسل ہے جو کہ 2000 سے 2016 تک کام کر رہی تھی۔ اس کے بعد ان کی سرحد اور پہچان کا عرصہ ختم ہو گیا، لیکن یہ نسل ابھی بھی اپنے آئندہ ہدف کو تلاش کر رہی ہے۔
اس نے اس سوال پر توجہ دی کہ جنریشن زی کا ہم یوں ایک اسی سے آگے بڑھتے ہیں جس نے اس کی پہچان لائی تھی؟ انھیں کوئی حقیقت نہیں سمجھی کہ یہ نسل اپنے آگے بڑھنے کا راستہ ڈال رہی ہے؟
اس کا جواب ایک مثال سے ملتا ہے جس میں اسے پانچ صدیوں سے نہیں آگے بڑھایا گیا ہے، مگر وہ اس کا جواب دیتا ہے۔ اسی لیے میں اس سوال پر توجہ دی کہ پوری نسل کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کرتے ہوئے کیا کیا گیا ہے؟
اس نے اپنے مین اس بات پر بات کی جس میں انھوں نے یہ بات سمجھ لی تھی کہ ستمند نسل کو پورے شعبے میں ایک اسی معاہدے کے تحت لایا گیا ہے جسے بچپن کی دہائیوں میں ہی لگایا گیا تھا اور اس لئے یہاں تک کہ وہ اپنے آگے بڑھنا چاہتے ہیں انھیں ایک نئے معاہدے پر پہنچانے کی ضرورت ہے جو انھیں یہ سمجھاسے کہ وہ اپنی نسل سے باہر نہیں جائیں گے اور اسی لیے اس معاہدے کی بدل توجہ دی جائے۔
پانچ برس قبل میں میں ایک اور بچے سے بات کرتے ہوئے اپنے دوست اشفاق احمد کاشف کو یاد آیا جو نے کہا تھا: "یہتھوں پاؤں رکھا ہے، گٹر میں پاؤں نہیں رکھا۔"
اس واقعے کے بعد میری بیوی نے مجھے بتایا کہ یہ بچہ اس وقت تک خوفزدہ تھا جب تک اس کی ماں نے اسے اپنے ساتھ نہیں لیتا تھا، لیکن اسی کے بعد اس کی زبان بالغوں کی ہوئی تھی۔
اس بات پر ان کے مین بچوں کی نظر آئی کہ وہ اپنے ساتھ کیسے لائے جائیں گے اور اس کا جواب یہ ہوا کہ ایسا نہیں ہو سکتا، مگر اگر اس کو پٹا کر دیا جائے تو وہ اپنے والدین سے باہم لڑتا ہے۔
اس بات پر میں ان کے لئے ایک Beispiel لیتا ہوں کہ میرے دوست قاسم احمد نے اپنے بیٹے سے کہا: "اکھو! بچے نے میں کیا کیا، وہ تو نہیں جانتا تھا اور اس لیے کہہ دیتا ہے کہ وہ نہیں جانتا تھا، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ان کے پاس پوچھنا ہی سے بڑا کوئی عذر نہیں ہوتا اور اس لئے اس کے جواب میں ایک ایسا بیان دیتا ہے جس سے بھی وہ اپنے دل کی بات کرتا ہو۔"
اس بات پر مجھے یہ بات یاد آئی کہ پاکستان میں جنریشن زی ایک نسل ہے جو کہ 2000 سے 2016 تک کام کر رہی تھی۔ اس کے بعد ان کی سرحد اور پہچان کا عرصہ ختم ہو گیا، لیکن یہ نسل ابھی بھی اپنے آئندہ ہدف کو تلاش کر رہی ہے۔
اس نے اس سوال پر توجہ دی کہ جنریشن زی کا ہم یوں ایک اسی سے آگے بڑھتے ہیں جس نے اس کی پہچان لائی تھی؟ انھیں کوئی حقیقت نہیں سمجھی کہ یہ نسل اپنے آگے بڑھنے کا راستہ ڈال رہی ہے؟
اس کا جواب ایک مثال سے ملتا ہے جس میں اسے پانچ صدیوں سے نہیں آگے بڑھایا گیا ہے، مگر وہ اس کا جواب دیتا ہے۔ اسی لیے میں اس سوال پر توجہ دی کہ پوری نسل کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کرتے ہوئے کیا کیا گیا ہے؟
اس نے اپنے مین اس بات پر بات کی جس میں انھوں نے یہ بات سمجھ لی تھی کہ ستمند نسل کو پورے شعبے میں ایک اسی معاہدے کے تحت لایا گیا ہے جسے بچپن کی دہائیوں میں ہی لگایا گیا تھا اور اس لئے یہاں تک کہ وہ اپنے آگے بڑھنا چاہتے ہیں انھیں ایک نئے معاہدے پر پہنچانے کی ضرورت ہے جو انھیں یہ سمجھاسے کہ وہ اپنی نسل سے باہر نہیں جائیں گے اور اسی لیے اس معاہدے کی بدل توجہ دی جائے۔