لاہور میں بھاٹی گات کی پھرمی کے بعد انکوائری کی رپورٹ مکمل ہوگئی، اس سے قبل ایک ہائی پاور کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کا مقصد آئی جی پنجاب کی جانب سے ایڈیشنل آئی جی آئی اے بی عمران محمود کی سربراہی میں پولیس کے کردار اور غفلت کا تعین کرنا تھا جس میں دو مزید ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس سے قبل انکوائری کے دوران پولیس نے جس شواہد کی لامبی نہیں کی، وہ تمام تین اعلیٰ افسران کو غفلت کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔
انکوائری کی رپورٹ مکمل کرنے پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے بتایا کہ انھوں نے ماں اور بیٹی کے جاں بحق ہونے کے جائے وقوع کے دورے کے موقع پر بتایا تھا کہ 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا، اس سے قبل انھوں نے بتایا تھا کہ دو مزید ملzman کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سلمان اور عثمان بھی شامل ہیں، جس پر تفتیش جاری ہے۔
اس شہدت نے بتایا تھا کہ ملزمان کو انصاف فراہم کیا جائے گا اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی تیز اور میرٹ پر کرنے کا حکم ہے، ملzmanوں کو مضبوط چالان پر قرار دیکر سزا دلوائی جائے گی۔
بھاٹی گات کی پھرمی میں اس وقت بھی انکوائری کا کور کیا جا رہا ہے؟ کچھ بات کرکے بیٹھتے ہیں... غفلت کا تعین کرنا ایسا محفوظ ہو گا؟ پولیس کی کارروائی میں جو شواہد تھیں ان کا کوئی منصوبہ نہیں تھا، اب یہ چار اعلیٰ افسران غفلت کا مرتکب ہیں...
ابھی یہ بات نہیں سامنے آئی تھی کہ پولیس کی غفلت کی وجہ سے ماں اور بیٹی کی جان پر انقسام ہوا، اب یہ بات بھی سامنے आई ہے کہ اس غفلت کی وجہ سے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، پچھلے وزیر داخلے نے بھی اسی غفلت کی وجہ سے معاون Police Commissioner سے استعفیٰ دے دیا تھا، اب یہ بات بھی سامنے आई ہے کہ انکوائری کی رپورٹ مکمل ہو گئی، اس سے پتہ چلا ہے کہ پولیس کے ان 3 افسران کو معاون Commissioner سے استعفیٰ دیا جاسکتا تھا اور ان 3 افسر کو بھی غفلت کے مرتکب قرار دیا گیا ہے، مگر اب یہ بات سامنے आई ہے کہ ملzmanوں کو سزا دلوائی جائے گی، اس پر پوٹھی میں بھی اسی سلسلے میں وہی مساوات دیکھنی پئیں گی جو پنجاب کی رہنمائی کرنے والی حکومت نے کہی ہے، ایسا میرت اور میرٹ پر کرنا چاہئے۔
یہ رہا شواہد کی لامبی کے بعد ان کو اعلیٰ افسران کا غفلت مرتکب قرار دینا تو بہت ہی معقول نہیں لگتا ، لیکن پھر یہ رہا چارٹر کی کمیٹی کے بعد دو مزید ملزمان کو گرفتار کرنا، یہ تو سچ مچ تھوڑی ہی معقول نہیں لگتا؟ اور وزیر اعلیٰ پنجاب کا حکم انصاف کی حقداری پر کرنے کو تو بہت ضروری لگتا، لیکن سزا کس طرح دلوائی جائے گے؟
بھاٹی گات کی پھرمی کے بعد انکوائری مکمل ہوئی تو یہ سب کچھ اچھا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کے ورک فلائی نہیں تھی، مگر انہوں نے کہیں کم نہیں کیا تاکہ بچوں کو بھگتا ہوا دیکھنا پڑا۔ ان سب ہائی پاور والوں پر اچھی ناظر تھی جو کہیں کام نہیں کر رہے ہوں گے وہاں سے ہمدردی کی ضرورت ہے۔
بھاٹی گات کی پھرمی کے بعد انکوائری کرنے کے بعد اب تک بھی کیا ہوا نہیں ہے، ایک بار فیکٹری میں چلا دیا گیا تو اور یہی تھا؟ پہلے تو شواہد نہیں کیں، اب وہ انسپکٹر کو غفلت کا مرتکب قرار دے کر دو دیگر ملزمان پر مظالم لگائیں گئیں؟ یہ ہمدردی تو جھوٹی تھی اور اب یہ چارچاس میں ہر کا اپنا کھیل ہے۔
اس شہدت کی یہ بات بہت ہی گھبراہٹ دیتی ہے کہ غفلت اس پہلے ہی تک پہنچ چکی تھی، تو اب اس پر کوئی کارروائی نہیں کی جارہی، یہ سزا کس کے لیے ہو گی؟ یہ بات سمجھنی بہت مشکل ہے کہ ایک انکوائری کا نتیجہ ملزمان کو گرفتار کرنے اور دوسرے ڈیپلومेटس کی سربراہی میں سزا دینے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ افسران کو بھی غفلت کا مرتکب قرار دیا جائے گا، لیکن یہ بھی یقینی نہیں ہے کہ انھوں نے سزا کیے گی یا نہیں...
بھاٹی گات کی پھرمی میں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اب انکوائری کے ملازم تین اعلیٰ افسران کو بھی محکوم بنایا گیا ہے؟ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس کی ذمہ داری کتنے اچھی طرح سمجھی گئی تھی؟ ماں بیٹی کے جاں بحق ہونے پر انھوں نے بتایا تھا کہ 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اور اب 2 مزید ملzman کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا؟ میرا خیال ہے کہ انصاف فراہم ہونا ضروری ہے اور یہ سزا ایسے چالان پر دئی جائے گی جو کوئی بھی اپنے ہی بچوں کی جان پر قائم نہیں رکھتا!
اس کے بعد کیا? انکوائری کی رپورٹ مکمل ہوئی تو کیا ہوتا؟ پھر بھی تین اعلیٰ افسران کو غفلت کی مرتکب قرار دیا گیا ہے، یہ کیا مشق ہے? پولیس کے کردار پر انکوائری کرنے کے بعد بھی تو اس طرح کی غلطی ہو سکتی ہے؟
اس وقت کے نوجوانز کو یہ بات مل رہی ہے کہ وہ کس طرح انصاف کی راہ میں آئے اور کیسے اپنی حقیقت ظاہر کرنے لگے؟ جب سے وہ اپنے حقداروں کا مظاہرہ کرنے لگے، وہیں ان کو دھمکاوٹ دی گئی اور پولیس نے اس پر زور دیا۔ یہ بات تو باطنی ہے کہ جب نوجوانوں کی आवاز سنی جاتی ہے، تو وہ آواز ہمیشہ سے ہی موجود تھی، لیکن اب اس پر زور دیا گیا ہے۔
اس نئے کیس میں بھی یہ ایسا ہی رکاوٹ بنتے ہیں… پلیگ سے لے کر آج تک کے ہر واقعات میں تینوں سربراہی کی بھرپور غفلت دکھائی دیتی ہے۔ یہ ایسا سمجھنا مشکل ہے کہ کیے گئے ناکامات میں یہ سارے افراد کو کیا انعام ملتا ہے؟ غفلت کی بے پناہ مرتکب فوج، پولیس اور انسداد دھمپ کارروائیوں کا مظاہرہ کرتے رہے تھے۔ آج تک کی ہر ناکامی پر انہیں ایک نئا ذریعہ ملتا ہے، جبکہ عوام کو پچٹنے کا شکار رہنا بھی ملتا ہے۔
اس نئی پھرمی کی رپورٹ سن کر میں بھاگا ہوا اور کچھ گھنٹے تک چیٹ ہی نہیں لی. جس شواہد کو پولیس ایک سے لے کر تین اعلیٰ افسران تک پھیلایا تھا، وہ سب غفلت کے مرتکب ہیں. آئی جی آئی اے بی عمران محمود کی سربراہی میں پولیس کی یہ کارروائی جس سے نتیجہ نکلا، وہ اپنی جان و مال کھو گئے. مجھے لگتا ہے کہ ان ملزمان کو بہت پیار اور احترام دیا گیا ہے جنھیں گرفتار کر لیا گیا تھا. سزا بھی ہونا چاہیے جبکہ ان کی جان و مال کو ہر سر پر رکھنا چاہیے.
بھاٹی گات کی پھرمی کے بعد انکوائری میں یہ رپورٹ سب کچھ بتا رہی ہے کہ اس شہدت سے پہلے بھی کیا جاتا تھا اور اسی شہدت کی نہیں تو پوری بات کبھر چلتی۔
پولیس کی غفلت میں ان 3 اعلیٰ افسران کو یہ سب لین کر ایک دوسرے پر ٹال رہا ہے، یہ سب جانتے تھے کہ کوئی بھی ہوا سے پہلے ان کو بتایا جاتا تھا اور اس کی نہیں تو یہ सब کبھر چلتی۔
ملزمان کو انصاف فراہم کرنا چاہئے لیکن اس شہدت سے پہلے یہ سب کیا جاتا تھا، اور اب ان ملzmanوں کو سزا دیتے ہیں تو سزا بھی ان کی معافتی پر ٹال رہی ہے۔
اس شواہد کی جانب سے ان تمام اعلیٰ افسران کی غفلت کا تعین کرنا ایک بڑی بات ہے جنھوں نے پولیس کے کردار کو جھٹکا دیا تھا اور شواہد کی لامبی نہیں کی تھی… ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے رپورٹ میں سے ہر چیز کا معقول طور پر جائزہ لیا جانا چاہیے، نہ صرف اس بات کی جانب سے جو سلمان اور عثمان کو گرفتار کرلیا گیا تھا وہ بھی معقول ہونا چاہیے…
اس پچھلے گات کی شاندار مہم میں ایک اور نئی ریت سے بھاٹی کے کاروبار کو بے نقاب کیا گیا ہے... لاکھوں کے کرپشن کے سسٹم میں ملوث تین اعلیٰ افسران کو یہ بات کوئی جگہ پہنچانے کی जरور نہیں ہوئی... انھوں نے غفلت کا مرتکب قرار دیا گیا ہے، حالانکہ بھی ان کو یہ سزا مل سکتی تھی... میں سمجھتے ہوں کہ معاملے کی جڑی ہوئی ایڈیشنل آئی جی اے بی عمران محمود کو بھی اس کے ساتھ مل کر کوشش کرنی چاہیے...
جب تک میں آگھرہ نہیں ہوئی، پہلی بار سمجھایا کہ یہ بھی وہی گھنٹی ہے جس کی لامبی نہیں ہو سکتی، آج کے شواہد سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ انصاف حاصل ہونے والا ہے!
کروپشن ، غفلت اور بھیڑ کی جسمانی حد تک چھپ گئی تھی لیکن اب واضح ہو گیا ہے کہ کسی بھی صورت میں ان لوگوں کو ڈر نہیں اور ہمیشہ انصاف حاصل ہونے والا ہے!
ایسے سے ہی پھیل رہی ہے کہ 3 نوجوان کے جسم کو بحق کیا گیا تھا اور اب تک بھی کونسے دوسرے شواہد نہیں ملتے? ہم ان لوگوں سے بھی سوال پوچھنا چاہیں کہ وہ کیسے اچھے شواہد نہیں لائے؟
ہمیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ ان کو انصاف کی جانب سے کیا ہوتا ہے اگر وہ سزا دیتے ہیں یا اس پر ڈرپٹ کر دیں?
میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ شواہد کی لامبی نہیں کرنے کا معاملہ تو بہت غضبتازہ ہے! ہائی پاور کمیٹی کا مقصد آئی جی کی جانب سے ایڈیشنل آئی جی اے بی عمران محمود کی سربراہی میں پولیس کے کردار اور غفلت کا تعین کرنا تھا، لیکن اس میں دو مزید ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے!
میں سوچتا ہوں کہ پہلے تو یہ شواہد کی لامبی نہیں کرنی چاہئیے، فिर انھیں دو مزید ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے! اس پر تفتیش جاری ہے اور ملزموں کو انصاف فراہم کیا جائے گا! یہ سب تو دھمکی کی طرح نہیں دے رہی!
بھاٹی گات کی پھرمی میں انکوائری کا نتیجہ آئی۔ اس کے بعد پولیس کے کردار اور غفلت کا تعین کرنے کے لیے ہائی پاور کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، اب رپورٹ مکمل ہوگئی ہے۔ انکوائری میں 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور اب دو مزید ملزم بھی گرفتار ہونگے، اس سے پہلے کی غفلت کے واضح شواہد ان 3 اعلیٰ افسران کو ملا دیتے ہیں جو اب سزا لینگے?