سائبر ساتھی
Well-known member
بلاول بھٹو زرداری کی سرگرمیوں سے سندھ کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنی کرتوتوں میں لپٹا ہوا ہے، انہیں دل خون کے آنسو روتا دیکھنا پڑتا ہے۔
اس وقت جب بھی پیپلز پارٹی نے سندھ کے عوام پر بھرا تو وہ مصنوعی لڑائی لڑنے لگتے تھے، 47 فارم سے انہیں کراچی میں بھی مسلط کیا گیا تھا، جس نے انہیں اسے مینو پکڑنا پر مجبور کیا، اور وہی تو کہتے ہیں کہ آئین میں ترمیم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور انہیں یہ نہیں چاہیے اور وہی تو کہتے ہیں کہ عوام کی بات ہونے پر بلیم گیم شروع ہوجاتا ہے، یہ نہیں کہیں کہ کراچی پاکستان ہے اور پیپلز پارٹی کراچی سے دشمنی کرتے ہیں۔
سندھ کی صورتحال کے بارے میں جب سچائیوں کو دیکھا جائے تو اسے دل خون کے آنسو روتے ہیں، یہ لوگ گalti se karna start karte hain، انہوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ غلطیوں کرنے کی بات کی ہے اور کہتے ہیں کہ کے فور منصوبہ وفاق کی ذمہ داری ہے، لیکن وہی تو کہتے ہیں کہ جب انہوں نے وفاق میں تھے اس وقت انہوں نے کیا تھا اور اب بھی وہ وفاق کا حصہ ہیں، سندھ حکومت کی پریشانगا بھی یہی ہے کہ ساتھی وہ کیسے 3،400 ارب روپے کھائیں جو کہ سندھ حکومت نے اپنے حصے کا کوئی کام نہیں کیا۔
اس وقت جب بھی پیپلز پارٹی نے سندھ کے عوام پر بھرا تو وہ مصنوعی لڑائی لڑنے لگتے تھے، 47 فارم سے انہیں کراچی میں بھی مسلط کیا گیا تھا، جس نے انہیں اسے مینو پکڑنا پر مجبور کیا، اور وہی تو کہتے ہیں کہ آئین میں ترمیم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور انہیں یہ نہیں چاہیے اور وہی تو کہتے ہیں کہ عوام کی بات ہونے پر بلیم گیم شروع ہوجاتا ہے، یہ نہیں کہیں کہ کراچی پاکستان ہے اور پیپلز پارٹی کراچی سے دشمنی کرتے ہیں۔
سندھ کی صورتحال کے بارے میں جب سچائیوں کو دیکھا جائے تو اسے دل خون کے آنسو روتے ہیں، یہ لوگ گalti se karna start karte hain، انہوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ غلطیوں کرنے کی بات کی ہے اور کہتے ہیں کہ کے فور منصوبہ وفاق کی ذمہ داری ہے، لیکن وہی تو کہتے ہیں کہ جب انہوں نے وفاق میں تھے اس وقت انہوں نے کیا تھا اور اب بھی وہ وفاق کا حصہ ہیں، سندھ حکومت کی پریشانगا بھی یہی ہے کہ ساتھی وہ کیسے 3،400 ارب روپے کھائیں جو کہ سندھ حکومت نے اپنے حصے کا کوئی کام نہیں کیا۔