وزیراعظم روزن ژیلیازکوف نے معاشی پالیسیوں اور کرپشن کے خلاف مسلسل احتجاج اور عدم اعتماد کی تحریک سے قبل اپنے سیاسی اور حقیقی عہدوں سے استعفیٰ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات اور عوامی ردِ عمل کے پیش نظر حکومت کے پاس مستعفی ہونے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا، اس لیے انہوں نے اپنے سیاسی اور حقیقی عہدوں سے استعفیٰ دیا ہے جس کے بعد حکومت کے احتجاجات صرف دارالحکومت تک محدود نہیں رہے بلکہ ملک بھر میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل کر مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا، ان کی حکومت کو اپنے احتجاجات سے لے کر حکومت کے بھانپن تک پورے رہا۔
مطالبہ و استعفیٰ
حکومت مخالفین نے وزیراعظم کی حکومت کو ٹیکسوں پر ایسے بوجھ لگایا تھا جو عوام پر بھارپور ہوا تھی اور اس لیے انہوں نے مستعفیٰ کیا، جس کی وجہ سے حکومت کو ان کے احتجاجات سے لے کر ان کے بھانپن تک پورے رہا۔
گزشتہ 4 برسوں میں بلوچستان 7 بار الیکشن ہوئیں اور ان الیکشنوں میں حکومت کی عدم اعزازی کا مظاہرہ کیا گیا، جس کے بعد سے عوام نے اپنے معاشرے پر اثر پڑانے لگے اور انھوں نے حکومت کو بھی ٹیلفون پر لاکھوں کی دھماکیاں دیں، اسی طرح بلوچستان میں 5 بار ایک صوبائی پارلیمنٹ کی گہرائیاں ڈالیں گئیں جس کے بعد سے حکومت کو اپنی قوت کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مظاہروں کی وجہ
ان مظاہروں کے بعد سے عوام نے وزیر اعظم پر ان کے احتجاجات سے لے کر ان کے بھانپن تک پورے رہے ہیں، اسی طرح بلوچستان میں صوبائی پارلیمنٹ کی گہرائیاں ڈالیں گئیں جس کے بعد سے عوام نے اپنے معاشرے پر اثر پڑانے لگے اور انھوں نے حکومت کو ٹیلفون پر لاکھوں کی دھماکیاں دیں، جس کے بعد سے یہی مظاہروں کی تیز رفتار میں آئی ہے اور عوام نے اپنے معاشرے پر اثر پڑانے لگے۔
اس معاملے کا حال سب سے واضح ہوا جب وزیر اعظم نے اپنی حکومت سے استعفیٰ دیا تھا اور یہی کیا اس کی حکومت کو پوری طرح بدل کر دیا ہے۔ آج کے وقت یہ بات بھی واضح ہے کہ عوام کی بڑی تعداد کی احتجاجات اس کی حکومت کے استعفیٰ سے شروع ہوئے تھے، اور یہی وجہ ہے کہ اس کی حکومت کو پوری طرح بدل دیا گیا ہے۔ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل کر مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا تھا، اور یہی کیا اس کی حکومت کو بدل دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ بلوچستان میں government کے احتجاجات سے لے کر ان کے بھانپن تک پورے رہے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ عوام کی ایسी بڑی تعداد کی احتجاجات کی جاتی ہیں۔
اس معاملے سے سب سے زیادہ متاثر یہ ہوگا کہ لوگ اپنے معاشرے پر اثر پڑانے لگتے ہیں، اور اس کے بعد یہ وہ ہوتا ہے کہ عوام کی دھماکیاں حکومت کو ٹیلفون پر لاکھوں کی دھماکیاں دیں، اور یہی وجہ ہے کہ عوام نے اپنے معاشرے پر اثر پڑانے لگتے ہیں۔
اب دیکھیے اس معاملے کی آگے کی گئی ہے یا لوگوں کا یہ احتجاج اور مقصد کیسے ہوگا؟
اس وقت کے سسٹم میں جو بہت سارے ناکام ہیں، ان کو مل کر دیکھنا ہی نہیں تو دوسرے ملک کے معاشروں کا تجربہ کرنا ہی کیوں نہیں؟ یورپی اور امریکائی ملکوں میں ایسے بھی مظاہروں سے پہلے یہ کچھ نہیں تھے، اب وہاں کے رول ماڈل کیوٹ ہورہے ہیں اور یہاں یورپی اور امریکائی ملکوں سے بھی سیکھنا چاہئے۔
اس کے ساتھ ہی بلوچستان میں حکومت کی عدم اعزاز کے مظاہروں نے یہاں کے عوام کو بھی آگے لے جانے کا موقع دیا ہے اور اس کے بعد سے عوامی مشائخے میں تبدیلی آئی ہے۔
اس وقت وہ لوٹلے نوجوان جو سر پر پھنس کر ہر کوئی سیکھنا چاہتے ہیں اور ان کا بھی معاشرے میں اثر پڑے گا اسی لیے حکومت کو اس مظاہرے سے لے کر ان کے بھانپن تک پورے رہنا ہوگا۔
وزیر اعظم کا استعفیٰ دیکھ کر غلط واضح طور پر کہیں نہ کہیں اس کی ناکامیت کی بات کے جانے چاہئیں، ان کے عہدوں سے استعفیٰ دینے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ معاشی پالیسیوں پر نقصان ڈال رہے تھے بلکہ ان کو کرپشن کے خلاف مسلسل احتجاج اور عدم اعتماد کی تحریک سے آگ لگائی تھی، مگر اس کا معاملہ یہ نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کی جگہ بیتے رہتے تھے اور معاشی پالیسیوں پر فوج سے لے کر عوام تک ناکام رہتے، یہ ان کا معاملہ ہی نہیں، مگر اب وہ دوسروں کی جگہ بیتنے والے نئے وزیراعظم کھل کر بتائیں رہتے ہیں کہ وہ کیسے معاشی پالیسیوں پر کام کرتے، ان کی ایسی ہی جگہ بیتنے والی حکومت کو آگاہ کرنا ضروری ہے اور عوام کو یہ بتانا چاہئیں کہ وہ کیسے معاشی پالیسیوں پر کام کرتے تھے، مگر یہ بھی بات اچھی نہیں کی جائے گی ہمیں معاشی پالیسیوں سے لے کر وہ فوج اور اس کے رتبے تک کا سب کو دیکھنا چاہئیں اور یہ بتانا چاہئیں کہ وہ کیسے معاشی پالیسیوں پر کام کرتے تھے، ایسا ہونے پر ان کے نئے ساتھیوں کو بھی آگاہ کرنا ضروری ہے اور وہ ہمیں بتانے چاہئیں کہ وہ کیسے معاشی پالیسیوں پر کام کرتے تھے، مگر یہ بات بھی نہیں، مگر ہمیں اپنی حکومت اور ان کی ناکامیت کا ایسا جھٹکا نہیں دیکھنا چاہئیں اور وہاں تک کے ساتھ ساتھ ہم بھی معاشی پالیسیوں پر کام کرنا چاہئیں اور ان کی ناکامیت کو آگاہ کرنے میں رہیں، ہمیں اپنی حکومت اور ان کی ناکامیت کا ایسا جھٹکا دیکھنا چاہئیں اور وہاں تک کے ساتھ ساتھ ہم بھی معاشی پالیسیوں پر کام کرنا چاہئیں اور ان کی ناکامیت کو آگاہ کرنے میں رہیں.
یہ کبھی بھی تو ٹیکس سے بھاری لٹکا ہو گا، وزیراعظم نے استعفیٰ دیا ہے مگر یہ واقعتہ بھی ہو گیا ہے کہ ان کی حکومت کے ساتھ اچھا چلنا مشکل ہو گیا ہے. لوگ اب اپنے معاشرے پر اثر پڑانے لگتے ہیں اور یہ مظاہروں کی تیز رفتار میں آتی جاتی ہے. سارے ملک میں لوگ سڑکوں پر نکل کر مستعفیٰ ہوتے ہیں، یہ تو لاکھوں کی دھماکیاں بھیڈنے کے سوا نہیں رہتا.
سچمے کے علاوہ وزیر اعظم کو استعفیٰ دینا ایک بہت ہی اہم واقعہ ہے، جس سے ان کی حکومت کو بھی ایک بڑا ٹکڑا تھام دیا ہو گا. یہ دیکھنا دلچسپ ہے کہ عوام نے ان کی حکومت پر بھارپور ریشہ کیا ہے، اور انہیں ایک بڑے مظاہرے سے لے کر اپنے معاشرے پر اثرانداز کر دیا ہے. اس کے بعد سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ عوام کے ایٹے نہیں مٹتے ۔