سندھ حکومت کی انتہا و شوری دھارے کی چار چادریں ہر وقت گزر رہی ہیں جبکہ پنجاب کی سرکاری کفایت نہ کرنے والی حکومت کے بارے میں وہ انتہائی سنجیدگی سے بولتی ہے۔
ان کا یہ دھارہ ابھی سندھ کو ملتا ہے اور اس کے بعد پنجاب، لاہور یا بھاٹی گیٹ پر بھی اس کا پھیلاؤ ہونے والا ہے۔
سندھ حکومت کے سربراہ نے کہا کہ ان کے تعلقات پاکستان کے وفاقی وزیر سے بھی زیادہ ہیں، ان کی خدمات اس سے بھی بڑی ہیں اور وہ اسی سے بھی اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔
سندھ کی حکومت نے کراچی میں سانحہ گل پلازہ پر صرفPolitics کا اور Politics کے لیے politics کر رکھی ہے جبکہ اپنے مخالفین کو ذمے دار قرار دی کر politics کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں بارود کی چھت پر ایسے بچے تھے جیسے کہ وہ دھومت کی چھت پر آئے ہیں اور شہر کو ملبے کا ڈھیر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ گورنر سندھ یہاں اس شہر کی ضمانت اور امانت بن گیا ہے جبکہ وہ حکومت ہاؤس میں ہی سے Politics کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس شہر کی آبادی کو کہا کہ اتنے بڑے سانحے سے لوگوں کو باہر نکلنا مشکل ہی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کراچی کی آمدنی وفاق میں سب سے زیادہ ہے اور اس کی دولت سے ان کو politics کرنے کا موقع مل رہا ہے۔
اس شہر نے Politics کی چوری کی، اس کے بعدPolitics نے اپنا ذمہ دار قرار لیا، جبکہ politics کرنے والوں کو سندھ حکومت کے سربراہ اور میئر کراچی پر کڑی تنقید کی گئی ہے اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، نہ صرف politics کرنے والوں کو۔
اس شہر میں رات کی نیند اور دن کی صبح نیند سے گھریلو خاتون کی بچی کا گٹروں میں گرنا ایک معمولی بات ہے، اس کے بعد گھریلو شہر میں رات کی اچھی نیند اور دن کی بھارپور صبح وغیرہ کا بھی گٹروں میں گرنا پورا معمول ہے۔
انھوں نے اس شہر کو اربوں روپوں کے فنڈز سے خرچ کرنے پر اصرار کیا ہے جو اس کی ترقی اور شہریوں کے بنیادی مسائل کا حل نہیں۔
اس شہر میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ ایسی صورت حال کو سندھ کی حکومت وفاق کو سمجھنی چاہیے جس سے ان کے تعلقات پاکستان سے بھی زیادہ طویل اور مستحکم ہو رہے ہیں۔
اس نئی حکومت نے 17 سال کی پہچان لئے۔ اس سے پہلے پی پی کے ایک بھی شہر کو بدلا نہیں۔
ان کا یہ دھارہ ابھی سندھ کو ملتا ہے اور اس کے بعد پنجاب، لاہور یا بھاٹی گیٹ پر بھی اس کا پھیلاؤ ہونے والا ہے۔
سندھ حکومت کے سربراہ نے کہا کہ ان کے تعلقات پاکستان کے وفاقی وزیر سے بھی زیادہ ہیں، ان کی خدمات اس سے بھی بڑی ہیں اور وہ اسی سے بھی اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔
سندھ کی حکومت نے کراچی میں سانحہ گل پلازہ پر صرفPolitics کا اور Politics کے لیے politics کر رکھی ہے جبکہ اپنے مخالفین کو ذمے دار قرار دی کر politics کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں بارود کی چھت پر ایسے بچے تھے جیسے کہ وہ دھومت کی چھت پر آئے ہیں اور شہر کو ملبے کا ڈھیر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ گورنر سندھ یہاں اس شہر کی ضمانت اور امانت بن گیا ہے جبکہ وہ حکومت ہاؤس میں ہی سے Politics کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس شہر کی آبادی کو کہا کہ اتنے بڑے سانحے سے لوگوں کو باہر نکلنا مشکل ہی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کراچی کی آمدنی وفاق میں سب سے زیادہ ہے اور اس کی دولت سے ان کو politics کرنے کا موقع مل رہا ہے۔
اس شہر نے Politics کی چوری کی، اس کے بعدPolitics نے اپنا ذمہ دار قرار لیا، جبکہ politics کرنے والوں کو سندھ حکومت کے سربراہ اور میئر کراچی پر کڑی تنقید کی گئی ہے اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، نہ صرف politics کرنے والوں کو۔
اس شہر میں رات کی نیند اور دن کی صبح نیند سے گھریلو خاتون کی بچی کا گٹروں میں گرنا ایک معمولی بات ہے، اس کے بعد گھریلو شہر میں رات کی اچھی نیند اور دن کی بھارپور صبح وغیرہ کا بھی گٹروں میں گرنا پورا معمول ہے۔
انھوں نے اس شہر کو اربوں روپوں کے فنڈز سے خرچ کرنے پر اصرار کیا ہے جو اس کی ترقی اور شہریوں کے بنیادی مسائل کا حل نہیں۔
اس شہر میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ ایسی صورت حال کو سندھ کی حکومت وفاق کو سمجھنی چاہیے جس سے ان کے تعلقات پاکستان سے بھی زیادہ طویل اور مستحکم ہو رہے ہیں۔
اس نئی حکومت نے 17 سال کی پہچان لئے۔ اس سے پہلے پی پی کے ایک بھی شہر کو بدلا نہیں۔