بلوچستان بھر میں دفعہ 144 کے تحت ایک ماہ کیلئے پابندیاں نافذ

عقاب

Well-known member
بلوچستان میں دفعہ 144 کے تحت پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں، جس سے شہریوں کی زندگی پر ایک ماہ کی پابندی لگ گئی ہے۔ محکمہ داخل نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں ایسی پابندیاں لگائی گئی ہیں جس سے اسلحہ کی نمائش اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے، جو ناقابل یقین خطرہ سمجھی جاتے ہیں۔

اس دفعہ کے تحت ڈبل سواری، کالے شیشوں اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، جس سے پانچ یا زائد افراد کے اجتماعات و جلوسوں پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔ اس میں چلنا بھی مکمل طور پر منع کر دیا گیا ہے، جس سے کوئی نوجوان اپنی خواہش کے مطابق دو رپورٹنگ آڈیو گیت سائن کر سکے گا۔

ان کے علاوہ گھروں سے باہر مفلر ، رومال ، ماسک سے چہرہ ڈھانپنے پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، جس سے وہ لوگ جو ان سے محفوظ رہنا چاہتے تھے وہ محفوظ طور پر اپنے گھروں میں ہی رہ سکتے ہیں۔

کینوں کے استعمال پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، اور اس کے ذریعے کسی کی جان کو ناقابل یقین خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے، جو کوئی نوجوان اپنی خواہش کے مطابق کر سکے گا۔
 
اس صورتحال سے ایک بات کلام بھی نہیں کہی جائے کیوں کہ لوگ اس دفعہ کو بالکل سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ سوال اٹھا کر کہ یہ دفعہ کس حقیقت سے لگایا گیا تھا، اگر وہ کسی خاص خطرے سے نہیں تھا تو کیوں پابندی عائد کی گئی؟ پھر بھی اس بات کو نہیں سمجھا جاسکتا کہ شہریوں کی زندگی میں ایسی پابندیاں لگائی گئی ہیں جو لوگوں کی زندگی کو بھی تنگ کر رہی ہیں۔ اس پر دیکھنے کو نہیں ملتا کہ آسے دفعہ سے کیا فائدہ ہوا گیا ہو؟
 
یہ تو ایک بڑی بات ہے دفعہ 144 کی پابندیاں بے حد سے لگ رہی ہیں، پھر نہیں تو یہ شہریوں کی زندگی کو مکمل طور پر روک دی گئی ہے اور نہیں تو اس کو ایسا محسوس کیا جا رہا ہے جیسے یہ ایک اچھے سا دھندلے تھا، پھر کئی برسوں سے شہروں میں دو رپورٹنگ آڈیو گیت سائن کرنا مکمل طور پر منع ہے؟ یہ بھی ایک اچھا جہتہ ہے کہ نوجوانوں کو اپنی خواہش کے مطابق آئی ایف اور ایل این جی سائن کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
 
بلوچستان میں دفعہ 144 کی پابندیاں لگائی جانی چاہیے تو اس کو نہیں لگایا گیا؟ یہ بات بھی بتنی چاہیے کہ یہ پابندیاں کس وجہ سے عائد کی گئی ہیں، اور اس میں کوئی لازمی ضرورت نہیں ہے؟ لوگ اپنی خواہش کے مطابق رہنا چاہتے ہیں، لیکن یہ پابندیاں وہ لوگوں کو مجبور کر رہی ہیں جو دوپہر میں بھی آپریٹنگ کرتے ہیں...

اس طرح کی پابندیاں دیکھ کر تیری دلکشی نکلتی ہے، لیکن یہ پابندیاں دیکھ کر میرے دماغ میں بے حد چٹان آ رہی ہے...

میں صرف ایسا کہتا ہوں کہ لوگ اپنی خواہش کے مطابق رہنا چاہتے ہیں، اور اس لیے یہ پابندیاں نہیں لگائی جانی چاہیں... 🤔
 
یہ دفعہ 144 کی وہ پابندی جس سے شہریوں کی زندگی پر ایک ماہ کی پابندی لگ گئی ہے، کچھ اچھا لگ رہی ہے، آسان ہونے والا ہے اور اس سے دیر سے لگنے والی پابندیوں سے بچا جا سکے گا۔ تاہم، نوجوانوں کی کھیلاں جیسے ڈبل سواری اور دو رپورٹنگ آڈیو گیت سائن کرنا کیا بنے گی؟ یہ پابندی بہت زیادہ سخت لگ رہی ہے، چاہے وہ کھیل یا کھلنا ہو، مگر ایسے صورتحال سے نجات ملنے کی توقع ہے۔
 
بلوچستان میں دفعہ 144 کے تحت پابندیاں لگائے جاتے ہیں تو ایسا تو ہے، لیکن اس پر مکمل پابندی لگائی جائی گئی ہے؟ یہ بات ایک ہی رہتے ہوئے لوگوں کے لیے کوئی فائدہ نہیں دلاتی، بلکہ وہ لوگ جو ایسا کرنا چاہتے تھے اب اس پر اپنی زندگی کی پابندی لگانا پڑے گا۔ موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کرنا ایک طاقتور Means ہے، لیکن یہ پابندی نوجوانوں کو ناز ڈالتے ہوئے رہتے ہیں۔

ان کے علاوہ چلنا جھٹکारनے کا ایک اورMeans بن گیا ہے، اب وہ نوجوان جو اپنی خواہش کے مطابق دو رپورٹنگ آڈیو گیت سائن کرنا چاہتے تھے اب اس پر بھی پابندی لگائی جائی گئی ہے، اور اس سے وہ نوجوان اپنی زندگی کے ساتھ آہستہ آہستہ ٹوٹنے والے رہتے ہیں۔
 
یہ دفعہ بڑا خطرناک لگ رہا ہے، پورے شہر میں سارے لوگوں کی زندگی کو ایک ماہ کی پابندی کے تحت رکھنا بھی عجیب ہے۔ کینوں کو یہاں تک لانا بھی منع کر دیا گیا ہے، ان لوگوں کو جو وائرس کی وجہ سے ٹھکانہ نہیں آ رہا تھا اور اب وہ یہاں تک لانے کا موقع مچک کر گئے ہیں۔

اس دفعہ کو جس سے سڑکوں پر دو لوگ ایک جگہ کھڑے ہوتے رہتے ہیں اور دوسرے سڑک میں لانے کا راستہ مچک کر دیتا گیا ہے، وہ پوری ایسی صورت حال ہوئی جس پر کوئی بات نہیں کہ سائن کر سکے گا۔

اس دفعہ کی وجہ سے لوگ اپنی خواہش کے مطابق یہاں تک لانے میں روک رہے ہیں، جس سے ایک شخص کو دوسرے کو پھنسایا گئا ہے، اور اب اس کے علاوہ ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ ایسے نوجوان جو دو رپورٹنگ آڈیو گیت سائن کرنا چاہتے تھے وہ اب اس کے دروازے کے سامنے ہیں۔
 
میں یہوں تک سے سوچ رہا تھا کہ میگ ہی نہیں آئی اور ہر کون کی بھارتی موسم گرما کی پابندیاں ہوا ہیں، لیکن بلوچستان میں یہ ناجائز تھا۔ میں چلنا اور دو رپورٹنگ آڈیو گیت سائن کرنا کیسے منع کر دیا گیا؟ یہ تو شاعری کی طرح ہے۔ میرے پاس بھی دو رپورٹنگ فون سائن کرنی ہے لیکن پابندی نہیں، میں اپنا فون بیگ کھولا ہوں تو وہ چل دے گا اور وہ ہر رپورٹنگ آڈیو گیت سائن کر دیں گا۔
 
واپس
Top