امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے بلوچستان میں دہشتگرد حملوں پر شدید مذمت کی ہے، ان ایسے حملوں کا جو لاکھوں لوگوں کو زخمی اور تباہ کر رہے ہیں۔ یہ حملے بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے منظر عام پر لائے گئے ہیں، جو امریکا کی جانب سے نامزد کردہ ایک دہشتگرد تنظیم ہے۔
انہوں نے اپنے tweet میں ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا، "اس وقت امریکا بھی اس تشدد اور خوف سے آزاد زندگی گزاریں چاہتی ہے جس کا شکار پاکستان کی عوام ہو رہی ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا، "دہشت گردی میں کوئی بھی ملازمت ایک غیرقانونی اور نافذ نہ ہونے والی کارروائی ہوتی ہے جو کسی بھی ملک کے ساتھ دوڑ کر ہوئی ہے۔"
نٹالی بیکر نے اپنے لانچ پینل میں پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ ایک دلی تعلقات کو برقرار رکھا ہے، انہوں نے کہا، "ماڈرن ڈیلو آف پیس (متنوعیت کی ایک عالمی کانفرنس) پاکستان اور امریکا میں دلی تعلقات کو فروغ دینے کی جانب سے کام کر رہی ہے، جو کہ دو ملکوں کے درمیان ایک مضبوط تعلق بناتا ہے۔"
اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کو دھمپ ہونے سے باہر چلنا ہیں، ایک آزاد زندگی گزारनے کی جانب رہنا ہوگا، جس میں تشدد اور خوف کے ذریعہ ان کے حق نہیں ہوتا۔
کیا اس سے پتھر کی آواز آ رہی ہے? امریکا کی ناظم الامور نٹالی بیکر کو دھمکاوں میں دلچسپ ہونا چاہیے، جو لوگوں کو زخمی اور تباہ کر رہی ہیں! وہ کہتے ہیں کہ امریکا بھی اس تشدد سے آزاد زندگی گزاری چاہتی ہے، لیکن یہ وہی لوگ ہیں جو دھمکاوں میں لپتے ہیں؟
جسے انہوں نے "دہشت گردی" کہا، وہ ایک امریکی نامزد کردہ دہشتگرد تنظیم ہے! کیہ اس کو ایسا سمجھنا چاہئیے کہ وہ ساتھیوں کی جان کی قیمتیں اٹھانے والے ہیں؟
میں اس پر بہت غصے سے پریشانی ہو رہی ہے۔ امریکا کی ناظم الامور ایسے لوگوں کو مدد دیتی ہے جنہیں پاکستان کے عوام کا خوفناک سामनہ کرنا پڑتا ہے اور انہیں زخمی کردیا جاتا ہے۔ یہ بھی نئی بات نہیں ہے کہ یہ دہشت گردی کی ملازمت ایک غیرقانونی اور نافذ نہ ہونے والی کارروائی ہوگی، لیکن امریکا یہ کیا کر رہا ہے؟
امریکا کی ناظم الامور ینٹالی بیکر نے بلوچستان پر حملوں سے مذمت کی ہے، یہ تھوڑی حقیقی بات ہے کہ وہ ہمیں اس دہشت گردی سے باہر چلنا چاہتی ہیں جس سے ہمारے عوام کو زخمی اور تباہ کر رہا ہے ۔ انہوں نے اس پر اپنے لانچ پینل میں بھی کہا کہ دہشت گردی ایک غیرقانونی اور نافذ نہ ہونے والی کارروائی ہوگی جس کے ساتھ کسی ملک کے ساتھ دوڑ کر رہی ہے ۔
امریکا کے ناظم الامور نٹالی بیکر کی بیانیہ سے پوری دنیا پر اثر پڑتا ہے، اس کا مشاہدہ پاکستان میں دہشت گردی سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، جس نے لاکھوں لوگوں کو زخمی اور تباہ کیا ہے #بلوچستان_کے_مظالم کو سمجھنا ہوتا ہے۔ امریکا کی جانب سے اس تنظیم کی منظر عام پر لانے کی گئی وہی وضاحت نہیں کرتے کہ انہوں نے دھمپ اور تشدد کو اپنی معیشت میں بھرپور طور پر استعمال کیا ہے #امریکی_دہشتگردی
نٹالی بیکر کی بیانیہ سے یہ بات بھی پوری دنیا کے سامنے آتی ہے کہ دہشت گردی میں کوئی بھی ملازمت غیرقانونی اور نافذ نہ ہونے والی کارروائی ہوتی ہے #دہشتگردی_میں_کوئی_بھی_ملازمت_نہیں، اس کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائیاں جاری رہنی چاہئیں #دہشتگرد_درونے_کے_خاتمے
جبکہ ان کی ایک دوسری بات اور یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کو دھمپ ہونے سے باہر چلنا ہوگا، ایک آزاد زندگی گزारनے کی جانب رہنا ہوگا #ماڈرن_ڈیلو آف پیس
امریکا کی وہ ناظم نٹالی بیکر جو دہشت گرد حملوں پر شدید مذمت کر رہی ہیں، اس میں تو اس کی بات سے متفق ہے لیکن یہ سوال ہے کہ وہ ان حملوں سے منسلک تنظیم ہیں یا ان کی مذمت صرف ایک معاشرتی ماحول میں ہی نہیں تھی؟
امریکہ کے یہ پیغام بہت اچھا ہے، اس کی واضح نیند کی ضرورت تھی کہ ملک کے لوگوں کو ظلم سے نمٹنا پڑ رہا ہے۔ بلوچستان میں دہشت گرد حملوں پر امریکہ کی شدید مذمت بہت اچھی ہے، یہ دیکھتے ہی میرے دل کا بھار ٹلتا ہے کہ کس طرح لوگ اپنے ملک کو ایسے حالات میں رکھ کر دہشت گردوں کی مرضی پر چلنا پڑتے ہیں۔
بھائی ایسے سے بھی کہنے لگے ہیں کہ امریکا کی حکومت دھمپ میں چلتی ہے اور اب وہ اس سے باہر نکل کر لوگوں کو آزادی دی رہی ہیں؟ نٹالی بیکر کے لانچ پینل میں ہونے والی باتوں سے یہ بات کہی نہ سکتی کہ دھمپ میں چلنے کی ایسی حکومت وچ اچھی ہوتی ہے؟
امریکا کی یہ عالمی کانفرنس بھی ایک منظر پر لائی گئی ہے جو دنیا کو توسیع کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ان سب کے ساتھ لپٹا ہوا ایسا ایمٹ نہیں ہے جس سے لوگ اس کے منصوبوں پر اعتماد کر سکیں۔ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی وہ فہرست ہے جو ابھی بھی ان ایسے افراد کو دھچکا دے رہی ہیں جو امریکا کے لانچ پینل میں اپنے دروازے کھولا تھا۔ اب وہ لوگ اس دنیا کی طرف ایک جانب بھاگ رہے ہیں جس میں دھمپ اور خوف کے ساتھ ایسا شہر نہیں بنایا گیا ہو گا جو وہ سوچتے تھے۔
امریکا کی نٹالی بیکر کو پھوکنتے ہوئے، انہوں نے ایسے دہشت گرد حملوں پر شدید مذمت کی ہے جو بلوچستان میں لاکھوں لوگوں کو زخمی اور تباہ کر رہے ہیں? یہ تو ایک بد ترین معاملہ ہے۔
امریکا کی نٹالی بیکر نے کہا ہے کہ ان حملوں کو مذمت کرنا ضروری ہے، اور یہ بھی صاف کہا ہے کہ دہشت گردی ایک غیرقانونی اور نافذ نہ ہونے والی کارروائی ہے جو کسی بھی ملک کے ساتھ دوڑ کر ہوئی ہے؟ یہ تو کوئی بات نہیں، دہشت گردی ایسا ہی ہے جیسا کہ وہ بتا رہے ہیں۔
لیکن انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت امریکا بھی ایسا ہی ہو رہا ہے جس میں پوری دنیا کو تشدد اور خوف سے دوچار کر رہے ہیں؟ یہ تو نہیں، اس کا کبھی اچانک نہیں بننا چاہئیے۔
نٹالی بیکر نے ایسا کہا ہے کہ ان حملوں پر مذمت کرنا صرف ان کی جانب سے ہی ہوسکتا ہے، لیکن ابھی یہ تو صاف نہیں ہوا ہے، کہیں ایسا ہونا چاہئیے جس سے وہ لوگ مجبور ہو کر اپنی جانچ دے رہے ہوں۔
لیکن ابھی یہ تو صاف نہیں ہوا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کو دھمپ ہونے سے باہر چلنا ہیں، ایک آزاد زندگی گزारनے کی جانب رہنا ہوگا، جس میں تشدد اور خوف کے ذریعہ ان کے حق نہیں ہوتا۔ یہ تو ایک سچے بات ہیں۔
امریکا کی نٹالی بیکر کو پھوکنتے ہوئے، انہوں نے ایسے دہشت گرد حملوں پر شدید مذمت کی ہے جو بلوچستان میں لاکھوں لوگوں کو زخمی اور تباہ کر رہے ہیں؟ یہ تو ایک بد ترین معاملہ ہے۔
امریکا کی نٹالی بیکر کو تو یہ کچھ چل پایا ہوگا کہ وہ بلوچستان میں دہشت گردی سے لڑ رہے ہیں، لیکن یہ بات بھی وہ نہیں سمجھ سکتی کہ اس دہشت گردی کا خلاف جدوجہد ایک عالمی مسئلہ ہے جس میں تمام ملکوں کی شرکت ضروری ہے، نہتے وہ اپنے لانچ پینल سے کہے تھے کہ ماڈرن ڈیلو آف پیس ایک بہترین منصوبہ ہے جو دوسرے ملکوں کی شرکت کا تعتذیر جما رہا ہے، لیکن وہ یہ نہیں سمجھ سکتی کہ اس منصوبے میں بھی امریکا کا کردار کیا ہوگا؟
امریکے اس ناظم الامور نٹالی بیکر کی بات سے مل کر مجھے لگتا ہے کہ وہ لوگ جو دہشت گردی میں ملازمت رکھتے ہیں ان کو دھمپ سے باہر چلنا ہوتا ہے ، لاکین ایسا کیسے بھی ہوسکتا ہے؟
اس وقت ملک کی سرکار میں جو بات ہو رہی ہے وہ وہ ہی ہے جو لوگوں کو اس سے باہر چلنے کی اجازت دیتی ہے۔
امریکا کے اس ناظم الامور کے الفاظ کے علاوہ ان کے ساتھ ایک بات بھی ہے کہ جب یہ لوگ اپنے ملک کی سرکار کو دھمپ کرتی ہیں تو وہ لوگ جو اس طرح کام کرتے ہیں ان سے بھاگتے ہیں اور ایسا اتنے لاپٹو ہوتا ہے کہ نتیجہ ملتا ہے دہشت گردی کی زیادہت سے .
اس وقت وہ لوگ جو تشدد اور خوف میں چلتے ہیں انہیں وہی رہا کرنا ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ سنجیدگی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔