بلوچستان میں موسم سرما کا نیا اور شدید سسٹم ہلکا لگتا تھا، جو اس وقت اپنے شان سے داخل ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے صوبے کے شمالی اور مغربی اضلاع میں بارش اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کی صورت حال ہوسکتی ہے۔
پاکستان محکمہ موسمیات نے ایسے ہی اعلان کیا ہے جس سے چاغی، نوشکی، کوئٹہ، پشین، چمن، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، زیارت، ہرنائی، ژوب اور ملحقہ علاقوں میں بارش اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کی صورت حال ممکن ہوسکتی ہے جس کے باعث اس سسٹم کے اثر انداز 30 جنوری کو رات بھر تک رہن گے۔
محکمہ موسمیات اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے یہ اعلان کیا ہے کہ برفباری کی وجہ سے سڑکیں پھسل جائیں گی، جو حادثات کا خطرہ بڑھا سکتی ہے اور اس لیے شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سیاحتی مقامات پر جانے والے سیاح خصوصی احتیاط لے۔
حکام نے ممکنہ ہنگامی صورتحال کو روکنے کے لیے تمام ڈپٹی کمشنرز سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ انہوں نے اس صورتحال کو اپنی جانب سے محفوظ رکھا جا سکے۔
وہ ایسا سسٹم کتنا چیلنجیگا! بلوچستان میں موسم سرما اچھی طرح سے داخل ہوتا جاوہگا तاکہ پھر شہروں میں پھوسل جائے اور رات کتھی بھی پھوسلی گئی تو لوگ آپسی ملنے کی چاہیں گی، اس لیے سڑک پر سافری کرنا ایسا ہی Risky Hoga!
اور سیاحوں کے لئے بھی وہ پہاڑی علاقے جیسا Wahi Bhi Hain jo کہ برفباری کے دوران اچھی طرح سے Barfband Ho Jate Hain. اور پھر وہ چاغی، نوشکی اور کوئٹہ کو کتنا Heat Tolerent Lagenge!
اس لیے پوری فہرست پر دیکھ کر وہ لوگ بچنے کا Fikr Karte Hain.
بلوچستان کا یہ سسٹم موسم سرما میں بھی ایسی ہوتی ہے جیسا اس وقت داخل ہوتا ہے، پہلے تو یہ لگتا تھا کہ وہ ہلاک ہو چکا ہے لیکن اب اس کو ہلکا لگ رہا ہے، یہ کچھ خوفناک ہے اور سڑکیں پھیلتی ہیں تو ان کی جائیداد کی کبھار بھر جائیگی ؟
بلوچستان میں موسم سرما کا نیا اور شدید نظام اب داخل ہونے لگا ہے جس کی وجہ سے پورے صوبے میں پتھر پتھر گئے ہیں اور یہ پتھر بہت زیادہ ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان علاقوں میں بارش اور برفباری کی صورت حال ممکن ہوسکتی ہے جو ایسے ہی ہونے لگ رہی ہیں کہ چاغی، نوشکی کوئٹہ پشین چمن جیسے علاقوں میں بارش اور برفباری کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے اور یہ 30 جنوری تک رہنے لگتی ہے۔
یہ سسٹم پتھروں سے بھری گئی سڑکیں بھی پھلنا شروع کر دے گی جو اس صورتحال کا ایک بڑا خطرہ ہے، اس لیے شہری غیر ضروری سفر نہ کریں اور سیاحتی مقامات پر جانے والے لوگ خصوصی احتیاط لے۔
بلوچستان میں موسم سرما کا نیا اور شدید سسٹم Coming Thru Hain, जس کی وجہ سے صوبے کے مختلف اضلاع اور پہاڑی علاقوں میں بارش اور برفباری کا امکان ہوسکتا ہے।
سڑکیں اور شہری راستوں پر چھٹکے نکلنے کی سंभावनہ بڑی ہے، اس لیے 30 جنوری تک رات بھر تک یہ اثر انداز رہے گا۔
سیاحوں کو پہلی بار ایسا کھلنا ہوگا، لہذا انہیں خصوصی احتیاط سے کام کرنا چاہئے اور شہریات سے دور رہنا چاہئے۔
حکومت نے بھی یہ اعلان کیا ہے کہ اگر کوئی شخص سڑکیں پھیلنے کا فیصلہ کرے گا تو اس کی جان کی کوشش کروائی جائے گی۔
یہ سب سے بڑی چنگیز ہوگى ، لہذا کچھ بات کی جائے تاکہ یہ پھلنا نہ ہو۔
ہر سال موسم سرما کے بعد ہی دیکھنا پڑتا ہے کہ پانچ پہاڑی علاقے میں برفباری کی صورت ہوسکتی ہے، اور اب بھی ایسے حالات کو موسمیاتی کارٹGRAف پر دیکھنے کے بعد شہروں میں یہ خبر سننا بہت دیر نہیں ہوتا، اس سے پہلے بھی اس وقت تک یہ اعلان نہیں کرنے کا مطلب کچھ اور ہوتا کہ شہریوں کو موسم سرما کی بارشوں کی وجہ سے اس سسٹم کے اثر انداز بھی سنے رہے ہیں، اب یہ ایک نیا وعدہ نکلتا ہے جو یقین نہیں ملا گئا کہ اس صورت حال سے صوبے میں کیے جانے والے محفوظ اور پہلے کی طرح اسی نوعیت کے منصوبوں کا کوئی خاص نتیجہ نکلا ہو گا، ایسے حالات میں ہر سال سڑک پر چھپنے والے ایسے شہری بھی ہوتے ہیں جو پہلے کے برعکس اپنی جان گاہ رکھتے ہیں اور بعد میں اس سے نکلنے کی وعدہ بھی نہیں ملاتی ہیں۔
موسم سرما میں بلوچستان کے علاقوں کو موت کی طرف دیکھتے ہوئے، صوبائی حکومت کو ایسا لگتا ہے کہ انہیں اس صورتحال سے نجات کے لیے ایک اور پلیٹ فارم کی ضرورت ہے، جس میں شہریوں کو موسم سرما کے دوران سفر کرنے والے ڈرائیونگ لائسنس کا ایک نیا ایکسٹیشن بھی شامل کیا جا سکتا ہے। اس نئے نظام کے تحت، شہری کو موسم سرما میں سفر کرنے والے ماہرین کا ایک ایمپوریم اینٹیچیز کی ضرورت ہو گی، جو انہیں موسم سرما کی صورتحال کو دیکھنے اور اس سے بچنے میں مدد करے گی۔
یہاں ایک شدید موسم سرما کا سسٹم آ گيا ہے جو لوگوں کو پہلے سے خود کو تیار کرنا ہو گا۔ یہ سب کچھ بڑیProblem ہو گیا ہے کیونکہ لوگ ابھی توجہ ایسی ڈرائٹنگ میں دلنے کو کھو دیا ہے جس سے صوبے بھر نکل دیا جاسکتا ہے۔ پہلے کچھ لوگ ٹ्रیک کی پراری پہ لگنا شروع کریں گے اور اس لیے سڑکیں پھیل جائیں گی تو یہ بھی ایک Problem ہو جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کچھ ایک Big Problem ہو گا کیونکہ لوگ ابھی سے موسم سرما کے دوران نہیں آتے تھے۔
تیرہوں سال بچ کے موسم سرما میں ہی ایسا لگتا تھا جیسا اب بلوچستان میں موسم سرما کا نیا اور شدید سسٹم ہر سال داخل ہوتا رہتا ہے وہاں کی پہاڑی علاقے میں برفباری کا امکان اچھا ہے لاکھوں لوگ اس سسٹم سے نکلنے کو تیار نہیں ہوتے پھر بھی وہاں کے لوگ اپنے علاقوں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہتے ہیں
سورج کے اور بارش کے درمیان میں ایسا وقت آتا ہے جس پر لوگ ہر ایک کو کہیں بھی کچھ نہ کچھ کہنے کی کوشش کرتی ہیں...
بلوچستان میں موسم سرما کا نیا اور شدید سسٹم آ رہا ہے، جو کہ ایک طرف تو صوبے کے شمالی اور مغربی اضلاع میں بارش اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کی صورت حال ہوسکتی ہے جس سے چاغی، نوشکی، کوئٹہ، پشین، چمن، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، زیارت، ہرنائی، ژوب اور ملحقہ علاقوں میں بارش اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کی صورت حال ممکن ہوسکتی ہے...
جس طرح ایسی بارش اور برفباری کے نتیجے میں سڑکیں پھسل جائیں گی، جو حادثات کا خطرہ بڑھا سکتی ہے... اس لیے لوگ شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سیاحتی مقامات پر جانے والے سیاح خصوصی احتیاط لینے چاہئیں...
حکام نے ممکنہ ہنگامی صورتحال کو روکنے کے لیے تمام ڈپٹی کمشنرز سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے...
[] بس موسم سرما کا دھواں ہی ایسا ہوتا ہے جیسے پاکستان میں سارے لوگ ایک ہی بات کرتے ہیں [] یہ بارش اور برفباری کا نیا سسٹم اور اس نے پھر سے دیکھ دیا کہ صوبے میں کیا ہوتا ہے [] اور اب یہ شہریوں کو بھی کہتے ہیں کہ گریٹر بیچالٹی سے زیادہ لاپتہ بننے کی پہلی ترتیب کی ضرورت ہے []