بنگلہ دیش میں قومی انتخابات: انقراب کی نوید؟
الیکشن کا ایمپورٹنٹسٹیٹس میں جوش و خروش
12فروری کو ناقابل تصدیق جوش و خروش کے ساتھ بنگلہ دیش میں قومی پارلیمانی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ اس الیکشن میں بھارتیہ نوجوان طبقات کے ذریعے ہونے والا انقراب اور عوامی دھڑے کی طرف سے سرگرمیوں میں اضافے کو دیکھتے ہیں۔
اس الیکشن کا یہ سبسکripsٹ نئے انقلاب سے بھرپور تعلق رکھتا ہے اور اس نے بنگلہ دیشی نوجوانوں کی جدوجہد کو اپنا ساتھ دے رہا ہے۔
یہ الیکشن انقراب کے ساتھ بھی منعقد ہو رہا ہے، جس نے 2016ء میں حسینہ واجد کی حکومت کو تختہ اُلٹ کر ایک اور خوفناک انقلاب میں جلاوطنی دی تھی۔
حسینہ واجد کا ہر قدم بھارت سے ملتا تھا، اس لیے وہ اپنی حکومت کی ناکامیتوں کا بھارتی سربراہی کر رہے تھے۔ اُنھوں نے 2014ء میں ووٹوں کو کنٹرول میں لینے کی کوشش کی، اس لیے اِس وقت بھی ان کا ہر انتخابی اتحاد میں ایک اور جارہا ہے۔
بھارت سے ملنے والی ناکامیتوں کے بعد یہ الیکشن بنگلہ دیش کے لیے ایک نئی شاندار اُمنگ کی نشاہت ہے۔
اس وقت بھارت پر اس طرح کی ناکامیوں کا سائے چھایا جاتا تھا کہ یہ الیکشن بھی پورا پورا فائدہ اُٹھایا، لیکن 2018ء میں بھی وہی ہوئی اِنصاف پر غور کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں عوام لیگ کی ایک نئی حکومت بن گئی۔
بارہ فروری کو بنگلہ دیش میں قومی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں، جس میں پہلی بار عوامی اور سرکاری رکنیت کے ساتھ ووٹیں اٹھائی جائیں گی۔
جبکہ 2014ء اور 2018ء کے انتخابات میں ووٹوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اب بھی ووٹوں کو عوام سے نیک لے رہے ہیں اور ان میں یہ واضح طور پر انقراب کی نوید محسوس کر رہا ہے۔
الیکشن کا ایمپورٹنٹڈ سٹیٹس میں جوش و خروش
بارہ فروری انتخابات کے لیے ناقابل تصدیق جوش و خروش میں ہو رہا ہے، اس الیکشن میں بھارتیہ نوجوانوں کی ایک اور بارے میں انقراب ہو رہا ہے جو پچیس سال قبل یہی اِس طرح تھا جب Hussein al-Waylali سے ووٹوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
یہ الیکشن ایک نئی شاندار اُمنگ کی نشاہت ہے جس میں بھارتیہ نوجوانوں کی ایک اور بارے میں انقراب تھا، اِس کا یہ سبسکripsٹ نئی نوید ہے اور اس سے ووٹوں کا لطف اُٹھائے گا۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش میں ووٹوں کو عوام سے نیک لینے کی شاندار اُمنگی تھی جس نے حسینہ واجد کی حکومت کو تختہ اُلٹ کر ایک اور خوفناک انقلاب میں جلاوطنی دی تھی۔
الیکشن کا ایمپورٹنٹسٹیٹس میں جوش و خروش
12فروری کو ناقابل تصدیق جوش و خروش کے ساتھ بنگلہ دیش میں قومی پارلیمانی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ اس الیکشن میں بھارتیہ نوجوان طبقات کے ذریعے ہونے والا انقراب اور عوامی دھڑے کی طرف سے سرگرمیوں میں اضافے کو دیکھتے ہیں۔
اس الیکشن کا یہ سبسکripsٹ نئے انقلاب سے بھرپور تعلق رکھتا ہے اور اس نے بنگلہ دیشی نوجوانوں کی جدوجہد کو اپنا ساتھ دے رہا ہے۔
یہ الیکشن انقراب کے ساتھ بھی منعقد ہو رہا ہے، جس نے 2016ء میں حسینہ واجد کی حکومت کو تختہ اُلٹ کر ایک اور خوفناک انقلاب میں جلاوطنی دی تھی۔
حسینہ واجد کا ہر قدم بھارت سے ملتا تھا، اس لیے وہ اپنی حکومت کی ناکامیتوں کا بھارتی سربراہی کر رہے تھے۔ اُنھوں نے 2014ء میں ووٹوں کو کنٹرول میں لینے کی کوشش کی، اس لیے اِس وقت بھی ان کا ہر انتخابی اتحاد میں ایک اور جارہا ہے۔
بھارت سے ملنے والی ناکامیتوں کے بعد یہ الیکشن بنگلہ دیش کے لیے ایک نئی شاندار اُمنگ کی نشاہت ہے۔
اس وقت بھارت پر اس طرح کی ناکامیوں کا سائے چھایا جاتا تھا کہ یہ الیکشن بھی پورا پورا فائدہ اُٹھایا، لیکن 2018ء میں بھی وہی ہوئی اِنصاف پر غور کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں عوام لیگ کی ایک نئی حکومت بن گئی۔
بارہ فروری کو بنگلہ دیش میں قومی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں، جس میں پہلی بار عوامی اور سرکاری رکنیت کے ساتھ ووٹیں اٹھائی جائیں گی۔
جبکہ 2014ء اور 2018ء کے انتخابات میں ووٹوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اب بھی ووٹوں کو عوام سے نیک لے رہے ہیں اور ان میں یہ واضح طور پر انقراب کی نوید محسوس کر رہا ہے۔
الیکشن کا ایمپورٹنٹڈ سٹیٹس میں جوش و خروش
بارہ فروری انتخابات کے لیے ناقابل تصدیق جوش و خروش میں ہو رہا ہے، اس الیکشن میں بھارتیہ نوجوانوں کی ایک اور بارے میں انقراب ہو رہا ہے جو پچیس سال قبل یہی اِس طرح تھا جب Hussein al-Waylali سے ووٹوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
یہ الیکشن ایک نئی شاندار اُمنگ کی نشاہت ہے جس میں بھارتیہ نوجوانوں کی ایک اور بارے میں انقراب تھا، اِس کا یہ سبسکripsٹ نئی نوید ہے اور اس سے ووٹوں کا لطف اُٹھائے گا۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش میں ووٹوں کو عوام سے نیک لینے کی شاندار اُمنگی تھی جس نے حسینہ واجد کی حکومت کو تختہ اُلٹ کر ایک اور خوفناک انقلاب میں جلاوطنی دی تھی۔