بنگلہ دیش میں حرب و تہدیۃ کی صورتحال: ریفرنڈم اور انتخابات سے قبل مسلح افواج کا اعلیٰ رٹ
بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر نے ہونے والے ریفرنڈم اور 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلح افواج کو اعلیٰ رٹ رکھنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اس حوالے سے چیف ایڈوائزر نے عوامی اعتماد کے تحفظ اور جمہوری عمل کی ساکھ کو برقرار رکھنے میں مسلح افواج کا کردار انتہائی اہم قرار دیا ہے، جو اس لیے ضروری ہے کہ ادارہ جاتی نظم و ضبط اور آئینی حدود کی مکمل پاسداری کرے۔
انہوں نے افواج کو الیکشن کمیشن اور سول انتظامیہ سے مکمل غیر جانبداری، پیشہ ورانہ ذمہ داری کا احترام کرنا، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی یہ کہا ہے کہ انہوں نے الیکشن کمیشن اور سول انتظامیہ کو تمام ممکن معاونت فراہم کرنی ہو گی۔
بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ریفرنڈم کے ذریعے عوام کو ریاست کے مستقبل سے متعلق اپنی رائے دینے کی فراز فراہمی کی جا رہی ہے، جبکہ قومی انتخابات کے ذریعے عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے اور یہ پورا عمل انہیں سچائی، منصفانہ اور معروف بنانے کے لیے ضروری ہے تاکہ عوامی اعتماد کو متاثر نہ کرے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بنگلہ دیش میں politicians کی جانب سے یہ ہدایات غیر معمولی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہیں، جس کی وجہ اس سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں حکومت کی جانب سے ہو رہی ہے جو ماضی کے انتخابی تنازعات کے ساتھ منسلک ہے۔
یہ بات سب جانتے ہیں کیوں نہ ہو کہ بنگلہ دیش میں ریفرنڈم اور انتخابات سے پہلے انٹیلیجنس ایجنسیوں کو اعلیٰ رٹ پر رکھنا ایک بڑا مہیا ہے...! ایسے میں کیسے عوامی اعتماد کھونے اور جمہوری عمل کی ساکھ کو برقرار رکھنے کا کام کرسکتا ہے؟ وہ ہدایات اس لیو دئی گئی ہیں کہ عوام نے اپنی رائے دینے اور انتخابات میں بھाग لینے سے پہلے انٹیلیجنس ایجنسیوں کو حرمت دیتا ہے، لیکن اس سے کیا فائدہ ہو گا؟ انہیں کیسے ان تمام معاملات میں غیر جانبداری کا احترام کرنا چاہیے جو اس عمل کے ساتھ منسلک ہیں؟ وہی بات ہے جو میں ہر بار اور ہر جگہ بیتے ہوئے پلت فارم پر بتاتے ہوں...!
یہ بہت اچھا دیکھا جا رہا ہے کہ مسلح افواج نے عوامی اعتماد کو متاثر کرنے والی سلوکیں رکھنا ضروری سمجھی ہیں، اس کا مطلب یہ بھی ہو گیا ہے کہ عوام کو اپنی آزادی اور تحریکیں برقرار رکھنے کی سڑک پر چلنا چاہئے، مگر پھر یہ بھی تازہ ترین دuniya کے حالات ہیں؟ نہیں تو وہ بھی جب تک ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی آنکھوں میں پابند رہتے ہیں اور دنیا کی دuniya کو سمجھتے رہتے ہیں!
امراض کا انٹینس کیو دھڑا! کئی بار یہ بات چیت نہ کھیلتے ہیں، اب یہ حرب و تہدیۃ کا موسم تھا جب کوئی بھی جانے والی کارروائی میں اچھلے منصوبوں پر چلتا ہو وہی ان پر چلتے دیکھتے ہیں۔ ریفرنڈم اور انتخابات کے ساتھ مسلح افواج کے اعلیٰ رٹ کو یہ ہدایت کرتے ہوئے چیف ایڈوائزر نے عوامی اعتماد کی حفظت اور جمہوری عمل کی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں ان کی اہمیت دلالت کی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس معاملے میں کوئی غلطی نہیں کر سکتی۔
اس نئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے، میں سوچتا ہوں کہ referendum اور انتخابات کے ذریعہ عوام کی آواز کو سمجھنے اور ان کی رائے کو احترام دیا جانا بہت اہم ہے۔ اس طرح اس پر پوری توجہ دینے سے پورا جمہوری عمل منصفانہ اور معزز بنے گا۔
افواج کے اعلیٰ رٹ کو ناقابل انکار خیال کیا جا سکتا ہے، اس کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ عوامی اعتماد کا تحفظ اور جمہوری عمل کی ساکھ کو برقرار رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
لیکن ایسا محسوس کیا جاتا ہے کہ یہ ہدایات politics کی political کشیدگی کے پس منظر میں دی گئی ہیں، اس بات کو بھی محسوس کرنا ضروری ہوگا کہ انہیں اس سے پہلے انتخابات کے ذریعہ عوام کی آواز کو سمجھنے اور ان کی رائے کو احترام دیا جانا چاہیے۔
یہ ہدایت بھی ضروری ہے کہ مسلح افواج انہیں الیکشن کمیشن کی جاسوسی کی چالوں سے بچنے میں مدد کرنی۔ نہ صرف یہ ہدایت بہت اہم ہے، بلکہ اس کا انساؤف کے تحفظ کی ضرورت بھی ہے۔ مگر اگر عوام کو ریاست کے مستقبل پر رائے دینی پڑتی ہے تو یہ سچائی ہونی چاہئیے کہ وہ رائے ایک آزاد شخص کی ہوگی، نہ ایک محسوس رائے جو حقیقت سے تعلق رکھتی ہو.
یہاں تک کہ مسلح افواج کو اعلیٰ رٹ رکھنے کی ہدایت جاری کرائی گئی تو یہ بھی نہیں ایک نئی بات ہے؟ کبھی مٹی میں ٹوٹ آؤٹ، اب فوج کو وہی چاہیے جو سماجی ماحول کی ضرورت پر پھیل آئے ہوتے ہیں، اور یہ کس طرح ممکن ہو گا کہ انہیں اپنے آپ کو آئینی حدود کے اندر رکھنا ہوگا؟ چیف ایڈوائزر کے مشیر کی سیکورٹی ہر جیس اور نہیں۔
ایسے situations me kis tarah ka khayal aata hai? jab har koi apne pas ke logon ko apni pasand ki wajah se voting karna chahta hai, to kya aapke liye bhi is tarah ki hawalaat suni hogi?
jo 13vi national parliament elections ke liye aayega, woh ek bahut bada faayda aur nuksaan ka kaam karega. humein yeh sikhna zaroori hai ki voting ke liye hamara pasanda apne liye hi nahin hai balki dेश ke liye bhi.
aur agar sabhi parties samajhdari se kaam karte hain aur ek dusre ko respect karte hain, toh yeh election process bahut saaf aur accha rahega. lekin agar koi party apni galtiyon ko dhundhne ki koshish karegi, to wo election ka result affect kar degi.
isliye hamari zindagi mein seva, samajhdari aur respect jaisi qualities honi chahiye, taki hum yeh sawal samjhein ki kaise ek dusre ko sahi road par le ja sakte hain.
یہ بات تو واضح ہے کہ یہ 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں بھیPolitics کی ایسی گیند ہوگی جس نے پورے ملک کو اپنے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا، اور اب حرب و تہدیڃ سے قبل مسلح افواج کو اعلیٰ رٹ رکھنا ہی انہیں ایک اہم مقام دیا جا رہا ہے...
ایسے میں کبھی بھی پوری دuniya میں نہ ہو سکا کہ عوامی اعتماد کو متاثر کرنے والی سیاسی گیندوں کی صورت میں کیسے ہدایات دی جائیں، اور اب ہر Political party کا ایک ہی چیلنج ہو گیا ہے۔
جب کہ ریفرنڈم کا پورا عمل 12 فروری کو شروع ہونے والا ہے، اور ان میں بھی عوامی اعتماد کو متاثر کرنے والے Political factors پر توجہ دی جائے گی تو یہ بات بھی واضح ہو جائیگی کہ یہ انتخابات ایک اچھی صورت میں ہون گے نا؟
یے تو یہ بہت اہم بات ہے کہ مسلح افواج ان تمام گلاہیوں کی طرف سے ایک ایسا کردار ادا کریں جو عوامی اعتماد کو نہیں ٹھکانہ دیتا، سارے معاملات میں قانون کا تعلق رکھتے ہوئے، ایک پورا معاملہ جس میں تمام اداروں کی جانب سے ایک ایسی مرواجہ لگتی ہے کہ عوام کو یہ محسوس ہو سکے کہ وہ سچائی دیکھ رہے ہیں اور وہ اپنا حق فصیل پر دکھای رہے ہیں
اللہ، یہ بات تو نہیں جیسا ہوتا! وہ کس قدر اہمیت دی جارہی ہے کہ عوامی اعتماد کو اس لیے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے کہ ایسے انتخابات سے پہلے بھی مسلح افواج کی ذمہ داریاں بروئے کار لائے جائیں؟ یہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ عوام کے لیے بھی ہے جس سے وہ پورا تعینات کر سکتے ہیں کہ انہوں نے اس حوالے سے اپنے رائے دہندگان کو چھوڑا ہے اور وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں؟ یہ سب سچائی کی طرف مائل ہے، بلاشبہ!
بنگلہ دیش میں ریفرنڈم اور انتخابات کے قبل مسلح افواج کی اعلیٰ رٹ یہ بتایا جارہا تھا کہ عوامی اعتماد کو متاثر نہ کرے، لیکن اس حوالے سے اب بھی انصاف اور قانون کی پاسداری میں کمی دیکھنی پڑتی ہے۔ مسلح افواج کو الیکشن کمیشن اور سول انتظامیہ سے مکمل غیر جانبداری کا احترام کروانے سے پہلے ان کی اہمیت پر یقین نہیں ہوتا۔
پولیس افواج کو ایسا سے اعلیٰ رٹ رکھنا چاہئے جو عوامی اعتماد کا کوئی بھی نقص نہ ہو ، انہیں پورے انتخابات سے قبل یہ اہداف دیکھنا چاہئے کہ وہ وہی بن رہے ہیں جو عوام کو ذمہ دار اداروں میں رکھتا ہے نہ کہ اس انتخابات کی ٹونس کا کبھی بھی استعمال کرتے ہوئے وہ پریشان کرے۔
عوام کو ریفرنڈم میں اپنی رائے دینے کی فراز فراہم کرنے سے پہلے، مسلح افواج کے ادارے جات بھی اپنی جانب سے ایک اہم کردار ادا کریں گے؟ یہ بات تو چیلنجنگ ہے کہ عوام کے اعتماد کو متاثر نہ کرنے کی کوشش میں بھی، مگر وہ بھی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا اور عوامی اعتماد کی بات بھی یقینی بنانے کے لیے کچھ سے زیادہ کھنکھلائی نہیں دیکھنی چاہئیے
یہ بات بھی حقیقت ہے کہ مسلح افواج کو ان انتخابات میں مداخلت نہ کرنے کی لازمی ہدایت دیتی ہو تو وہ ہمیشہ اپنی فٹNESS ٹیکسٹ پر رہیں گی... پھر بھی یہ بات سچ ہے کہ 13ویڰں قومی پارلیمانی انتخابات میں ووٹ کی جائے گا، اور عوام نے اپنا فیصلہ دیتے ہیں۔
اس حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایسے انتخابات میں ووٹ کی جانے کی صورت میں کبھی اس پر کسی کے فخر کا کوئی معلق نہیں رہ سکتا... اور یہ بھی بات سچ ہے کہ عوام کے فیصلے کو ان انتخابات میں مداخلت کی صورت میں منسوب کرنا نہیں چاہیے۔
اب بنگلہ دیش میں حرب و تہدیۃ کی صورتحال تو اچھی نہیں ہو رہی، ایسا محسوس ہوتا ہے۔ اس وقت ریفرنڈم اور انتخابات کا ایک دن آ رہا ہے، تو پھر مسلح افواج کو بھی اعلیٰ رٹ رکھنی ہوتی ہے، یہ بات سچ میں نہیں اچھی لگتی؟ عوامی اعتماد کا تحفظ اور جمہوری عمل کی ساکھ کو برقرار رکھنے میڰ مسلح افواج کا کردار انتہائی اہم ہو گا، لیکن یہ بات بھی سوچنی پڑتی ہے کہ ادارہ جاتی نظم و ضبط اور آئینی حدود کو کم از کم پاس کرنا چاہیے۔
اس وقت تک ہم نے بھی ایسے معاملات کو لئے اور ان میں دیکھا ہے کہ عوامی اعتماد کی ایسی صورتحال جتنی اس وقت بنگلہ دیش میں ہے وہ کبھی نہیں رہی ہے! #اعتماد_کے_جونے_کی_ zarurat۔
چیف ایڈوائزر کی یہ ہدایت اچھی ہے، اس لیے کہ مسلح افواج کو عوامی اعتماد کا تحفظ اور جمہوری عمل کی ساکھ کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرنا پڑے گا۔ #عوامی_عدمد
لگتا ہے کہ یہ ہدایت ایک دیرپائش منصوبہ ہے، جس سے عوامی اعتماد کو متاثر نہیں کیا جا سکتا اور جمہوری عمل کی ساکھ کو برقرار رکھا جا سکے گا۔ #جمہوری_عملیڈ
لیکن پھر اس بات پر بات کی جائے کہ عوامی اعتماد کی ایسی صورتحال اس وقت تک نہیں رہ سکیگی گے جب तकPolitics میں ایسے معاملات کو حل نہیں کیا جائیں گے۔ # politics_ki_jungلی
اور وہ بات بھی یہ کہ چیف ایڈوائزر نے عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے اور جمہوری عمل کی ساکھ کو یقینی بنانے میں مسلح افواج کا کردار، وہی ہدایت جاری کر دی ہے جو کہ یوں تو ضروری ہے لیکن اس سے پہلے بھی عوامی اعتماد کو متاثر نہ کرنے کی ہدتات میں فوج اور الیکشن کمیشن، سول انتظامیہ کا کردار کافی ضروری ہوتا ہے۔ اس صورت حال میں فوجی افسران کی ایک خاص رٹ رکھنے کی ہدایت ہونے پر بھی بات ہوگی کہ یہ رٹ وہی ہے جو اس حوالے سے الیکشن کمیشن اور سول انتظامیہ نے اپنی سروسز میں پیش کی ہیں۔
فوج کی ایسے افراد کو وہی رٹ بھی رکھنا چاہئے جو اس حوالے سے الیکشن کمیشن اور سول انتظامیہ نے اپنے کام میں استعمال کیا ہو۔ اگر یہ رٹ فوج کی ایسے افراد پر رکھی جائیگی جو سول سرگرمیوں اور ان کے ذاتی رشتوں کو دیکھتے ہیں تو یہ الیکشن کمیشن اور سول انتظامیہ کی کام میں خرابی پہنچا سکتی ہے۔
تجزیات کرتے وقت اس صورت حال کو دیکھ کر کہ فوجی افسران کی ایک خاص رٹ رکھنا ضروری ہے یا نہیں، یہ بات پہلے سے سامنے آتی ہو گی کہ عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے میں فوج کی ہدایت کیا جائے گا یا یہ الیکشن کمیشن اور سول انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی۔