بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کا ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے بھارت جانے سے انکار

چیتا

Well-known member
بنگلہ دیش نے ایسے فیصلے سے آئی سی سی کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے جس کی وجہ سے 2026ء کے ٹی20 ورلڈ کپ میں ان کا حصہ نہیں ہونے والا ہے۔ اس فیصلے کی بنیاد سیکیورٹی خدشات پر رکھی گئی ہے، جو بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے بی سی بی کے مطابق کہا ہے کہ اس ٹیم کی قومی ٹیم 2026ء کے ٹی20 ورلڈ کپ کے لئے بھارت کا سفر نہیں کرے گی، سکیورٹی خدشات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ ایک اہم فیصلہ ہے جو آئی سی سی کو بھی متاثر کر رہا ہے، اس کی وجہ سے ان کے لئے 2026ء کے ٹی20 ورلڈ کپ میچز سری لنکا منتقل کرنے پر ہی فیکٹری نہ رہ سکے گی۔

بنگلہ دیش کی وزارتِ کھیل نے اور ان سے متعلق ایسی پرتشدد کے واقعات جو بھارت میں ہوئے تھے، اس فیصلے کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ بھارتی انتہاپسندوں اور اقلیتوں کے ساتھ متعلق ان سے متعلق خدشات بھی اس فیصلے میں شامل تھے۔

یہ معاملہ اب ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے جو آئی سی سی کو 2026ء کے ٹی20 ورلڈ کپ کے انتظامات کے لیے حل کرنا پڑے گا۔
 
بھارتی کرکٹ اور بنگلہ دیش میں ہونے والے ماحول وطن گریوز سے ٹی20 ورلڈ کپ کے منظر نامے کو ایک خطرناک منزلوں پر تبدیل کر دیا جائے گا
 
اس فیصلے سے لگتا ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت کو اپنی کھیل کی ٹیم کا سفر کرنے پر ایسے رکاوٹیوں کی تayarگی کرنا پڑے گی جو اسے ملک میں آئندہ ٹورنامنٹوں سے باہر نہیں لے جا سکے گی 🤔

سکیورٹی خدشات کی بات کرتے ہوئے انھوں نے بیس بھارتی شہروں اور علاقوں میں جس سے ان کا سفر کرنا ہوا اور انھیں بھی آگے لے جانے پر رکاوٹی دی گئی، اس پر ہم نیند نہیں آ سکتی۔

آج بھی بھارتی سروسز میں متعرض ہونے والے لوگوں کی کہانیوں پر سوچتا ہوں، ان کے والدین اور بھائیوں نے اپنی پھوری جائن کھو دی، اب ان کا بیٹا بھی ٹورنامنٹ سے باہر رہنا پڑتا ہے۔

یہ ایک لگام پڑائی گئی ہے نہ صرف بنگلہ دیش کے لیے بلکہ ٹورنامنٹ کی حقیقت سے جس کی واضح تعلیم دی گئی تھی۔
 
کچھ دیر سے یہ بات سامنے آ رہی تھی کہ 2026ء کے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھی کوئی منفرد ٹورنامٹ نہیں ہوگا، اب یہ بات سچ پڑ گئی کہ بنگلہ دیش ایسا فیصلہ کر رہا ہے جو اس کے لیے ٹورنامٹ سے باہر ہوگا! یہ بھی کچھ نہیں ہوا، سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے انہیں ہر طرح کی ملازمت سے دوری کرنا پڑ رہا ہے! بھارتی اداروں پر یہ دباؤ اس لئے ہے کہ انہیں بھی ایسے کردار ادا کرنا پڑ رہا ہے جو ان کی منصوبوں کو توڑنے والے بن جائیں گے! آئی سی سی کے لئے بھی یہ ایک بڑا مسئلہ ہے، اب ان کو 2026ء کے ٹی20 ورلڈ کپ کے انتظامات کے لیے حل کرنا پڑے گا... 😒
 
سچ میں ہوتا ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کی درمیانی کشیدگی کو کچھ سے عرصہ پہلے سمجھ لیں، اس لیے یہ فیصلہ بالکل درست ہے۔ اگر آپ ایک ملک کے لئے اپنی جان جلا دیتے ہیں تو اس کی کوئی بھی گنجائش نہیں رہتی، اور یہ فیصلہ ان دونوں ملکوں کے لئے ایک اچھا موقع ہوگا، لہٰذا آئی سی سی کو اس سے نکلنا بہت مشکل ہوگا۔ 🤔
 
کیا یہ ایسا فیصلہ بھی ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے آئی سی سی کو دوسری ٹیمز پر پابندی لگنی پڑے گی؟ یہ بات تو محض چिंتا نہیں ہو سکتی کہ کیا یہ ایک اچھے 예اللہ بھی ہو گا?
 
ایساFeels Laga Ke izzat aur security ki baat karni pad rahi hai Bangladesh pe ICc ko. Agar yeh sirf security ki baat thi toh kuch aur cheez karna padta nahi tha. Lekin bharat ke saath tension bhi badh gaya hai, toh koi bhi faisla kisi bhi tarah se galat nahin lag raha.

Mujhe yeh sochna pasand aya ki ICC ko kuch aur option dene chahiye, ya phir Bangladesh ko 2026 ka tournament participate karne ke liye ek alag route find krna chahiye. Kyunki yeh sirf bharat ki security ki baat nahin hai, balki yeh koi bhi din bharat ke saath tension badhane wala koi cheez ho sakta hai.
 
یہ سب بھول جائیں، 2003 میں بھی شانہ بھوانی اور پاکستان کرکٹ ٹیم سے پرتشدد ہوا تھا اور اس کے بعد بھی ٹورنامنٹ کو متاثر نہیں کیا گیا، اب ایسے حالات میں جب پاکستان اور بھارت دونوں درمیان پرتشدد ہوتا ہے تو ہم سب سے پہلے اپنے آپ کو آگاہ کرتے ہیں۔

بنگلہ دیش کی اس فیصلے نے ہمیں یاد دلایا کہ جب بھارت اور پاکستان میں 2008ء اور 2016ء میں ایسے پرتشدد ہوئے تو کوئی ٹیم ہی نہیں تھی جو اپنے ملک کی سلامتی پر افسوس بھی کہے اور اس لئے اب تک کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔

آج فلموں جیسا ہے، جب ایک فلم میں ایسا واقعہ دکھایا جاتا ہے تو تم سب اس کا توقع کرتے ہیں اور اب بھی ہمیں بتایا گیا ہے کہ نومبر 2008ء میں ایسا واقعہ ہوا تھا جو کوئی اسے اپنی فلموں کی تازگی کو کم کرنے کے لئے دکھایا گیا، اسی طرح اب بھی کسی نے بتایا کہ ان سے پہلے بھی ایسا واقعہ ہوا تھا لیکن کوئی اس کو سمجھتا نہیں تھا۔
 
بھارت-بنگلہ دیش کی کشیدگی تو توہین مانتا ہے 🤕، ایسے میچز پر منع دینے کا فیصلہ تو بھی نہیں ہو گا اس سے کروڑوں کرکٹ پیروکارز کی تلافی ہوگی। آئی سی سی کو ایسے معاملات میں ہمت نہ لگائے وہ کیسے حل کرن گا؟
 
ایسا لگتا ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک بھرپور تنازعہ شروع ہو گیا ہے جو بین الاقوامی کرکٹ کی دیکھ بھال میں بھی آئیڈھی کا نقصان پہنچا رہا ہے۔ سیکیورٹی خدشات کو کم کرنے کے لیے ایسا فیصلہ لگ رہا ہے جس کے نتیجے میں ٹی20 ورلڈ کپ میچز کو بھی متاثر کرنا پڑے گا۔ یہ ایک انتہائی خطرناک اور غیر منصوبہ بند معاملہ ہے جو آئی سی سی کو اپنی کامیابی کے لیے ہمیشہ سے پہلے تیار رہنا چاہیے تاکہ وہ اس کے حل میں اچھی طرح سوچ کر آئے۔
 
بھارت اور بنگلہ دیش کی بین الاقوامی تعلقات میں ایسے معاملات پیدا ہوتے رہتے ہیں جو ہر ایک کے لئے ناوقت ہوتے ہیں اور دوسری جگہ پہنچ کر توجہ طلب کرتے ہیں۔

اس معاملے کی جانب سے آتا ہوا ایک یقیناً منفی عمل ہے جس کے نتیجے میں بین الاقوامی کرکٹ کو بھی نقصان پہنچایا جائے گا۔

بھارتی اور بنگلہ دیشی کرکٹ کے کھلاڑیوں کی جانب سے یہ معاملے میں شرکت نہ ہونے کی صورت حال میں شocker لگا رہا ہے، اور اس پر ان کے حامیوں کی بھی خاص توجہ پڑی ہے۔
 
یہ ایک واضح بات ہے کہ بھارتی سیاست کی آن لائن تازہ ترین رپورٹس پر عمل نہیں کرسکی جاتی 🤦‍♂️۔ پاکستان یا بنگلہ دیش سے ہونے والے کسی ماجیدہ واقعے کو ایک بڑا معاملہ بنایا جائے تو یہ کیسے ؟ اس پر بھارت نے سکنہ زور دیا تو ہمیں اور یہی ہے۔

کچھ لوگ کہتے ہوں گے کہ بنگلہ دیش نے یہ فیصلہ اپنے شعبے میں ہوا تھا اور وہ ایسے فیصلے کو انہیں کیسے پیش کر سکتے ؟ اس پر کچھ لوگ انہیں بھارتی سیاست کی بدترین تیزوں میں سے ایک قرار دیتے ہیں، لیکن واضح بات یہ ہے کہ انہیں اس فیصلے کو کیسے پیش کرنا پڑا ?

ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش نے یہ فیکٹری کس کی مرمت کرنے پر مجبور ہو گئی ؟ کیا اس کے پاس کچھ خلا ہے یا اسے ایک ایسی فیکٹری کو منتخب کرنا پڑا جس کی کوئی آزما رائے نہیں ?
 
ਬھانے ایسے معاملہ میں بنگلہ دیش کو اپنی سلامتی پر خاص توجہ دینے کا حقدار ہے، لیکن یہ بھی بات یقینی طور پر اہم ہے کہ ہر ایک ٹیم کے ساتھ تعلقات میں یہ معاملات حل کی گئیں تو آئی سی سی کو ایسا نتیجہ ملتا تھا۔
 
بھارت اور بنگلہ دیش کی درمیان یہ معاملہ ایسا ہی رہتا جاسکتا ہے جو کہ وہاں کی سیاسی حالات کو متاثر کرے گی، سچ پوچھنے والے لوگ ان سے پوچھیں گے کہ بنگلہ دیش کی جانب سے یہ فیصلہ ہوا تو اس لیے؟ ناکام لشکار ہو کر اس ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کا ایسا ہی چیلنج جیسا اس کو انھیں بنایا گیا تھا، ہمارے لیے یہ واضع نہیں کہ وہیں کبھی اور بھی سیکورٹی خدشات ہو سکتی ہے۔
 
اس صورتحال کی توسیع سے بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک نئی طاقت پیدا ہوگئی ہے ، جس سے ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں جن کو حل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ بھارت کی جانب سے اس صورتحال میں کسی طرح کا استحکام نہیں رکھایا گیا ، لیکن پچھلے دیرینہ سالوں سے یہ واضع تھا کہ بھارت کی جانب سے اس کو حل کرنا مشکل ہوتا ہے۔
 
ایسا لگتا ہے بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سیکیورٹی خدشات کی بات ایک چھپا ہوا معاملہ ہو گیا ہے، اس میں کیا ہوا یا نہ ہوا یہ بھی دیکھنا مشکل ہو گا لیکن یہی بات یقین نہیں کہ ایسے situation میں آئی سی سی کو ایک فیصلے سے قبل ہی ادراک کرنا چاہیے تھا…
 
بھارت اور بنگلہ دیش کی ماحول میں ہونے والی کشیدگی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا یہ فیصلہ تو حیرانی کن ہے، لیکن ہمیں بھی یہ سوچنا چاہئے کہ یہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ہوا ہے؟ نا۔ یہ صرف ایک لالچ کا معاملہ ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش دونوں کھیلوں کی دنیا میں سب سے زیادہ پیداوار وingers ہیں اور ان کے درمیان تنازعہ ہونے کی وجہ سے آئی سی سی کو بھی یہ معاملہ مشکل بناتا ہے۔

اس فیصلے کی وجہ سے ٹورنامنٹ میچز سری لنکا منتقل کرنا پڑے گا اور اس کے نتیجے میں آئی سی سی کی صلاحیتوں پر بھی اثر ڈالے گا۔ یہ معاملہ اب ایک چیلنج بن گیا ہے جو آئی سی سی کو حل کرنا پڑے گا اور ان کے لئے ٹورنامنٹ کی پلیٹ فارم پر بھی تبدیلیوں کرنا پڑے گا۔
 
اس ٹورنامنٹ میں بھی جتنا تھوڑا سا پریشانی پیدا ہوئی ہے وہ اچھا ہے، یہ جاننے کے لئے کہ کونسے ممالک کو یہ ٹورنامنٹ میں حصہ دینا چاہیے؟
 
ایسے سیکھ رہا ہوں کہ بنگلہ دیش ایک بڑی چیلنج کس طرح اپنی ترجیحات کو ظاہر کر سکتی ہے۔ پہلی بار میں یہ واضح نہیں تھا کہ ان کی یہ فیصلہ کیا گیا تھا، اب بھی نہیں معلوم کہ 2026ء کے ٹی20 ورلڈ کپ میں ان کی حalty تھی یا نہیں۔ ان کی یہ ناکامی سے آئی سی سی کو بھی ایک بڑا چیلنج مل گیا ہے، اور اب جس سے متعلق توجہ ہو رہی ہے وہ 2026ء کے ٹی20 ورلڈ کپ کی منظر نامہ میں تبدیل ہو گیا ہے۔
 
واپس
Top