بنگلا دیش میں ڈینگی بے قابو، رواں سال ہلاکتیں 377 تک پہنچ گئیں

ستارہ

Well-known member
بنگلہ دیش میں ڈینگی، جو نئی ہلاکتیں کی تعداد کا پہلا ستون بن چکی ہے، اب خطرناک حد تک سے بھی سے گریپ پر رہ رہی ہے۔ اس سال وائرل بیماری نے اپنی شدت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، اور جس کے بعد رواں سال اموات کی تعداد 377 تک پہنچ چکی ہے۔

ماہرین حشرات کی رپورٹ سے ملتی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 567 مریضوں کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا، جس کے ساتھ ہی رواں سال ہسپتالوں میں لائے گئے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 92،784 ہو چکی ہے۔ ان میں سے 90،219 مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔

بنگلہ دیش میں ڈینگی ایک وائرل بیماری ہے جو متاثرہ مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتی ہے، اور اس کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں صرف درد اور بخار کے علامات کا کنٹرول ہی ممکن ہوتا ہے۔

اس سال میں موسمیاتی تبدیلی، بارشوں میں تاخیر اور درجہ حرارت میں اضافہ نے ڈینگی کی شدت کو بھرپور حد تک بڑھا دیا ہے جس کے بعد اموات کی تعداد میں بہتری آ سکتی ہے۔ ماہر حشرات پروفیسر کبیرال بشار نے اپنی رپورٹ میں یہ بات ظاہر کر دی ہے کہ جنوری کے بعد صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔
 
بھی، وائرل بیماری کی صورت حال دیکھتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ رواں سال بدلنے کے لئے بھی تैयار ہو چکی ہے। وائرل بیماری کی اچانک تیز رفتار سے گریپ پر رہنا تو پہلے ہی خطرناک ہوا، لیکن اب یہ 377 تک اموات کی تعداد تک پہنچ چکی ہے جو بھی واضح تھوڑا سا عجیب لگتا ہے।

ایک بات تو یقینی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ڈینگی کی شدت میں اضافہ ہوا، لیکن وائرل بیماری کو اس حد تک سے گریپ پر رہنے سے بھی پوری طرح کوئی علاج نہیں ملتا، صرف درد اور بخار کا کنٹرول ہی ممکن ہوتا ہے۔

لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ پوری دنیا میں موسمیاتی تبدیلی ایک بڑی مسئلہ بن رہی ہے، اور ڈینگی کی شدت کی وجہ سے زیادہ تھوڑا سا معاملہ ہے تو یہ اس کے بارے میں سمجھنا ضروری ہے جو ہوا دے گا اور جس طرح وائرل بیماری کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
 
جب تک پہلے کے مریضوں کی تعداد دیکھو 377 اور اب ان کے ساتھ مزید 567، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کی ایسی حالتیں ہوسکتی ہیں جس میں صحت مند لوگوں کی تعداد بھی 92 ہزار تک پہنچ جائے?
 
میں تھوڑی دیر سے نہیں رہا، اور اب تک سنا نہیں گیا، تو وائرل ڈینگی کے بارے میں پوچھا جاسکتا ہے یہ بھی کیا ہے ؟ ایسے مریضوں کی تعداد تیزی سے بدلتے ہوئے ہیں، اور اب تک ملنے والے رپورٹ میں وہاں بھی تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے، لیکن یہ بات پتہ چلی گی کہ اس بیماری سے لڑنے کے لیے کوئی خاص Treatment نہیں ہوتا، صرف درد اور بخار جیسے علامات کنٹرول کرنا ہوتا ہے، مگر دیکھتے ہیں حالات بہت کے بدل رہے ہیں، اور اب تک میں پہنچے گئے رپورٹ سے دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ بیماری موسمیاتی تبدیلی، بارشوں کی تاخیر اور درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے زیادہ شدت لے رہی ہے، مگر ایسا نہیں کہ اس بیماری کو مکمل طور پر کم کر دیا جاسکتا ہے، اور اب تک ملنے والے معالج کے مطابق جنوری کے بعد صورتحال میں بھی تیز تیزی سے بدلتی ہو سکتی ہے۔
 
بھیے بھی، یہ وائرل بیماری تو خوفناک ہے، لہٰذا ایسے مریضوں کو اسپتالوں میں داخل کروا کر بچائیں، لہٰذا اور بھی۔

لیکن ابھی یہ بات تو ثابت نہیں ہوئی کہ کس حد تک اس کی شدت پہنچی، میں سمجھتا ہوں کہ انہیں بھی ایک وقت آ کر کنٹرول میں آنا چاہیے نہیں، اس پر توجہ دیجے چاہئیں، اس لیے کہ یہ 377 اموات تک پہنچ چکی ہے اور ابھی بھی مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
 
میں سوچتا ہوں کہ ڈینگی کی وائرل بیماری نے اسی طرح کا اثر ڈال رہی ہے جس سے پاکستان میں کرون اور سار्स نے بھرپور تباہی کی۔ ہر سال موسمیاتی تبدیلیوں اور بارشوں میں تاخیر سے یہ بیماریاں زیادہ شدت پہنچتی ہیں۔ لاک ڈاؤن کی صورتحال سے بھی نہیں آئی۔
 
یہاں تک کہ ملک کی انتھک حالت سے بھی نئے دنوں آنے پر یہ بنگلہ دیش میں ڈینگی کے علاج کو حل کرنے کا ایک راز نہیں مل پینا۔ مریضوں کی تعداد زیادہ تو ہو رہی ہے، لیکن ان میں سے کتنا ہی صحت یاب ہوئے اور کتنا نہیں وہ بھی یہاں پہنچانے کی بات ہو رہی ہے۔ ماہرین کے انصاف سے نکل کر صرف ایک ایسا حل تلاش کرنا پڑے گا جس سے ابھی تک ملنے میں ناکام رہتے ہیں۔
 
بنگلہ دیش میں ڈینگی کی صورتحال بہت ایسی ہے، نئی پورے ملک کو خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ بیماری ایسے جیسے ہے جو نہیں آگے بڑھ سکتا، ضروری ہے کہ حکومت اور ماہرین کو ایک ساتھ مل کر ان کی واضح تر حدوں پر عمل کریں۔
 
یوہ تو کبھی نہیں رہیں گریپ کی وائرل بیماری کو اس kadar خطرناک بناتے ہوئے دیکھنا جس سے 377 اموات ہو چکی ہیں تو یہ ہمیں پچھتے ہیں کہ کیا ہم اس کی وجہ کو ایسی حد تک سمجھ گئے تھے جس سے ہو رہا ہے؟ موسمیاتی تبدیلی اور بارشوں میں تاخیر، اب بھی کافی نہیں ہے۔ اور اس کی وجہ سے 90 فیصد ہسپتالوں میں لائے گئے مریضوں صحت یاب ہو چکے ہیں، تو کیا ہمیں ابھی بھی ایسی سٹی کی پالیسی بنانے کا عزم نہیں کرنا چاہئے جس پر اس طرح کی صورتحال ہو سکے؟
 
اس سال موسمیاتی تبدیلی اور درجہ حرارت میں اضافے نے ڈینگی کی شدت کو زیادہ کر دیا ہے، جس کے بعد اموات کی تعداد 377 تک پہنچ چکی ہے... اس طرح سے وائرل بیماری کی شدت میں اضافہ ہوئی ہے اور مریضوں کی تعداد بھی کم از کم 92،784 ہو گئی ہے... یہ تو دیکھنا مشکل ہے کہ ایسا کیسے ہوا؟ کیا یہ نوجوانوں پر خاص طور پر اثر پڑ رہا ہے؟
 
یہ تو وائرل بیماریوں کی تاریک تاریخ میں ایک نئا ریکارڈ بن چکا ہے! اور یہ بات بھی ظاہر ہوئی ہے کہ ان سے نمٹنے کی کوشش کرنے والوں کی صلاحیتات کو بھی ٹیسٹ کیا جا رہا ہے، مگر یہ پوچھتے ہیں کہ وہ ملک کے صحت مند لوگوں کو بھی اس سے نمٹانے کی کوشش کرنے کا یہ کچھ سہارا ہو گا؟
 
اس سارے ماحول میں دھل آ رہی ہے، بنگلہ دیش کے لوگ ایسا ہی محسوس کر رہے ہیں کیوں کے یہ وائرل بیماری اس سے بھی زیادہ خطرناک ہونے لگی ہے، مریضوں کی تعداد تو آچ کر رہی ہے لیکن اس کو روکنا ایسا آسان نہیں ہوگا، ساتھ ہی ماہرین حشرات کے رپورٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات بھی محسوس کرنے لگتے ہیں کہ اس سال موسمیاتی تبدیلیوں نے ڈینگی کی شدت کو بڑھا دیا ہے اور اب یہ سٹریٹجیز ایسے تلاش کر رہے ہیں جو پہلے نہیں کہے گئے تاکہ انہیں صحت کی واپسی مل سکے
 
تھاڈے پچھلے سال سے ایسا نہیں رہا، اب یہ وائرل بیماری نہ صرف مچھلیوں کی موت میں پھیلتی ہے بلکہ انسانی بھی موت کا باعث بن رہی ہے۔ اس سال ملک بھر میں یہ بیماری گریپ پر رہ رہی ہے، اور مریضوں کی تعداد اتنا ہی اضافہ کر رہی ہے کہ اسپتالوں کا باقیہ بھی نہیں چلا سکتا۔ لاک ڈاؤن اور انفیکشن کی صورت میں بھی جب سے معاف ہونے والے لوٹتے ہیں تو اس گناہ کا پھیلاؤ ملک میں دہشہ پڑتا ہے۔
 
یہ وائرل بیماری کی صورتحال بھی نہیں تھی جیسا کہ اب ہم دیکھ رہے ہیں۔ پہلی بار 2017 میں اسے لگایا گیا تھا اور تو وہاں بھی اموات کی تعداد کم نہیں تھی بلکہ ابھی بھی ملک بھر میں یہ بیماری کچلنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ جب 2017 میں اٹھائے گئے وائرس نے دیکھا تھا کہ ملک میں یہ بیماری کو اس سے بھگتنا پورے معاشرے کی مدد سے ہوسکتا ہے اسی لیے وہاں ملک بھر میں سرگرمیوں کی جان جاری رکھی گئیں تاکہ اس بیماری کو کچلنے میں مدد فراہم ہوسکے۔
 
ابھی تک کوئی نہ کوئی بیماریوں سے لڑ رہا ہوتا ہے، لیکن اب یہ وائرل ڈینگی کیا بن گیا ہے جو لوگوں کی زندگیوں کو بھرپور خطرے میں ڈال رہی ہے۔ بھوکंप ڈنوں کی طرح یہ بھی وائرل ہے اور اس کا کوئی معین علاج نہیں ہے، صرف جسمانی حرکات پر ہی ذریعہ دوسرہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ بیماریاں بڑھتی جا رہی ہیں، اور اب نئی ہلاکتیں 377 تک پہنچ چکی ہیں، اس کے علاوہ تین سیکڈنڈز میں 567 ہی مریضوں کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ ابھی ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔
 
اس سال ایسے ماحول کے ساتھ ڈینگی کی شدت بہت زیادہ ہو رہی ہے جو اس کی تعداد میں اضافہ کر رہی ہے، اور وائرل بیماری نے اپنی شدت میں مزید اضافہ کیا ہے جس سے اموات کی تعداد میں بھی بڑھوتا ہو رہا ہے।
یہ بات تو حیرانی کن ہے کہ 377 تک پہنچ چکی ایسے زیادہ سے زیادہ اموات کا پہلا ستون اب 567 تک پہنچ گیا ہے اور اس سال رواں سال میں ان میں بھی 92،784 مریضوں کو اسپتالوں میں داخل کرنا ہوا ہے جس میں سے 90،219 صحت یاب ہوئے اور گھروں واپس آئے ہیں۔
بنگلہ دیش کو اس بیماری کا سامنا کرنا ہوتا رہا ہے جس کا کوئی مخصوص علاج نہیں ہے۔
 
یہ تو حقیقت سے متاثرہ علاقوں کی جانب جھپکتا ہے کہ یہ بیماری ابھی بھی تھوڑی ہی دور میں سے گریپ پر رہی، اور اب وائرل ڈینگی نے اپنی شدت میں نمایاڈ اضافہ کیا ہے تو اس کے باوجود کوئی بات نہیں کی جا سکتی کہ یہ بیماری ایسے حالات میں بھی پھیل سکتی ہے جب موسمیاتی تبدیلی اور بارشوں میں تاخیر ہو۔ میری رائے میں ہمیشہ اس بات پر بات کرتا آیا ہے کہ یہ بیماری نہایت خطرناک ہے اور یہ ایسا ہی ہو گیا ہے، یہ صرف ابھی شروع ہوئی ہے لیکن ابھی بھی پتہ چلتا ہے کہ اس کی شدت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے، یہ تو یہ بات صاف بھی ہے کہ اموات کی تعداد میں بہتری آ سکتی ہے لیکن یہ سوال باقی رہتا ہے کہ اس بیماری کو کنٹرول کرنے کی کس حد تک صلاحیت رہی ہو گی؟
 
یہ ایسا نہیں رہ سکتا کہ وائرل بیماریوں کی طرح ہلاکتیں بھی ابھی ابھی زیادہ توسیع پزیر ہونے لگتی ہیں، ایسے میں ہی کیا ہوتا ہے؟ سارے دھمکے سنیٹرز کی ناک بہت چپچپا کرنے لگتے ہیں، پوری دنیا ہلاکتوں کا شکار ہوتی جائے تو اس کو جنت کی ایک سادہ گھڑی بھی نہ ہونے دے!
 
واپس
Top