بنگلا دیش میں ڈینگی بے قابو، رواں سال ہلاکتیں 377 تک پہنچ گئیں

یہ تو اتنا شدید تھا! دھبے کی تعداد کس طرح اضافہ کر دی جائے? اب تک 377 اموات کی تعداد واضح ہو چکی ہے، اور مزید 567 مریضوں کو اس بیماری سے لڑنے کے لیے اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے। یہ بھی بتایا گئا ہے کہ 90 فیصد مریضوں کو آپنی جگہ واپس جانے کے بعد یہ بیماری ہٹ گئی۔ پہلی بار میں اس بیماری سے لڑنے کا کوئی طویل علاج نہیں ملتا، اور صرف درد اور بخار کے علامات کو کنٹرول کرنا ممکن ہوتا ہے۔
 
بنگلہ دیش میں ڈینگی کی سٹیج فائروس بہت زیادہ ہو رہی ہے، یہ نئی پھیلائی جاتی ہے اور وائرل بیماری کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ اموات کی تعداد اس سال بھی بڑھ رہی ہے، جو کہ دیر سے شروع ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں اور بارشوں میں تاخیر کی وجہ سے ہوا ہے۔

کثرت بارش نے پانی کا بھंडار بڑھایا ہے جس کے نتیجے میں مچھلیوں کے جال میں چھپنے کی کوشش کرنے والی مچھلیوں کو موسم بہت خطرناک بنा رہا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ڈینگی کی سٹیج فائروس اب بھی زیادہ پھیلائی جاتی ہے۔

صحت کے حوالے سے اس ماحول میں بہت Problem ہے، اور یہاں صحت کو بھی خطرے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ لوگ جو صحت پر توجہ نہیں دیتے ان کے لیے ایسا کافی خطرناک ہو سکتا ہے۔
 
واپس
Top