بنگلا دیش کی سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا تشویشناک حالت میں اسپتال میں داخل؛ دعاؤں کی اپیل | Express News

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیا کا حال انتہائی دردیدہ ہو کر پيا ہے۔ انھیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کیا گیا ہے جہاں ان کی حالت کافی ناساز ہے۔

انھوں نے کتنی عرصہ تک قید میں گزارا تھا اور رہائی کا فائدہ کب لیتا تھا۔ اس پوزیشن سے انھیں ڈرامائی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے انھیں ایسی صورت میں داخل کیا گیا ہے جہاں اس کو ابھی بھی گزشتہ برس کی آخری رہائی کا مظاہرہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کو 80 سال کی عمر میں جیل سے رہائی مل چکی تھی جب ایک طاقتور تحریک نے اقتدار سے باہر ہو کر ہندوستان فرار ہونے پر مجبور کیا تھا۔ اس وقت انھیں جیل میں علیل ہونے اور رہائی کے بعد بھی ایک عرصہ تک اسپتال میں گزارنا پڑا تھا۔ لگتا ہے ان کی صحتیوں کا ایسا ساتھ ہوتا رہا ہے کہ اب وہ بھی اپنے گھر میں آرم ہی رہ سکتی ہیں۔

لیکن اب ان کی صورت حال انتہائی نازک ہو کر پائی جا رہی ہے جس کی وجہ سے وہ آئی سی یو میں داخل ہوئی ہیں۔ انھیں گزشتہ برس کی آخری رہائی کا مظاہرہ دیکھنا پڑ رہا ہے اور اب انھوں نے اپنی صحت پر ایک نئی بھار پڑی ہے۔

بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے بتایا ہے کہ ڈاکٹروں کے مطابق خالدہ ضیا کی حالات بہت نازک ہیں اور اس لیے انھیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کیا گیا ہے۔

خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان نے سوشل میڈیا پر عوام کو والدہ کی صحت کے لیے دعا کرنے کے لئے اپنی پچھیں کھینچی ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ عوام کی محبت اور دعاؤں کے لئے شکر گزار ہیں تاہم بنگلہ دیش واپس آنا ان حالات میں ممکن نہیں۔

خالدہ ضیا کو تین بار وزیر اعظم رہ چکی ہیں اور اس وقت انھیں کرپشن کے الزاموں سے جیل میں رکھا جا رہا ہے۔ لیکن ان کے خلاف ایسا نہیں ہوا جو وہ چاہتی تھیں، انھیں کرپشن کے الزام سے جیل میں رکھنے والی حکومت نے انھیں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت بھی نہیں دی۔
 
ابھی خالدہ ضیا کو جیل میں رکھ کر بھی انھوں نے سوشل میڈیا پر عوام کے ساتھ اچھا تعلق بنائے ہوئے ہیں، اس کا matlab یہ ہوتا ہے کہ وہ عوام کی محبت کو اپنے لئے فائدہ مند قرار دیتے ہیں۔ اب انھوں نے اپنی صحت پر ایک نئی بھار پڑی ہے اور یہ بھی بات کہی جاسکتी ہے کہ وہ عوام کی محبت کو اپنے لئے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے ایک نئی حکومت بنانے کی کوشش کر رہتے ہیں۔
 
مرہمہ! بیگم خالدہ ضیا کی حالات انتہائی دور دراز ہو رہی ہیں... یے ٹھیک ہے وہ ابھی بھی جیل سے رہائی لیتا تھا اور اب انھیں گزشتہ برس کی آخری رہائی کا مظاہرہ دیکھنا پڑ رہا ہے... یے ایک ڈرامہ جیسا situation ہو رہا ہے جو کہ ان کی صحت پر بہت زیادہ اثراندازی کر رہا ہے...

انھوں نے تین بار وزیر اعظم رہ چکی ہیں اور اس وقت انھیں کرپشن کے الزام سے جیل میں رکھا جا رہا ہے... لیکن وہ انھیں گزشتہ برس کی آخری رہائی لیتنا چاہتی تھی، ایسی صورت حال ہے جہاں وہ اپنی رہائی کا فائدہ نہیں لے سکتی...

جیل سے رہائی اور پھر ٹھیک ہونے پر انھیں ایک عرصہ تک اسپتال میں گزارنا پڑا تھا اور اب وہ بھی ایسا ہی حالات میں ہو رہی ہیں... یے ایک انتہائی نازک صورت حال ہے جس سے ان کی صحت پر اثرانداز کیا جا رہا ہے...
 
بیگم خالدہ ضیا کا حال تو انتہائی دردیدہ ہو گیا ہے، وہ جیل سے رہائی مل چکی ہے اور اب وہ ICU میں داخل ہوئی ہیں؟ انھیں کتنے عرصے تک قید میں گزارا تھا اور اس پوزیشن سے وہ ایسے دردیدہ حالات کا سامنا کر رہی ہیں جو انھیں بھی ابھی بھی گزشتہ برس کی آخری رہائی کا مظاہرہ دیکھنا پڑ رہا ہے؟

اس وقت انھوں نے کتنی عرصہ تک اپنی صحت پر ایک بھار پڑایا تھا اور اب وہ بھی اس میں تنگ آ گئی ہیں، یہ رہائی اور انھوں نے جو کچھ اپنی زندگی سے چوٹ لی تھی وہ ابھی بھی جبھر جھام کا مظاہرہ دیکھنا پڑ رہا ہے!
 
اس وقت کا ماحول ہمیں دوسرے لوگوں کو کتنے نقصان پہنچائیں اور ان کی زندگیوں میں تباہی پہنچائیں اس پر غور کریں، ان سب سے زیادہ نقصان ایسا ہوتا ہے جب کہنے والے آپنی بھی غلطیوں کی وجہ سے وہی نقصان پاتے ہیں، اور اس لیے ہمیں اپنی زندگیوں کو صحت مند رکھنا ہوتا ہے اور دوسروں پر برتنیے نقصان کے غلط کردار سے بچنا ہوتا ہے 🤔
 
یہ ایک حیرت انگیز صورتحال ہے جس میں خالدہ ضیا کو آزاد کیا گیا تھا لیکن اب وہ اپنی خود کی صحت کے لئے محفوظ نہیں ہیں۔ یہ اس بات پر ایک دھارنا ہے کہ کیسے ایک شخص جو انٹرنیشنل کو لینے کی طاقت رکھتا ہے وہ اپنی سرکار میں بھی ناکام نہیں ہوتا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب ایک شخص قید میں رہتا ہے تو وہ اپنی زندگی کو دوبارہ شروع کرنے کی طاقت کھو دیتا ہے اور ان کے پاس اپنا تعلق سے محروم ہونے کا ایک بڑا جیسہ ہوتا ہے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ بیگم خالدہ ضیا کی حالات کچھ اور بہتر ہوسکیں گے اگر وہ اپنی کھانپن میں ایسی پابندی برتیں جو اب انھیں اس جگہ پر رکھرہی ہے۔ مجھے یہ بھی کافی پریشान دیتا ہے کہ وہ آئی سی یو میں داخل ہوئی ہیں، یہ کیا انھیں اس جگہ پر رکھنا چاہتی تھی؟ مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی میں بھی ایسے حالات نہیں دیکھیں گئیں۔

اس سے انھیں اور مجھے اس بارے میں زیادہ تھوڑا کچھ ہی پتہ چلا گیا ہے۔ مجھے بھی وہ حالات پٹنے نہیں دیکھنا چاہیے، لیکن ایسے سارے معاملات کو لینے کے بعد یہ میں ہوا ہو گیا ہے کہ مجھے کچھ زیادہ ڈر پڑ رہا ہے۔
 
آخری وارث، خالدہ ضیا کی حالات انتہائی بدسے ہیں، اس وقت انھیں گزشتہ برس کی آخری رہائی کا مظاہرہ دیکھنا پڑ رہا ہے اور اب انھوں نے اپنی صحت پر ایک نئی بھار پڑی ہے...
 
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیا کا حال انتہائی دردیدہ ہو کر پيا ہے اور اس پر انھوں نے بھی کافی غصہ ظاہر کیا ہے۔ اب وہ جیل سے رہائی مل چکی ہے لیکن اس صورت حال کی وجہ سے انھیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کیا گیا ہے جو کہ صحت کے لئے بہت خطرناک ہے۔ ان کی حالات انتہائی نازک ہیں اور اس لیے وہ اپنی گھریلو زندگی میں داخل ہونے سے قبل ایسے مچھلی مرطوب شہر کے اسپتال میں رہنا پڑتا ہے جو اب بھی نازک صورت حال سے دوچار ہے۔
 
واپس
Top