بنگلادیش کو کیا کچھ ملے گا؟ آئی سی سی نے مذاکرات کی تفصیلات جاری کر دیں

ڈیجیٹل دوست

Well-known member
بھارت نے پاکستان کے ساتھ اپنے تیز ترین ملاقات پر آخری قدم رکھ کر ایشین کرکٹ کی ایک بڑی ترقی کی ہوہتی ہے۔ اس دائرے میں ملک کے نئے فریق کے ساتھ ملاقات پر آخری قدم رکھنے والا پاکستان اور بھارت ایشین کرکٹ کی کامیابی کے لیے ایک اہم چیلنج بن گیا ہے۔

پاکستان نے آئی سی سی کے ساتھ کئی ماہوں کے ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ اس کے ساتھ بنگلہ دیش کی بھی ایک اہم معاہدہ ہوا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ساتھ مذاكرات کے دوران مختلف اہم امور شامिल تھے، جیسا کہ بنگلہ دیش کی ٹیم نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو ایک اعلیٰ کیسٹ پر بنایا ہے اور اسے اپنی معاونت کے ذریعے کرکٹ کے فروغ کے لیے اپنا کھیلا۔

آئی سی سی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اس کے ساتھ ایک ایونٹ کی میزبانی کرنے پر بنگلہ دیش کو فائدہ پہنچائے گا جس کے لیے اس کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا گیا تھا۔

آئی سی سی نے یہ بھی طے پایا ہے کہ اس کے ساتھ ایک اور ایونٹ کی میزبانی کرنے پر بنگلہ دیش کو فائدہ پہنچائے گا جو آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2031 سے قبل منعقد ہوگا۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق مذاکرات کے دوران مختلف اہم امور شامिल تھے، جن میں بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کی آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا گیا تھا اور اس کے بعد اسے ایک اعلیٰ کیسٹ پر بنایا گیا اور اسے اپنی معاونت کے ذریعے کرکٹ کے فروغ کے لیے اپنا کھیلا گیا تھا۔
 
بنگلہ دیش کو ایشین کرکٹ میں ایک اہم کردار ادا کرنے کا موقع ملا ہے! لگتا ہے کہ آئی سی سی نے اس کی ترقی پر کام کر رہا ہے اور اسے اپنی معاونت سے کرکٹ کو فروغ دینے میں مدد کروائی ہے। یہ ایک بڑا achievement ہوگا! لہذا، میں اس پر توجہ مرکوز کرूंगا اور دیکھूं گا کہ وہ اسے کیسے اپنے لئے استعمال کرتا ہے
 
اس سے پوچھنے لگتا ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے کیا منصوبہ ہے؟ انھوں نے بنگلہ دیش کی ٹیم کو ایسا بھی ایونٹ میزبان بنانے کا موقع دیا جس پر وہ اس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے سے انکار کر گئے تھے، تو ایسا نہیں ہو سکتا؟ اور کیوں انھوں نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے سے انکار کر دیا گیا تھا؟ یہ سب کچھ ایک اور سوال ہی ہے، کیوں کہ یہ کہنا ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش نے ٹورنامنٹ سے انکار کر دیا تھا، لیکن کیا یہ آپنے ایسے ماحول میں ہوا تھی جس میں وہ کوئی آسانی نہ پاتا تھا؟
 
🤔 بنگلہ دیش کو ایشین کرکٹ میں شامل ہونے کی وہ چیلنج جو پاکستان اور بھارت نے آئی سی سی کے ساتھ لائے ہیں وہ کبھی بھی کم نہیں ہوگا۔

میں سوچتا ہوں کہ ایشین کرکٹ میں شامل ہونے والی ٹیموں کو اپنے ملک کی کرکٹ کی ترقی اور اس کی پہچان پر توجہ دینا چاہئے۔

بنگلہ دیش نے ٹیم کے لیے ایک اچھی منصوبہ بندی کی ہوگی، جس میں ان کے کرکٹ کھلاڑیوں کو بھی اچھی تربیت دی جائے گئی ہوگی۔
 
🤯 میں سوچتا ہوں کہ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو ایسا کر دیا ہے جیسے وہ انki cricket ki duniya mein ek bada khiladi ban gaya hai 🏆 اور اب پاکستان aur bharat ke saath mil kar unki cricket mein ek naya umang utpann ho sakta hai 🌟.
 
بھارت اور پاکستان کے درمیان ایشین کرکٹ میں ترقی کی بہت سی چیلنجز ہیں، خاص طور پر پاکستان کو یہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے میں بہت پیچید ہو گیا ہے۔ 🤯

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ مذاكرات کے دوران مختلف اہم امور شامل تھے، جیسا کہ بنگلہ دیش کی ٹیم نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا، اس کے بعد اسے ایک اعلیٰ کیسٹ پر بنایا گیا اور اسے اپنی معاونت کے ذریعے کرکٹ کے فروغ کے لیے اپنا کھیلا گیا تھا۔

اس معاملے سے ایشین کرکٹ کی ترقی میں بہت اہمیت ہے، خاص طور پر جب پاکستان اور بھارت دونوں اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے۔

اس سے پہلے پاکستان نے آئی سی سی کے ساتھ کئی ماہوں کے ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ اس کے ساتھ بنگلہ دیش کی بھی ایک اہم معاہدہ ہوا ہے، جو اس کے لیے ایک نئی چیلنج بن گیا ہے۔
 
🤔 یہ سب نہیں توہم ہے کہ پاکستان اور بھارت ایشین کرکٹ کی کامیابی کے لیے ایک اہم چیلنج بن گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی Cricket Board کو اچھا بنا کر Cricket کو فروغ دینا چاہیے تاکہ ہم ایشین کرکٹ میں مقابلہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کو ایسا اچھا بنایا جا رہا ہے جیسے ہم دیکھتے تھے اس وقت جب بھارت اور پاکستان دونوں کا Cricket Board آسان ہوتا تھا۔
 
اس بڑے قدم کی پوری صورتحال سامنے آ رہی ہے۔ ایشین کرکٹ میں پاکستان اور بھارت دونوں کی کردار کی جگہ اب بنگلہ دیش کو ملنی ہے اور یہ منفرد موقع ہے۔

اس بات پر توجہ نہیں دی جا سکتی کہ ایشین کرکٹ میں ایسی ٹیموں کی شمولیت کس حد تک پاکستان اور بھارت کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

ایشیا میں کرکٹ کی ترقی میں یہ ایک اہم لمحہ ہے جس پر پوری دuniya کا تبصرہ ہوگا۔
 
یہ بات کوئی نہ کوئی جانتا ہوگا اس کی وہ ترقی کیسے ہوئی؟ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم نے ایسا فیصلہ کرنا کھیل کی عظمت کو کمزور کیا ڈالا اور اب اس پر یہ اعلان کیا گیا ہے کہ وہ بھی ایشین کرکٹ میں شامل ہوگئی، نہ تو وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل ہونے سے انکار کر دی یا وہ اس کھیل کی عظمت کو اپنا کیا ہے؟ اور اب یہ اعلان کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کو ایسا ایونٹ ملے گا جس میں وہ ایشین کرکٹ کی عظمت کو اپنا نہیں سکتا، یہ تو کچھ راز ہوگا! 😐
 
بھارت اور پاکستان کی ایشین کرکٹ میں ترقی کے لیے اس دائرے سے بنگلہ دیش شامل ہونے کی بہت اچھی خبر ہے! یہ کامیابی کے لیے ایک اہم چیلنج بن گیا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ بنگلہ دیش کی ٹیم ایسے معاملات پر بات کرنے سے اپنی کرکٹ کی ترقی کرتے ہیں! ہمیشہ یہ دیکھا کرتی ہے کہ کتنے بہت سارے ملکوں نے اس میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی اور اب بھی ہمیشہ نئی ترقیوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں!
 
پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایشین کرکٹ کی ترقی کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ بات دلچسپی دیتی ہے کہ وہ سب تین ملکیں ایک دوسرے ساتھ ملاقات پر آخری قدم رکھ کر ان کی ترقی کو تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہیں
 
آئی سی سی کی یہ بات تو اچھی ہے کہ وہ بنگلہ دیش کو ایک اعلیٰ کیسٹ پر بناتے رہتے ہیں، لیکن میرے خاندان میں ایسا کچھ ہوا ہے جو مجھے اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ جب میرا بھائی نے اپنی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا تو مجھے اس کی وجہ سے بھاری دکھ ہوا تھا۔ میرے والد نے باورچی خانہ بنایا اور مجھے اپنی بے پناہ کوششوں کا شکر و عظیمہ کرنا پیارہ تھا، لیکن اب تو یہ بات سچ میں ہو رہی ہے کہ میرے بھائی نے اپنی ٹیم کو معاف کر دیا ہوتا ہے اور مجھے اس کی وجہ سے بھاری دکھ ہو رہا ہے۔
 
میں سوچتا ہوا کہ آئی سی سی انہیں ایشین کرکٹ کی دیکھ بھال کر رہا ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس نے کچھ اپنے ہی ساتھی ممالک کو ایسا بنایا ہے جو اسے زیادہ فائدہ پہنچائے گا۔ بنگلہ دیش کو کرکٹ کی دیکھ بھال کے لیے ایک اعلیٰ کیسٹ دی گئی ہے، اس سے انھوں نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اسے یہ ایک توازن بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
 
واپس
Top