بھارتی کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کی درخواست پر ایسا کیا ہے جو کوئی متوقع نہیں تھا۔ انہوں نے بنگلہ دیش سے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست پر ان کی درخواست کو مسترد کردیا ہے اور اس بات کو بالکل نہیں سمجھتے ہیں کہ اگر وہ چار میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کر دیں تو پورا ٹورنامنٹ دباو پائے گا۔
بی سی بی نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ان کے چار لیگ میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کر دیئے جائیں کیونکہ فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کے آئی پی ایل سے ریلیز ہوئے ہیں اور اس نے ان کے لیے 9.20 کروڑ بھارتی روپے میں خریدا تھا۔
لیکن بھارت نے ان کی یہ درخواست مسترد کردی ہے جو آج تک ایسا کیا گیا ہے کہ اس کے بعد کسی ٹیم کو چار مچز سری لنکا میں کھیلنے پر مجبور کرنا “تقریباً ناممکن” ہو گئی ہے۔
بنگلہ دیش کے مشیر آصف نذرو ل نے اس معاملے سے متعلق ایک فیکس بک پیج پر اپنی رائے کی ہیں جہاں انہوں نے کہا ہے کہ “اگر ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی، جو معاہدے کے تحت بھارت میں کھیلنے کا اہل ہے، وہاں محفوظ نہیں تو قومی ٹیم بھی بھارت میں میچ کھیلنے کے دوران محفوظ محسوس نہیں کر سکتی”。
ایسا کیا ہوا ہے اس معاملے کو ایک طرف رکھ کر اور دوسری طرف کی رائے کی یہ جانب سے بھر دی گئی ہے۔
پاکستان نے کچھ قبل گزشتہ چیمپئنز ٹرافی میں بھارت آنے سے انکار کر دیا تھا لیکن دونوں ممالک نے ایک توسیع پسند معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت پاکستان اپنے ورلڈ کپ میچز سری لنکا میں کھیلے گا۔
۔ یہ بھی ہو گیا ہے کہ ایک ٹیم کی دوسری ٹیم کو چار میچز کھیلنے پر مجبور کرنا “تمام معقول نہیں” ہو گئی ہے۔ یہ بھی بات ہے کہ ایک ٹیم کی وینجیز کی قیمتیں اور اس کی ٹیم کے لیے ان کی ضرورت کو کس قدر سمجھتے ہیں۔ فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کی جانب سے بھارتی League میں جانا اور ان کی پکڑ پر بنگلہ دیش کے لیے یہ معاملہ ایسا ہوا کہ اسے مسترد کرنا “تمام ممکن نہیں” تھا۔
اس معاملے میں پاکستان کی جانب سے اسے کیا جائے گا؟ پھر یہ معاملہ وہی ہو گیا ہے جیسا کہ بھارت نے پیش کرایا تھا اور اس پر ایک توسیع پسند معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
اس معاملے سے تعلق رکھنے والی وینجیز کے لیے ہر چیز ایسے ہی ہونے لگتی ہیں جیسا کہ بھی ہو گیا ہے۔
یہ بھی کوئی نئی بات ہے کہ بنگلہ دیش کی_request سے پاکستان اور سری لنکا کا ایک مچز منتقل کر دیا جائے تو پورا ٹورنامنٹ دباؤ پائے گا؟ یہ تو اس بات کو توسیع پسند نہیں سمجھتے ہو سکتے ہیں جو کہ فاسٹ بولر مستفیض رحمان کی جانب سے ایسے میچز کی گئی تھیں، لیکن بھارت نے ان کیrequest کو مسترد کردیا تو وہی محسوس ہوا جیسا کہ آج تک کہی گیا ہے کہ کسی ٹیم کو چار مچز سری لنکا میں کھیلنے پر مجبور کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے
یہ واضح ہو چکا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کے عالمی نظام میں نئے معاملات پیدا ہو رہے ہیں، یہ سچ ہے کہ فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کی آئی پی ایل سے ریلیز ہونے پر بھارت نے اپنی جانب سے چار لیگ میچز بنگلہ دیش کو دیں تھے لیکن اب وہ یہ معاملہ بدلتا دیکھ رہا ہے۔
یہاں تک کہ اگرچہ بنگلہ دیش نے Sri Lanka میں چار مچز کھیلنے پر مطالبہ کیا تھا لیکن اب یہ معاملہ ایسے ہو گیا ہے کہ اس سے ٹورنامنٹ کا دباؤ زیادہ ہو گیا ہے اور بنگلہ دیش کی جانب سے یہ مطالبہ مسترد کر دیا جا رہا ہے۔
یہ واضح ہے کہ بھارت نے بنگلہ دیش کی درخواست کو مسترد کردیا ہے جو اس وقت تک نہیں ہوا تھا کہ کسی ٹیم کو چار میچز سری لنکا منتقل کرنا “تقریباً ناممکن” ہو جائے۔ یہاں تک کہ فاسٹ بولر مستفیظ الرحمان کی آئی پی ایل سے ریلیز ہونے کے بعد بھی انہوں نے اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔
ہے بھارت نے یہ ریسٹریکشن کی ہے یا یہ ان کا ایک نقطہ تھوڑیا بھارپور پنا کیا? Sri Lanka ko apne home matches kharidna hi nahi chahiye?
Ab to baki teamon ka kya hoga? Koi team bhi apne home ground par khel sakni hai, bas sirf ek fast bowler ki issue thi. Mastafez Rahaman ko bhi apne PCB se back kar diya jata?
Yeh sachay hai, India ka decision tommorah kuch ajeeb lagi. Pata nahi kyun, par main yeh sochta hoon ki Sri Lanka team ko apne home matches kharidna chahiye, aur woh bhi zyada cash kar sakta.
ایسا ہیں کہ بھارت اور بنگلہ دیش کو ایک دوسرے کے ساتھ یوٹیوب پر لڑنا پڑتا ہے۔ اچھا ہوتا کہ وہ دونوں ان کی فوری لاپتائی نہ کر دیں۔ ایسا محسوس کرتی ہیں، جیسا ہم اپنے گارڈ میں بھی محفوظ محسوس کرتے ہیں، اچھا ہوتا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی سرکار سے بات کریں۔
یہ بہت دباؤ والی صورتحال ہے، پاکستان اور سری لنکا کے درمیان توسیع پسند معاہدے پر دستخط کیے جاتے ہیں لیکن بعد میں پاکستان نے سری لنکا میں میچز کھیلنے سے انکار کر دیا ہے اور اب بھی اس معاملے پر بات چیت کا راستہ نہیں کیا گیا ہے۔ یہ ایک بڑی بدلाव کی صورتحال ہے، جس میں زیادہ سے زیادہ ٹیموں کو اپنے پچھلے معاہدوں کے تحت کھیلنا چاہئے۔
یہ ایک بدلی ہوئی دنیا ہے جہاں ایسے معاملات پیش آ رہے ہیں جن کی پہلے کبھی کوئی سوچ نہیں سکتا تھا۔ بنگلہ دیش کی طرف سے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست پر بھارتی کرکٹ بورڈ نے مسترد کردیا ہے اور یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس معاملے میں کوئی توازن نہیں ہوسکتا۔
جب بھارت نے فاسٹ بولر مستفیظ الرحمان کی خریداری پر بھالہ رکھ دیا تو یہ بات واضح تھی کہ اس معاملے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوسکتا۔ لیکن اب جب بھارتی کرکٹ بورڈ نے مسترد کردیا ہے تو یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس معاملے میں کوئی توازن نہیں ہوسکتا۔
ایسے معاملات پیش آ رہے ہیں جو دھोखے کی جانب لیتے ہیں اور کچھ لوگ اس کی وجہ سے بھارت کو دوزخ میں پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس معاملے میں کوئی توازن نہیں ہوسکتا۔
اس معاملے نے مجھے حیران کردیا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے اسے ایسے رکاوٹ کے طور پر استعمال کیا ہے جس سے بنگلہ دیش کی ٹیم کو چار میچز سری لنکا میں کھیلنے سے ناکام کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک بدترین معاملہ ہے، مجھے لگتا ہے کہ انہیں یہ جاننا چاہیے کہ بنگلہ دیش کی ٹیم اپنی قومی صلاحیتوں پر استحکام لائے بغیر کیسے کھیل سکی ہے۔
یہ رکاوٹ نہیں چلی گئی ہے! اگر چار میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کر دیئے جائیں تو وہ پورا ٹورنامنٹ دباؤ میں آ جائے گا! میرے لئے بھی یہ ایک بڑا نقصان ہے کہ فاسٹ بولر مستفیظ الرحمان کو آئی پی ایل سے ریلیز کرنا پڑ گیا اور اب ان کی جگہ اس نئے فاسٹ بولر کو بیچنا پڑے گا؟ 9.20 کروڑ بھارتی روپے میں خریدتے ہیں اور پھر بھی انہوں نے اپنے کھلاڑی کو چھोडنے کی رائے دی!
یہ تو بہت پریشانہ ہے کہ انہوں نے اس معاملے کو اچھی طرح سمجھ کر مسترد کردیا ہے۔ میرے خیال میں اگر وہ چار میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرتے تو پورا ٹورنامنٹ دباو اٹھتا، لیکن اب وہاں کئی ٹیموں کی شرکت کو روک دیا گیا ہے جس سے ٹورنامنٹ کا منظر بھی بدل جاتا ہے۔
اس معاملے سے متعلق ایسا ہوا ہے جو کوئی متوقع نہیں تھا، پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں ٹیموں کے لیے یہ بات بہت ہی مुश्कل ہوگئی ہے کہ ان کے چار میچز سری لنکا منتقل کر دیئے جائیں، اور اس بات کو بالکل نہیں سمجھتے ہیں کہ یہ ٹورنامنٹ بھی دباؤ کا کا مچ گياگا! فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کی وجہ سے یہ معاملہ تیزی سے اس طرف رک گیا ہے، مگر آسف نذرو ل کی رائے تو بالکل ایسی نہیں ہے جیسے دوسرے لوگ یہ کہتے تھے، اس نے کہا ہے کہ اگر ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی بھارت میں محفوظ محسوس نہیں کر سکتی تو نیشنل ٹیم بھی محفوظ محسوس نہیں کر سکتی!
ایسا نہیں ہو سکتا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایسی اقدامات پر زور دیا ہو جس سے ٹورنامنٹ میں دباؤ پیدا ہونے کا امکان نہیں رہتا۔ یہ جاننا بھی گھبرا ہوا ہے کہ فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ایسے زیادہ پیسہ میں خریدا گیا ہو جس کی وجہ سے بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ میں اپنی آواز سامنے لानے کا موقع ملتا ہے۔
آج بھی بنگلہ دیش نے اس معاملے کی پٹھوں کھینچ کر Sri Lanka منتقل کرنے کی رائے دی، تو پھر بھارتی بی ایس ایس نے انki request ko reject kar diya! Yeh sach hai ki yah ek bada risk hai, lekin BCB ne iska faisla kiyaa tha. Kuch log kaha rahe hain ki agar bhangladesh ke khiladi Bharat mein khelne jaate hain to unki safety aur security ko ensure kiya jaa sakta hai, bas ek fair trial ke baad decision leni chahiye!
یہ بات تو بہت جسٹ نہیں ہوگئی! اس معاملے میں ایسا کیا ہوا ہے جو کوئی متوقع نہیں تھا، بھارت نے بنگلہ دیش کی درخواست پر چار میچز سری لنکا منتقل کرنے کی بات مسترد کردی ہے!
میں سمجھتا ہوں کہ ایسا کیا ہوا ہے ان چار مچز کو کیسے منتقل کیا جائے گا؟ ہر کھلاڑی کو اپنے ڈھانچے میں لایا جائے گا، یہ بھی کوئی متوقع نہیں تھا!
اس معاملے سے متعلق بنگلہ دیش کے مشیر آصف نذرو ل کا کہنا ہے کہ اگر ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی محفوظ نہیں تو قومی ٹیم بھی محفوظ محسوس نہیں کر سکتی، یہ بھی ایک متوقع بات نہیں تھی!
میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے کو ایسا حل نہیں کیا گیا ہے جیسا کہ کوئی متوقع نہیں تھا، یہ معاملہ تو بہت سچ سے اور صاف ہونا چاہیے!
اس معاملے سے متعلق بھارتی نٹیوں کی رائے اور ان کے درمیان بھی مایوس کن بات ہے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان پر بھارت کا یہ معافہ کیا جانا کچھ متوقع نہیں تھا… بھارت نے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور سری لنکا کی طرف سے یہ مطالبہ مسترد کر دیا ہے، لیکن دوسری جانب اس معاملے سے متعلق کوئی ایسا حل نہیں سامنے آیا ہے۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ایک توسیع پسند معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، لیکن اب وہ پھر سے ایسا کیا جا رہا ہے…
ایسا تو بھی ہوا ہو گا کہ بنگلہ دیش نے اس معاملے سے موڑنا چاہیے جس میں ان کی رائے کی گئی تھی اور پھر کچھ دن بعد اسے دوبارہ بدل دیا گیا۔ مگر یہ بات تو سمجھی گئی ہے کہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہتا ہے جب کسی نے بھی کوئی یوں کیا ہوتا ہے۔