نئی دہلی میں ایک بزرگ خاتون کو بندروں کی گالیوں سے زخمی کر دیا گیا ہے اور اس واقعہ کا وائرل ہونے کے بعد لوگ اس پر غور کر رہے ہیں کہ بندروں کی گالیوں سے زخمی ہونے والی خواتین کے حقوق کتنا اہم ہیں۔
دوسری دنیا میں بھی اس جیسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جن سے لوگ غور کرنے کے لیے نا ہی ہیں بلکہ اس کو اپنی زندگیوں میں بھی دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ بات ہمیں نہیں سچائی جاسکتے، کیونکہ یہ تو ہر ایسے شخص کا ہوا سکتا ہے جو آزاد شہرت کا سامانند ہو۔
اس واقعہ میں نئی دہلی کی بترا کالونی میں ایک بزرگ خاتون کو بندروں کی گالیوں سے زخمی کر دیا گیا اور اس واقعہ کا وائرل ہونے کے بعد لوگ اس پر غور کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں بندروں کو خاتون پر حملہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس حوالے سے میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون کے جسم پر تین زخم آئے ہیں جن کا طبی علاج جاری ہے۔
بھیڈوں کی ایسی گالیوں سے نہیں زخمی ہونے چاہئیں، ایسا لوگ کرونا چاہتا ہے جو پوری دنیا کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ واقعہ نئی دہلی میں ہوا اور اس کی وائرل ہونے سے لوگ غور کر رہے ہیں۔
* 2023 میں انٹرنیٹ پر بندروں کی گالیوں کا Topic تھا جو 120 ملین پوسٹز پر آئیا تھا۔
* پاکستان میں ہوئے اس سال کی ایسے واقعات کو دیکھتے ہوئے ، وائرل ہونے والی ہر گال کے 1.5 لاکھ سے زیادہ لوگ بچے، جو پوری دنیا میں آج تک اس جیسا واقعہ دیکھتے رہنے چاہتے ہیں۔
اس گالیوں کو نہ دیکھنا بھی کیا مشکل ہوگا؟ 3.5 لاکھ سے زیادہ لوگ اس واقعہ پر دکھائی دے رہے ہیں۔
یہ واقعہ بہت پریشان کن ہے، بندروں کی گالیوں سے زخمی ہونے والی خواتین کے حقوق پر مجبور کرنا بھی نہیں ہوگا اور ان کی لڑکیوں کی مستقبل پر ایسے واقعات کاImpact بھی نہیں ہونا چاہئے۔
اس کے بعد اس کی پریشانیوں سے نمٹنے میں ہمیں مدد مل سکتی ہے، جیسے کہ انھیں ڈرامال یا ہسپتال میں جانے کی بھی مدد مل سکتی ہے اور اس کے بعد اگر وہ کسی ٹیکسٹ یا ٹول پر اپنی آوازیں دھون پاتی ہے تو یہ بھی انکی مدد اچھا ہوگا۔
بھارتیوں کو پتہ ہوتا ہے نہ تو وہ بندروں کی گالیوں سے زخمی ہونے والی خواتین کا دخل ہے اور نہ ہی وہ ان کے حقوق پر غور کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اس واقعہ کو دیکھ کر مجھے ایسا لگتا ہے جو بھی کسی نے بھی ایسے حالات میں پڑا ہو وہ سایہ میری دل کی ایک ایسی کامیاب رہائش گاہ بن جاتی ہے جہاں وہ اپنی زندگی کو چھپا کر رہا ہو اور ان پر یہ مجرم ناکام رہتا ہے۔
اس واقعہ سے نا صرف ایک بزرگ خاتوم کو زخمی ہونے کی بات آ رہی ہے بلکہ اس کا وائرل ہونا بھی انٹرنیٹ پر ایک ایسا معاملہ بن گیا ہے جو ہمیشہ کے لیے یاد رہے گا. یہ بات تو تو یقیناً نہیں کہ اس حوالے سے ہر ایک ان کو بھگا دیں گا لیکن یہی بات یہتے ہے کہ اس صورت حال میں پابند رہنا اور اس شہریوں پر جس تو قانعیت ہے وہی ہونا چاہئے.
اس واقعہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بندروں کی گالیوں سے زخمی ہونے والی خواتین کے حقوق بہت اہم ہیں . ان کے rights کے بارے میں لوگ غور کر رہے ہیں اور اس پر تبصرہ کرتے ہیں کہ وہ بات نہیں سچائی جاسکتے، کیونکہ یہ تو ہر ایسے شخص کا ہوا سکتا ہے جو آزاد شہرت کا سامانند ہو۔
دوسری دنیا میں بھی اس جیسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جن سے لوگ غور کرنے کے لیے نا ہی ہیں بلکہ اس کو اپنی زندگیوں میں بھی دیکھنا چاہتے ہیں، انٹرنیٹ پر یہ وائرل ہوا کے بعد.
انٹرنیٹ پر دیکھا گیا کہ:
* 55% لوگ اس واقعہ سے متاثر ہیں اور اس پر تبصرہ کرتے ہیں
* 31% لوگ اسے نہیں سمجھتے
* 14% لوگ اس پر نظر نہیں رکھتے
اس واقعہ میں نئی دہلی کی بترا کالونی میں ایک بزرگ خاتون کو بندروں کی گالیوں سے زخمی کر دیا گیا اور اس واقعہ کا وائرل ہونے کے بعد لوگ اس پر غور کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں بندروں کو خاتون پر حملہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس حوالے سے میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون کے جسم پر تین زخم آئے ہیں جن کا طبی علاج جاری ہے۔
یہ بات تو نہیں چالے کی جاسکتی کہ بندروں کی گالیوں سے زخمی ہونے والی خواتین کا حقوق بہت اہم ہے... مگر یہ بات بھی نہیں چالے جاسکتی کہ ہر ایسے شخص کا ہوا سکتا ہے جو آزاد شہرت کا سامانند ہو... لیکن یہ بات تو نہیں چالے جاسکتی کہ ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے... مجھے یہ بات نہیں پٹی تھی کہ دوسری دنیا میں بھی اس جیسے واقعات ہوتے رہتے ہیں...
مجھے یوں لگتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں میں اس پر غور کرنا چاہیے... کیونکہ یہ بات ہمیں نہیں سچائی جاسکتے... اور ایسے واقعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس پر غور کرنا بھی چاہئے...
مجھے اس گالیوں سے نہیں لگتے تھے... لیکن جب میری ایک دوست کے گھر والوں نے ان کی گالی کی ہمیشہ کی پہلی بار کے بعد وہاں سے باہر نکل کر رہی تھیں تو مجھے اسی کے ساتھ ہونے والی باتوں سے نہیں لگتی تھیں... لیکن اب اس واقعہ کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ لگتا ہے کہ کسی نے ان کی گالی کرنی نہیں چاہی...
اللہ کی مدد سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بندروں کی گالیوں سے زخمی ہونے والی خواتین کو بھی محفوظ اور اس سے متعلق کامیابی حاصل کرنے کے لیے کوشش کی جا رہی ہے. مگر یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ نہ صرف پریڈ کو منا کرنے والی خواتین کا حقوق اہم ہیں بلکہ ان کی ساتھ ہونے والے لوگوں کا بھی اہم کردار ہوتا ہے.
اس واقعے کا وائرل ہونا دکھای رہا ہے کہ ہمیں اس سے بھی زیادہ توجہ دیجے چاہئیے جو لوگ بندروں کی گالیوں کو پہچانتے ہیں ان کا تعاقب نہیں کر رہتے ۔ اس سے بھی آپko پتہ چلتا ہے کہ لوگ بندروں کی گالیوں کو ایسے بھی سمجھتے ہیں جیسے یہ کسی نئے غدار کے کام ہیں، لیکن آپko پتہ چلتا ہے کہ یہ بندری اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔
ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جو ہمیں غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آج بھی اسی طرح کی بات کیسے کہی جائے؟ بندروں کو یہ سمجھنا چاہئیے کہ انہیں بھی Respect ملتا ہے نا کہ انہیں ایسا سا سامانند کیا جائے جو ان کی جگہ دوزخ پہنچاتا ہو۔
اس واقعہ میں کوئی بھی آزاد شخص نہیں بنتا جس سے لوگوں کے منہ نکل جائے وہ پوری دنیا میں موجود ہو گا جو یہ کہتے ہیں کہ بندروں کی بات بھائی چارے کو سمجھنی چاہئیے نہیں اس سے ہمیں دوسری دنیا میں موجود اسی جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہو گا۔
ہمارے معاشرے میں بھی ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جو ہمیں اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم نے کیا ہوا ہے، اور ہم نے بھی اسے اپنی زندگیوں میں دیکھا ہے۔
اب وہ صورت حال جو شہر نئی دہلی کی ایک گریڈ خاتون کو لاحق ہوئی، وہ بھی اس معاملے کو کافی اہم بناتا ہے۔
اس حوالے سے یہ بات پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی شخص کی بھرپور شہرت اس پر ہماری جانب دیکھنے لئے اس بات کو دھمکی کے طور پر استعمال نہیں کرنی چاہیے۔