بنوں اور لکی مروت میں دہشتگردوں کی فائرنگ، 4 پولیس اہلکار شہید

گول گپہ فین

Well-known member
پاکستان میں دہشت گردوں نے اپنے فریڈوم کو برقرار رکھنے کے لئے 4 پولیس اہلکاروں کا شہید کر دیا ہے جس میں ان کی جان کھونے والی دہشت گردی نے شادد اس پرت کسٹر ایک سرے سے دوسری جگہ پر کوئی رکاوٹ نہیں بنائی ہے، ان اہلکاروں میں سے دو علاقے بنوں اور لکی مروت میں فائرنگ کے بعد جان سے نکل گئے۔

شہید اہلکار جو بنوں کے تھانہ منڈان کی حدود میں پھنسے تھے انہیں دہشت گردوں نے ایک موٹرسائیکل سوار کے قتال سے مار ڈالا اور جس نے ان کے سر پر گولہ بھرایا وہ اپنی جان کھونے سے قبل لڑائی ہار گیا تھا، پوری ایسی صورتحال بن گئی جس میں پولیس اہلکار نے جان کھونے والوں کو کبھی کبھر سچائی کی وہیں ڈھنڈیلا ڈالتا ہو

دوسری طرف لکی مروت میں بھی ایک اور واقعات میں ایسا ہوا جہاں ٹریفک انچارج جلال خان، سپاہی عزیزاللہ اور سپاہی عبداللہ کو دہشت گردوں نے فائرنگ کی اور شہید کر دیا کئی گنا اس طرح ہوا جس سے پوری حکومت پر ناکامانہ یقین لگنا تھا، کیونکہ ایسی صورت حال میں کوئی ذمہ دار اہداف نہیں ملتا جب تک سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے اپنی جگہ بڑھکی ہوئی نہیں

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ان شہیدوں کے خاتمے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہمدردی اور تعزیت کی تھی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس اہلکاروں کی جان کھونے والوں کو رائیگاں نہیں جائے گا اور ملک کشمکش عناصر اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے، انہوں نے صوبائی حکومت کی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ ملوث عناصر کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی شہید ہونے والے اہلکاروں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا، انہوں نے اعلیٰ حکام سے رپورٹ طلب کرکے کہا کہ پولیس شہداء ہمارے محسن ہیں اور ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، انہوں نے صوبائی حکومت سے کہا کہ قیام امن کی جانب توجہ دی جائے
 
یہ جو ہوا اس میں کوئی غنٹی نہیں چل رہی، اہلکاروں کو ہمیں دیکھ کے اور ان کی جان کھونے والوں کو دیکھتے ہوئے کیوں یقین نہیں کرتے کہ انہیں رائیگاں نہیں جائے گا؟ ایسے مواقع پر کوئی ذمہ دار اہداف نہیں ہوتے، جب تک سیکیورٹی فورسز اور پولیس اپنی جگہ بڑھی رہتے ہیں تو یہ صورتحال تبدیل نہیں ہو سکتی۔ لیکن وہی بات ہے، ایسے مواقع پر کوئی انصاف نہیں بھی دیتا، اور اس کے بعد کچھ لگتا ہے کہ جہل اور غلبے میں پھنس کر بھی بھی نتیجہ دیکھنا پڑتا ہے؟
 
یہ بھی ہو گیا ہے... دہشت گردوں کو ایسے شہید کرنے کا یہ منظر تو ان کی بے فریادیت کو بدل سکتا ہے، لیکن اس میں یہ بات بھی ہے کہ پولیس اہلکاروں نے دھارہ کی جانب جان بھون تھی، اب ان کی واپسی ہوگی تو کیا یہ سیکیورٹی کی جگہ میں پہنچ سکتی ہے؟ 🤔

لیکن بے شک یہ بات تو یقینی نہیں... پولیس اہلکاروں کو ایسا نہیں جاننا چاہئے کہ ان کاBlood price ہر روز زائد ہوتا جا رہا ہے، لے کر وہ اپنی جان بھونے کا یہ منظر تو دور نہیں ہو سکتا... 😕
 
یہ دہشت گردی ایسے ہی نہیں رہ سکتی جو یہ پٹھا دے رہی ہو کہ پولیس اہلکار ان کی جان لے رہے ہیں، یہ سچائی کی جگہ پر ہے اور پوری حکومت کو اس بات کو واضح کرنا چاہئے کہ وہ اپنی ناکامانہ پالیسیوں کا بدلاؤ شروع کرتا ہے
 
یہ بات واضح ہے ہمیں دہشت گردوں پر ناکامانہ اعتماد کرانا چاہئے۔ ان شہیدوں کو میرے لئے ایک اہم پہلو تھا جس سے ہمیں یہ واضح کرنے میں مدد ملتی ہے کہ انہیں بھگت نہیں بنایا جا رہا، بلکہ انہوں نے اپنی جان کی قیمتی قیمتی جائے۔ لکی مروت میں ہونے والے واقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہمیں ان شہیدوں کی جانب سے کوئی تعزیت نہیں ملنی چاہئے بلکہ ان کی یاد میں بھگت وارثوں کو اپنی بھرپور قیمتی قیمتی کامیابی حاصل کرنے کی ترغیب دی جانی چاہئے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ شہید اہلکاروں کو تو نہایت قیمتی جان لیوا کر دی گئی ہے، مگر ان کی یہ شہادت ایک بڑی پریشانی کا باعث بن رہی ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنی جان کھونے والوں کو کبھر سچائی کی، یہ بات تو بالکل تسلیم کر لی جاتی ہے۔ لکین پوری اس صورتحال میں کوئی جواب نہیں ملتا، کیونکہ جس وقت سیکیورٹی فورسز اور پولیس اپنی جگہ بڑھ کر آتی ہیں تو ان کا یہ کام ناکام ہو جاتا ہے۔
 
یہ ایسا لگ رہا ہے جیسے دہشت گردوں نے صرف اپنی تینک نیند کو بھرنے کے لئے ہی اہلکاروں کی جان لوٹائی ہے، ابھی تو یہ بات تو نہیں ہوئی کی وہ اپنی تینک نیند کو ہمیشہ سے بھر رہے تھے، مگر اب لگتا ہے کہ ان کے پاس ہمارا خون بھی ہو گیا ہے
 
اس وقت پوری دنیا میں دہشت گردی کی بھاری بھار کی لہروں اور کتنے بھی شہید ہونے کے بعد بھی انہیں کوئی اہمیت نہیں مل رہی ہے، اچھا یہی لگتا ہے کہ پوری دنیا میں سیکیورٹی فورسز کو ایک ایسی عزم سے ملا موقف دیکھنا چاہئے جو انہیں سہی رہنے کی اجازت دی ہو، بچوں کی مدد سے وہ بھی شاندار ناصبا پر ہمیشہ اٹھنا چاہئے
 
اس دہشت گردی کی بات کر رہے ہیں جو کہ لکی مروت میں بھی دکھائی دیتی ہے تو یہاں بھی ایسا دیکھنے کے لیے کوئی کچھ نہیں، اور جب تک سیکیورٹی فورسز نہ ہوں تو یہ رکاوٹوں کے بغیر ہی بڑھتی گی
 
ایسا ہوتا ہے اور کچھ بھی ہوتا ہے، جب یہ بات ختم ہو جاتی ہے تو ہم ان شہیدوں کے سر سے لے کر پوری حکومت تک کوئی تبدیلی نہیں دیکھتے، کیا یہ ایک ہی چلن بھر رہا ہے؟ ابھی تو پورے ملک میں سیکیورٹی نہ رہی اور جب سے ان شہیدوں کا دم در دیکھتے تھے وہی صورت حال جاری ہے، کیوں؟ یہ بات کوئی سوچ کر نہیں سکتی، یہ تو کہوتے ہیں آپ کا دوسرا ایک ایسا بھی بنتا ہے جو جیسا کیا گیا وہی ہوتا ہے
 
سورکھیا ہوا تو بھی یہی بات ہے کہ پاکستان کی پولیس کو اور اسے کچھ سے دیر قبل آگاہ کرنا چاہئے کہ دہشت گردوں نے ان سے کتنے بڑے دہشت گردی کی پرت ہی کتنی اچھی بنائی ہے، اب یہاں تک تو ایسا ہونے والا واقعہ ہو رہا ہے جیسا اس کو بھی نہیں سمجھنے دوں گے کہ ان لوگوں کی جان کبھی بھی نہیں کھونے والوں پر چلتی، اب یہ اہلکار شہید ہو چکے ہیں لہٰذا ان کا خون کتنے اچھے لوگ رائیگاں نہیں جائے گا؟
 
یہ بہت ہی ناکامانہ واقعات ہیں، یہ لوگ آپ کو ڈر سے مٹا دیتے ہیں، ہمیں بھی معلوم تھا کہ یہ ان کے خلاف ناکامانہ کے ساتھ ہوں گے، لیکن حکومت کو ملک کی پوری پناہ کھانے والی دہشت گردی کا سامنا کرنے میں تیز گتی سے ناکام رہنے کی وجہ سے ان لوگوں کو یہ شہادت ملی
 
یہ صورتحال بہت ہی دुखद ہے، یہ بتاتے ہی دیکھ رہے ہیں کہ سیکیورٹی فورسز اور پولیس کو اپنی جگہ نہیں بڑھ سکتی ہے، یہ دہشت گردوں کا ایک منہدم زبردستی اور کبھر سچائی کی صورتحال ہے جو ہمیں نہیں چلا سکتی، شہید ہونے والے اہلکاروں کو اپنی قربت کی ذیادت دیکھنا بہت ہی دुखدہ ہے
 
عاجز تھوڑا بھی بات کی جا سکتی ہے، پوری صورتحال میں توڑ پھوڑ دکھائی نہیں دی جاسکتا، یہ سب دہشت گردوں کا ذمہ دار ماحول تھا، جو پورے ملک کو دھکے لگا رہے تھے اور اب ان کی جان کس کے دندے ہوئی؟ یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ پوری حکومت کو ان شہیدوں کی جان کھونے والوں پر گولہ بھرنے میں مدد مل جائے گئی، اس کو ابھی بھی نہیں ہو سکتا۔ 🤕
 
یہ دہشت گردی ہمیشہ توہین پہنچاتی رہتی ہے، مگر ہمیں اس پر سانس لے کر کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ وہیں ہے جس میں ہمیشہ رہتا ہے۔

جب کوئی پولیس اہلکار اپنے دباو پر کھنچنے کی کوشش کرتا ہے تو وہیں ہے، ان سے ان کی جان لینے والوں کو بھی یہی ہے۔ اور یہی نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیں ایسا ہوتا رہتا ہے کہ ہمیں اس سے بچنا ہو سکتا ہے، لیکن یہ نہیڰ کہتے ہیں کہ ایسا کبھی بھی نہیں ہوتا۔
 
اس کی صورت حال بہت ہی دुखناک ہے، ان شہیدوں کو ہر وقت خطرے میں رکھا گیا اور وہ اپنی جانیں قربان کر کے ملک کی سلامتی کے لئے فریڈوم کی پرت کسٹر کرتے ہیں، انہیں یہ سب سے زیادہ مुशکل کام کیوں دیا جاتا ہے؟ انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پر کوئی رکاوٹ نہیں بنائی جاتی، ایسے کے بعد بھی وہ اپنی ذمہ داریوں کی پوری تکمیل کرتے ہیں اور شہداء بنتے ہیں
 
واپس
Top