برطانیہ جانے کے خواہشمند افراد کیلئے بری خبر

پانڈا

Well-known member
برطانیہ جانے کے خواہشمند افراد کو کیسے دھمکی دو?
برطانوی حکومت نے ویزا پالیسی میں ایک اہم تبدیلی لائی ہے، جس سے غیر ملکی شہریوں کے لیے شرائط مزید سخت کر دی گئی ہیں۔ ویزا کے لیے انگریزی زبان کے B2 لیول کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے، جو اس سے قبل مرتّب طور پر軟 شرائط پر مشتمل تھا۔ نئی پالیسی کے تحت درخواست گزار کو روانی کے ساتھ انگریزی کے ساتھ گفتگو کرنے اور پیچیدہ، فنی اور تکنیکی موضوعات پر بھی سمجھنے کی ضرورت ہوگی۔ اس شرط نے مختلف معاشرتی ممالک سے آئے ہوئے امیدواروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنایا ہے۔
 
یہ ویزا پالیسی کی بات کر رہا ہوں تو میرے لیے یہ صرف ایک چیلنج ہے! انگریزی زبان کا ایسا لیول لازمی بنانا کیسے؟ اس سے قبل بھی ویزا میںSoft-touchPolicy تھی، جس پر لوگ ایسے اپنے درجہ کے حامل ہو کر انٹرنیٹ تک پہنچتے تھے اور یہاں تک کہ آپ کو بھی ساتھ میں رہنا پڑتا تھا! اب یہاں تک کہ وہ بھی ایسے اپنے درجہ کے حامل نہیں ہو سکتے۔ ایسا تو آپ جانتے ہیں کہ جو کہ لوگ انگریزی بھول نہیں پاتے وہ کچھ لاکھ آفسیالز کو مٹا دیتے رہتے ہیں اور اب وہ سارے اپنے درجہ کے حامل بننا پڑ سکتے ہیں، یہ تو ایک بڑا چیلنج ہے!
 
یہ ویزا پالیسی تو ایک دھماکی ہی نہیں، بلکہ یہ لوگوں کو اچھی طرح سے کہنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیسے اپنے آپ کو برطانیہ جانے کے لیے تیار کریں، ایسا تو لگتا ہے کہ وہ ایک بھرپور زبان کی پریشانی سے جوتھے کھل کر ٹیوٹ گیا ہے! 🤔
اس کی پوری وجہ یہ نہیں کہ وہ لوگ کو چیلنج بنایے گا، بلکہ وہ ایسی سہولت نہیں دی رہی جس پر اس وقت تک امید کی جا سکتی تھی۔ اب ہمیں صرف اسے اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا اور انki English ko sahi samajhna ہوگا! 💬
 
یہ ویزا پالیسی تو عجیب ہے! انگریزی زبان سے لازمی طور پر B2 لیول تک پہنچنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، خاصकर جب آپ نے اپنی زندگی میں کچھ مشق کرنے کے بعد درخواست دیتے ہیں تو! اب آپ کو صرف بے صبر سے درخواست دینے والوں کو اسے پورا کرنا ہوگا? اور یہ بات نہیں کہ ایک سے دو سال پہلے آپ انھیں بھی پورا کرتے تھے! اب دوسری بار ایسا کرنا؟ یہ تو بہت بوجھ ہوگا!
 
یہ بات تو واضح ہے برطانیہ جانا کوئی خاص عارضہ نہیں ہے، اگر تمہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ بہت مشکل ہے تو اس لیے آپ کو چیلنج کرنا چاہئے کہ اورھی کیا چلائیں؟ وہاں تک کہ میری نوجوانوں سے بھی پوچھا گیا ہے کہ وہ انگریزی میں کتنے ٹرول ہیں اور وہ اپنے فون پر کیا پڑھتے ہیں؟ یہ تو ایک بڑا خیل ہے۔
 
یہ ویزا پالیسی تھی جس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اگر میرے بعد از مدت شہر میں رہنا ہو تو کیا میں اس سے باہر جانا چاہوں؟ ایسی اور کوئی نہ کوئی پالیسی ہوتا رہتا ہے، لیکن یہ وہ چیز نہیں جو آپ کی ذہانت کھینچ دیتی ہے!
 
یہ ویزا پالیسی اور برطانیہ جانے کی خواہش کرنے والوں کو دھمکی دینے کا طریقہ اچھا نہیں ہے... کیا یہ انہیں ایسا کرتے ہوئے مقاصد پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ برطانیہ بہت سارے لوگوں کو وہاں جانے کا موقع دینی چاہیے، لہذا انہیں کوئی دھمکی نہ دی جائے... اور یہ سوال ہے کہ اس پالیسی کی شروعات سے پہلے برطانیہ کیسے ٹیکسٹ بوک کے ذریعے ساتھیوں کو انہیں یہ بات بتا رہا تھا؟
 
یہ نئی پالیسی اچھی نہیں، مگر یہ سچ بھی ہے کہ وہ لوگ جو انگریزی میں بہت ماہر نہیں ہوتے انہیں یہ پالیسی ایک بڑا عائد ہے۔ میرے خیال میں وہ لوگ جو پہلے مرتّب طور پر سافٹ شرائط پر ہو گئے ان کے لیے یہ بھی ایک چیلنج ہے، مگر اس کی بجائے وہاں کوئی ایسی پالیسی نہیں لائی جا سکتی جو وہ لوگ جو غیر ملکی شہری ہوتے ہیں ان کے لیے آسان کرے۔ اور یہ بھی بات قابل توجہ ہے کہ کبھی کبھار وہاں جانے والے لوگوں کو اپنے ملک کی ترقی اور سیر فہرست پر توجہ دی جائے تو یہ پالیسی ہی نہیڰی کہی جاسکی۔
 
یہ ویزا پالیسی نہیں ہے، اس کو اکاؤنٹنٹس اور بھارتی شہریوں کے لیے ٹیوک لگے ہوئے ہیں। انگریزی زبان کی پہچان کیسے حاصل کرنی ہے؟ ان کا ایسا کچھ سائنس ہے یا انھوں نے صرف ایک بے دھمکی کے کھیل میں حصہ لیا ہے؟
 
ये تھیڈ اور اس کی شرائط کو لازمی بنانے سے کہیں زیادہ مہم جوڑی ہونگے! انگریزی زبان کو ایسا لازمی بنایا جائے تو وہ لوگ جو اس زبان سے نھاتے ہیں کہانی بڑھانے کے لیے بھرے ہوڈے. چیلنج بنانے کا یہ کام ایسے لازمی پالیسیوں کو کرنے والوں کی ذہانت پر مشتمل نہیں ہے بلکہ انھیں بھرپور ترقی کا موقع مل رہا ہے!
 
یہ پالیسی تو انگریزی سے بھارپور چلنے والے لوگوں کو اپنا کھیلا بنائی ہے، یہ ایک ایسا ٹراپ نہیں ہے جس کے لئے آپ کو ویزا لینے کی ضرورت نہیں ہوتی، اس سے پہلے بھی لوگ ایسی پالیسیوں میں شامل تھے جو انہیں کم از کم ایک پریشانی دیتی، وہ کیونکر نہیں ہوئے کہ اس سے اپنے مظالم کو ابلاغ کریں?
 
یہ پالیسی انھیں اتنی مشکل بن رہی ہے کہ اب وہ اور انھوں نے وہاں جانے کے لیے کافی مہارت حاصل کرنا ہوگا، اس میں بھی ساتھ ہی انھیں انٹرنیٹ پر انگریزی کو بہتر بنانے کی اور نئے शब्द جسمانی شکل پہنچانے کی ضرورت ہوگی
 
یہ ویزا پالیسی ایسے لوگوں کو متاثر کر رہی ہے جو انگریزی نہیں سمجھتے۔ اب یہاں کے بڑے کاروباری اور شعبے میں ایم پی اے کی فراہمی کے ساتھ ایسے لوگوں کو ملازمت دینے کے لیے difficult ہوگیا ہے جو انگریزی بہت نہیں سمجھتے۔

انگریزی زبان کی ایسی پالیسی بننی چاہئے جس میں کوئی بھی غیر ملکی شہری اس کے ساتھ نہیں آتا ہو۔

اس سے قبل ویزا لینے والے لوگ صرف ایک سال تک اور بعد میں دو سال تک۔ اب یہاں 5 سال تک لانا پڑ جائے گا۔
 
یہ پالیسی تو واضع اور واضح ہی ہوتی، لیکن وہیں یہ بات کوئی جسٹ سے نہیں کرسکتی کیونکہ اب انگریزی بہت مشکل ہو گیا ہے جو کسی نے پہلے محض ایک اسکول کے لavel پر چھوٹی سی ٹیسٹ کرکے حاصل کرسکی اور اب وہیں کوئی بھی شخص اپنے لیے انگریزی B2 کو حاصل کرنا شروع کر دیتا ہے تو وہاں کی پالیسی اس پر ہمیشہ سے چل رہی تھی مگر اب یہاں پالیسی کمزور کرو دی گئی اور اب اس میں اپنے لیے وہی صلاحیت نہیں ہوتی جس سے بہت سی نوجوانوں کو یہاں پہنچ کر کامیابی حاصل کرنا ہوتا تھا۔
 
یہ ویزا پالیسی ہمدردانہ ہی نہیں ہے بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ برطانیہ میں کچھ کام کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے اور وہاں جانے والے شہریوں کو ایسے معاملات پر آنا پڑتا ہے جو کہ اس وقت یہاں سے بھی ایک چیلنج ہے۔
یہ انگریزی زبان سے ہمیشہ کچھ زیادہ ہوا کر رہی ہے، اور اب یہ B2 لیول لازمی بن دیا گیا ہے، جس کے علاوہ وہ بھی کوئی نئی بات نہیں چاہتا، پہلے سے مرتّب طور پر Soft Criteria پر ہی رہنا پڑ رہا ہے اور اب یہ بھی مشکل ہو گیا ہے۔
 
واپس
Top