برطانوی کمپنی نے خلا میں فیکٹری قائم کردی مال کونسا تیار ہوگا؟

وہیل

Well-known member
برطانوی کمپنی نے خلا میں ایک سیمی کنڈکٹرز بنانے کا منصوبہ اپنے نام پر لے لیا ہے، جو ٹرانسپورٹ کی بھی بنیادی عنصر بن سکتی ہے۔ اس کمپنی نے خلا میں ایک فیکٹری قائم کر رکھی ہے جس سے یہ کامیابی حاصل کی ہے کہ بھیٹی آن کو ان کے اندر 1000 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت پہنچا سکتی ہے۔

اس کمپنی نے خلا میں سیمی کنڈکٹرز کی تیاری کا کام شروع کر دیا ہے جو زمین پر الیکٹرانکس، مواصلاتی نظام اور کمپیوٹنگ میں بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔ اس کمپنی کا منصوبہ ہے کہ خلا میں سیمی کنڈکٹرز بنانے کے لیے مواد تیار کیے جائیں گے جو بعد ازاں زمین پر استعمال ہوسکتے ہیں۔

ماحول میں موجود حالات سیمی کنڈکٹرز بنانے کے لیے موزوں ہیں کیونکہ اس lugar میں وزن نہیں ہوتا ہے اور وہاں کا وہم ماحول آلودگی کو بھی روکتا ہے۔

ایک ماہر نے کہا ہے کہ خلا میں تیار کیے گئے سیمی کنڈکٹرز زمین پر بننے والے سیمی کنڈکٹرز کے مقابلے میں 4000 گنا زیادہ خالص ہو سکتی ہیں۔

اس کمپنی نے ایک فیکٹری قائم کی ہے جسے اسپیس فورج کہتے ہیں، جو اس گھنٹی کی عرصہ میں بھیجی گئی تھی۔ اس کمپنی کا منصوبہ ہے کہ خلا میں ایک بڑی فیکٹری بنائی جائے گی جو ایک وقت میں 10 ہزار چپس کے لیے سیمی کنڈکٹر مواد تیار کر سکے گی۔
 
اس کمپنی کو نہیں سمجھا کے کہ وہ خلا میں فیکٹری کیسے قائم کریں گے، ابھی وہ 1000 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت لائیں تو ایسی بڑی ٹیکنالوجی سے ان کا کچھ اور لگتا ہے…
 
بھیٹی آن کو 1000 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچانا کہاں سے ایسا امکان ہو گا؟ ہر ایک جانتا ہو گا کہ ایسا کام کرنے کی کہانی تو بھی ہونے دو منہ کہ نہیں! لگتا ہے وہ فیکٹری تھوڑی دیر میں کمزور ہوجائے گا اور پھر یہ سچ بھی ہوجائے گا کہ ان سیمی کنڈکٹرز کی صلاحیت اس مقصد تک پہنچی ہو گی!
 
منہ وغیرہ کی بات نہیں، ایسا لگتا ہے کہ انسانوں کو ابھی بھی زمین پر بیٹھنا پسند ہے اور اس لیے کمپنیوں نے خلا میں ایک فیکٹری بنانے کا منصوبہ لگایا ہے، سامی کنڈکٹرز بنانے کی بات کر رہی ہیں، اور ابھی انھوں نے زمین پر بھی یہی کوشش کی ہوتی تو لگتا تھا کہ کمپنیوں کو ایسا کیا ہے، لیکن اس فیکٹری میں بیٹھنے والے لوگوں کا بھی یہی پہلو ہو گا؟

ایک ایسی بات جو دلچسپ لگ رہی ہے کہ اس فیکٹری میں کمپنیوں نے انھیں اپنی مینجمنٹ سے بھی چیلنج کیا ہے، اور ابھی انھوں نے ایک ماہر کو بھی اس بات پر بات کی ہوئی ہے، جس نے یہ بتایا تھا کہ خلا میں تیار کیے گئے سیمی کنڈکٹرز زمین پر بننے والوں سے زیادہ Powerful ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ بھی ایک منظر نما کیا جا رہا ہے؟

ابھی خلا میں سیمی کنڈکٹرز بنانے کے لیے مواد تیار کر رہی ہیں، جو زمین پر استعمال کیا جا سکے گا۔ ابھی لگتا تھا کہ یہ بھی ایک منظر نما ہو گا۔
 
اس کمپنی نے خلا میں اس طرح کی سemi-conductorز بنانے کی کوشش کر رہی ہے جو بھولنے والی ہو سکتی ہے، یہ تو بہت اچھا idea hai, لیکن یہ सवाल پیدا کرتا ہے کہ ان سیمی کنڈکٹرز کی فراہمی کس معیار پر ہوگی؟ کہاں تک یہ سب سافٹ وير کی بات ہے، لیکن وہاں تک فیزิคل پاور بھی ضروری ہوگا تو?
 
اللہ اعظم! اس کمپنی نے خلا میں ایسا کیا ہے جو ہمیں بھی روکنے لگتا ہے؟ سیمی کنڈکٹرز بنانے کی پوریProcedure کے لیےMaterials اورEquipment کا Budget 40 ارب روپئے ہے! 😱 یہ کہیں سے نکلتا ہے؟ اور وہ کیسے بنا رہے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ اس کمپنی کو سیمی کنڈکٹرز بنانے کی پوریProcedure میں 1000 گنا زیادہSamay لگے گا!

ماہرین نے بتایا ہے کہ خلا میں تیار کیے گئے سیمی کنڈکٹرز 4000 گنیا زیادہ خالص ہیں اور ان کو زمین پر استعمال کرنے کے لیےMaterialz تیار کرنا پڑے گا! یہ تو عجیب ہے نہیں؟

اس کمپنی کی فیکٹری میں سímپل اور ممتاز الیکٹرانکس، مواصلاتی نظام اور کمپیوٹنگ کےComponentz بننے کی پوریProcedure کے لیے 100 ہزار گنیاً زیادہSamay لگ جائے گا!

اس کمپنی کو خلا میں سیمی کنڈکٹرز بنانے کے لیے Materialz اورEquipment تیار کرنے کی پوریProcedure میں 1000 گنا زیادہ Samay لگے گا! 🕰️

خلا میں سیمی کنڈکٹرز بنانے کے لیےMaterialz کو اتنے زیادہ Heavy karne padega ki وہ Earth par aasani se استعمال nahi ho paayenge! 😂
 
یہ تو دھум پڑا ہوا ہے، اس کمپنی نے خلا میں ایسے سمیکنڈکٹرز بنانے کا منصوبہ لگایا ہے جو زمین پر بھی کام کرسکتے ہیں، اور اس کو اس قدر موزوں بناتے ہوئے کہ وہاں کی حالات اس سے زیادہ موزوں ہیں۔

لیکن ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکا ہوتا، یہ کمپنی کیسے اچھی ہوئی کہ اس نے ایک فیکٹری قائم کی جو اس گھنٹی میں بھیجی گئی تھی۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے خلا میں ایسے مواد تیار کیے ہیں جو بعد ازاں زمین پر استعمال ہوسکتے ہیں، یہ تو ایک بڑا قدم کیا گیا ہوا ہے۔
 
تھوڑا زیادہ گزروں میں زمین پر سمی کنڈکٹرز بنانے کی بات آ رہی ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد اس کے بارے میں بھی بات ہونے لگی ہے۔ ایسا تو خلا میں سمی کنڈکٹرز بنانے کی بات سے پہلے ہی اس کے فوائد بتائے گئے تھے، اور اب بھی لوگ ان سے بھرپور معیشت بنانے کا منصوبہ لگاتے ہیں۔ لیکن یہ بات تو نکل رہی ہے کہ ان سمی کنڈکٹرز میں کیا ماحول کی آلودگی کو پھیلایا گیا ہے اور اچھے سے تھوڑا گزریں نکلنے کے بعد بھی ان کی موت ہوگئی ہے یا نہیں؟
 
اس کمپنی کی منصوبے کو دیکھتے ہی ایک سوال آیا، کیا یہ سچی طرح ٹرانسپورٹ کی بنیادی عنصر بن جائی گئی؟ زمین پر سیمی کنڈکٹرز کی موجودگی کا مطلب ایسی چیزوں کو زمین پر لانے میں آسانی ہونے کا نہیں، بلکہ اس طرح کی ٹکنالوجی کو بھی اپنی طرف متحرک کیا جائے گا جو انسان کے لیے ایسے فائدہ پہنچائیں گے کہ وہ اسے دیکھ نہیں سکتے ۔
 
اس کمپنی کی بات سنیجے تو یہ منصوبہ ہے بھیٹی آن کو 1000 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچایا جائے تو خلا میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے، لیکن یہ بات کبھی سنیجے تو اس کمپنی نے کیا یہ انٹرنیشنل کی جانب سے منصوبہ بنا کر لائے ہیں؟ اور اس کمپنی میں کیوں بھیٹی آن کو 1000 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچایا جارہا ہے؟

میں یہ بات نہیں سمجھ سکتا کہ اس کمپنی میں کیا سائنسدانوں نے یہ منصوبہ بنایا ہے اور انہوں نے یہ بھی بات کہی ہے کہ خلا میں تیار کیے گئے سیمی کنڈکٹرز زمین پر بننے والے سیمی کنڈکٹرز کے مقابلے میں 4000 گنا زیادہ خالص ہوسکتے ہیں؟

اس کمپنی کو اچھی طرح سمجھنا پڑےگا کہ انہوں نے اپنے منصوبے میں ہمیشہ کیا یقین رکھا ہے، یا یہ صرف ایک جادو ہے جو اس کمپنی کو اچھی طرح سے سمجھنا پڑے گا؟
 
اس کمپنی کی منصوبہ بندی تو بالکل صحیح نہیں ہے، خلا میں سیمی کنڈکٹرز بنانے کا یہ کام بھی ٹھوس ہونے والے گیس کے لگن کو جسمانی طور پر پہننا ہوگیا ہے، اس کی اور زمین پر اس کی استعمال کے درمیان 500 سال تک ایک دھارا کی طرح فرق ہونا چاہیے
 
اس کمپنی نے خلا کی طرف قدم رکھا ہے جو ابھی بھی ایک نئی اور عجیب مقام ہے۔ اس کے ٹرانسپورٹ سسٹم بنانے کا منصوبہ تو ہمیشہ اپنے لئے اچھا لگا رہا تھا، اب ایسا کرنے میں یہ کمپنی نے بھی اپنا کام شروع کیا ہے۔

انھوں نے خلا میں ایک فیکٹری قائم کی ہے جو اس وقت گھر اور اس کی اچھی چابیاں ہی نہیں ہیں بلکہ اس کا بھی ٹرانسپورٹ سسٹم بنانے کے لیے مواد تیار کر رہی ہے جو بعد میں زمین پر استعمال ہوسکتا ہے۔

اس گھنٹی کی عرصہ میں اس کمپنی نے ایک فیکٹری بھیج دی ہے جو ابھی اچھی چابیاں لینے کے لیے وہاں پہنچی ہوگی۔ اب اس کمپنی کو خلا میں ایک بڑی فیکٹری بنانے کا منصوبہ بھی ہے جو ایک وقت میں 10 ہزار چپس کے لیے سیمی کنڈکٹر مواد تیار کر سکے گی۔
 
یہ کامیابی کی حقیقت ہے کہ جب بھی لگتا ہے کہ ہم اپنی حد تک ناپہنچے ہیں تو ہمارے ذہن میں ایسا خیال پیدا ہوتا ہے کہ ابھی ہمیں زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا ہو گا۔ پھر اسے حاصل کرنا شروع ہونے پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی ہمیں نا کچھ حاصل کرنا بھی ضروری ہو گا، اور یہ وہی چکر ہوا کرتا رہتا ہے جیسا ہم اس فیکٹری کی تیاری میں ہیں۔ لیکن ابھی تک ہمیں اس بات پر توجہ دی جاہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا اور اس لیے ہماری زندگی بھر کو ایسا لگائیں جو ہم سب سے زیادہ حاصل کرنے کی توجہ دیں تو یہ جب تک ایماندار ثابت نہ ہو گا۔
 
واپس
Top