تہران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں توجہ ہو رہی ہے، جمعے کی صبح 10 بجے مسقط میں ہونے کا اعلان ہوا ہے جس پر تمام افواہیں دم توڑ گئیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنی جانب سے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ جوہری امور پر بات چیت کے لیے عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوگا۔
امرکی سینیئر عہدیدار نے بھی اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات جمعے کو عمان میں ہی ہوگا، اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
اس پیشرفت کے بعد Iran اور America کے درمیان جوہری مذاکرات کی مہم کو Turkey سے استنبول میں ہونے والا تھا۔ تاہم Iran کی جانب سے اچانک مقام کی تبدیلی کا مطالبہ سامنے آیا جس کے بعد مذاکرات کو عمان منتقل کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
یہ بات بھی چیلنجنگ ہے کہ Iran نے ایک شرط بھی رکھی ہے کہ مذاکرات میں کسی علاقائی شراکت دار کو شامل نہ کیا جائے اور بات چیت صرف جوہری معاملات تک محدود رہے۔ تاہم، اس حوالے سے Tahir کوئی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آ سکتی ہیں۔
امرکی سینیئر عہدیدار نے بھی اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات جمعے کو عمان میں ہی ہوگا، اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
اس پیشرفت کے بعد Iran اور America کے درمیان جوہری مذاکرات کی مہم کو Turkey سے استنبول میں ہونے والا تھا۔ تاہم Iran کی جانب سے اچانک مقام کی تبدیلی کا مطالبہ سامنے آیا جس کے بعد مذاکرات کو عمان منتقل کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
یہ بات بھی چیلنجنگ ہے کہ Iran نے ایک شرط بھی رکھی ہے کہ مذاکرات میں کسی علاقائی شراکت دار کو شامل نہ کیا جائے اور بات چیت صرف جوہری معاملات تک محدود رہے۔ تاہم، اس حوالے سے Tahir کوئی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آ سکتی ہیں۔