بسنت: بہار کی آمد سے شروع ہونے والا تہوار پتنگ بازی تک کیسے پہنچا؟ - Daily Ausaf

ڈیجیٹل دوست

Well-known member
بسنت ایک تہوار ہے جو بہار کی آمد سے شروع ہوتا ہے اور اس کا تعلق موسم کے بدلنے خصوصاً بہار کی آمد سے ہوتا ہے جس میں لوگ فطرت کے رنگوں کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے پیلے لباس پہنتے تھے۔ اس دن کھانے میں بھی پیلے رنگ کا غلبہ ہوتا تھا، میٹھے چاول، بیسن کے لڈو اور دیگر پیلی مٹھائیاں تیار کر کے بانٹی جاتی تھیں۔

بسنت کو شاہی درباروں میں بھی خصوصی مقام حاصل رہا ہے اور مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے عہد کی ایک مستند دستاویزی کتاب آئینِ اکبری میں اس کا تذکرہ ملتا ہے جس کے مطابق جلال الدین اکبر کے دورِ حکومت میں بسنت کو درباری ثقافت کے ایک اہم اور خوشی کے تہوار کے طور پر منایا جاتا تھا۔

بسنت کا تہوار صرف ہندو برادری تک محدود نہ رہا بلکہ یہ پورے برصغیر کا مشترکہ ثقافتی ورثہ رہا ہے اور قدیم ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں مختلف قوموں نے اسے اپنے اپنے انداز میں منایا۔

بسنت ایک تہوار ہے جو پنجاب کی ثقافت اور سماجی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کے موقع پر عوام خصوصاً بچوں کا ایک جمِ غفیر ہوا میں اڑتی ہوئی پتنگ کے پیچھے دوڑیں لگاتے تھے۔

بسنت پر پتنگ بازی سے جود میٹم کی رشد نہ ہونے کی وجہ سے 2007 میں اسے حکومت کے اور عوام کے درمیان بھی تنازعہ پیدا ہوا، جس کے بعد حکومت نے پتنگ اڑانے پر پابندی عائد کی تھی۔

2012 میں 15 سال کی پابندی ختم کرنے کے بعد ہی بھی ایک بڑا واقعہ واقع ہوا جس سے اس نے اپنی زندگی منسلک کر دی تھی اور جس پر 19 افراد کو جان لگی تھی۔ اس کے بعد حکومت نے پتنگ اڑانے، فروخت کرنے اور ان سے وابستہ کاروباری افراد کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دی تھی جبکہ ایسے حالات ہونے پر متعلقہ ایس ایچ او اور اسسٹنٹ کمشنر براہِ راست ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے جبکہ لاہور کے گنجان آباد علاقوں کی ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔

لاہور میں بسنت میلے کے لیے خطیر رقم بھی مختص کی گئی ہے، جس کے تحت لاہور میں فوڈ فیسٹیولز، موسیقی کے پروگرامات، لائٹنگ اور خصوصی تقریبات کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔
 
بسنت ایک سونرہت تہوار ہے جو پیلی رنگ کے ماحول کو بناتا ہے اور مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس دن کی مناہی سے ہمیں اپنی انسفرٹی سے اچھے معاملات کا پہلا قدم بھی لگنے کی ہم آہنگی میں ملتا ہے...۔

جب میرے دماغ میں یہ موضوع آتا ہے تو مجھے اس پتنگ بازی سے متعلق تنازعہ کا احساس ہوتا ہے جو نوجوانوں کو ایک دوسرے پر حملہ کرنے کی اجازت دیتا ہے... یہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی شان اور استقبال کا ماحول ملے جائے...
 
بھلے کیوں نہیں ہوتا! بسنت ایک تہوار جو دوسرے ہیں، مگر اس میں سے کسی بھی کے قریب ایسی برے حالات ہوئیں جس سے لوگ پتنگ اڑائیں وہاں جانے کی کوشش کرنے پر تناثریں کر رہے تھے، نہ تو عوام، نہ ہی بچے! اس سے ان کو پتنگ اڑانے والوں کو بھی پٹنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے!

سرفراز! میرا کیا خیال ہوگا!
 
بسنت ایک فاسٹ ٹریک نہیں ہے بلکہ یہ ایک ثقافتی تہوار ہے جو بھارت اور پاکستان میں بہت مشہور ہے، اس کا مناؤ جب ہندو برادری سے شروع ہوتا ہے لیکن پھر یہ تہوار پورے برصغیر میں بھی شامل رہتا ہے اور یہ ایک بہت ہی خوشی کا تہوار ہے جس پر لوگ مختلف رنگوں کے پیلے لباس پہنتے ہیں اور پتنگ بازی کرتے ہیں جو ایک بھارتی Tradition ہے۔
 
بسنت کو تہوار کے طور پر منانے کی وہ پوری ایسی مقبولیت ہے جو اسے ڈھونڈتا ہے، چاہے وہ پنجاب سے تعلق رکھتا ہو یا کسی اور ریاست میں ، ان کے پاس ایسی پتنگ کا کوئی ذرہ نہیں ہوتا جو اس کو منایا گیا ہو، یہاں تک کہ لوگ ایسے ساتھ کھیلتے تھے جب ان کے پاس بھی کچھ نہ رہتا تھا وہ اس میں بھی ہم آہنگی لانے کی کوشش کرتے تھے۔
 
بسنت ہندوستان کی ایک بہت ہی مشہور تہوار ہے جس پر لوگ بہت اچھی طرح سے کھلے دل سے گناہگاروں سے جنگ لڑیں گی. پتنگ کی بازی کی وجہ سے ہوئے ان تنازعات کو اس تہوار کے بعد اور اس کے دوران بھی دیکھا جائے گا، ایسا لگتا ہے جو پتنگوں کا بدلہ لینے کے لیے لوگ دوسروں پر لگاتار انٹر اڈھیں لگائیں گی اور اس نتیجے سے یہاں تک پہنچ جائے گا کہ 15 سال بھی پتنگوں کی بازی پر پابندی ہونے کے بعد بھی دوسروں کو اس کا بدلہ لینے کے لیے مجبور کیا جائے گا.
 
بسنت ایک تہوار ہے جو ہندو برادری سے منسوب نہیں بلکہ پورے برصغیر میں اس کی ترسيم کے لیے ایک مشترکہ ثقافتی ورثہ رہا ہے اور اس پر تمام قوموں نے اپنے انداز میں منایا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تہوار موسم بہار کے بدلنے کے ساتھ جود کے رنگوں اور نتیجت میں پیلے لباس کی طرف ہم آہنگی کا مشابہ ہے اور اس لیے ایک جمی تہوار ہے جو تمام برادری کو اپنے درمیان منائی جاسکی۔
 
واپس
Top