بسنت سے لگ بھگ 6 ارب روپے کی کمائی، مختلف حادثات میں 4 افراد جاں بحق

لوڈو کنگ

Well-known member
لاہور میں بسنت کی تقریبات کے خاتمے سے ہی پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، اس طرح شہر میں پتنگ بازی پر دوبارہ مکمل پابندی لگ گئی ہے۔ چار افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے تھے جن میں ایک بچہ اور صحافی شامل تھا، اس کے بعد حکومت نے شہر کو پتنگ کے خلاف سرگرم کوششوں کی مہارت دکھائی دی اور یہیں تک پہنچ گیا کہ لاہور میں ان روایتی تہواروں سے متعلق کسی بھی سرگرمی کو قانونی جرم قرار دیا گیا ہے، اسی طرح شہر میں اس کے خلاف ہر قسم کی سرگرمی کو روک دیا گیا ہے اور عوام سے ایس او پیز پر عمل کرنے کی بات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

بنیادی طور پر اس میں شہر کی تقریبات میں 6،7 اور 8 فروری کو چار دن تک لاہور میں منایا جاتا تھا، اس سے پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی لگ گئی۔ شہر میں اس روایتی تہوار کو منانے والوں نے اپنے دائرے میں رہ کر منا سنا تھا، اسی طرح سے 11 زخمی اور چار کے خاتمے جیسا صورتحال سامنے آگیا۔

بنیادی طور پر ایسے دفعہ اس میں لاکھوں لوگ نکل کر منائیں تھیں، اور اس کے ساتھ ہی راسخ الہ advent و فطرت کے ماحول اور سماجی حلقوں میں بھی ایسا ایک جوش پختا رہا تھا جو لوگوں کو ان روایتی مناؤنے کی جانب لے آتا تھا۔

یہاں تک کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خاندان اور علیمہ خان کے گھر سے بھی یہ روایتی تہوار منایا گیا تھا، جس میں ان کے اپنے فیملی اور دوستوں نے شرکت کی ہے۔ اسی طرح شہر کے مختلف علاقوں میں تقریبات بھی منعقد ہوئیں جس پر ان کے حوالے سے خاصا لگپگ جوش پختا رہا۔

شہر کی مختلف علاقائیں ایک دوسری سے مل کر یہ روایتی تہوار منانے کا مقصد حاصل کرتے ہیں، جس میں بھی واضح رہتا ہے کہ ایسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے یہ تقریبات منائی گئی تھیں۔

ان تقریبات سے نکلنے والی 11 لاکھ سے زائد گاڑیوں کی انٹر ریسپشن کے طور پر ریکارڈ ہوئی اور 14 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اس میں سفر کیا، لیکن ایک دوسری جانب اس روایتی تہوار کی سرگرمیوں کی وجہ سے بھی ان حالات میں گھناسے تیزی سے ہونے والی موت اور زخمیات سامنے آئیں جن میں ایک نوجوان اور ایک صحافی شامل ہیں، ان کی فوری طور پر گھر جانے کے بعد وہ جانبر نہ ہو سکے۔
 
اس بات کو سمجھنا مشکل ہے کہ پتنگ اور ڈور کی روایتی تہوارات سے متعلق کسی بھی سرگرمی کو مکمل طور پر روکنا ضروری نہیں ہے؟ لاکھوں لوگوں کے لیے یہ ایک اہم مناؤنی تہوار ہوتا ہے جو ان کی ثقافتی ورثے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، لہٰذا اسے مکمل طور پر روکنا ایسا نہیں ہونا چاہیے جو لوگوں کو یہ مناؤنی تہوار سے دूर کریں گے۔
 
اس کا مطلب یہ ہے جو پتنگ اور ڈور کے روایتی تہوار کو روکنے سے ایسے صورت حال سامنے آئے جن کی وجہ سے تقریبات منائی جاتی تھیں، ابھی یہ بات بھی یقینی نہیں کہ اس کے خاتمے سے عوام کے لیے کچھ فائدہ ہوگا یا نہیں؟

اس روایتی تہوار کو منانے والوں نے بہت اچھی طرح سے اپنے دائرے میں رہ کر منا سنا تھا، اس کی وجہ سے 11 زخمی ہوئے اور چار لوگ جا کے جان بحال نہ ہو سکے!

اس کے باوجود یہ دیکھیں کہ شہر میں ان روایتی مناؤنے کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی لگی، اور عوام کو ایس او پی ہی اپنا کرنی پیٹی۔

اس سے محسوس ہوتا ہے کہ تقریبات منانے والوں نے خود کو اس روایتی تہوار سے محروم کرنا چاہتے تھے، اور اس لیے یہ تقریبات منائی گئیں تاکہ وہ سرگرمی ڈر کے تحت آ جائے!

اب بھی دیکھنے کو کچھ میسر ہوگا کہ عوام نے ایس او پی اپنا کرنی ہے اور شہر کی تقریبات میں بھی ایسی پابندیوں کو لگیا دیا گیا ہے جو عوام کو یہ بات سزا دیتی ہے کہ ان روایتی مناؤنے کی سرگرمیوں کو روکنا!

اس میں ایک بھی کچھ نہیں ہو گا جس سے عوام کے لیے فائدہ ہوگا؟ یہ دیکھنا ہی تھا کہ شہر کی تقریبات میں ایک نوجوان اور صحافی جانبر نہ ہوسकے، اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آئی کہ تقریبات منانے والوں کی ایسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی لگی!
 
لہذا اب اگر تم جانتے ہو کہ اس روایتی تہوار سے نکلنے والی پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی لگ گئی ہے تو ایسا بھی ہوتا ہے
 
اس تو حالات میں پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت کو مکمل پابندی عائد کر دیا گیا ہے، ایسے میں کچھ لوگ اپنی فوریت پر یہ بھی نہیں اچھی طرح سوچ رہے تھے جو آج یہ روایتی تہوار منائی گئا تھا۔

اس میں چار لوگ جانب بحق ہوئے اور ایک بچہ بھی ہلاک ہو گیا، اس کے بعد حکومت نے ایسے سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی۔

اس روایتی تہوار سے لاکھوں لوگ ملازمت اور کھانا بھی کھینٹے ہوئے نکل گئے، لیکن ان میں کسی کی جانب کو بھی یہ سچائی نہیں کہ اسے ایسا منانے کی اجازت نہیں تھی۔

شہر کی تقریبات میں لاکھوں لوگ ہوا نہ بھی کر سکیں گے، یہ رہے ان لوگوں کا ایک بار پھر ایسے ماحول میں ہونے والی مایوسى کا شکار ہوا ہو گا۔
 
منا سنا تھا بہت سی لوگ میں اس روایتی تہوار کا شوق پکta raha tha, لیکن ایسے دفعہ بھی اسی راسخ الہ advent کی ماحول کو لیتے ہوئے ، اس طرح ایسا ایک جوش پختا رہا تھا جو لوگوں کو ان روایتی مناؤنے کی جانب لے آتا ہے، لیکن دوسری جانب یہی کہ اسی روایتی تہوار میں چار افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے ، اس طرح یہ ایک جوش پختا رہا جو لوگوں کو ان روایتی مناؤنے کی جانب لے آتا تھا لیکن وہی بھی ایک دوسری جانب بہت ہی خطرناک اور زہریلے رہا
 
🚨 پتنگ بازی سے متعلق دیرپا شوک اچنے والی بات یہ ہے کہ ایسے تہواروں کو منانے والے لوگ نہ صرف اس سے اپنی روایتی تہواروں کی لپٹ میں رہتے دیکھتے ہیں بلکہ ان کے ایسے حالات بھی جیسا کہ پتنگ بازی کے دوران جانبر نہ ہونے کے بعد جان کی جان جاتی ہے اسے ختم کرنا بھی مقبول ہو گیا ہے।
 
اس بات پر 100% یقین رکھوں گا کہ اگر پتنگ اور ڈور کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسی صورتحال بن جائگی جس میں لوگ ایک دوسرے پر تشدد کرتے ہیں، آج لاکھوں افراد جو اپنے پتنگ اور ڈور کو بیچ رہے تھے اس صورتحال میں جانبر نہ آنے والے کو بھی ملازمت مل گئی، اس بات پر بھی یقین رکھو کہ عوام سے ایس اے پیز پر عمل کرنے کی بات ہونے کی وہی ہدایت نہیں کی جاسکتے ہیں، جب تک اس میں لوگ ایک دوسرے کو تھکان نہ دیں گے۔
 
یہ مومنٹ بلاشپ! لاہور میں پتنگ کی تقریبات ختم کرکے ان پر مکمل پابندی عائد کرنا، اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ اب شہر میں یہ روایتی تہوار ہی منانا بھی پابند ہو گیا ہے، اور عوام کو ایس او پیز پر عمل کرنا ہے؟ اس میں کتنے لوگ نکل کر ان تقریبات میں شرکت کر رہے تھے۔ پتنگ کی تقریبات کے خاتمے سے یہ راتوں ہی گاڑیاں چل رہی ہیں اور لوگ اس سے نکل کر بھی نہیں ہوئے۔
 
ਇس روایتی تہوار سے پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی لگ گئی ہے، ایسے میں شہر کے لوگوں کو بھی ایک جوش پٹا رہا ہوگا، لیکن اس نتیجے کا دھندلہ یہ ہوا کہ چار افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے تھے اور ایک بچہ اور صحافی شامل تھا، #شہر_میں_پیٹنگ_سے_تنگ_نا۔ اس کے بعد حکومت نے شہر کو پتنگ کے خلاف سرگرم کوششوں کی مہارت دکھائی دی اور اچھا ہے #شہری_صلاحیتوں پر زور دیا گیا، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ عوام کو اس بات کا ایک اندازہ رکھنا چاہئے کہ ان روایتی تہواروں سے متعلق کسی بھی سرگرمی کو قانونی جرم قرار دیا گیا ہے، اور #شہر_میں_پتنگ_سے_بھگڑ_نا ۔
 
اسے ہمیں پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت سے دو لاکھ سے زیادہ سال چلے گئے! یہاں تک کہ شہر میں ایک شخص کی جان جائی گی، تو اب یہ روایتی تہوار منانے والوں کو روکنا پڑ گیا ہے۔ اس سے پتنگ اور ڈور کے کاروبار بھی نچلے ہیں۔

اس دفعہ لوگ اپنی جانوں پر ایسے جوش میں نکلتے تھے جو اب وہی نہیں ملا رہا! ان روایتی مناؤنوں سے محروم ہونے کی وجہ سے لوگ کیسے بھلے رہتے ہیں؟ یہ تو ایک عالمی تہوار ہوتا ہے نہیں!
 
یہ واضح ہے کہ شہر میں اس روایتی تہوار کو منانے والوں نے ایسا عمل شروع کیا تھا جو اب کسی بھی صورتحال کے باوجود بھی جاری رہتا ہے، اور اگرچہ حکومت نے اسے روکنے کی کوشش کی ہے لیکن واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ شہر کی تقریبات میں ایسا ایک جوش پختا رہتا تھا جو کوئی بھی صورتحال کے باوجود اسے روک سکتا نہیں۔
 
اس روایتی تہوار کو منانے والوں کے ایسے جذبے اور محبت کی بھی پریشانی ہوئی جو نہیں آئی، اسے منانے سے قبل یہ تھا کہ لوگ شہر میں بھر جاتے تھے اور ایک دوسرے سے مل کر بہت سی چہچہائیاں کرتے تھے، اور اب وہی لوگ اس سے پھٹتے ہوئے ہیں اور پھر اسی شہر میں ایک دوسری جانب زخمیات اور موت کی سوچ کو بھی سامنے لایا گیا ہے، یہ سب کچھ ایسا ہوا ہے جیسے کسی نے اس تہوار کو منانے والوں کی محبت اور دھلک اٹھانے کی کوشش کر دی ہو جو اب وہی لوگ ہیں جنہوں نے اسے پہلی بار منایا تھا، ان کے جذبے کو ختم کرنا ایک بڑا ناکام اقدامہ ہوا ہے۔
 
اس روایتی تہوار کو منانے سے پہلے لوگ یہ بھی جانتے ہوتے تھے کہ اس میں کیسے سافٹویئر کا استعمال کیا جاتا ہے? نہ تو یہ ایک اچھی بات ہے نہ تو بدنی. اب ان روایتی مناؤنے کی وجہ سے ہزاروں لوگ زخمی ہوئے، لیکن اس کے بعد یہ کہ کس طرح ان سافٹویئر کو اپ ڈیٹ کرنا پڑے گا، نہ ہی یہ بات یقینی ہے کہ اب وہ ڈور کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی لگائی جائے گی؟
 
بھاگ جاتا ہے پتنگ سے! 🚫 یہ واضح طور پر ان لوگوں کو متاثر کرتا ہے جو اس روایتی تہوار کی سرگرمیوں میں شامिल ہیں، اور یہ تو ایک منفرد بھی بات ہے کہ ان لوگوں کو پتنگ کھیلنے سے روکنا ضروری تھا؟ یا تو اس پر احتیاط لگائی جائے تاکہ نچلی سطح پر کوئی دوسرا صورتحال پیدا ہو سکے، اور یہ ایسی س्थितیت ہے جس کے لیے کوئی بھی ایک صحت مند جذبات رکھنے والا فرد اس پر پورا واضح پیسے دے گی! 😐
 
میں تھاں لاکھوں لوگوں کے ساتھ پتنگ بازی کر رہے تھے، اور ایسے ماحول میں ہونے والی سرگرمیوں کی وجہ سے بھی مجھے اچھا محسوس ہوا کرتا تھا۔ لیکن آج یہ دیکھ کر مجھے ایک خوفناک صورتحال سامنے آئی ہے، جس کی وجہ سے شہر میں پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی لگ گئی ہے۔

اس پابندی نے شہر کو ایک دوسری جانب لے آ کر رہا ہے، جس میں لوگوں کے درمیان رشتوں اور ماحول کی واقفیت بھی کمی ہوئی ہے۔ اب یہ نہ صرف لاکھوں گاڑیوں کے سفر سے بھرپور انٹر ریسپشن ریکارڈ ہوا، بلکہ ایسا جوش پختا تھا جو اس شہر کو نہ تو چھوٹا لگتا اور نہ ہی اس کی بے پروائی۔

لیکن ایک دوسری جانب اس پابندی کے خلاف محسوس ہونے والا جوش بھی اس شہر کو نہ تو چھوٹا لگتا اور نہ ہی اس کی زندگی سے رخصت ہوتی۔

ابھی تک ایک روایتی تہوار میں لاکھوں لوگ نکل کر اپنے دائرے میں ہی منا سنا تھا، اور اس طرح سے بھی یہ پابندی محسوس کی جاتی ہے کہ شہر میں کسی بھی سرگرمی کو روکنے پر گہرا نقصان ہوتا ہے۔

اس لیے مجھے یہ سوچنے میں دلچسپی ہے کہ شہر کی زندگی کو اس پابندی سے نکلنے کا ایک اور راستہ تلاش کرنا ہو گا، جس پر شہر کے لوگ اپنی روایتی تہواروں کے ذریعے اپنے ماحول کو بھی نئے کھلنے میں مدد مل سکے۔
 
اس روایتی تہوار کی پابندی سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ عوام میں ایسا جوش پختا رہا ہو گیا ہے جو کسی بھی نئی روایت یا تہوار کی شुरुआत پر بھرپور طور پر تشہیر دیتا ہے۔ یہ ایک اچھی بات ہے لیکن اگر اس پر پابندی لگائی جائے تو عوام کے جوش کو ختم کر دیا جاتا ہے۔

جب لوگ ایسے تہواروں میں شرکت دیتے ہیں تو وہ اپنے فیملی اور دوستوں کے ساتھ ایک ایسی اچھی فہم یا روایتی سرگرمی کی تعلیم کا تعلق رکھتے ہیں جو انہیں ایک ایسا جوش پختا محسوس کراتا ہے۔

اس سے پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی لگنی چاہئے تو عوام میں یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ ایسے تہواروں کی شراکت کرنے والوں کو اپنے جوش کو ایک نئی روایتی سرگرمی میں بدلنا چاہیے۔
 
تازہ نویندے میں لاہور کو پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، اس سے شہر میں ان روایتی تہواروں سے متعلق کسی بھی سرگرمی کو قانونی جرم قرار دیا گیا ہے اور عوام سے ایس او پیز پر عمل کرنے کی بات کا مطالبہ ہوا ہے। یہ ریکارڈیں چار افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے تھے، جو اس روایتی تہوار میں شرکت کرنے والوں کی جانب سے ہوا۔

شہر کے عوام میں یہی رکاوٹیں لگنے پر بھی ایسی صورتحال سامنے آئی جس نے لوگوں کو ان روایتی مناؤنے کی جانب لےایا، مگر اس کا ایسا نتیجہ نکلا ہے جو ہمارے شہر میں پتنگ اور ڈور کے علاوہ کسی بھی تہوار کو منانے سے منع کر دیا گیا ہے۔

ایسا دیکھنے کا بہت انفرادی مقصد نہیں لگ رہا، جبکہ پورے شہر میں یہ تہوار منانے والوں کی جانب سے ایسی دھمکیاں بھی آئیں ہیں جن کے نتیجے میں اس روایتی تہوار کو منانے والوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
 
واپس
Top