نئی دہلی میں جب وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو کی سربراہت میں مسلم ہرسنل لابورڈ کا اعلی سطحی وفد ساتھ ان سے ملاقات ہوگئی ہے، تو یہ بات پورے ممالک میں تبصرے کے حامل ہوئی۔
امر اور قوم پرست سرکاری رکنوں سے لے کر مفتیوں، Amirوں اور دیگر سماجی اداروں کی رکنوں تک، اس وفد میں تمام درجہ کے افراد شامل ہیں۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ وفد سرکاری رکنوں سے باہر ہونے کی وجہ سے بورڈ کا ترجمان، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس دہلی نہیں شامل ہوا۔
غیر پہلے بھی یہ بات بیان کی گئی تھی کہ وفاقی مقاصد پر فوج کا استعمال کیا جائے گا، لیکن وہ اس بات کو نہیں چھوٹایا۔
اس ملاقات کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ اس وقت کی قیادت اور سیاسی سلوک میں آئندہ تبدیلی کس چیز سے ہوئی؟
یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ بورڈ نے ماضی کے ایجنڈے کو فوری میٹنگ کی طلب کی تھی، لیکن اس نے ابھی تک اس پر عمل نہیں کر پायا۔
اس سے پہلے سرکار نے ایک موقف اختیار کیا تھا جس کے تحت گیند وقف ټریبونل کو کورٹ میں ڈال دیا گیا تھا اور اس کے بعد سپریم کورٹ نے اس کے لئے مدت تجدید کی، لیکن اب وہ گئیں۔
اس ملاقات سے پہلے یہ بات بھی بیان ہوئی تھی کہ سرکار نے ایک امید پورٹل بنایا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اپنے وکالتوں کو آسان طریقے سے پوری کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ اس امید پورٹل کی نتیجہ کیسے نکلے گا؟
یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ بورڈ نے ایک واپسی کا مطالبہ کیا تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے ایجنڈے کو اس میں شامل کر لیا ہے۔
اس ملاقات کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات سچ ہو گی یا نہیں کہ بورڈ کو ان میں سے کسی ایک کا ہاتھ پٹا لگنے سے پہلے کوئی فیصلہ اٹھانے میں کامیاب ہو جائے گا؟
امر اور قوم پرست سرکاری رکنوں سے لے کر مفتیوں، Amirوں اور دیگر سماجی اداروں کی رکنوں تک، اس وفد میں تمام درجہ کے افراد شامل ہیں۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ وفد سرکاری رکنوں سے باہر ہونے کی وجہ سے بورڈ کا ترجمان، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس دہلی نہیں شامل ہوا۔
غیر پہلے بھی یہ بات بیان کی گئی تھی کہ وفاقی مقاصد پر فوج کا استعمال کیا جائے گا، لیکن وہ اس بات کو نہیں چھوٹایا۔
اس ملاقات کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ اس وقت کی قیادت اور سیاسی سلوک میں آئندہ تبدیلی کس چیز سے ہوئی؟
یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ بورڈ نے ماضی کے ایجنڈے کو فوری میٹنگ کی طلب کی تھی، لیکن اس نے ابھی تک اس پر عمل نہیں کر پायا۔
اس سے پہلے سرکار نے ایک موقف اختیار کیا تھا جس کے تحت گیند وقف ټریبونل کو کورٹ میں ڈال دیا گیا تھا اور اس کے بعد سپریم کورٹ نے اس کے لئے مدت تجدید کی، لیکن اب وہ گئیں۔
اس ملاقات سے پہلے یہ بات بھی بیان ہوئی تھی کہ سرکار نے ایک امید پورٹل بنایا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اپنے وکالتوں کو آسان طریقے سے پوری کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ اس امید پورٹل کی نتیجہ کیسے نکلے گا؟
یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ بورڈ نے ایک واپسی کا مطالبہ کیا تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے ایجنڈے کو اس میں شامل کر لیا ہے۔
اس ملاقات کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات سچ ہو گی یا نہیں کہ بورڈ کو ان میں سے کسی ایک کا ہاتھ پٹا لگنے سے پہلے کوئی فیصلہ اٹھانے میں کامیاب ہو جائے گا؟