Chitral Times - با اختیار عورت، مغرب سے پہلے، اسلام میں - اقبال عیسیٰ خان

ہرن

Well-known member
مغرب سے قبل اسلام میں عورت کا بااختیار ہونہے، ایک ایسا تصور جو اس وقت کی دنیا سے ہوتا ہے جیسا کہ کہیں بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ اسلام نے عورت کو وہ مقام اور عزت دی ہوئی جو اس دور کی دنیا میں ممکن نہ تھا۔ تاریخ، فکر اور عمل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی تعلیمات میں عورت ایک فرد، bashoor اور فیصلہ ساز ہے، معاشرے کی تعمیر میں برابر کی شریک ہے۔

حضرت مریمؑ کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عورت کی طاقت اس کے ایمان، صبر اور کردار میں ہوتی ہے۔ ایک ایسی عورت جو تنہا معاشرتی الزامات کا سامنا کرتے ہوئے اور اللہ پر کامل یقین کے ساتھ سرخرو رہتی ہے، ان کی روحانی عظمت میں عورت کسی مرد سے کم نہیں تھی۔ حضرت مریمؑ کا کردار عورت کی اندرونی قوت کی علامت ہے جو خاموش رہ کر بھی تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہے۔

حضرت خدیجہؓ کا کردار اسلامی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس نے آج کی دنیا کے لیے مکمل رہنمائی رکھی ہو۔ ایک دور میں جب جہالت اپنے عروج پر تھی اور بعض لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے، حضرت خدیجہؓ نہ صرف زندہ تھیں بلکہ ایک کامیاب تاجرہ، باوقار کاروباری رہنما اور معاشی طور پر خودمختار خاتون تھیں۔ ان کی تجارت دیانت، اعتماد اور حکمتِ عملی پر قائم تھی۔ انہوں نے نہ صرف کاروبار کو کامیابی سے چلایا بلکہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے آغاز پر اپنی دولت، سوچ اور اعتماد کے ساتھ اسلام کا ساتھ دیا۔

حضرت فاطمہؓ کی زندگی عورت کے وقار، شعور اور مزاحمت کی اعلیٰ مثال ہے۔ وہ ہمیں سکھاتی ہیں کہ بااختیار عورت وہ نہیں جو بلند آواز ہو بلکہ وہ ہے جو حق پر ثابت قدم ہو۔ بیٹی، بیوی اور ماں ہونے کے ساتھ ساتھ حضرت فاطمہؓ ایک باخبر اور باشعور خاتون تھیں، جو ناانصافی کے خلاف خاموش مزاحمت اور اخلاقی جرأت کی علامت بنیں۔

اسلامی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جو عورت کے فعال اور مؤثر کردار کو واضح کرتی ہیں، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسلام میں عورت کو معاشی اور انتظامی امور میں بھی اعتماد دیا گیا ہے۔
 
اسلام نے اپنے دور کی دنیا سے عورت کو وہ مقام دیا جو اس وقت کے لیے قابل عمل نہیں تھا، تاریخ میں ایسے حالات بھی ہوئے جب عورت کو معاشی اور انتظامی امور میں اپنی جگہ نہیں مل سکی، لیکن اسلام نے انھیں وہ مقام دیا۔ حضرت مریمؑ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ عورت کی طاقت اس کے ایمان اور کردار میں ہوتی ہے، جس لیے وہ خاموش رہ کر بھی تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے۔ ان کی روحانی عظمت میڰ عورت کسی مرد سے کم نہیں تھی۔

اسلامی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جو عورت کے فعال اور مؤثر کردار کو واضح کرتی ہیں، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسلام میں عورت کو معاشی اور انتظامی امور میں اعتماد دیا گیا ہے، ایسی مثالیں ہیں جو ہمیں سکھاتی ہیں کہ عورت ایک فرد، bashoor اور فیصلہ ساز ہے، معاشرے کی تعمیر میں برابر کی شریک ہے۔
 
اسلام کی تاریخ میں عورتوں نے مختلف دور میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر حضرت مریمؑ، خدیجہؓ اور فاطمہؓ جیسی ایسی عورت جو تاریخ کو تبدیل کرنے کی طاقت رکھتی ہیں 🤩

انہوں نے اپنی زندگی میں معاشرے کے مختلف Aspect्स پر اثرانداز ہونے کی بجائے، ایک ایسا مقام بنایا جو خواتین کو inspires karta hai aur unki abilities ko develop karta hai 💪

حضرت مریمؑ کی زندگی عورت کی spiritual power ko darshati hai, جسے apne ایمان, patience aur character mein find kiya jata hai ❤️

حضرت خدیجہؓ کی history me ek milestone banayi hai, jo us samay ki woman empowerment ke liye ek shining example hai 🌟

یہ بات سچ ہے کہ Islam ne Khatoon ko bhi importance diya hai, jismein economic aur administrative aspects par bhi respect diya gaya tha 💼

اسلام کی history me kayi such women hain jo apni lives mein social change laane ki koshish karti hain aur apne jaisi other women ke liye inspiration banati hain 🌎
 
اس्लام میں عورت کی حیثیت کیا اچھی طرح نہیں بتائی گئی! ان مثالیں جتنی چیلنجنگ ہوں تو وہ ٹھیک ہوتی ہیں لیکن کہانیوں میں یہ بات لگنے کی توجہ نہیں دی گئی کہ یہ تمام واقعات کون سے تاریخی ريكارڈز پر آسنی ہیں اور ان کو کیسے چکیا گیا؟
 
بہت اچھا لیک تھا یہ آج کی دنیا میں عورت کی حیثیت پر بات کرتا ہے، میرے خیال میں یہ بات تھیے کہ اسلام نے خواتین کو ایسا مقام دیا ہے جیسا کہ پہلے ہو سکتا تھا، اور تاریخ کی دیکھ بھال کرنے والے لوگ یہ بات اس میں یقینی بناتے ہیں کہ خواتین کو نہیں واضح رکھا گیا ہے۔

میری پہلی ليكس میں بھی اسی بات پر بات کی تھیے۔ میں کہتے تھے کہIslamism نے ایسے لوگوں کو جو خواتین پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں، انھیں نہیں رکھا ہے۔ میں ان لوگوں سے پوچھتا تھا کہ کیا آپ کا خیال ہے کہ خواتین کو معاشی اور انتظامی امور میں اعتماد دیا گیا ہے یا نہیں۔

اسلام سے پہلے بھی خواتین ایسے لوگوں سے شادی کرتے تھے جن کی معیشت کرنے کی صلاحیت تھی، لیکن اس وقت یہ بات نہیں رہی۔

اسلام میں خواتین کو ایسا کردار دیا گیا ہے جو وہ اور وہیں سے بھی چل سکیں، پہلی خاتون تھیں جنھوں نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد انٹرپرینیئر بن کر اپنی زندگی بنائی، اور پھیلayi۔

بھارت میں ایسے خواتین تھے جو اس وقت بھی ہیں جنھوں نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد انٹرپرینیئر بن کر اپنی زندگی بنائی، اور پھیلayi۔

اسلامی تاریخ میں ایسے خواتین تھے جنھوں نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد انٹرپرینیئر بن کر اپنی زندگی بنائی، اور پھیلayi۔

اسلام سے پہلے بھی خواتین ایسے لوگوں سے شادی کرتے تھے جن کی معیشت کرنے کی صلاحیت تھی، لیکن اس وقت یہ بات نہیں رہی۔

اسلام میں خواتین کو ایسا کردار دیا گیا ہے جو وہ اور وہیں سے بھی چل سکیں، پہلی خاتون تھیں جنھوں نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد انٹرپرینیئر بن کر اپنی زندگی بنائی، اور پھیلayi۔

بھارت میں ایسے خواتین تھے جو اس وقت بھی ہیں جنھوں نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد انٹرپرینیئر بن کر اپنی زندگی بنائی، اور پھیلayi۔

اسلام سے پہلے بھی خواتین ایسے لوگوں سے شادی کرتے تھے جن کی معیشت کرنے کی صلاحیت تھی، لیکن اس وقت یہ بات نہیں رہی۔

اسلام میں خواتین کو ایسا کردار دیا گیا ہے جو وہ اور وہیں سے بھی چل سکیں، پہلی خاتون تھیں جنھوں نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد انٹرپرینیئر بن کر اپنی زندگی بنائی، اور پھیلayi۔

بھارت میں ایسے خواتین تھے جو اس وقت بھی ہیں جنھوں نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد انٹرپرینیئر بن کر اپنی زندگی
 
اسلامی تاریخ کی اس دلچسپ منظر گریح کا یہ تصور ہوتا ہے کہ بااختیار عورت ایک ایسا تصور ہے جو اس وقت کی دنیا سے ہوتا ہے جیسا کہ کہیں بھی نہیں ہو سکتا تھا... 🤔

اسلامی تاریخ میں ایسے کئی عورتوں کی تاریخ موجود ہے جنہوں نے اپنے وقت میں ایک ایسا کردار ادا کیا جو ابھی بھی قابل سکھنا ہے... 😊

حضرت مریمؑ، حضرت خدیجہؓ اور حضرت فاطمہؓ کی زندگیوں سے ہمیں اس بات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ عورت کی طاقت اس کی ایمان، صبر اور کردار میں ہوتی ہے... ❤️
 
اسلام کی تعلیمات میں عورت کو ایک فرد کے طور پر جاننا بہت اچھی بات ہے، لیکن اس بات پر انحصار نہیں کرنا چاہئے کہ عورت کیا کرتے ہیں وہی کامیاب ہوتی ہے؟ حضرت مریمؑ کی زندگی سے یہ بات تعلیم دیتی ہے کہ عورت کی طاقت اس کے ایمان اور کردار میں نہیں، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ عورت اپنے حق پر واقف ہو اور اپنی زندگی کا انتخاب کرے۔ حضرت خدیجہؓ کی زندگی سے پتہ چلتا ہے کہ عورت کو ایک قوی ذہنات کا مالک بنایا جاسکتا ہے، اور اس طرح وہ معاشی اور انتظامی امور میں بھی اپنی نمائندگی کر سکتی ہیں۔
 
واپس
Top