چلائیے زندگی کے پیچیدہ اور غیر یقینی راستوں پر، ہر انسان کے دل میں ایک ہی بنیادی خواہش زندہ رہتی ہے کہ وہ خوش رہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ خوشی کسی حادثاتی لمحے، بیرونی کامیابی، دولت یا حالات کی مرہونِ منت نہیں۔ اس کے بعد سائنس، مذہب، سماجی تحقیق اور انسانی تجربہ متفق ہیں کہ خوشی کا اصل سرچشمہ ہمارے اندر ہوتا ہے، باہر نہیں۔
ابھی تک ہمیں یہ سوچ رہا تھا کہ خوشی کسی حادثاتی لمحے یا بیرونی کامیابی میں ملاتی ہے، لیکن زندگی سے بہرنہیں ہوتی ہے۔ اس کے بجائے یہ منافقت ہے کہ ہم انesting جذبات کی تلاش میں رہتے ہیں، جس سے ہمیں خوشی ہوتی ہے۔
نفسیات اور نیورو سائنس بتاتی ہے کہ مضبوط سماجی تعلقات، مثبت طرزِ فکر اور صحت مند خود اعتمادی خوشی کے بنیادی ستون ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی 75 سالہ طویل المدت تحقیق کے مطابق زندگی میں اطمینان اور خوشی کا سب سے مضبوط تعلق دولت یا عہدے سے نہیں بلکہ مضبوط انسانی رشتوں سے ہے۔
ذہنی دباؤ کو کم کرنے کا ایک ایسا طریقہ ہوتا ہے جس سے ہمیں خوشی محسوس ہوتی ہے، اس کے لیے ہم اپنی فیکٹری کو ایک لچکدار اور چالاک بناتے ہیں تाकی وہ انesting جذبات کی کھوئی ہوئی چاشنی کو پورا کر سکے۔
حالیہ دہائیوں میں معاشی ترقی نے بھی اس حقیقت کو سمیٹ دیا ہے کہ خوشی نہیں کسی حادثاتی لمحے یا بیرونی کامیابی میں ملاتی ہے بلکہ وہ ہم کی زندگی کے مقصد اور وژن سے منسلک ہوتی ہے۔
اس لیے ہمیں اپنی زندگی کا مقصد سمجھنا ہوتا ہے، اس کے بعد ہم اپنے وژن کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور آخر میں ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ خوشی اس جذبات کی تلاش میں نہیں بلکہ اس کا ایک بھرپور پہلو ہے۔
علماء کی تحقیق سے بات چیت ہوتی ہے کہ انسان کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنی زندگی کے مقصد اور وژن سے منسلک ہو کر خوش رہتا ہے، جبکہ ان لوگوں میں جو ناکامی کا سامنا کرتے ہیں وہ بھی اپنے اندر خوشی محسوس کرتے ہیں۔
ابھی تک ہمیں یہ سوچ رہا تھا کہ خوشی کسی حادثاتی لمحے یا بیرونی کامیابی میں ملاتی ہے، لیکن زندگی سے بہرنہیں ہوتی ہے۔ اس کے بجائے یہ منافقت ہے کہ ہم انesting جذبات کی تلاش میں رہتے ہیں، جس سے ہمیں خوشی ہوتی ہے۔
نفسیات اور نیورو سائنس بتاتی ہے کہ مضبوط سماجی تعلقات، مثبت طرزِ فکر اور صحت مند خود اعتمادی خوشی کے بنیادی ستون ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی 75 سالہ طویل المدت تحقیق کے مطابق زندگی میں اطمینان اور خوشی کا سب سے مضبوط تعلق دولت یا عہدے سے نہیں بلکہ مضبوط انسانی رشتوں سے ہے۔
ذہنی دباؤ کو کم کرنے کا ایک ایسا طریقہ ہوتا ہے جس سے ہمیں خوشی محسوس ہوتی ہے، اس کے لیے ہم اپنی فیکٹری کو ایک لچکدار اور چالاک بناتے ہیں تाकی وہ انesting جذبات کی کھوئی ہوئی چاشنی کو پورا کر سکے۔
حالیہ دہائیوں میں معاشی ترقی نے بھی اس حقیقت کو سمیٹ دیا ہے کہ خوشی نہیں کسی حادثاتی لمحے یا بیرونی کامیابی میں ملاتی ہے بلکہ وہ ہم کی زندگی کے مقصد اور وژن سے منسلک ہوتی ہے۔
اس لیے ہمیں اپنی زندگی کا مقصد سمجھنا ہوتا ہے، اس کے بعد ہم اپنے وژن کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور آخر میں ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ خوشی اس جذبات کی تلاش میں نہیں بلکہ اس کا ایک بھرپور پہلو ہے۔
علماء کی تحقیق سے بات چیت ہوتی ہے کہ انسان کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنی زندگی کے مقصد اور وژن سے منسلک ہو کر خوش رہتا ہے، جبکہ ان لوگوں میں جو ناکامی کا سامنا کرتے ہیں وہ بھی اپنے اندر خوشی محسوس کرتے ہیں۔