چترال میں ایک دہائی گزرنے کے باوجود سید آباد فٹبال گراؤنڈ کی تعمیر مکمل نہیں ہو پائی، جو چترال کے نوجوانوں کی شدید مایوسی کی وجہ بن رہی ہے۔ اس مقام پر تعمیر ہونے والا ایک واحد فٹبال استدیوم ، جس کو ڈی ایف اے کی کوششوں سے منظور کیا گیا تھا ، اب تک مکمل نہیں ہو پایا۔
صدر حسین احمد نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ ڈی ایف اے لوئر چترال نے اس استدیوم کی تعمیر مکمل کرنے کی جانب حکام کی توجہ مبذول کرانے کی متعدد بار کوشش کی، مگر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ یہ صورتحال اس وقت بڑھتی جا رہی ہے جب کھیلوں کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے میں بڑی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
تجربے سے واضح ہوتا ہے کہ جو لوئر چترال اور اس کی سماجی، اقتصادی ماحول میں ڈی ایف اے اور فٹبال سے متعلق حلقوں نے یہ استدیوم تعمیر کرنے کی جانب کوئی توجہ دی جارہی تھی، مگر جو کیا ہوا اس میں کچھ واضح نہیں۔ عملاً یہ ان حلقوں نے بے اعتناؤ میں کام کیا جو چترال میں کھیلوں کی ترقی کو روک رہے ہیں اور نوجوانوں کو شہرت اور مواقع فراہم کرنے سے محروم رہتے ہیں۔
آج بھی اس استدیوم کی تعمیر مکمل نہ ہونے کی صورت میں کوئی توجہ نہیں دی جارہی، جو کہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ساتھ ہی اس بات کا بھی انکوائری کرنی چاہیے کہ یہ استدیوم کی تعمیر کو کیسے مکمل کیا جاسکتا ہے اور جو لوگ اس کے ذمہ دار تھے، ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
یے تو یہ صورتحال بہت دیر کی ہو گئی ہے! چترال میں فٹبال گراؤنڈ کی تعمیر کا ایسا وقت لگ رہا ہے جیسے یہ صرف ایک دھیول کی بات ہون۔ نوجوانوں کو شہرت اور مواقع فراہم کرنے سے محروم رہتے ہیں اور اس طرح کے جو لوگ فیصلے لیتے ہیں وہ بھی ایسے ہوتے ہیں جیسے ڈرامہ کی پوٹولٹی میں ہاتھ ڈال رہے ہوں। حکومت کو یہ بات بہت اچھی لگتی ہے کہ اس استدیوم کی تعمیر مکمل نہ ہونے کی صورت میں کوئی توجہ نہیں دی جارہی؟ یہاں تک کہ پوری وضاحت کرنی ہو گئی ہے کہ وہ لوگ بھی کس طرح کمزور اور محروم رہتے ہیں!
عجीब ہے، چترال میں ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی اس استدیوم کی تعمیر مکمل نہ ہو پائی اور یہ تو یہاں کے نوجوانوں کی مایوسی کا ایک اہم عنصر بن رہا ہے! میں اپنی بیوی کو آج بھی اس بات سے خوش رہتی ہوں جو میں ان لوگوں نے کی ہے جنہوں نے ڈی ایف اے کے استدیوم کو تعمیر کرنے میں مدد کی تھی! ان سے زیادہ جواب نہ دیا گیا ہے، مجھے یہ بات بھی عجیب لگتی ہے کہ اس استدیوم کی تعمیر مکمل نہ ہونے میں ان لوگوں کو زیادہ عرصے تک اچھا مقصد حاصل نہ ہوا!
ਮੈں انچ کیپٹن (The Platform Critic) ہوں گا اور میں یہاں اپنی آرائیاں دیتا ہوں گا
جس طرح کھیلوں کی سرگرمیوں میں ترقی کئی سالوں سے رکاوٹ کا شکار ہے، اسی طرح کے حالات اس استدیوم کے ناکام ہونے کے بعد بھی مزید روادار نہیں ہوئے। اس مقام پر تعمیر ہونے والا ایک واحد فٹبال استدیوم جو چترال کی پوری سماجی زندگی کے لیے اہم تھا، اب تک یہ بھی مکمل نہیں ہوا
یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اس استدیوم کی تعمیر پر انچ کیپٹن (DFA) کی سربراہی کیسے تھی؟ اور یہ انچ کیپٹن کس سے پہلے اپنی جانب سے اس استدیوم کی تعمیر کو مکمل کرنے کی وعدہ کر گئی تھی?
ایسا لگتا ہے کہ ڈی ایف اے کی جانب سے کرنے والی یہ کوشش، جو بھی تھی اس میں دیر نہیں آئی… جس لیے یہ نوجوانوں کی مایوسی تو understandable ہے، بلکہ ان کی شگفتگی بھی… کچھ لوگوں کی نظر سے یہ کہل رہا ہے کہ حلقوں نے اس استدیوم کو تعمیر کرنے کی جانب ایسا انعام نہیں دیا جس سے لوگ محفوظ اور یقینی تھے… اور اب اس صورت میں کچھ کیا جاسکتا ہے؟ یہ رائے لاکھوں لوگوں کی ساتھ ملتی ہے، نوجوانوں کو کیسے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی hopefulیوں پر کام نہیں کیا گیا؟
یہ تو بہت غمتجوب ، دہائی گزرنے پر بھی یہ استدیوم مکمل نہیں ہو پایا، یہ کہا جاتا ہے کہ ڈی ایف اے نے کوشش کی تھی لیکن کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ یہ واضح ہے کہ لوگ بے اعتناؤ میں کام کر رہے ہیں اور نوجوانوں کو شہرت فراہم نہیں کر رہے ہیں ۔
تمام یہ بتاتے ہیں کہ اس استدیوم کی تعمیر مکمل کرنے کی توجہ دی جائے اور لوگوں کو واضح کریں کہ یہ کیا اور پھر ان سے بھی معاونت ملے تو ہو گیا ۔
اس صورتحال میں بڑی توجہ دی جانی چاہیے، مگر آج تک یہ حقیقت کہ ڈی ایف اے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی بات پر غور نہیں کیا گیا ۔
چترال میں سید آباد فٹبال گراؤنڈ کی تعمیر ہونے والی صورتحال، نوجوانوں کو بھوکنے کے جیسے ہی ہر دن بھی زیادہ بدتذاکر بن رہی ہے۔ آج کل چترال میں فٹبال کی قیمتیات کو نہ پٹنا چاہیے، اس کے بجائے فٹبال کو ایک ترقیاتی شعبہ کے طور پر دیکھنا چاہیے جس سے نوجوانوں کو شہرت اور مواقع ملنے چاہئیں۔ یہ سب ایک دہائی گزرنے کے باوجود، اس استدیوم کی تعمیر مکمل ہونے سے بھی زیادہ ہے۔
علاوہ سے اس انتہائی کامیابی پر گھبراؤ کی وجہ چٹral میں نوجوانوں کے جذبے میں کمی ہوئی ہے ۔ اس فٹبال استدیوم کو یہی سا مظاہرہ اور انصاف دکھانے کے لئے چلائی جا رہی ہے۔
بہت گراندے نوجوانوں کی مایوسی کی بات ہر وہیں ہوتی جا رہی ہے، ان کا ساتھ دھکے نہیں دیا جارہا۔ اس استدیوم کی تعمیر میں چھ سال گزری ہیں اور اب تک ہم نے جو کچھ دیکھا ہے وہ اچھی ہی نہیں رہا۔ [1]
یہ ایک بڑی ناکامہ ہے! میں بھی مایوس ہو رہا ہوں کہ سید آباد فٹبال گراؤنڈ کی تعمیر مکمل نہیں ہونگی، مجھے یہ کہنا ہوتا ہے کہ دہائی سے یہ کام جاری ہو رہا ہے اور اب تک نائن گزری ہیں... اسے مکمل کرنے کی وہ پوری جدوجہد کیا نہیں تھی!
میں ان ساروں لوگوں کو معذور اور جھٹا بھرپور معذور سمجھتا ہوں جو یہ کام جاری رکھتے رہے، اور اب وہ نوجوان جو یہ استدیوم کا انتظار کرتے تھے اب مایوس رہتے ہیں... میں ان کے لئے اسٹینڈ کا قائل ہوں!
میں یہ بھی چاہوں گا کہ اس استدیوم کی تعمیر مکمل ہونے پر دے دیا جائے گا اور نوجوانوں کو اس کا استعمال کرنے کی سہولت ملا جائے... یہی میں چاہتا ہوں!
علاوہ ازیں، یہ بات بھی واضح ہے کہ اورچانہ کوئی ادارہ یا حکومت نہیں کرتی جو اس طرح کی کارروائیوں سے محروم نوجوانوں کی توجہ مبذول کرتا۔ اس صورتحال سے بھاگنے کے بجائے، اچھے منصوبوں کو تیار کرنا چاہیے جو نوجوانوں کو شہرت اور مواقع فراہم کرسکے۔
یہ دیر کی گزر رہی ہے اور یہ استADIوم اب بھی مکمل نہیں ہوا ، یہ بہت غضب کو جنم دی رہا ہے چترال کی نوجوانوں کے بے یقین و انحطاط کی وجہ سے اس میں کچھ کام نہیں ہوا۔
دہائی گزرنے کے بعد یہ استادیوم مکمل نہیں ہونے دے کے لوگ اپنی उमری پھوٹ پانے کی اچھی جگہ پر بھا گئے سونا چاہتے ہیں، اس نوجوانوں کو شہرت ملنے کے لیے یہ استدیوم اور ان کی ترقی کی دیکھ بھال کرنا تھا۔
دہائی سے اس کا کام مکمل نہیں ہوا، اچھا یہ نہیں کہ اس لیے نوجوانوں کو یہ استدیوم مکمل کرنے پر توجہ دی جائے اور ان کی ترقی اور شہرت میں مدد ملے۔
یہاں سے بھی ایک دوسرا مسئلہ اٹھا لیا جاسکتا ہے کہ اچھی طرح پھرچھ کی گئی ہے۔ لوئر چترال میں فیسٹول گراؤنڈ تعمیر کرنے کی کوئی بھی کوشش نہیں کرتے تو اس وقت یہاں سے کوئی کچھ نہیں ہوتا؟ اور وہ لوگ جو ان کوششوں میں شامل تھے، اب کہیں بھی پریشانیوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ یہ نوجوانوں کو چھوٹا سا فٹبال اسٹیڈیم مل جاتا تھا جو ان کے لیے شہرت اور مواقع فراہم کر سکے، حالانکہ اب یہ استدیوم مکمل نہ ہو پایا ۔
عشق ہوتا ہے یہ بات کی کہ لوگ اب بھی اس ایسے فٹبال استدیوم پر گھومتے رہتے ہیں جس کا تعمیر ہونے والا تھا ، مگر اب وہ استدیوم مکمل نہیں ہوا تو یہاں کے لوگ کیسے گزرتے رہتے ہیں ؟ اس صورتحال میں اگر ہوشیار اور انصاف پسند افراد کچھ بھی کرتے تو یہ نوجوانوں کو شہر سے باہر رکھ کر وہاں کی معیشت پر زبر دالنے میں کامیاب ہونگے تو اس بات کو بھی انکوائری کیا جائے کہ نوجوانوں کو شہرت اور مواقع فراہم کرنا کس کی ذمہ داری ہے ؟
ایسا تو حقیقت میں منظم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن یہ بات کچھ نہ کچھ ایک دہائی سے بن رہی ہے اور اب بھی کوئی کیا جا رہا ہے؟ اس لاکھ پانچ ہزار اسٹیڈیم کی تعمیر پر اس قدر چرچہ ہونے کے باوجود یہ بات کھو دی گئی ہے کہ ان لوگوں کو جو اس میں کام کر رہے ہیں ان کا کیا ہوا؟ اس لاکھ پانچ ہزار اسٹیڈیم کی تعمیر پر ایسا تو ایک دہائی سے توجہ دی جارہی ہے لیکن اب بھی جو نوجوان یہ استدیوم کھیلتے ہیں ان کو شہرت اور مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔
ایسا تو غلطی کے رخ سے نکلنا بھی چالیس سाल سے بھی طویل ہو گیا ہے، وہ لوئر چترال کی جانب سے جو کچھ چاہتے تھے اس پر کام کرنے کی توجہ دی گئی تو اسے بھی ناکام رہا، اب یہ کیسے مکمل ہوگا؟
یہ بہت غریبی صورتحال ہے! سچ کی کہان نہیں پاروٹ بھی کرنا، دہائی گزرنے پر بھی اس استدیوم کی تعمیر مکمل نہ ہونے والا یہ بات کیسے رہ سکی؟ اس میں چترال کے نوجوانوں کی حقیقی مایوسی اور تلاش پر غور کرنا پڑتا ہے، ان لوگوں کو فٹبال کا شوق بھی دیتا ہے جس کے ساتھ ان کا لگتا ہے کہ وہ دنیا کے کچھ بھی کر سکتے ہیں، لیکن اب یہ سچائی نہیں رہ سکتی۔
عمر میں ابھی سے سیچال میں ایک فٹبال استدیوم بننے کی بات ہوتا رہی ہے مگر اب تک کچھ نہیں ہوا، یہ تو بھی دیکھنا مشکل ہو گا کہ چترال میں فٹبال پلیس بننے کا کیا کام ہے؟ اس صورتحال کو حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کو شہرت اور مواقع فراہم کی جا سکے، لیکن یہ واضح بات ہے کہ ڈی ایف اے لوئر چترال کے بارے میں کچھ نہیں کیا گیا تھا۔