Chitral Times - صوبہ بھر میں غیر قانونی میڈیکل سٹورز اور غیر معیاری ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

بلیک ہول

Well-known member
خلیق الرحمان نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا اہم فیصلہ

صوبہ بھر میں غیر لائسنس یافتہ میڈیکل سٹورز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے اور غیر معیاری و جعلی ادویات کی خرید و فروخت کے خلاف فوری طور پر مہم شروع کرنے کی ہدایت

خلیق الرحمان نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اپنے فیصلے کی آواز ڈالی۔ وہ صوبہ بھر میں غیر لائسنس یافتہ میڈیکل سٹورز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے اور غیر معیاری و جعلی ادویات کی خرید و فروخت کے خلاف فوری طور پر مہم شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اجلاس میں صوبائی وزیرِ صحت نے تمام ڈرگ انسپکٹرز اور فیلڈ افسران کو آگاہی سرگرمیوں میں مزید تیزی لانا ہدایت کیا تاکہ صوبہ بھر میں ڈرگ قوانین اور قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

صوبہ بھر میں کی جانے والی تمام کارروائیوں کی روزانہ کی بنیاد پر رپورٹنگ کرنی ہے، جس میں تصویری شواہد شامل ہوں اور یہ رپورٹس صوبائی وزیرِ صحت اور سیکرٹری صحت کو پندرہ روز بعد پیش کی جائیں گی۔

صوبائی وزیرِ صحت نے واضح کیا ہے کہ ادویات کے معیار، حفاظت اور افادیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عوام کی صحت کا تحفظ حکومتِ خیبر پختونخوا کی اولین ترجیح ہے۔
 
ابھی تو میڈیکل سٹورز پر ایسے پیسے لگتے تھے جو پانی بھی نہیں بھر سکتے اور اب وہ غیر لائسنس یافتہ ہو کر اپنی کامیابی کا مظاہرہ کر رہے ہیں؟ واضح بات یہ ہے کہ خلیق رحمان کی ان rulings نے اسے ایک پہلا راستہ دکھایا ہے جو اچھے لیے ہو گا اور عوام کو یہی فائدہ ہوسکتا ہے۔

درون سے نکل کر، صوبائی وزیرِ صحت کی یہ بڑی کوشش اس بات پر لگاؤ دے گا کہ وہ صوبہ بھر میں ڈرگ قانون کو Strictly Follow Karna پڑے گا اور عوام کو وہ ادویات مل سکیں گی جو وہ ضروری مگر معیار پر ملنا چاہتے ہیں.
 
اس فیصلے سے مجھے بہت خوشی ہوئی 🤩 یہ صرف ایک سبق ہے کہ عوام کی صحت کو خطرہ پہنچانے والوں کو کھینچ دیا جائے گا اور ساتھ ہی ان لوگوں کے خلاف کارروائی کے لیے بھی ٹیکسٹل منٹ قائم ہوگا۔ یہ ایک بڑا قدم ہے، اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس نے صحت کی شاندار دنیا کو ایک نئی ترقی کا مظاہرہ دیکھنا ہوگا 💡
 
اس بڑے اجلاس سے کچھ نتیجہ نہیں نکلا، تو کیا؟ وہ صرف فوری طور پر مہم شروع کرنا چاہتے ہیں اور اپنے ڈرگ انسپکٹرز کو آگاہی سرگرمیوں میں مزید تیزی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن وہ جیسے ہی لوگ اپنے قانون کی پابندی نہیں کر رہے ہیں، اسے یہی سمجھوتہ کہا گیا ہو گا کہ وہ چار چاند لگائے بھی رہتے ہیں۔ اور عوام کی صحت کو یہ سب کچھ کس لیے اچھا ہے؟ صرف ایک بات سچ ہو گی، ان سٹورز کو چھت پر رکھ دیا جائے گا اور اس کے بعد کیا؟
 
یہ رات پر انٹرنیٹ پر یہ خبر آئی تھی کہ خلیق الرحمان نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبہ بھر میڹو لائسنس یافتہ میڈیکل سٹورز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مگر میرا یہ سوال ہے کہ آئین میں یہ شروعات کیسے ہو سکی؟ اور ان اجلاس میں موجود لوگ بھی ایسی فیصلے پر آئے تھے یا اس نے وہیں کوئی سرچ کرلیا تھا؟ کیا انھوں نے کسی ٹرسٹی سروس کے ذریعے یہ شروعات کی ہے، جس کی رپورٹ اور ساروڈی بھی موجود ہوں؟
 
ایسا کہنے میں بھی نہیں آتا کہ صوبہ بھر میں غیر لائسنس پڑھلے میڈیکل سٹورز کو توڑنا یقیناً ایک بہترین کارروائی ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو اپنے جسم کی صحت کو یقینی بنانے کے لیے صاف لائسنس پڑھلے میڈیکل سٹورز تک نہیں پہنچ سکیں، ان کے لیے اس کارروائی اور مہم کی بڑی مدد ہوگی۔
 
یہ بات غلط نہیں کہ پی سی ایچ ایل میں کیا گیا اہم فیصلہ دیکھنا جس سے صوبہ بھر میں غیر لائیسنس ٹوڈ میڈیکل سٹورز کو پکڑنے کی صلاحیت ملا ہوئی ہے۔ اب یہ بات یقینی ہو گئی ہے کہ اس صورت حال میں فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ اس فیصلے سے نکلنے پر پچاس لاکھ روپے تک پھینکنے والی پیسہ بھی چکی ہوگئی ہے۔
 
آخری فیصلے سے متعلق خوشگوار خبروں کی نہیں، صرف ایک یہی بات بھی رہی کہ صوبہ بھر میں غیر لائسنس یافتہ میڈیکل سٹورز کو پھیرنا اور غیر معیاری ادویات کی خرید و فروخت کو روکنا ہی ایک بڑا مسئلہ ہوگا, تو یہ کیسے حل ہو گا؟
 
ارے یہ اعلان کھل کر سنیا جانا چاہیے، اس سے توGovernment کو نوجوانوں اور علاج گراہوں کی طرف بھی اپنے فOCس کو بدلنا ہو گا بلکہ نہیں، یہ اعلان صرف ایک معقول فیصلہ ہے، کبھی کوئی نہ کोई غیر لائسنس یافتہ میڈیکل سٹورز تھے اور لوگ وہاں اپنی مرض کی Treatments خریدتے آ رہے تھے، اب حکومت ایسی کارروائیوں کا استعمال کر رہی ہے جو صحت پر منفی اثرات پڑ سکتی ہے۔
 
ابھی تو سسٹمیک ایلائیڈنز اور جعلی ماڈلز کو روکنے کی بڑی میںجت کروائی گئی تھی لیکن اس نئے فیصلے سے مجھے لگتا ہے کہ ابھی ابھی ایسے معاملات میں مہم شور کرنا شروع کر دیا گیا ہے جو ڈرگ ایکشن اور ایلائیڈنز کو روکنے سے ہٹ جاتی ہیں، یہ صرف ایسے لوگوں کے لیے نافذ ہوگا جو غلطی سے غلطی سے معاشی طور پر کام کرتے ہیں 🤑

اور ان تمام کارروائیوں کو رپورٹ کرنا بھی ایک بڑا ماحولیاتی نقصان ہوگا، ڈرگ ایکشن اور جعلی ماڈلز کے خلاف فوری مہم شروع کرنے کے ساتھ ہی وہ لوگ جو اس معاملے میں شامل ہوں گے ان کا کام بھی ہوا دے گا، ایک بار پھر اچھی شروعات ہوئی تو اس پر توازن ضرور لگاینا چاہئے 🤔
 
میں سمجھتا ہوں کہ یہ فیصلہ بہت اچھا ہو گا، غیر لائسنس پڑھے ہوئے میڈیکل سٹورز کو شدید قانونی کaranwai سے روکنے والا یہ فیصلہ صحت mananay walao ko ek saf sanwarndha pradaan karega.
 
اس صورت حال سے متعلق بڑی واضح بات یہ ہے کہ صوبہ بھر میں غیر لائسنس یافتہ میڈیکل سٹورز کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے، ان سے متعلق کچھ تو کیا جاتا ہے؟ انہیں کئے بغیر جب تک چھپانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں تو عوام کو بھی تنگ آتا ہے اور اس کے لیے ایسا نہ ہونا چاہئے۔ لائسنس کے بغیر کھلنے والے سٹورز کو جینما سے بھی دھمکی دی جانی چاہئیے تاکہ وہ ان معاملات میں مداخلت نہ کر سکے۔ اور یہ بات تو صاف ہے کہ عوام کی صحت کو پہچانتے ہوئے اس پر سختی سے عمل در آمد چاہئیے، ان کے لیے ایسے کارروائیں بھی ضروری ہیں جیسے وہ ان معاملات میں مداخلت کی سہولت دیتے ہیں اور عوام کو آگاہ کرتے ہیں۔
 
🧠 ایسے میڈیکل سٹورز کو قائم کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ ان کے ذریعہ بھارت اور پاکستان کی جانب سے لائیسنس نہیں ملا ہو گا اور وہ جھوٹے ادویات سے بھرا ہوتے ہیں۔ اس طرح کے سٹورز کے خلاف مہم شروع کرنا ایک اچھا قدم ہے لیکن وہ فوری طور پر نہیں چل سکتی ہے۔ آپ کو اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ڈرگ انسپکٹرز اور فیلڈ افسران کی ایک بڑی تعداد کو اس کام میں شامل کرنا پڑے گا۔

اس کے علاوہ، ایسے سٹورز کو قائم کرنے والے لوگ ڈرگ laws اور قواعد کی سختی سے عملدرآمد کا مشورہ دیتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں عوام کی صحت کو سنجیدگی سے لے کر کام کیا جائے گا، اور یہ سب ایک انٹرنیشنل ادارہ کے ذریعہ ہوگا
 
ایسے باتوں پر توجہ دی جا رہی ہے جو اس وقت ضروری ہیں لیکن یہاں تک کہ بھارپور قانونی کارروائی کرتے ہوئے، سچائی کا درجہ کیسے دیکھا جائے گا؟ ان غیر لائسنس پرستوں کو چھڑپیں نہیں رکھی جانی چاہئے، بلکہ ایسے سڈیمنٹ کے رخسارے بھی ہونے چاہئیں جو ان میں انصاف اور قانون کے احترام کی نشانی ہوں۔
 
اس وقت تک بھی نہیں ٹھہر سکا کہ ملک میں دائمی طور پر جعلی ادویات کی خرید و فروخت سے لڑنا مشکل ہو گا… یہ بھی ٹھیک ہے کہ صوبائی وزیرِ صحت نے ایسی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی ہے جس سے عوام کو معیاری ادویات کا سہولت فراہم کیا جا سکے اور وہ لوگ جو دائمی طور پر جعلی ادویات خریدتے ہیں ان کی طرف بھی توجہ دی جائے… https://www.k2h.net/pk/health-ministry-to-take-stern-action-against-illicit-medical-stores
 
واپس
Top