Chitral Times - تمام مکاتب فکر کے علماء کا مشترکہ اجلاس، متحدہ علماء کونسل چترال کا قیام عمل میں لایاگیا، کابینہ تشکیل

شاور میں متحدہ علماء کونسل چترال کی اہم اجلاس

اس وقت تک پھر ایک نئا آंदول جاری رہا جب شاور میں متحدہ علماء کونسل چترال کا ایک اہم اور نمائندہ اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں متحدہ علماء کونسل کی مرکزی کابینہ تشکیل دی گئی جس میں Maulana Khallid Ahmed Sadr، Maulana Mobool Ali Shah Senior Nائب President اور Maulana Habibullah Revolutionary General Secretary منتخب ہوئے۔

متحدہ علماء کونسل چترال ایک مشترکہ دینی فورم ہے جس میں چترال سے تعلق رکھنے والے دیوبندی، بریلوی اور اہلِ حدیث مکاتب فکر جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور اہلسنت والجماعت سے وابستہ علماء شامل ہیں۔

اجلاس میں پشاور میں مقیم چترال سے تعلق رکھنے والے جید، معتبر اور سینئر علماء کرام نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر علماء نے اس امر پر زور دیا کہ بحیثیتِ مسلمان ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اتحاد و اتفاق کے ساتھ رہتے ہوئے امتِ مسلمہ کی صحیح رہنمائی کریں۔

شرکاء نے اس بات کا بھی واضح اظہار کیا کہ چترال اپنی مخصوص جغرافیائی، تہذیبی اور سماجی حیثیت کے باعث ایک نہایت اہم ضلع ہے، جہاں کے امن و امان، دینی روایات اور ثقافتی اقدار کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاقِ رائے ہوا کہ علاقے میں ہم آہنگی، بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دینے کے لیے تمام مکاتبِ فکر کو یکجا ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا، تاکہ کوئی بھی فرد یا گروہ چترال کی روایات اور تہذیب کو نقصان نہ پہنچا سکے۔

آخر میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ متحدہ علماء کونسل چترال کی نومنتخب مرکزی کابینہ کی حلف برداری کے لیے عنقریب پشاور پریس کلب میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا جائے گا، جس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
 
ایسا لگتا ہے کہ یہ اجلاس صرف اس لیے منعقد ہوا ہو گا کہ شاور میں دوسرے اجلاس آ سکیں نہ ہون۔ مگر انچ کے بھی اہم فیصلے ہوئے ہیں جو کوئی نہ کوئی ایسی صورتحال میں فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ آسان یہ بھی ہے کہ اب چترال کے حوالے سے ہر بات پر متفق رہنا شروع ہو جائے گا۔
 
یہ ایک بھرپور اور دلچسپ موقع تھا! اجلاس میں شرکت کرنے والے چترال سے تعلق رکھنے والے علماء نے اپنی بھرپور باتें کہیں، خاص طور پر ایسی باتوں پر توجہ دی جو آپ کو دیر سے نہیں پتہ چلی ہیں! لگتا ہے لوگوں نے اس بات کو سمجھا ہے کہ اتحاد و اتفاق کی جگہ یہاں تو ہمیشہ ضروری ہے، خاص طور پر جب امتِ مسلمہ کی صحیح رہنمائی پر بات آ رہی ہو!
 
یہ تو وہ چٹرال کی متحدہ علماء کونسل کا اجلاس ہوا جو مجھے لگتا ہے کہ اس میں بھی تھوڑا سا ہم آہنگی کا مظاہر ہوا۔ میرے گروہ سے تعلق رکھنے والے علماء نے بھی جسمانی شرکت کی اور ان کی بحثوں پر مجھے بھی لگتے ہیں کہ چٹرال ایک اہم مقام ہے جو تہذیب اور امن کا مرکز ہے۔ مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ میرا بھائی اپنی دوسرے آبادی سے مل کر کیسے گپ شوپ کرتا ہے، مگر ان اجلاسوں میں اس طرح کی بحثیں جاری رہتی ہیں جو میرے گھر بھی لگتے ہیں۔
 
مگر یہ سوچو اور فیکٹری میں بھی دیر نہیں رہی ہمیں کون سے لافز ہوا کرنے کی ضرورت ہے؟ میرے خیال میں اس وقت بھی ایک اور دوسرا ٹرین آتا ہوگا جس پر پوری دنیا کو ہلچل میں ڈال دیا جائے گا... 😂

تمہیں نہیں پٹا کہ کیا ہوا گیا اور کیا نہیں ہوا گیا؟ تمہیں سونا چاہئے تو میرے پاس ایک دوسرے کے لئے ہلچل مچانا تو آسان ہوگا... 🤑
 
یہ بات اس وقت تک تو نہیں ہو سکی گی کہ متحدہ علماء کونسل چترال کی مرکزی کابینہ میں جو افراد منتخب ہوئے وہ تمام تعلقات اور سیاسی رائوں کو پھنسایا کرنے پر غلبہ حاصل کرتے ہیں؟ یہ ایک نئا منظر بطور ریاستِ Islam میں پیش آتا ہے جس سے انعام کا خزानہ ہوا کروگا! 🤑
 
بھی ہمیشہ ہمیں اس بڑے اور ایسے اہم اجلاس کی واقفیت حاصل ہوگی کیونکہ یہ ایک اچھا موقع ہوگا کہ ہم سب اپنی مختلف آراء اور منظر ناموں کو چitraal میں جمع کر لیں اور یکجے رہتے ہوئے نئی آندول کی راہ میں ہموار قدم رکھیں @cheerleader
 
ایسے ہی دیکھتے ہیں چترال میں یہ اجلاس منعقد ہوتا ہے، مگر پھر بھی یہ ایک اچھا بات ہے کہ اس اجلاس کی اجازت دی گئی ہے، کیونکہ اور کیسے چترال میں کسی نہ کسی طرح سے اچانک بات کرونا۔

اجلاس میں پھر بھی اکیلے چیت کے حوالے سے بات ہوئی، مگر اس کے باوجود یہ ایک اچھا قدم ہے، کیونکہ چترال کی تحفظ میں ایسے کوششوں کو بنانا ضروری ہے جس سے چٹral پر امن و امان ہمیشہ برقرار رہے۔
 
شاور میں ہوا والی اہم اجلاس سے پہلے میں بھی اس بات پر یقین تھا کہ چترال میں تعلیم، تعقل اور اتحاد کی جگہ ہے لیکن اب وہاں ہونے والی اہم گتمشین کو بھی کچھ نئے توجہ دینی پڑے گا؟

اجلاس میں شرکت کرنے والے علماء نے ایک بات س्पष्ट کی ہے کہ امتِ مسلمہ کی صحیح رہنمائی کے لیے اتحاد و اتفاق ضرورी ہے جس کا مقصد پوری ملک میں امن اور سکون کا تازہ خلیق بنانا نہیں بلکہ اسے اپنی مخصوص جغرافیائی، تہذیبی اور سماجی حیثیت کی بنیادوں پر استعمال کرنا ہوگا۔

اس بات پر بھی یقین کیا جاتا ہے کہ ایک نئے آندول کے ذریعے دوسرے نئے آندول کا خاتمہ ہوگا لیکن اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ آندول کے جھنڈے کو کیوں پھونگا؟

ایک حلف لینے والی مرکزی کابینہ کی تقریب ایک بڑا مقصد ہے لیکن اس میں بھی یقین کرنا مشکل ہے کہ چترال کی روایات اور تہذیب کو نقصان نہ پہنچا سکے؟

اجلاس کے بعد متحدہ علماء کونسل چترال کی مرکزی کابینہ کی تشکیل ہو گئی لیکن اس کے بعد یہ سوال رہ جائے گا کہ وہاں ایک نئے آندول کے ذریعے کیا مقصد حاصل ہو گا؟
 
مرہeza، یہ شاور میں اجلاس سے منسلک ہوا کچھ باتوں نہیں آئیں کیوں؟ پہلی بار سنا ہے اس متحدہ علماء کونسل کی جس میں مولانا خالد احمد صدر، مولانا mobsol Ali Shah Senior Nabeer President اور مولانا Habibullah Revolutionary General Secretary شامل ہیں؟ ان کا وہ فخر کیا جاتا ہے کہ انھوں نے مرکزی کابینہ تشکیل دی ہے؟

ایسا تو کیسے ہوا کہ پورے علاقے میں ایک اہم اور نمائندہ اجلاس منعقد ہوگا جس میں ان تمام دینی فورم سے وابستہ علماء شامل ہیں؟ یہی بات تو چترال کے امن و امان کی دیکھ بھال پر مبنی ہے؟

چیراگی، یہ جانتا ہوں کہ اس اجلاس میں ان تمام مکاتبِ فکر کو ایک ساتھ لانا مشکل ہوتا ہے، لیکن اس بات پر اتفاق رائے تھی کہ ہم آہنگی اور احترام کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں? تو یہ سچ میں نہیں ہے؟

بہر حال، یہ تقریب پریس کلب میں ہونے والی ایک پروقار تقریب کی بات بھی آئی ہے جو کہ حلف برداری کا تعاقب کرے گی؟ تو ابھی ان سے پوچھنا چاہتا ہوں، کیا یہ تقریب ایک ہفتے بعد ہوئی ہوگی?
 
اجلاس کی بھرپور شرکت تو ہے لیکن یہ بات سोचنا ضروری ہے کہ شاور میں متحدہ علماء کونسل چترال کی اہمیت کو بھی یقینی بنانے کے لئے اس کی ٹیکسٹ کا ترجمہ کیا جائے اور پوری رپورٹ کی جائے
 
ایساFeels لگ رہا ہے بریلویوں نے اس اجلاس میں چارچر کی اور دیوبندیوں کو ایک بار پھر ان کے حقوق پر زور دیا 🤔
اسلامی جماعت سے وابستہ علماء بھی اپنے کردار کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں، ان کا پہلا قدم اتنا اچھا ہو گا تو دوسرے آپشن بھی چلنے لگेंگی
ایسے میٹنگ کے بعد متحدہ علماء کونسل چترال کی مرکزی کابینہ تشکیل دی گئی ہے، ان تمام علماؤں پر ہمیں اچھا بھرosa کرنا پوڑگا کہ وہ اپنے کردار کو یقینی بنانے میں ایم ٹی آئی کے ساتھ مل کر کام کریں
 
یہ ایک بھرپور اور متحد ہونے والی پہلی آندول ہے جو شاور میں متحدہ علماء کونسل چترال کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔ اس اجلاس میں شامل بھی ہوئے ہیں جنہوں نے ہمیشہ نویں جگہ تلاش کرنے کا جذبہ دیکھا ہے اور اب وہ ایک مشترکہ منصوبے میں شامل ہوئے ہیں۔

اس نئے آंदول کا مقصد چترال کو اپنے مخصوص جغرافیائی، تہذیبی اور سماجی حیثیت کے لحاظ سے محفوظ کرنا ہوگا، لہٰذا میں اس کی طرف سے ایک بھرپور حمایت کرتا ہوں۔
 
واپس
Top