Chitral Times - تمام مکاتب فکر کے علماء کا مشترکہ اجلاس، متحدہ علماء کونسل چترال کا قیام عمل میں لایاگیا، کابینہ تشکیل

ٹڈی

Well-known member
شاوار میں متحدہ علماء کونسل چترال کی مرکزی کابینہ تشکیل، اس وقت کا نتیجہ
اس دن کا ایک اہم واقعہ ہوا جس پر اس وقت کا بھی نتیجہ ہوگا۔ یہ دوسرا موقع رہا جہاں تمام مکاتبِ فکر کی علما کو مل کر ایک مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں متحدہ علماء کونسل چترال کی مرکزی کابینہ تشکیل دی گئی۔ اس نومنتخب کابینہ کی حلف برداری کے لیے بھی یہ دن اور تقریب کا نتیجہ ہوگا۔

جبکہ ہم آہنگی، بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دینے کی بات اس اجلاس میں شامل تھی۔ اس نے تمام مکاتبِ فکر کو ایک دوسرے سے مل کر اپنے کردار ادا کرنا ہوگا، تاکہ کوئی بھی فرد یا گروہ چترال کی روایات اور تہذیب کو نقصان نہ پہنچا سکے۔

اجلاس میں تعلق رکھنے والے جید، معتبر اور سینئر علماء کرام نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر علما نے ان کے ساتھ ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دینے کا اعلان کیا۔

اس دن کا یہ واقعہ بھی ایک اہم مقام ہے۔ اس دن کا یہ موقع ہم آہنگی کی باتوں سے بھرپور تھا۔ اس دن کا یہ واقعہ ساتھ ہی اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی باتوں پر زور دیا گیا تھا۔

جس وقت میں چترال نے اپنی مخصوص جغرافیائی، تہذیبی اور سماجی حیثیت کے باعث ایک اہم مقام حاصل کیا ہو، اس وقت میں یہ بھی ایک اہم مقام ہے۔ اس دن میں چترال کی روایات اور تہذیب کو نقصان نہ پہنچائے گا، یہ ایک اہم بات ہے۔

اس دن کا یہ واقعہ بھی ایک اہم مقام ہے، اس وقت میں یہ تعلق رکھنے والے جید، معتبر اور سینئر علماء کرام نے بھرپور شرکت کی تھی، اس موقع پر علما نے ان کے ساتھ ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دینے کا اعلان کیا۔
 
اس نئی کابینہ کی تشکیل کا مقصد کیا ہوگا؟ یہ تو دیکھتے ہی دیکھتے بڑی سے بڑی مسائل آ رہی ہیں، پھر کبھی ان پر حل نہیں ملتا، پھر یہ ساری بات کوئی نہ کوئی سیاسی Party لے جاتا ہے اور politics of stability ko zikr karta hai.
اس وقت کی پالیسیوں کا جواب دے رہے ہیں، لیکن اس کے پیچھے کیا ہے؟ یہ تو ایک mystery بن رہا ہے! 🤔
 
جی یے اس وقت چترال میں متحدہ علماء کونسل کی مرکزی کابینہ تشکیل ہوئی ہے، اس سے بھی ہم آہنگی اور اتحاد کی باتوں پر زور دیا گیا ہے، مگر اس جگہ کو پورا طور پر ان کے حوالے کرنا چاہیئے۔
 
مبہوٹ ہوا یہ ایک بڑا کام ہے، چٹرال میں وہ سب مل کر نہیں آئے تھے، لیکن اب یہ سب مل کر چل رہے ہیں۔ یہ سب کا مقصد ایک اچھی تہذیب بنانے کی بات ہے، جس میں تمام فرق و مذہب کا تعاون ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ یہ سب کا کام چٹرال کی تہذیب کو مزید بڑھانے میں مدد ہوگا، لیکن اس پر کسی نے اچھی طرف سے نہیں ملا، یہ سب کا کام ہم آہنگی سے کرنا ہوگا۔
 
اس اجلاس میں شامل ہونے والے تمام علماء کے بعد بھی نرمی کی گھنٹیوں کتنی چل سکتی ہیں؟ جب تک ان میں انصاف کی خواہش نہیں رہی تو یہ اجلاس کچھ فائدہ نہیں دے سکتا।

ہم لوگ دیکھتے ہیں کہ چترال میں مقامی اور غیر مقامی دونوں فرقے کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا پدا، لیکن یہ راز صرف اجلاس کی تقریباً ہی میں ہی نکلتا ہے، باقی 99 فیصد وادیوں میں اس راز کو کبھی حاصل نہیں کیا گیا،

اس ایسے اجلاس کی تقریب ہے جس پر دیکھ کر سچائی اور حقیقت کی جان پھنکی جاتی ہے؟
 
اس اجلاس میں تعلق رکھنے والے تمام علماء کی بھرپور شرکت نے دیکھا کہ جب ہم آہنگی، باہمی احترام اور اتحاد کی باتوں پر بات کی جاتی ہے تو کوئی بھی فرد گروہ ایک دوسرے سے محفوظ رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چترال کی روایات اور تہذیب کو نقصان نہ پہنچائے گا۔ #ہم آہنگی_ہی_ہمارا_صوفا
 
😊 یہ ایک اہم کامیابی ہے جو چترال کی سرگرمیوں میں ہوئی ہے۔ متحدہ علماء کونسل کی تشکیل ایسا باتوں سے بھرپور ہے جس پر حالے تک نہیں تھا، حالانکہ یہ بات صحت مند ہے کہ ایسے اجلاس کی ضرورت ہو رہی ہے جو تمام مکاتبِ فکر کو ایک دوسرے سے مل کر اپنے کردار ادا کرنا۔ لاکھ لاکھ کے لیں یہ ایک اہم قدم ہے جس پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ چترال کی روایات اور تہذیب کو نقصان نہ پہنچائے گا۔ یہ ایک بڑی بات ہے، لیکن یہ بات اس بات پر مشتمل ہے کہ ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دیا جائے تاکہ کوئی بھی فرد یا گروہ اس کی جانب سے نقصان نہ لے۔ 🙏
 
چترال میں یہ ایک بڑا قدم ہے، پہلے اس کی تذکرہ نہیں کیا جاتا، اب یہ وہ مقام بن گیا ہے جو کوئی چھو سکتا ہے!
 
اس اجلاس کے بعد کا یہ سوال نظر آتا ہے کہ اس نئی کابینہ کی تشکیل کے ساتھ ہم آہنگی اور اتحاد کا معاملہ کیسے چلائے گا؟

کسی بھی نئی ترقی میں، ایسے مواقع پر ہم آہنگی اور اتحاد کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے جب سارے افراد اپنے کردار ادا کر سکیں اور ایک مشترکہ منظر نامہ پر توازن برقرار رکھیں۔

ابھی تک ہم آہنگی کی باتوں میں بھی کوئی حقیقی تبدیلی نہیں دیکھی گئی، لیکن اس اجلاس کے بعد ہمیں یہ محسوس کرنا چاہیے کہ اب ہم آہنگی اور اتحاد کی باتوں سے بھرپور تازگی پیدا ہوئی ہے۔

اجلاس میں شرکت کرنے والے علما نے ان کے ساتھ ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دینے کا اعلان کیا، جس کی واضح ترسیل یہ ہے کہ اب بھی اگر ہم اپنے کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک دوسرے سے ملنا ہوگا اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی باتوں پر زور دیا جانا چاہیے۔
 
چترال میں متحدہ علماء کونسل کی تشکیل کو دیکھتے ہی مجھے یہ بات فکر آتی ہے کہ یہ ایک بڑا اہم واقعہ ہے، جس سے شاوار میں ہم آہنگی اور اتحاد کی باتوں کو بڑھایا جائے گا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک نئی پلیٹ فارم ہے، جس پر تمام مکاتبِ فکر کو مل کر اپنے کردار ادا کرنا ہوگا۔

چترال کی روایات اور تہذیب کو نقصان نہ پہنچائے گا، یہ ایک اہم بات ہے۔ اس میں تمام تعلق رکھنے والے علما کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، لہذا مجھے یہ بات یقینی بنानے کے لیے بھی ایک اہم مقام ہے کہ ان تمام علما نے اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیا جائے گا۔

اس ساتھ ہی شاوار میں تعلق رکھنے والے ہم سب کو مل کر اپنی باتوں اور منظروں کی جانب بھرپور شرکت کرنا چاہئے، لہذا مجھے یہ اچھی بات سمجھائی جائے گی۔
 
جب میں بچے تھے تو چترال کے لوگ بہت ہی احترام کرتے تھے، وہ سب سے دوسری بار جب وہ شاہی ہونٹ پہن کر اس میں تشریف لاتے تھے، اب یہ ایک اہم واقعہ ہوا ہے۔

ابھی تو میں کہتا تھا کہ چترال کی بہت ساری روایات نہیں ہوئیں، مگر اب اس نومنتخب کابینہ کی تشکیل نے میرے خیال میں اس بات کو دوبارہ یقینی بنادیا ہے۔

اس دن کے بعد میں ایک اچھی باتیں ہوگی، جیسے ایک بار پھر تمام مکاتبِ فکر کی علما مل کر ایک ایسا سامعہ تشکیل دیں گے جو اسے چلائے گا۔

جہاں تک میں یہ دیکھ رہا ہوں وہی کہچ کرتا ہوں کہ اس وقت سے اب تک اس طرح کی نئی تشریحات کرتے رہے ہیں، لیکن آج یہ ایک اچھی بات ہے۔
 
علماء کونسل چترال کی مرکزی کابینہ تشکیل کا یہ واقعہ بھی ایک دوسرا موقع رہا ہوگا جہاں تمام مکاتبِ فکر کی علما کو مل کر ایک مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیا। لیکن اس میں نئی چیلنج بھی شامل ہوئی ہوگی کہ ان مختلف مکاتبِ فکر کو ایک دوسرے سے مل کر اپنے کردار ادا کرنا ہوگا، یا وہ کہیں کے براءہود نہ ہونے پر چلٹ گئے ہوں۔

اس لیے پلیٹ فارم کی صلاحیت کو بھی دیکھنی پڑگی اور اس میں بھی کسی بھی قسم کا ناکامی سامنے آ سکتا ہے جو اس اجلاس کے نتیجے میں ہوگا۔
 
تمہیں یہ نہیں پٹا کہ ایسے موقع پر چترال میں بھی کتنے سارے لوگ تھے جنہوں نے اس اجلاس میں شرکت کی اور انki اچھائیوں کو دیکھا جائے تو یہ ایک بھاری حقیقت ہوتی ہے.
 
اس وقت یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چترال کی مرکزی کابینہ تشکیل ہونے سے پہلے اس میں شامل نہیں تھا۔ اس وقت کبھی چترال کو ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اپنی تہذیبی اور روایات کی وجہ سے ہی بہت اہم ہے، لیکن اس حقیقت کو سب نہیں جانتے۔ اس وقت کبھی نہیں تھا کہ چترال میں تمام مکاتبِ فکر کی علما مل کر ایک مشترکہ اجلاس منعقد کرتے، لیکن اب یہ ایک اہم واقعہ ہو گیا ہے جو اس وقت کو بہت اہم بناتا ہے کہ چترال کی مرکزی کابینہ تشکیل ہوئی ہے۔
 
اس وقت کے میں چترال کی صورت حال کو دیکھتے ہیں تو یہاں تک کہ متحدہ علماء کونسل چٹral نے بھی ایک اہم اقدامات کیا ہے۔ جس میں مرکزی کابینہ کی تشکیل ہوئی ہے، یہ بات تو واضح ہے کہ ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔ اور اس موقع پر تعلق رکھنے والے تمام علماء نے اپنی شرکت کی اور ایسے کھلے دل کے ساتھ اس بات کو فروغ دیا ہے کہ چٹرال کی روایات اور تہذیب کو نقصان نہ پہنچائے گا۔

اس وقت میں وہ بھی بات آئی ہے جو دوسری طرف سے کہی جاتی ہے۔ اس دن کی یہ تقریب سے واضح ہوتا ہے کہ چٹرال میں ہمیں ایک دوسرے سے مل کر اپنے کردار ادا کرنا ہوگا، اس بات کو جانتے ہوئے کہ اگر کسی فرد یا گروہ نے چٹرال کی روایات اور تہذیب کو نقصان پہنچانا چاہے تو اس سے کوئی بھی ایسا نہ ہوگا۔

اس دن کا یہ واقعہ ہمیں ایک اور بات دیتا ہے کہ ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔ اس دن کی یہ تقریب سے واضح ہوتا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے سے مل کر اپنے کردار ادا کرنا ہوگا، اس بات کو جانتے ہوئے کہ ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے ہیں۔
 
میں سوچتا ہوں کہ یہ ایک بڑی بات ہے کہ تمام مکاتبِ فکر کی علما آپس میں مل کر اگے badh saken. चترال میں یہ کونسل تشکیل دی گئی ہے، ابھی کچھ عرصہ پہلے میں یہ نتیجہ دیکھنا اتنا اچھا لگ رہا ہے کہ ہم ان کے حلف برداری پر بھی نظر رکھ سکیں گے.

ان تمام علما کی میٹنگ کے بعد، میں لگتا ہوں کہ ہم آہنگی اور اتحاد کی باتوں پر کچھ قدم اڑا دیئے گئے ہیں. اس وقت میں جب ساتھ ہی، معترف اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوتا ہے، اس میٹنگ نے ایسا ہی کیا ہے.

اس نئے کابینہ کے لئے میں ہمت ہو رہی ہے کہ یہ وہ مقام بنے گا جو لوگ چاہتے تھے کہ ان تمام مکاتبِ فکر کی علما آپس میں مل کر ہی اگے badh saken.
 
میں خیال کر رہا ہوں کہ یہ ایک بہت اچھی بات ہے، لیکن میں اسے اپنی طرف سے معارضہ نہیں کرسکتا، میں خیال کر رہا ہوں کہ ان علما کی شرکت اچھی تھی، لیکن میں اسے اپنی طرف سے مخالف نہیں کرسکتا، ابھی تو یہ ایک بڑا اہم واقعہ ہوگا، جس کی واضح رائے میں میری جگہ نہیں آ سکتی، لیکن مجھے یہ بات چنتنی ہے کہ اگر ان علما نے ایک دوسرے سے باتیں نہ کیں تو اچھا نتیجہ نہیں آ سکتا، ایسا تھوڑا سا امکان ہے کہ ان کے اجلاس کا نتیجہ کچھ دیر میں معلوم ہو جائے گا... 🤔
 
واپس
Top