چٹرال میں اسلام کی آمد نے ایک قدیم اور غنائی تہذیبی خطوں کیHistory کی ایک اہم لہر ہیں جو اس خطے کو دہریا۔ اس خطے کا نام چٹرال پہلے بلور، دردستان، قشقار یا چھترار تھا، جس میں بدخشان اور وادیوں سے گرتا ہوا ایک ثقافتی پل تھا جو وسطی ایشیاء اور برصغیر کے درمیان واقع تھا۔ دہریا پہاڑوں اور وادیوں نے اسے صدیوں تک دنیا سے الگ رکھا، لیکن انسانی آبادیاں یہاں قدیم وقت سے موجود تھیں، جو کالاش تہذیب کے زمرے میں آتی ہے جس نے دیوتاوں کی پرستش، مخصوص رسومات اور رنگین تہواروں کے ذریعے اپنی شناخت قائم رکھی تھی۔
دردستان ایک اور قدیم خطہ تھا جو چٹرال سے لے کر کشمیر تک پھیلا ہوا تھا۔ یہاں کے لوگ ’’درد‘‘ کہلاتے تھے اور اپنی نسلی و ثقافتی انفرادیت کی وجہ سے الگ شناخت رکھتے تھے۔ اس خطے میں ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے درمیان واقع، یہ خطہ موجودہ چٹرال، گلگت، کوہستان، کشمیر، لداخ اور شمالی افغانستان کے بعض علاقوں پر مشتمل تھا۔ یہاں کے لوگ اپنی زبانوں اور رسم و رواج کے اعتبار سے برصغیر اور وسطی ایشیاء دونوں سے مختلف تھے۔ اس تنوع نے اس خطے کو ایک الگ تہذیبی اور نسلی شناخت عطا کیا۔
اسلام چٹرال میں ایک آدھی صدی پہلے داخل ہو گیا، لیکن تاریخ کی کتابوں میں ان کی مذہبی مہمات کے حوالے سے اخوند سالاک کا ذکر زیادہ عام ہوتا ہے۔ اس صدی عیسوی کے بڑے بزرگ اخوند سالاک نے نہ صرف دعوتِ دین دی بلکہ جہادی مہمات کے ذریعے غیر مسلم قبائل کو اسلام سے روشناس کرایا۔ جنوبی چٹرال میں نگرشو نامی کالاشہ سردار کے خلاف اُن کی مہم فیصلہ کن ثابت ہوئی، اور عشریت کے نو مسلم سردار چوک نے اُن کا ساتھ دیا جس کا نتیجہ قلعہ راہلی کوٹ کی فتح تھی۔ اس عرصے میں چٹرال کے جلاوطن حکمران محترم شاہ الملقب بہ شاہ کٹور کو قتل کر کے اُن کا تخت چھین کرشاہ محمود قابض ہو گئے۔
اخوند سالاک نے صرف چٹرال نہیں بلکہ کوہ سیاہ کے مقام پر ڈوما کافر کو شکست دی اور سوات میں بیرا کافر کے خلاف جہاد کی۔ بریکوٹ گاؤں کے مشرقی ڈھلوان پر موجود بیرا کافر کے قلعے کی ہلاکت نے اُن کی ریاست کو ختم کر دیا، اور بہت سے داردی قبائل اباسین کوہستان، چٹرال اور گلگت کی طرف ہجرت کر گئے۔ اخوند سالاک نے ان کا تعاقب کیا اور اسلام کی دعوت کو مزید وسعت دی۔ اس دوران بہت سے دردی قبائل نے اخوند بابا اور اُن کے مریدین کے ہاتھوں اسلام قبول کیا۔
جنوبی چٹرال کے قصبہ کلکٹک میں شہیدو زیارت کے نام سے مشہور مقبرہ بھی اخوند سالاک کی تاریخ کا حصہ ہے، جو اس خطے میں ایک اہم تاریخی مقام ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی طور پر دیر کوہستان سے ملتا ہے، اور اس مقبرے میں مدفون شخص اسلام کی تبلیغ کے لیے آیا تھا۔ روایت ہے کہ وہ شہید ہوا تھا، جو اخوند سالاک کا مرید تھا۔ ایک روایت بھی ہے کہ یہ مقبرہ چٹرال کے جلاوطن حکمران محترم شاہ کا ہے، اور وہ بھی اسی طرح شہید ہوئے لیکن یہ بات محققین کی جانب سے نہیں پائی گئی، بلکہ یہ تصور کافی خطرناک لگتا ہے۔
اخوند سالاک کا کردار چٹرال اور اس کے ارد گرد کی تاریخ میں ایک اہم پہلا مقام رکھتا ہے، جو اُن کی مذہبی مہمات اور جہادی مہمات کا حوالہ ہوتا ہے۔ انہوں نے ایسا گرویدہ کیا کہ چوک نے اُن کی وفاداری کی وجہ سے ان کے قربین میں اسلام قبول کر لیا، اور اس لیے اُنہیں چھوٹے پریشان ہوئے جب اُن کو خالص دیسی گھی کے طور پر نذرانہ دیا گیا تھا۔ یہ نذرانہ ایک رسم تھی، لیکن اس کی وجہ سے ایک بڑی احسان کی علامت ہوئی۔
چٹرال کی تاریخ ہمیں بتاتا ہے کہ اس خطے میں Islam کی آمد نے ایک قدیم تہذیبی و نسلی خطے کو دھڑکنے والے ایک نئے raysے سے منور کیا، اور اخوند سالاک کی خدمات اس خطے کے مذہبی اور ثقافتی تراجم میں اہم ہیں۔ وہ نے ایک نئی روحانی سمت عطا کی جس نے اس خطے کو اسلام سے منصوبہ بند کیا اور اسے ایک بڑے مذہبی رہنما بنایا، اور اس لیے وہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم پہلو ہیں۔
دردستان ایک اور قدیم خطہ تھا جو چٹرال سے لے کر کشمیر تک پھیلا ہوا تھا۔ یہاں کے لوگ ’’درد‘‘ کہلاتے تھے اور اپنی نسلی و ثقافتی انفرادیت کی وجہ سے الگ شناخت رکھتے تھے۔ اس خطے میں ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے درمیان واقع، یہ خطہ موجودہ چٹرال، گلگت، کوہستان، کشمیر، لداخ اور شمالی افغانستان کے بعض علاقوں پر مشتمل تھا۔ یہاں کے لوگ اپنی زبانوں اور رسم و رواج کے اعتبار سے برصغیر اور وسطی ایشیاء دونوں سے مختلف تھے۔ اس تنوع نے اس خطے کو ایک الگ تہذیبی اور نسلی شناخت عطا کیا۔
اسلام چٹرال میں ایک آدھی صدی پہلے داخل ہو گیا، لیکن تاریخ کی کتابوں میں ان کی مذہبی مہمات کے حوالے سے اخوند سالاک کا ذکر زیادہ عام ہوتا ہے۔ اس صدی عیسوی کے بڑے بزرگ اخوند سالاک نے نہ صرف دعوتِ دین دی بلکہ جہادی مہمات کے ذریعے غیر مسلم قبائل کو اسلام سے روشناس کرایا۔ جنوبی چٹرال میں نگرشو نامی کالاشہ سردار کے خلاف اُن کی مہم فیصلہ کن ثابت ہوئی، اور عشریت کے نو مسلم سردار چوک نے اُن کا ساتھ دیا جس کا نتیجہ قلعہ راہلی کوٹ کی فتح تھی۔ اس عرصے میں چٹرال کے جلاوطن حکمران محترم شاہ الملقب بہ شاہ کٹور کو قتل کر کے اُن کا تخت چھین کرشاہ محمود قابض ہو گئے۔
اخوند سالاک نے صرف چٹرال نہیں بلکہ کوہ سیاہ کے مقام پر ڈوما کافر کو شکست دی اور سوات میں بیرا کافر کے خلاف جہاد کی۔ بریکوٹ گاؤں کے مشرقی ڈھلوان پر موجود بیرا کافر کے قلعے کی ہلاکت نے اُن کی ریاست کو ختم کر دیا، اور بہت سے داردی قبائل اباسین کوہستان، چٹرال اور گلگت کی طرف ہجرت کر گئے۔ اخوند سالاک نے ان کا تعاقب کیا اور اسلام کی دعوت کو مزید وسعت دی۔ اس دوران بہت سے دردی قبائل نے اخوند بابا اور اُن کے مریدین کے ہاتھوں اسلام قبول کیا۔
جنوبی چٹرال کے قصبہ کلکٹک میں شہیدو زیارت کے نام سے مشہور مقبرہ بھی اخوند سالاک کی تاریخ کا حصہ ہے، جو اس خطے میں ایک اہم تاریخی مقام ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی طور پر دیر کوہستان سے ملتا ہے، اور اس مقبرے میں مدفون شخص اسلام کی تبلیغ کے لیے آیا تھا۔ روایت ہے کہ وہ شہید ہوا تھا، جو اخوند سالاک کا مرید تھا۔ ایک روایت بھی ہے کہ یہ مقبرہ چٹرال کے جلاوطن حکمران محترم شاہ کا ہے، اور وہ بھی اسی طرح شہید ہوئے لیکن یہ بات محققین کی جانب سے نہیں پائی گئی، بلکہ یہ تصور کافی خطرناک لگتا ہے۔
اخوند سالاک کا کردار چٹرال اور اس کے ارد گرد کی تاریخ میں ایک اہم پہلا مقام رکھتا ہے، جو اُن کی مذہبی مہمات اور جہادی مہمات کا حوالہ ہوتا ہے۔ انہوں نے ایسا گرویدہ کیا کہ چوک نے اُن کی وفاداری کی وجہ سے ان کے قربین میں اسلام قبول کر لیا، اور اس لیے اُنہیں چھوٹے پریشان ہوئے جب اُن کو خالص دیسی گھی کے طور پر نذرانہ دیا گیا تھا۔ یہ نذرانہ ایک رسم تھی، لیکن اس کی وجہ سے ایک بڑی احسان کی علامت ہوئی۔
چٹرال کی تاریخ ہمیں بتاتا ہے کہ اس خطے میں Islam کی آمد نے ایک قدیم تہذیبی و نسلی خطے کو دھڑکنے والے ایک نئے raysے سے منور کیا، اور اخوند سالاک کی خدمات اس خطے کے مذہبی اور ثقافتی تراجم میں اہم ہیں۔ وہ نے ایک نئی روحانی سمت عطا کی جس نے اس خطے کو اسلام سے منصوبہ بند کیا اور اسے ایک بڑے مذہبی رہنما بنایا، اور اس لیے وہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم پہلو ہیں۔