چترال میں اسلام کی آمد نے ان علاقوں کے لوگوں پر بہت بڑی اثرانداز کر دی جو اس وقت بلور، دردستان اور قشقار کہلاتے تھے۔ یہاں کے لوگ اپنی زبانوں اور رسم و رواج کے اعتبار سے برصغیر اور وسطی ایشیا دونوں سے مختلف تھے۔ ان میں کافی تنوع پائی جاتی ہے جو اس خطے کو ایک الگ تہذیبی و نسلی شناخت عطا کرتی ہے۔
چترال کی قدیم تاریخ زیادہ تر زبانی روایات میں محفوظ ہے، جس میں کالاش تہذیب کی بھی اہمیت شامل ہے۔ کالashes ایک ایسی تہذیبیں تھیں جو دیوتاؤں کی پرستش کرتے تھے، خصوصاً رسومات کے ذریعے اپنی شناخت قائم رکھتی تھیں اور رنگین تہواروں کے ذریعے انہیں منایا جاتا تھا۔
دردستان یہاں سے لے کر کشمیر اور گلگت بلتستان تک پھیلی ہوئی تھی، جو اس وقت کے نئے نام ناتھوں سے باہر بھی جائے دیتا تھا۔ یہاں کے لوگ اپنی نسلی و ثقافتی انفرادیت کی وجہ سے الگ شناخت رکھتے تھے اور انہیں ’’درد‘‘ کہاتے تھے۔
اس خطے میں اسلام کی آمد نے اِس علاقے کو ایک نئی سمت دی جس سے پہلے یہاں کے لوگ مختلف مذہبوں پر چلتے تھے۔ ان میں کافروں، کالاشوں اور دیگر مذہبوں کو بھی شامل تھے جو پہلی صدی عیسوی سے یہاں موجود ہوئے تھے۔
کالASHوں کے برعکس ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے دیوتاؤں کی پرستش نہیں کی اور انہیں ہندوستان میں بھی سائنٹیفکالASH یا کاشمیریان کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ اپنی تہذیبیں اور رسومات کو ایسے مذہب کے طور پر پیش کرتی تھیں جو ان کی معاشرتی اداروں سے بہت متعلق ہوتا تھا۔ اس طرح یہ لوگ اپنے علاقوں میں مختلف مذہبوں کے پیروکاروں کے ساتھ ساتھ برصغیر اور وسطی ایشیا کے دیگر علاقوں میں موجود ہونے والے مذہبوں کے ساتھ بھی جڑے رہتے تھے۔
اخوند سالاک نے صرف چترال ہی نہیں بلکہ کوہ سیاہ کے مقام پر ڈوما کافر کو شکست دی اور سوات میں بیرا کافر کے خلاف جہاد کیا۔ بریکوٹ گاؤں کے مشرقی ڈھلوان پر موجود بیرا کافر کے قلعے کے آثار بھی ان کی مہمات کا شکار تھے۔ اس طرح اُنہوں نے ایک نئی اسلامی شناخت پہچاننے میں اہم کردار ادا کیا۔
سترہویں صدی عیسوی میں اخوند سالاک کی دیرینہ جدوجہد نے اس خطے کو ایک نئی Islamic روایت میں بدل دیا جس سے اس وقت کے مذہبی اداروں سے تعلق رکھنے والے لوگ متاثر ہوئے۔
اخوند سالاک نے نہ صرف دعوتِ دین دی بلکہ جہادی مہمات کے ذریعے غیر مسلم قبائل کو اسلام سے روشناس کرایا۔ ان کی جدوجہد نے اس خطے کو ایک اسلامی تہذیبیں میں بدل دیا جس سے پہلے یہاں کے لوگ مختلف مذہبوں پر چلتے تھے۔
اِسی طرح اخوند سالاک نے وہ علاقہ جو آج دیر کوہستان اور گردونواح سے ملتا ہے، ایک Islamic تہذیبیں میں بدل دیا جس میں اس وقت کے مذہبی ادارے ایک نئی روحانی سمت عطا کرنے لگے۔
اخوند سالاک کی مہمات نے ایک نئی Islamic روایت کو ایک رہائتی زندگی میں وارس کیا جس سے اس خطے کے لوگ اپنی تہذیبیں اور مذہب میں تبدیلی لانی کا موقع حاصل کرنے کی پیش بھر دیتی ہوئی۔
اخوند سالاک نے ایک نئی Islamic روایت کو ایک رہائتی زندگی میں وارس کیا اور اس خطے کے لوگ اپنی تہذیبیں اور مذہب میں تبدیلی لانے کی پیش بھر دیتی ہوئی۔
چترال کی قدیم تاریخ زیادہ تر زبانی روایات میں محفوظ ہے، جس میں کالاش تہذیب کی بھی اہمیت شامل ہے۔ کالashes ایک ایسی تہذیبیں تھیں جو دیوتاؤں کی پرستش کرتے تھے، خصوصاً رسومات کے ذریعے اپنی شناخت قائم رکھتی تھیں اور رنگین تہواروں کے ذریعے انہیں منایا جاتا تھا۔
دردستان یہاں سے لے کر کشمیر اور گلگت بلتستان تک پھیلی ہوئی تھی، جو اس وقت کے نئے نام ناتھوں سے باہر بھی جائے دیتا تھا۔ یہاں کے لوگ اپنی نسلی و ثقافتی انفرادیت کی وجہ سے الگ شناخت رکھتے تھے اور انہیں ’’درد‘‘ کہاتے تھے۔
اس خطے میں اسلام کی آمد نے اِس علاقے کو ایک نئی سمت دی جس سے پہلے یہاں کے لوگ مختلف مذہبوں پر چلتے تھے۔ ان میں کافروں، کالاشوں اور دیگر مذہبوں کو بھی شامل تھے جو پہلی صدی عیسوی سے یہاں موجود ہوئے تھے۔
کالASHوں کے برعکس ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے دیوتاؤں کی پرستش نہیں کی اور انہیں ہندوستان میں بھی سائنٹیفکالASH یا کاشمیریان کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ اپنی تہذیبیں اور رسومات کو ایسے مذہب کے طور پر پیش کرتی تھیں جو ان کی معاشرتی اداروں سے بہت متعلق ہوتا تھا۔ اس طرح یہ لوگ اپنے علاقوں میں مختلف مذہبوں کے پیروکاروں کے ساتھ ساتھ برصغیر اور وسطی ایشیا کے دیگر علاقوں میں موجود ہونے والے مذہبوں کے ساتھ بھی جڑے رہتے تھے۔
اخوند سالاک نے صرف چترال ہی نہیں بلکہ کوہ سیاہ کے مقام پر ڈوما کافر کو شکست دی اور سوات میں بیرا کافر کے خلاف جہاد کیا۔ بریکوٹ گاؤں کے مشرقی ڈھلوان پر موجود بیرا کافر کے قلعے کے آثار بھی ان کی مہمات کا شکار تھے۔ اس طرح اُنہوں نے ایک نئی اسلامی شناخت پہچاننے میں اہم کردار ادا کیا۔
سترہویں صدی عیسوی میں اخوند سالاک کی دیرینہ جدوجہد نے اس خطے کو ایک نئی Islamic روایت میں بدل دیا جس سے اس وقت کے مذہبی اداروں سے تعلق رکھنے والے لوگ متاثر ہوئے۔
اخوند سالاک نے نہ صرف دعوتِ دین دی بلکہ جہادی مہمات کے ذریعے غیر مسلم قبائل کو اسلام سے روشناس کرایا۔ ان کی جدوجہد نے اس خطے کو ایک اسلامی تہذیبیں میں بدل دیا جس سے پہلے یہاں کے لوگ مختلف مذہبوں پر چلتے تھے۔
اِسی طرح اخوند سالاک نے وہ علاقہ جو آج دیر کوہستان اور گردونواح سے ملتا ہے، ایک Islamic تہذیبیں میں بدل دیا جس میں اس وقت کے مذہبی ادارے ایک نئی روحانی سمت عطا کرنے لگے۔
اخوند سالاک کی مہمات نے ایک نئی Islamic روایت کو ایک رہائتی زندگی میں وارس کیا جس سے اس خطے کے لوگ اپنی تہذیبیں اور مذہب میں تبدیلی لانی کا موقع حاصل کرنے کی پیش بھر دیتی ہوئی۔
اخوند سالاک نے ایک نئی Islamic روایت کو ایک رہائتی زندگی میں وارس کیا اور اس خطے کے لوگ اپنی تہذیبیں اور مذہب میں تبدیلی لانے کی پیش بھر دیتی ہوئی۔