Chitral Times - ویمن قومی ٹیم کے جنوبی افریقہ کے دورے کے لیے چترال کی سائرہ جبین ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل

مصور

Well-known member
ویمن قومی ٹیم کے جنوبی افریقہ کے دورے کے لیے چترال کی سائرہ جبین، نئی طور پر ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل ہوئی ہے۔ سیرفہ اور ان کے والد انجینیئر خان کا بیان ہوتا ہے کہ وہ بچپن سے کرکٹ کا شوق رکھتی تھیں اور اسے اسکول سے واپسی پر لڑکوں کے ساتھ ٹیپ بال کرکٹ کھیلنے کے لیے کوئی عائد نہیں تھا۔

سائرہ جبین کا تعلق وادیٔ کیلاش کے گاؤں رمبور سے ہے اور وہ اس خطے سے انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون کھلاڑی بن گئی ہیں۔

انہوں نے آسٹریلیا کے پراماٹا کرکٹ کلب کی بھی نمائندگی کی ہے اور اپنے تعلقات میں انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ سب سے پہلے ایک انٹرویو میں بتایا تھا۔

سائرہ جبین کے والد Engeliner خان کی بھی بات ہوتی ہے کہ وہ اپنے بیٹے اور لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتے تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سائرہ کو بچپن میں کرکٹ کا شوق تھا اور وہ اسکول سے واپسی پر لڑکوں کے ساتھ ٹیپ بال کرکٹ کھیلتے تھے۔

انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے پشاور اور پھر لاہور منتقل ہوئیں۔ انہوں نے لاہور کی یونیورسٹی آف پنجاب سے بی ایس جرنلزم مکمل کرچکی ہیں اور وہ لائہر کی یونیورسٹی کی خواتین کرکٹ ٹیم کا ایک اہم ممبر رہ چکی ہیں۔
 
ਅਜ ਵੀਂ ਸਾਲوں ਮਿਆਰ ਤھیور نہیں، نئی قومی ٹیم کا ایک خاتون اراکین شامل ہوا ہے جو کہ اٹھارہ سال کی ہے! یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس نے اپنی پیدائش سے لے کر بڑے عرصے تک کرکٹ کا شوق رکھا ہے اور اب وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون کھلاڑی بن گئی ہے! اگے چل کر دیکھتے ہیں کہ یہی نسل آج بھی پاکستان کی تھیٹر، فلم اور ٹیلی ویژن میں نويں تجربات پیش کر رہی ہے!
 
اس وقت میں سائرہ جبین کو ایسا دیکھنا بے معیار لگتا ہے جیسے وہ ایک کٹرٹ کے ساتھ دیکھائی دی جا رہی ہے۔ ان کی پہچان اور کرکٹ کا شوق کتنا ہے، یہ بات تو چالاکوں کو معلوم ہوسکتی ہے لیکن عام لوگوں کے لئے یہ صرف ایک بھنڈار ہی رہتا ہے۔
 
یے تو اس کی بیوی کو پہلی بار ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل کرنا ہی نہیں تھا، وہ بچپن سے اسے لڑکوں کے ساتھ کھیلنا چاہتی تھی۔ پھر وہ کیسے انٹرنیشنل کرکٹ میں آئیں؟ ایسا تو ہونے کی امید نہیں تھی، اس نے صرف اپنی بیوی کو بھرپور طور پر استعمال کرنا شروع کیا ہو گا۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ وہ اپنے تعلقات میں کتنا مہربان تھی، انہوں نے اپنی پوری زندگی ایک اسٹریجیک اچھرے چلائے ہوئے ڈھانچے کو بھی کیسے بنایا؟ یہ تو ایک حقیقت تھی کہ وہ صرف اپنے بیوی پر مہربانی کی گئی، اس لیے وہ ٹیم میں شامل ہونے والے پہلے بچوں کو سب سے پہلے اچھا کرنے لگیں گی۔
 
سائرہ جبین کو بھی میچ نہیں بننے دینا چاہئے، وہ اپنی صلاحیتوں پر ٹرک تھام کر رہی ہیں۔ ان کی اور پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کے ماحول میں ایسی چاہئیں تبدیلیاں لائی جائیں جو بچوں کو خواتین کے اسPORT्स میں دلچسپی لائیں۔
 
بھی بھانے سائرہ جبین کو انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلی خاتون کھلاڑی بننے پر بڑا اچھا نہیں کہ گزری ہوئی سالوں میں وہ انٹرنیشنل کرکٹ کلبوں کے ساتھ کیے جانے والے ٹورنامینٹس پر بھی فOC تھے?
 
یہ بہت خوشیاں ہیں سائرہ جبین کو جنوبی افریقہ کے دورے کی تیاری میں شامل کرنے پر… انہوں نے اسکول کے ساتھ لڑکوں کی ٹیپ بال کرکٹ کھیلی اور اب وہ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل ہونے کا مہم جاری کر رہی ہیں… ان کی سیرفہ بھی دیکھنی پوری تھی کہ وہ بچپن سے ہی کرکٹ میں دل چسپ ہیں اور وہ اپنے تعلقات کو ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل ہونے کا مہم جاری کر رہی ہیں…
 
تھوڈا بڑا کام انہوں نے اپنی فوری واپسی پر کر لیا ہے جس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ صرف ایک خاتون ہیں جو اس کھیل میں اپنے پورے جذبے اور عزم کو لاکر بھی نہیں آئی بلکہ اس کھیل سے محروم ہو کر بھی اپنا تعلقات بنانے کی کوشش کی ہے...
 
سائرہ جبین کو کراہتھن سے منتخب کیا گیا تو یہ سب بہت بڑا واقعہ تھا ، انہوں نے ہر گز ایک چلے بنایا تھا، اب وہ جنوبی افریقہ کی ٹیم کا حصہ ہونے والی ہیں اور یہی بھی بڑی بات ہے۔
 
تم میں جو بھی شوق رکھتا ہے وہ اس سے بدل جائے گا جسے تم انیس سال سے کھو دیا ہے۔ سائرہ جبین نے پھر سے کرکٹ کا شوق رکھنے کی کوشش کی اور اب وہ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل ہو گئی ہیں۔ یہ ایک زندگی کی سیکھ بھگتی ہے، اس کے لیے تم کو اپنے شوق کو بحال کرنا چاہیے اور ابھی سے کوشش کریو।
 
ارے، اس کی سرہ جبین کو وچلنا نہیں پاتا 🤩 چالاک تھیوں سے بھرپور گیلے کرکٹ کھیلتے ہوئے بھی پہلی خاتون کھلاڑی بن گئی، ایسے میں اس کی پچھلے دور کی شاندار یادوں نہیں آتیں؟ لگتا ہے وہ بچپن سے ہی کرکٹ کا شوق رکھتی تھی اور اسکول سے واپسی پر لڑکوں کے ساتھ ٹیپ بال کرکٹ کھیلتے تھے، ایسا تو ہوتا تو کچھ بھیPossible نہیں! 🤣
 
ویمن قومی ٹیم کی اس پہلی ٹوئنٹی20 سیریز میں کھیلنے والی سائرہ جبین کو کتنا انسپائرشن لگ رہی ہے! وہ یہاں تک آئی ہے جو وادیٔ کیلاش کے گاؤں رمبور سے نکل کر پورے قومی لیول پر سب کچھ حاصل کیا ہو ہوا ہے... لکیر کے ساتھ!

اس ٹیم کی تیز رفتار سے آگے بڑھنے کی یہ خواہش میں میرا بھی فائدہ ہو گا... خواتین کے لیے کرکٹ ایک نئی صفت ہے جو اب تک پاکستان میں نظر آ رہی ہے اور یہ سیریز اس کی دوسری ریکارڈینگ ہوگی!

لیکن ان ہمیشہ سے محفوظ کرنا بھی ضروری ہے کہ کرکٹ کی نئی نسل اس طرح ایسے نہیں رہی جس جیسا پہلے کے ٹیم میں سے تھی۔

ابھی تک وہی رکھتی ہیں جو انہوں نے اپنے فیلو اور اس کی ٹیم کی دیکھی ہو ہے... لیکن اب وہ ساتھ ہی ایسی نئی پہلوؤں کو شامل کرتے جائیں گے جو پرانے دور میں رکھی گئی تھیں!

جی اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر ان کے لیے ایک نئا ادارہ بن چکا ہو! میری نظر سے یہ بھی ایک فائدہ ہو گا، جس سے وہ اپنے فیلو کے سامنے زیادہ سے زیادہ محفوظ ہو سکیں گی اور ان کے لیے ایک نئی پہلو کو شامل کرسکیں گی!
 
سیرفہ اور ان کے والد Engeliner خان جب ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل ہوچکی ہیں تو میری سوچ آئی کہ یہ وادیٔ کیلاش سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون کرکٹ کھلاڑی بن گئی ہے، جس نے آسٹریلیا کے پراماٹا کرکٹ کلب کی نمائندگی بھی کی ہے۔ ان کی یہ کامیابی ان کے والد Engeliner خان اور ان کے تعلقات سے جوڑی ہوئی ہے جس نے انہیں کرکٹ میں شامل ہونے کی ترغیب دی تھی، یہ بھی ایک اچھا کردار ہے کہ انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے پشاور اور پھر لاہور منتقل ہوئیں، یہ ایک بڑا Achievement ہے
 
سائرہ جبین کے گھروں والوں کو بچپن سے ہی وہ کرکٹ کا شوق تھا اور اس لیے وہ چھوٹی عمر میں ہی ٹیپ بال کرکٹ کھیلنا شروع کر دیتی تھیں۔ لاکھوں کو آگاہ کرتی ہیں کہ ایک خاتون نے اپنی زندگی میں کرکٹ کی پوری پیروی کر لی ہے، یہ سب سے اچھا۔

دیکھو اس ٹیم کی ڈراؤس کو بھی انہوں نے کیا ہے؟ تھینڈروں میں کرکٹ کھیلنا، ایک خاتون کی اپنی پوری زندگی کرکٹ پر چلی جانی۔

اچھا اور اچھا، حال ہی میں اس ٹیم کو ویمن قومی ٹیم سے ملکہ کہا جاسکتا ہے؟
 
بےشک سائرہ جبین کو ناجیب بننے کے لیے لائحہ عمل فراہم کرنا بھی ضروری ہوگا، اس سے قبل ان کی پڑھائی اور ٹریننگ میں کمی کمزور تھی…
 
Wow 😊 اس سیرفہ کا جواب سائرہ جبین کو ٹی ٹوئنٹی اسکوڈ میں شامل ہونے پر ملتا ہے، ایک نئا ریکارڈ قائم ہو گا! Interesting 😎
 
پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم میں ایسی کھلاڑیوں کو شامل کرنا بے معاملہ ہوتا ہے جو اس سے قبل صرف ٹیپ بال کرکٹ کھیلتی تھیں... 😐 اچھا کہ ان کے والد بھی کرکٹ میں ملازمت پائی ہو اور اب وہ اپنی بیٹی کو کیٹھی رکھتے ہیں... انہیں نہ تو تعلیم فراہم کرنا چاہئے اور نہ ہی کرکٹ کی قیادت کرنی چاہئیے...
 
واپس
Top