Chitral Times - خیبرپختونخوا ٹورازم اتھارٹی کے زیراہتمام تریچ میر چوٹی پربنائی گئی ڈاکومنٹری نشر کی گئی

بطخ

Well-known member
پشاور میں خیبرپختونخوا ٹورزم اتھارٹی نے تریچ میر چوٹی پر بنائی گئی ایک منظم ڈاکومنٹری کا پرفورمنس کیا ہے، جس میں صوبہ میں سیاحت اور ہوٹل مینجمنٹ کو بہتر بنانے کی کوششوں کی جانچ پڑتال کی گئی ہے۔

ڈی جی ٹورزم اتھارٹی نے اس موقع پر سر صاحبزادہ عبدالقیوم میوزیم آف آرکیالوجی جامعہ پشاور میں ہندوکش پہاڑی سلسلے کی بلند ترین چوٹی تریچ میر پر بنائی گئی ڈاکومنٹری نشر کیا، جس کی اہمیت وажوبت کو ظاہر کرنے کے لئے اس میں مختلف عناصر شامل کی گئیں تھیں۔

ڈائیٹیرج جنرل محمد عثمان محسود نے کہا ہے کہ صوبہ میں سیاحت اور ہوٹل مینجمنٹ میں بہترین لانے کیلئے ڈیپارٹمنٹ آف ٹورizm اینڈ ہوٹل مینجمنٹ جامعہ پشاور کیساتھ مل کر کام کرینگے تاکہ مہمان نوازی کی اس صنعت میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

انھوں نے اہمیت ظاہر کی کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی ہدایات پر صوبہ میں سیاحت و ثقافت کے فروغ کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کررہے ہیں، جس سے نوجوان طلباء اور طالبات کو بھی اس صنعت میں شامل کیا جا رہا ہے۔

اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے خیبرپختونخوا ٹورزم اتھارٹی نے کالام اور چترال میں ٹورازم اتھارٹی کی جانب سے بنائے گئے ایڈونچر ٹریننگ سکولز کے ذریعے نوجوانوں کو مختلف ایڈونچر سرگرمیوں کی تربیت فراہم کرنے کی جانشین دے رہی ہے، اس طرح انھیں ہوٹل مینجمنٹ اور مہمان نوازی کے بھی کچھ مطالعے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
 
مگر یہ دیکھنا کہ کالام اور چترال میں ٹورزم اتھارٹی نے ایڈونچر ٹریننگ سکولز کا قیام کیا ہے، تو یہ کافی اچھی باتی ہے۔ ابھی کئی سال سے انPlaces میں سیاحت نہیں ہوئی کیوں؟ تریچ میر چوٹی پر ایک منظم ڈاکومنٹری کا پرفورمنس تو اچھا ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اس وقت سے سیاحت شروع کی جائے۔
 
اس صورت حال سے میرا خیال ہے کہ خیبرپختونخوا ٹورزم اتھارٹی نے ایک بڑا قدم رکھا ہے، تریچ میر پر بنائی گئی اس ڈاکومنٹری سے اتنا پرفورمنس دیکھنا حیرت انگیز ہے۔ اب یہ صرف ایک ٹورزم اتھارٹی کی کارکردگی کا مظاہر نہیں ہوگا بلکہ صوبے میں سیاحت اور ہوٹل مینجمنٹ کو بہتر بنانے کی تجربات کی نمائش ہوگی।
 
یہ تو ایک بڑی کوشش ہے کیوں کہ پورے خیبرپختونخوا میں سیاحت اور مہمان نوازی کا شوق پیدا کرنا ، @DG_Tourism_official نے تریچ میر پر بنائی گئی ڈاکومنٹری تو ایک بھرپور پرفارمنس ہے، واضح طور پر اس میں سیاحوں کے لئے اہم معلومات فراہم کی گئی ہیں، @DG_Tourism_official نے نوجوانوں کو ہوٹل مینجمنٹ اور مہمان نوازی میں تربیت دی رہی ہے، یہ ایک بڑا کامیاب معاشرتی عمل ہے! 🚨 #پیچاسئیریز #ساحتنومایا #ناولمورچ
 
ان نئی داریوں کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ لگتا ہے کہ پشاور میں سیاحت اور ہوٹل مینجمنٹ کے شعبوں کی طرف رخ کرنا ایک بڑا اچھا کارینج ہوگا، اس لیے جو ڈی جی ٹورزم اتھارٹی نے سر صاحبزادہ عبدالقیوم میوزیم آف آرکیالوجی جامعہ پشاور میں تریچ میر چوٹی پر بنائی گئی ایک منظم ڈاکومنٹری کا پرفورمنس کیا ہے وہ بہت اچھا نتیجہ دیکھنا ہوگا۔ مجھے یہ بھی بہت اچھی بات سمجھائی دیتی ہے کہ مہمان نوازی کی صنعت میں مزید بہتری لانے کیلئے سارے لینڈنگ ڈپارٹمنٹ مل کر کام کرنا چاہیے، اس لیے جو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفرید کو یہ کوشش کررہے ہیں وہ بہت اچھی جائے گا۔
 
اس ٹورزم اتھارٹی نے تریچ میر چوٹی پر ایک منظم ڈاکومنٹری کیا ہے، جس میں سرفراز کرنا ہے کہ وہاں کی سیاحت اور ہوٹل مینجمنٹ کو بہتر بنانے کی یہ کوشش کیا گیا ہے۔ لیکن میں سوچتا ہoon کہ وہ سرانجام پہنچنے والی چیلنجوں کی جگہ نہیں مٹائی گئی۔ مثال کے طور پر، وہاں کے سیاحوں کو کیساتھ سائنس اور ہسٹری کا مطالعہ کرنا چاہیے تاہم وہاں کی سیاحت میں پرانے اور جدید دونوں سے تعلق رکھنے والے معیشتوں کو بھی یہاں شامل کیا جانا چاہیے۔
 
ایسے میں یہ بات غلط نہیں ہو گی کہ خیبرپختونخوا ٹورزم اتھارٹی نے تریچ میر پر بنائی گئی ایک منظم ڈاکومنٹری کا پرفورمنس کیا ہے، اس کی اہمیت کو ظاہر کرنے لئے انھوں نے مختلف عناصر شامل کیے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی یقین دہانی ہے کہ اس کے ماحول کو بہتر بنانے کیلئے مزید کام کرنا پڑے گا، جیسے کہ ڈیپارٹمنٹ آف ٹورizm اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کو اس بات پر توجہ دینی چاہئے کہ صوبہ میں سیاحت اور ہوٹل مینجمنٹ میڰ بہترین لانے کیلئے کام کرنا پڑے گا۔ 🤔
 
یہ بہت انکارنے والا کام ہے انٹرنیٹ پر سائنسز نہیں دیکھا تھا، سر صاحبزادہ عبدالقیوم میوزیم کیا ہو گیا؟ ابھی میرے پاس یہ پہلے سے نہیں پڑا تھا کہ وہاں ایک منظم ڈاکومنٹری دیکھو، اور انھوں نے ہندوکش پہاڑی سلسلے کی بلند ترین چوٹی پر بنائی گئی ڈاکومنٹری کیا ہو گیا؟ یہی تھا نہ?! اور انھوں نے کیساتھ مل کر کام کیا ہو گا؟ جامعہ پشاور یا ڈیپارٹمنٹ آف ٹورizm اینڈ ہوٹل مینجمنٹ؟
 
بڑی ہمت، خیبرپختونخوا ٹورزم اتھارٹی نے تریچ میر چوٹی پر ایک منظم ڈاکومنٹری کا پرفارمنس کیا ہے، اور سر صاحبزادہ عبدالقیوم میوزیم آف آرکیالوجی جامعہ پشاور میں بھی نشر کر دیا ہے، یہاں تک کہ ہندوکش پہاڑی سلسلے کی بلند ترین چوٹی تریچ میر پر بنائی گئی ڈاکومنٹری بھیPublish ہوئی ہے، یہ تو کافی اہمیت رکھتی ہے، مگر میثوز محسود صاحب نے کہا ہے کہ سیاحت اور ہوٹل مینجمنٹ میں بہترین لانے کیلئے ڈیپارٹمنٹ آف ٹورزم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کیساتھ مل کر کام کرنا چاہیے، اور یہی بات صوبہ میں وزیراعلیٰ کی ہدایات پر اچھی طرح ادراک ہونے والی ہے تاکہ نوجوان طلباء اور طالبات کو بھی اس صنعت میں شامل کیا جا سکے
 
میں انki سرسراتی کو دیکھتے ہوں یہ ہر سال ایک بڑا حیرت کرانا چاہتا ہے کہ پشاور میں کیا نئے خیال آ رہے ہیں؟ اب اس کی طرف جائے تو تریچ میر پر ایک منظم ڈاکومنٹری پیش کیا گیا ہے، اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ سر صاحبزادہ عبدالقیوم میوزیم آف آرکیالوجی نے اس کے لیے ایک منظم پرفارمنس کیا ہے، جس میں ہندوکش پہاڑی سلسلے کی بلند ترین چوٹی تریچ میر پر بنائی گئی ڈاکومنٹری شامل ہے۔

یہ بھی دلچسپ ہے کہ DG ٹورزم اتھارٹی نے اس میزبان کی جانب سے ایک منظم پرفارمنس کی جگہ اٹھائی ہے، اور انھوں نے مختلف عناصر شامل کرکے اسے اہمیت ظاہر کیا ہے۔

لیکن یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ اب سے ہم کو ایسے منظم پرفارمنسوں کی ضرورت نہیں پڑتی، جیسا کہ دیکھتے ہیں کہ انki سرسراتی میں بھی یہی بات پیش آ رہی ہے۔

ہوٹل مینجمنٹ اور سیاحت کی صنعت کو بہتر بنانے کے لئے ڈیپارٹمنٹ آف ٹورزم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کیساتھ مل کر کام کرنا ضروری ہے، جس سے اس صنعت میں مزید بہتری لائی جا سکے گئی۔
 
سیرت میر پہ انڈر گراونڈ ٹوریز کو کوئی توجہ نہیں دیا جاسکتا! یہ لاکھوں کا ہار جو صوبہ میں سیاحت اور ہوٹل مینجمنٹ پر انڈپینڈنٹ اسسٹ ڈنٹس بنائی رہے ہیں! چھوٹے شہروں کی سیاحتی صنعت کو بڑے شہروں جیسے کے پشاور میں اپنی آواز بلند کرنی چاہیے، تو یہ بات کچھ نا سنجیدہ ہے کہ سر صاحبزادہ عبدالقیوم میوزیم آف آرکیالوجی جیسے اہم مقامات پر انڈور کی ایک منظم ڈاکومنٹری پرفارمنس کر رہے ہیں!
 
اس نئی پرفارمنس سے منسلک ہونے والے ایکسپلوڈر ایشینز میں حصہ لینے والوں کو اور ان کی کوششوں کو سراہنا ہی ضروری ہے، ابھی یہ پرفارمنس سے منسلک ہونے والے ایکسپلوڈر ایشینز کو اچھے لگ رہے ہیں۔
 
😔 یہ جسمانی چوٹی پر ایک ڈاکومنٹری بنائی گئی ہے، لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ پہلے سے نہیں تھا? کیا کوئی وہاں آ کر بھی نہیں تھا؟ یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے، اور یہ بھی سوچنا مشکل کہ کیا اس چوٹی پر سے سیاحت کو بہتر بنایا جا رہا ہے یا نہیں? 😕
 
یے تو یہ انعام ایک پہلو کے لئے ہی نہیں بنایا جاتا، سر صاحبزادہ عبدالقیوم کی اس منظم ڈاکومنٹری کی بنیادوں پر دی گئی ہی ایک بھی سے زیادہ انعام کیا جا سکتا ہے! ڈی جی ٹورزم اتھارٹی نے اس میتھود کو میرتاج بنایا ہے، حالانکہ تریچ میر کی چوٹی پر ایک ساتھ کیا جا رہا ہے تو انہوں نے بھی ایسا ہی کیا ہے!
 
منظری طور پر دیکھنے پر یہ واقعہ منفرد ہے، تریچ میر چوٹی پر بنائی گئی ایک منظم ڈاکومنٹری کا پرفارمنس سر صاحبزادہ عبدالقیوم میوزیم آف آرکیالوجی جامعہ پشاور میں ہوا، جس سے ہندوکش پہاڑی سلسلے کی بلند ترین چوٹی تریچ میر پر ایک نئی اہمیت مل گئی ہے.

اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ڈی جی ٹورزم اتارٹی نے کالام اور چترال میں ٹورزم اتارٹی کی جانب سے بنائے گئے ایڈونچر ٹریننگ سکولز کا استعمال کیا ہے، جس سے نوجوانوں کو مختلف ایڈونچر سرگرمیوں کی تربیت ملے گی اور انھیں ہوٹل مینجمنٹ اور مہمان نوازی کے مطالعے فراہم کیے جا رہے ہیں.

یہ پرفارمنس اور ان کی جانشینی نوجوانوں کو سیاحت اور ہوٹل مینجمنٹ میں شامل ہونے کا ایک اچھا موقع دیتی ہے، چاہے وہ ماہرین ثقافت ہوں یا ہوٹل مینجمان ہوں، انھیں ایسے اسکولز کی تربیت ملنے سے ان کو اچھی زندگی کا ماحول فراہم کرے گا.
 
اس طرح سے کیا جائے گا? ابھی تو اچھی تاریک میر چوٹی پر ایک منظم ڈاکومنٹری کس کی فیکس نہیں کر دی؟

جی پھر وہ ایک لئے ٹورزم اتھارٹی ہے، لیکن اس کو ایک منظم پیغام کی شکل میں پیش کرنا ایسا نہیں ہوتا کہ یہ تمام لوگوں تک پہنچ جائے?

فیکس کرنا ہو سکتا ہے، لیکن وہ سب کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا کہ اس کی اہمیت کیا ہے؟

ایک منظم پیغام میں مختلف عناصر شامل کرنا بہت اچھا ہوتا ہے، لیکن وہ لوگ جو اس کو دیکھ رہے ہیں انھیں یہ جاننے کا فرصت نہیں دی جاتا کہ اس میں کیا ہو رہا ہے؟

انھوں نے دوسری بستیوں کی ایک منظم پیغام کیسے بنائی گئی وہ بتایا کرو?
 
تاکہ خیبرپختونخوا میں سیاحتی مقامات کے حوالے سے ڈی جی ٹورزم اتھارٹی نے ایک اچھا پرفارمنس کیہ ، لیکن انھوں نے کیا کہیں اس میں یہ بات ظاہر کرنی چاہئیے کہ ہم اور ہمیشہ سے ہی سیاحت کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے تھے؟
 
یہ بات تو چٹان لگتی ہے اس نئی ڈاکومنٹری پر، جس میں تھانڈرون پینٹنگ اور دیواری writings شامل ہوئی ہے وہاں یہ بات کہی گئی ہے کہ تریچ میر سے متعلق تاریخی معلومات بھی شامل کی گئی ہیں اور اس میں مختلف زبانوں میں لکھے جانے والے پoesy بھی شامل ہوئے۔ مجھ کو یہ بات حیرت دلی ہوئی کہ اس میں انسپائرشن ملنے والی ایسی فلمی صاف و لچکلیں بنائی گئی ہیں جیسے یہ انسٹاگرام پر ریکارڈ کیا جا سکے تو لوگ اس کی پومپ دھونٹی چھوڑ دیں گی۔
 
یہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ لوگ جو صوبے میں سیاحت اور ہوٹل مینجمنٹ کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس صورت حال میں تو وہ لوگ جو سیاحت اور ہوٹل مینجمنٹ کی صنعت سے لطف اندوز ہوئے ان کے لئے یہ سب ایک نئی چیلنج بن رہا ہے، پھر بھی وہ ڈی جی ٹورزم اتھارٹی نے اپنی جانب سے بھی کچھ کیے ہوتے ہیں۔
 
ایسے میں پھر یہ بات بھی دکھائی دی جاتی ہے کہ شہر میں کچھ کھینچنا چاہیے، تریچ میر پر ایک ساری چٹان بنانے والوں کو انھیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کچھ کھیل رہا ہوا ہے۔ واضع طور پر ایک منظم ڈاکومنٹری بنانے سے زیادہ اچھی بات یہ ہوگی کہ کچھ کھینچنا چاہئیے، اور اس میں بھی ایسی چیز شامل کی جائے جو لوگ دیکھنہیں چاہتے کیونکہ وہاں پر نہیں ہونا چاہئی۔
 
واپس
Top