آج رات سے لے کر صبح تک حیدرآباد میں ماحول خلیف کا مظاہرہ جاری ہے۔ اترپختون کی پریس انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی نے اپنے ایک گھر پر چھاپے مارے، جس میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے اپنی جانب سے اہلکار تھے۔
ان رات کی انعقاد کے دوران، اس گھر پر چھاپے میں کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والی بینرز، پمفلٹس، پلے کارڈز اور پاکستان مخالف مواد برآمد کر لیا گیا تھا جسے 17 جنوری کو Pakistan کے خلاف تحریک میں استعمال کیا جانا تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان اس وقت انٹیلیجنس کارروائی کے بعد ایسے مواد کو برآمد کر رہے تھے جس کے استعمال سے امن و امان کی صورتحال خراب کی جا سکتی ہے، ان میں ہنگامہ آرائی بھی شامل تھا۔
ایک گھر پر چھاپے کے بعد علاقے کو گھیر کرلیا گیا اور اس وقت تک ملزمان کی فرار ہونے کی-search جاری ہے، جو کہ ان کے ناکام کردار کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے ہونے والی یہ کارروائی ابھی شروع ہوئی ہے، لیکن ایسے افراد کو ہر وقت چھپا رکھنا مشکل ہوتا ہے جو پاکستان کے خلاف معاملات میں مدد دیتے ہیں۔
اس سلسلے میں گزشتہ کچھ دنوں سے تین کے زبانی اور نہانے والی وضحہ کی ہوئی چال تھی، لیکن یہاں تک کہ پاکستان کی حکومت کے جانب سے اس میں کوئی معاملہ بنایا گیا ہے تو اس وقت تک آدھے دو سال گزر چکے ہیں۔
چلے تھے کہ انٹیلیجنس کارروائیوں کے ذریعے پاکستان مخالف مواد کو سٹOP کیا جا رہا ہے، لیکن یہ دیکھنا بھی جنتوار ہے کہ لوگ ایسے مواد کو برآمد کر رہے ہیں جو امن و امان کو خراب کر سکتے ہیں! یہ سب کچھ کہا نہیں تھا کہ انٹیلیجنس کارروائیوں میں کوئی ذمہ داری نہیں ہے ایسے لوگوں کی جانب سے برآمد شدہ مواد کو روکنے کی؟
یہ سبھی انٹیلیجنس کارروائیوں کا باعث بنتے ہیں جو پورے ملک میں گھوم رہی ہیں اور لوگ اس پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں!
میری یہ خواہش ہے کہ یہ سب کچھ ڈھیلے ہوئے رہے اور کوئی بھی ایسا نہیں رہے جو انٹیلیجنس کارروائیوں کی ذمہ داری سے بھرپور لاف لگا دے!
اس طرح کی کارروائیوں کا یہاں تک انکشاف ہونے پر، مجھے اس بات پر خیال ہوتا ہے کہ ڈیپارٹمنٹوں کو اپنی اور دوسروں کی جانب سے جو کارروائی کر رہے ہیں وہ بہت زیادہ چھپا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ حقیقی صورتحال کے بارے میں نہیں سوچتے اور ان کے خلاف کارروائیوں کو بھی چھپانے کی کوشش ہوتی ہے۔
اس جس دہے کا بھار ہو رہا ہے وہ اچھی بات ہوگی۔ پہلے گزشتہ کچھ دنوں سے تین کی وضحہ چال تھی، لیکن اب اس پر ایسا کہنے کا بھی کوئی لازمی نہیں ہے کہ اس میں معاملہ بنایا جائے۔
اس گھر پر چھاپے کی بات سنہری ہے، ان لوگوں کو جو اس طرح مواد برآمد کرتے ہیں وہ تو بھی ناکام کردار ادا کر رہتے ہیں۔ سیکیورٹی کے ذرائع کی بات سے بتاتا ہے کہ ان کا مقصد امن و امان خراب کرنا ہوتا ہے، جس سے ملزمین کو آگے بڑھنے کی کوئی جگہ نہیں رہتی۔
یہ رات کیسے اٹھتے ہیں؟ ایسے لوگ بھی جس میں دھمکی لگائی کر انٹرنیٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا بھی نہیں دیتے، ایک گھر پر چھاپے مارنے سے پہلے اس کے بارے میں کونسے پیغامات ہوتے تھے؟ اور وہ لوگ کیا بتاتے جب ان پر چھاپا کر دیا گیا تاکہ ان کی آنچھی بھر دے، یہ کس طرح ایک مظاہرہ ہوتا ہے؟
ماحول خلیف کی یہ مظاہرہ کیا جارہا ہے؟ ایسا محسوس کرتا ہوں کہ ان میں معقول رہنماؤں کے بغیر مظاہرے کی جانے والی ترغیبات بھی چالاکانہ ہیں۔ اس گھر پر چھاپے مارنے کے بعد ملزمان کیا سے کئے تھے؟ ایسے معاملات میں ہنگامہ آرائی بھی ہو سکتی ہے، یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ ملزمین کیا چاہتے تھے۔ میں نہیں سمجھ سکا کہ انٹیلی جنس کارروائی کے بعد انہوں نے یہ مواد برآمد کیا ہوگا یا انہیں پتہ تھا کہ اس مواد کو استعمال کرکے امن و امان خراب کی جا سکتی ہے؟
اس کی بات تو ہوتی ہے کہ لوگ اپنی بھلائی کے لیے اچھا کرنے کی کوشش करतے ہیں، لेकिन ایسے میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے، جب لوگ اپنی غلطیوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، تو یہ سچا خلاف عمل ہوتا ہے۔
جس وقت ہمیں पतا لگتا ہے کہ ایک گھر پر چھاپے مارے گئے ہیں تو پہلی چیز جو ہمارے ذہن میں آتی ہے وہ ایسا معاملہ تھا جس سے ہمیں پتہ چلتا تھا کہ لوگ ان کے مواد کو استعمال کر رہے تھے، لیکن اس میڈیا کی تبصرہ دینے والی بات یہ ہوتی ہے کہ ایسے مواد کو کیسے برآمد کیا جائے اور کیسے استعمال کیا جائے، لیکن اس بات پر زور نہیں دیتے کہ یہMaterials وہ ہو سکتے ہیں جو امن و امان کی صورتحال کو خراب کر سکتی ہیں۔
یہ بات بھی سچ ہے کہ کسی بھی معاملے میں گھریلو کارروائی کی ایک بڑی مشکل ہوتی ہے، لیکن پھر بھی یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو چھپا رکھنا مشکل ہوتا ہے جو معاملات میں مدد دیتے ہیں، لیکن اگر سچائی ہمیشہ سبق ہوتی ہے تو اور ایسے معاملات کی پہلی بار سمجھنے کے بعد ناکام کردار کی وجہ سے ان لوگوں کی فرار نہیں ہونے کی کوشش کروں گے۔
اب بھی ایسا ہوا کہ انٹیلیجنس کارروائی کے بعد ایسے لوگ جو سیکشن کمیشن میں بھی کچھ کیا کرتے تھے اور نا کچھ، اب پاکستان مخالف مواد برآمد کر رہے ہیں…ایسا لگتا ہے کہ سیکشن کمیشن میں بھی جو لوگ بھیجے جاتے تھے وہ اب انٹیلیجنس کارروائی کے بعد بھی ایسے ہی ہیں…جب یہ دیکھو گے تو یقیناً سیکشن کمیشن کی جانب سے بھی ایسی ہی کارروائی شروع کرنی پڑ گیگی۔