آدھی پی ٹی آئی انقلاب چاہتی ہے اور آدھی مذاکرات ، فواد چوہدری - Daily Qudrat

کاکروچ

Well-known member
پی ٹی آئی کی جانب سے آدھی انقلاب چاہتی ہے، جس میں ایک آدھی ملاقات بھی شامل ہوگی۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی پالیسی ایک برسٹر گور اور دوسرا جونیئر وزیر کے قائل ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے سیاسی ٹمپریچر نیچے لانے کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کو ملاقات کی درخواست کی ہے، لیکن ان کا جواب نہیں آیا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی استحکام لانے کے لیے نواز شریف، شہباز شریف اور آصف زرادی کو مذاکرات کرنا پڑیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کی صورتحال بہت تیز ہورہی ہے، جس کے نتیجے میں افغانستان سے دہشت گردی بھی ہورہی ہے۔

آدھی پی ٹی آئی انقلاب چاہتی ہے اور آدھی مذاکرات، ان کے بیان سے ملک میں سیاسی معاملات میں ابھرنا شروع ہوگا۔
 
جی تو یہ بات کہلی ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دوسری قوم پرستی کے لئے ایک انقلاب چاہیا جائے گا، جس میں نوجوان اور اہل قیادت کے درمیان ملاقات بھی شامل ہوگی ،جبکہ وفاقی وزیر فواد چوہدری کہتے ہوئے ہیں کہ یہ ملاقات سیاسی ٹمپریچر نیچے لانے کے لیے ان کی پالیسی کو دیکھا جائے گا ، اور اس طرح نوجوان وزیر شہباز شریف اور بھیڑوں والے نواز شریف سے بات کرنا پڑیں گی، مگر اس کے بعد ملک میں دہشت گردی کی صورتحال یہ تو تیز ہورہی ہے کیوں نہ؟ یہ بات بھی یہی کہ آدھی پی ٹی آئی انقلاب اور آدھی مذاکرات ملک میں سیاسی معاملات میں ابھرنا شروع کر دیا گئے ہیں، اور اس کے نتیجے سے وہ کیا ہوگا؟
 
ایسا لگتا ہے پی ٹی آئی کو حال ہی میں اس بات پر فokus کرنا چاہیے کہ ملک کی دھڑکن سے ہٹنا اور ملک میں امن و استحکام قائم کرنا۔ نواز شریف، شہباز شریف اور آصف زرادی کو ایسا ملک نظر نہیں کیا جا سکتا جہاں دھرمورو پریتی ہوں اور سیاسی مصلحین کو ایسے میٹنگز پر اجازت نہ دی جائے، اس لیے ان کی بات ہی ملک کے لیے قابل استعفی ہے

انہوں نے دھستگوردی کی صورتحال پر اور اس کی وجہش پر بھی بات کی۔ اس بات کو یقیناً لیتے ہیں کہ جب ملک میں امن و استحکام قائم ہوجائے گا، اُس میں دھستگوردی بھی نہیں رہ سکتی

میں اس بات سے متفق ہوں کہ یہ طے ہونا ضروری ہے کہ ملک میں ایسا نظام قائم ہوجائے جو سیاسی اور اقتصادی معاملات میں ایمانداری، انصاف و نیکیوں کی طرف موئی دے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں ایسی رشتیں کو ختم کرنا چاہیے جو ملک کی پیدائش کو تباہ کر رہی ہیں، اور ملک کے مظلوم لوگوں کی رائی و کامیابی کے لیے ایسی رہنمائی کی ضرورت ہے جو انہیں نئے دور میں پیش کرے
 
کیا یہ سچ نہیں کہ جو کیے جائے گا وہ ہی رہتا ہے۔ آدھی پی ٹی آئی انقلاب چاہتی ہے، ایک دوسرے سے مل کر کیا یہ ممکن ہو گا؟ ناواز شریف کو اپنی ناک بڑھانے کے لیے ایسے میں کوئی ضرر نہیں پہنچایا گیا تھا، اب وہ سیاسی ٹمپریچر نیچے لاتے چل رہے ہیں اور یہاں کے لوگ ان کی ایسے ہی طاقت کو سمجھنے کا کوشش کر رہے ہیں، جیسے وہ سچ ہی بھاگے ہوئے ہیں۔ ملاقات کی طلب کی جا رہی ہے تو یہ کیسے ممکن ہو گا؟ شہباز شریف کو بھی ایسا آدھا جذبہ نہیں ہوسکتا ہے، مگر ان کی موتہر پالیسی کیسے تبدیل ہوگی? انہوں نے یہ سب سچ ہی کھولا ہے کہ وہ بھی ایسے ہی ہیں جو ان کے ساتھ رہتے ہیں۔
 
میں کچھ سوجھ سوجھ کر نہیں کرتا لیکن ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کی پالیسی کو سمجھنا ضروری ہے اور ان کی طرف سے بھرپور مذاکرات کی ضرورت ہوگئی ہے۔ نوجوانوں کے لیے بہت زیادہ political temperature ہے، اس لیے وہ ہمیشہ ہی ایسا کر رہے ہیں جس سے دوسروں کو ناکام محسوس کیا جاتا ہے۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری کی بھرپور مذاکرات کی کوشش سے ملک میں Political stability کے لیے بہت کچھ ممکن ہوگا۔
 
جی تو یہ بات واضح ہے کہ پی ٹی آئی کوPolitical Stalemate سے نکلنا پڑے گا، انہیں اپنی Party Leaders کے درمیان مذاکرات کرنا پڑوگا تاہم ایسا کرتے ہوئے کیا یہ دھمکی ہی نہیں ہوگی؟ نواز شریف کی Party کو Political Pressure سے نیچے لانے کے لیے یہ معامله تو ایک کوشش ہوگی اور دوسری طرف ملک میں political instability کی صورتحال، دہشت گردی کے مسائل کا Samna کرنا پڑے گا 🤔
 
میں یہ سن کر بہت متاثر ہوں، وفاقی وزیر فواد چوہدری کی بات سے ملک میں سیاسی استحکام لانے کے لیے مذاکرات کرنا پڑنے کا یہ مشورہ بھی اچھا ہوگا. مگر وہ ساتھ ساتھ ملک میں دہشت گردی کی صورتحال پر بھی توجہ دیتے ہیں، یہ بات اچھی ہے کیونکہ آج کے دور میں دہشت گردی کا خطرہ بھی طاقتور ہو چکا ہے.

میں نہیں بتاؤن گا کہ یہ پی ٹی آئی انقلاب کس طرح بدل گیا، مگر یہ باتCertain ہے کہ ملک میں سیاسی معاملات میں ابھرنا شروع ہوگا اور وفاقی وزیر کی بات سے ملک میں دہشت گردی کے خلاف بھی اچھا قدم آئے گا. 👍
 
بچوں کو گاڑی چلوڈنے کی طرح، اس پالیسی پر انھوں نے اپنی نظر پڑھی تھی ، جس سے ملک میں سیاسی معاملات میں ابھرنا شروع ہوجائے گا۔ لیکن کیا یہ اس وقت کی ضرورت ہے؟ دہشت گردی، بھالو کی غلطیوں، اور نواز شریف کے چہرے پر ایک توڑنا پھیرنا ہی نہیں ہے۔ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے ہمیشہ ان کے جیسے خوفناک مواقع پر اچھا سے چلنا پڑتا تھا، تو اس وقت کیوں ایسا کرنا ہے؟
 
😊 یہ بات ایک بار پھر ظہور آتی ہے کہ ملک کی سیاسی situación اس مقام پر چل رہی ہے جس سے کسی نے بھی منصوبہ بنانے کا عزم نہیں کیا ہوگا۔ لاکھ لاکھ پیٹیوں پر چڑھنے سے پہلے، آدھی انقلاب، آدھی مذاکرات، ان سب کی ضرورت ہے جو ملک کو ایک نئے راستے پر لے جائے۔ یہ بات یقین نہیں کہ بے کار اقدامات سے ملک کو بھلائی نہیں ملا سکتی ہے۔ انہوں نے اس وقت تک سیاسی استحکام لانے کا مقصد دیکھا ہے جب تک یہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف بہت سارے قدم उठاتا رہے۔
 
ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کی پالیسی کو اس طرح کو چلایا جا رہا ہے جیسا ناواب سے اس پر ایک ملاقات کرنا پڑتا ہے اور دوسرے وزیروں کے ساتھ بھی اس پر ایک ملاقات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں 🤔
 
واپس
Top