دہشت گردی کی بڑی وجہ کیا ہے؟ دہشت گردوں کو افغانستان سے واپس لانا تھا، افغانستان سے لوگوں کو لاکر بسایا گیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی بڑی وجہ ہم نے افغانستان سے لوگوں کو لاکر بسانا تھا اور اس غلطی کے نتیجے میں ڈیٹھ گئے تھے، دہشت گردوں کو واپس لانا اس کا سب سے بڑا سبب تھا۔
دوسری طرف، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا ایک اہم اور اسٹریٹجک صوبہ ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور یہاں کے عوام نہایت غیور اور محبِ وطن ہیں۔
دوسری جانب، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا نے چار دہائیوں کے دوران تقریباً 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی، جو ایک بڑا انسانی اور قومی کردار ہے۔
مگر، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس دہشت گردی کو روکنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے اور قومی سلامتی موجودہ حکومت کی پہلی ترجیح ہے، اور ملکی و خارجی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اس حکمتِ عملی کو بڑھایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اے پی ایس پشاور کا دلخراش واقعہ آج بھی پوری قوم کے دلوں میں تازہ ہے اور ریاست نے اس سانحے کے بعد واضح پالیسی اپنائی کہ اچھے اور برے طالبان میں کوئی فرق نہیں ہو سکتا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی بڑی وجہ ہم نے افغانستان سے لوگوں کو لاکر بسانا تھا اور اس غلطی کے نتیجے میں ڈیٹھ گئے تھے، دہشت گردوں کو واپس لانا اس کا سب سے بڑا سبب تھا۔
دوسری طرف، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا ایک اہم اور اسٹریٹجک صوبہ ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور یہاں کے عوام نہایت غیور اور محبِ وطن ہیں۔
دوسری جانب، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا نے چار دہائیوں کے دوران تقریباً 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی، جو ایک بڑا انسانی اور قومی کردار ہے۔
مگر، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس دہشت گردی کو روکنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے اور قومی سلامتی موجودہ حکومت کی پہلی ترجیح ہے، اور ملکی و خارجی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اس حکمتِ عملی کو بڑھایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اے پی ایس پشاور کا دلخراش واقعہ آج بھی پوری قوم کے دلوں میں تازہ ہے اور ریاست نے اس سانحے کے بعد واضح پالیسی اپنائی کہ اچھے اور برے طالبان میں کوئی فرق نہیں ہو سکتا۔