ٹی ٹی پی دہشتگرد جماعت، اس معاملے پر اداروں کے مؤقف کے ساتھ ہیں، بیرسٹر گوہر - Daily Qudrat

ٹی ٹی پی دہشت گرد جماعت ہے، اس معاملے پر اداروں کے مؤقف کے ساتھ ہی، بھالے اس میں واضح تو نہیں ہوا لیکن ایسی صورت حال کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

جس سے یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ پاكستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اپنے جھگڑوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک سہیل آفریدی نامزد نہیں ہے، اور اس صورتحال پر politics کی بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ واضع طور پر انہوں نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی کے کراچی دورے کے آخری دن سندھ حکومت کا رویہ بدل گیا اور حیدرآباد سے واپسی پر ان کا راستہ روکا گیا ہے۔

دل میں نرم گوشہ نہیں رکھنا چاہیے اور دہشت گردوں کے خلاف قومی ایک्शन پلان پر بھرپور عمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس پر زور دیا ہے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین نے مزید کہا ہے کہ ہر وہ جماعت جسے حکومت اور ادارے دہشت گرد سمجھتے ہیں، پی ٹی آئی بھی انہیں دہشت گرد ہی تسلیم کرتی ہے اور پاکستان کے مفاد کے خلاف سرگرم تنظیمیں اس زمرے میں آتی ہیں۔

انہوں نے مذاکرات اور سیاسی مسائل کے سیاسی حل کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ حالات نارمل رہیں۔
 
سہیل آفریدی نامزد ہونے کے بارے میں سارے معاملے کو دیکھتے ہوئے، یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ ان کی کارروائیوں کا بھالے اس میں واضح نہیں ہوا لیکن حالات کے مطابق اداروں سے بات چیت کرنا ضروری ہے، دہشت گردوں کے خلاف قومی ایکشن کو مزید بھرپور بنانا چاہیے، یہ بھالے دل میں نرم گوشہ نہ رکھنا چاہیے۔
 
اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ دہشت گردی نہیں ہے صرف ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی polítک فریم ورک میں بھال ہو جاتی ہے۔ آفریدی کا کراچی دورہ ان کی سیکولر پوزیشن کو توہین دیتا ہے۔ وہ لوگ جو دہشت گردی کے حوالے سے واضع نہیں ہوتے انہیں اپنی پوزیشن پر چیلنج کرنا چاہیے۔
 
جس ہوا پر یہ بات سامنے آئی ہے وہ ایک گंभیر صورتحال ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین کی جھگڑوں سے اس معاملے پر انہوں نے زور دیا ہے اور یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس صورتحال کو سمجھنا ضروری ہے۔

اپنے جھگڑوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دل میں نرم گوشہ نہیں رکھنا چاہیے اور دہشت گردوں کے خلاف قومی ایک्शन پلان پر بھرپور عمل ہونا چاہیے۔

اس صورتحال کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جس سے یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ حکومت اور ادارے دہشت گرد سمجھتے ہیں انہیں بھی دہشت گرد تسلیم کرنا چاہیے۔

اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے مذاکرات اور سیاسی مسائل کے political حل کی ضرورت ہے تाकہ حالات NORMAL رہیں۔
 
جی تو پی ٹی آئی نے یہ بات چھپائی ہوئی، کہ وہ سہیل آفریدی کے ساتھ ملوث نہیں تھے لیکن یہ رائے ایک دوسری جماعت کی تھی، اور کیا اسے ٹالنا چاہئیے؟ 🤔

اس بات پر غور کرنے لگتا ہوں کہ وہ جو ہونے والے پیٹرولیم یورینیم کنفرنس میں اس گروپ کی نمائندگی کرتا تھا وہ دوسرے گروپ کی واضع رائے پر ہی نہیں اٹھا سکتا، اور اسے سیاسی طور پر ٹالنا چاہئیے؟ نہیں! 😐
 
اس وقت کچھ باتें بنائی جانی چاہئیں، پAKستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اہلیت سے مراد یہ ہے کہ وہ اس معاملے میں جوڑے رہنے کی صلاحیت کے ساتھ اور ان کی اپنی جان بھی ہارنے پر تیار رہیں۔ جس نے پی ٹی آئی کی یہ مضمون تھی، وہاں ایک بات واضع ہو گئی ہے کہ دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے جب ادارے بھی ایسے لوگ کو دہشت گرد سمجھتے ہیں، تو وہ ہمیں بھی پھیلائی ہوئی جھوٹھیاں سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔
 
بصرے منزلیں، یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا چیئرمین بیرسٹر گوہر سہیل آفریدی نامزد نہیں ہے، اس کا Means وہ اداروں کے ساتھ ہی ہے جو دہشت گرد جماعت سمجھتے ہیں۔ میں بھی ایسے لوگوں کی طرف اشارہ کرتا ہوں جس کا اس معاملے پر اداروں کا رویہ بدلنا چاہیے۔ پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کے خلاف قومی ایکشن پلان پر بھرپور عمل ہونا ضروری سمجھا، لہٰذا ساتھ مل کر کام کیا جائے تاکہ اس معاملے کو حل ہو سکے۔
 
اس صورتحال میں پی ٹی آئی کی ایسی بیٹھن نہیں اور وہ ہر وہ معاملے میں دہشت گرد سمجھتی ہے جس کا کچھ لوگ جھوٹ بھر کر اس کو پکڑتے ہیں۔

میں یہ سوچتا ہوں کہ ایک سہیل آفریدی کے کراچی دورے پر انہوں نے کیا اس بات کو جھٹلا کر کے اس پر مظاہرہ کیا؟

میں نے دیکھا ہے کہ اب سے ٹی ٹی پی نے ایک ایسا رشتہ بنایا ہے جو یہ کہا کر کے اس کے خلاف سرگرم ہوگی اور اگر انہیں کچھ بھی دھمند کیا گیا تو اس کا بدلہ لگای گئے ہوںगے!

اس کے علاوہ پی ٹی آئی نے بھی انہیں یہ بتایا ہے کہ ان کے دوسرے عہدیداروں کو بھی دھمند کرنا چاہیے اور اگر نہیں تو وہ اس کی سزا بھی ملے گی!
 
اس صورتحال میں politics ko bhi thoda serious karna padega, koi bhi problem iska political solution nahi mil sakta. to sabhi parties ek saath action me aa sakti hain, dastaan mein sabhi se apni responsibility uthayi jayegi.
 
واپس
Top