دھرو راٹھی ایک معروف یوٹیوبر اور اس کی دبئی میں ملاقات نے پاکستان کے ایک ڈیجیٹل میڈیا مارکیٹر ثوبان طارق سے منسلک ہونے پر ایسا توجہ حاصل کرلیا ہے جیسا کہ وائرل ہوا۔ یہ ملاقات انسٹاگرام پر ایک ویڈیو کے ذریعے منسلک ہوئی جس میں ثوبان طارق نے مصافحہ کیا اور دھرو راٹھی کے کام کی تعریف کر کے ظاہر کیا۔
دھرو راٹھی ایک بھارتی یوٹیوبر، سوشل میڈیا انفلوئینسر اور سیاسی و سماجی تجزیہ کار ہیں جو اپنے مواد کے ذریعے نوجوان طبقے کی طرف متوجہیت کرتے رہتے ہیں۔ یوٹیوب پر ان کے سبسکرائبرز کی تعداد تین کروڑ سے زائد ہے اور ان کا مواد بھارت کی سیاست، حکومتی پالیسیوں، جمہوریت، معیشت اور فیک نیوز جیسے موضوعات کے گرد گھومتا ہے۔
دھرو راٹھی نے "آپریشن سندور" کے حوالے سے ایک ویڈیو میں دیئے گئے حوالہ جات کی تنقید کی تھی اور انہوں نے کہا کہ یہ مواد زیادہ تر انڈین میڈیا پر مبنی تھے، جو اس تاثر کو پیدا کرتے ہیں کہ وہ ویڈیو عجلت میں تیار کی گئی تھی۔
ثوبان طارق نے بھی ایک اور ویڈیو جاری کیا جو دھرو راٹھی نے انڈین میڈیا کی رپورٹنگ کے حوالے سے کہا تھا جو کراچی بندرگاہ پر قبضے جیسے دعوے کیے گئے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آیا یہ مواد بغیر مکمل تصدیق کے پیش کیا گیا تھا۔
دھرو راٹھی نے جواب دیا کہ وہ اپنی تنقید انڈین میڈیا پر کرتے رہتے ہیں، لیکن ان کا خیال ہے کہ اخبارات میں شائع ہونے والی ہر خبر کو یکسر غلط قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس پر ویڈیو دیکھنے والوں کی آراء واضح طور پر منقسم نظر آئیں۔
ایس کچھ اور نہیں ہوگا جو یہ ملاقات ہٹانے سے پہلے دھرو راٹھی کی صحت کی بات کروائی جاسکتی ہے۔ لاکھوں لوگ اس کا استعمال کر رہے ہیں اور یہ صرف ایک یوٹیوبر نہیں بلکہ ایک آواز ہے جو عوام کی بات کو سامنے لانا چاہتی ہے
جی لگتا ہے انسٹاگرام پر دھرو راٹھی اور ثوبان طارق کے ملاقات کا ایک بہت ہی دلچسپ اور متوجہ کن ویڈیو ریکارڈ کرنے کی تاکید ہے! دھرو راٹھی کو انڈین میڈیا کے حوالے سے اپنی تنقید نہیں کی جا سکتی؟ یہ بھی سچ ہو سکتا ہے کہ ثوبان طارق نے اس ملاقات کا فائدہ اٹھایا ہے! لگتا ہے ان دونوں کے درمیان کی بات کو بہت زیادہ دیکھنے والوں پر مشتمل کرنا پڑ گیا ہے...
یہ تو دھرو راٹھی نے بھارتی میڈیا کی طرف سے کیا گیا تھا ایسا انٹرنیٹ پر وائرل ہوا ہوگا تو وہاں سے ان کے جواب دے کر کہتے ہیں کہ ہر خبر نہیں غلط ہوتی، یہ بھی کچھ غلط ہو سکتی ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ لگتا ہے وہ انڈین میڈیا پر اپنی تنقید کر رہے ہیں، لیکن یہ بھی ایک Fair Point ہے کہ وہ اس کے لیے اور تو ایسا ہونا چاہیے۔
یاروں! اب یوٹیوبر دھرو راٹھی اور انڈین میڈیا سے جو ہوا اس پر کھل کر بات چیت کرنا ہو گی۔ ایسا ماحول بنانے والے ہر ایک کی اپنی جگہ ہے، اور یوٹیوبر دھرو راٹھی نے اس کی اپنی بات کہی ہے۔ لیکن ابھی بھی اس پر تنقید کرنا ہے یا اس کا احترام کرتے ہوئے مواصلات کو گزرنا چاہیے؟
میں یہ پورے ماحول کے لیے ایک بڑا خطرہ ہونے کا خوف دیتا ہوں، جب انسٹاگرام پر ایسا مواد شائع ہوتا ہے جو وائرل ہوجاتا ہے...
دھرو راٹھی کی سیاسی تجزیہ کاری سے مجھے کچھ بھی نہیں مایوس کرتا، لیکن اس واقعے سے میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں بھی ایسا اسی طرح کی تحریک کرنے والے لوگ ہیں جو وائرل ہوجاتے ہیں...
یہ بات تو پچتائی ہو گی کہ اس مقالے کو دیکھ کر انسٹاگرام پر کیسے مواد شائع ہوتے ہیں اور وائرل ہوجاتے ہیں...
میں اس سے محبت کرتی ہوں، دھرو راٹھی کے لیے پاکستان میں ایسا نئا دور شروع ہو گیا ہو...
بہت کچھ اچھا ہوا! دھرو راٹھی ایک انتہائی اچھے ماہر لگ رہے ہیں جس نے پاکستان میں اپنے مواد کے ذریعے سب سے زیادہ یوتھ بھرتے ہوئے لوگوں کو متوجہیت دی ہے. اسے دیکھتے ہی منفرد محسوس ہوتا ہے جیسا کہ وہ سیاسی اور سماجی تجزیات سے تین بھارت کی سرزمین پر اپنے مواد کو لگایا ہے.
لیکن یہ بھی اچھا دکھائی دیتا ہے کہ ثوبان طارق نے اس ملاقات میں بھی ایسا دکھایا ہے جیسے وہ خود بھی ان کو جانتے ہوں. یہاں تک کہ وہ ان کے حوالے سے اپنے آپ کو ایک معراج دیکھتے رہتے ہیں.
اور یہ لگتا ہے کہ ثوبان طارق نے دھرو راٹھی سے بڑا پیغام پھینٹا ہے! وہ کبھی اس بات پر توجہ نہیں دیتا کہ اگر یہ مواد بغیر مکمل تصدیق کے پیش کیا گیا تو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا! وہ صرف criticism اور criticism کرنے میں محسوس ہوتا ہے...
دھرو راٹھی اور ثوبان طارق کا مشغول ہونا میں ایک بات بھی سامنے نہیں آئی کہ ان دونوں کی طرف متوجہیت اس وقت کبھی کبھی سوشل میڈیا پر دیکھی جاتی ہے لیکن اب وہ یقیناً دوسرے مواقع پر بھی نظر آئیں گے
ایس لگتا ہے کہ دھرو راٹھی اور ثوبان طارق کا ایک ڈیجیٹل ملاقات پاکستان میں سوشیل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے۔ مگر یہی نہیں، دھرو راٹھی کے کھیلاپ کے حوالے سے اس ملاقات کی اور ان کے تعلقات میں ایک بار پھر توجہ ہے۔
یوٹیوب پر دھرو راٹھی کی popularity بہت زیادہ ہے، جو کہ ان کا موضوعات سے متعلق مواد پر مبنی ہے اور وہ بہت سے نوجوانوں کو اپنے سامنے لاتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود دھرو راٹھی نے "آپریشن سندور" کے حوالے سے ایک ویڈیو میں دیئے گئے حوالہ جات کی تنقید کی، جو کہ انڈین میڈیا پر مبنی تھے اور اس تاثر کو پیدا کرتی ہیں کہ وہ مواد عجلت میں تیار کی گئی ہے۔
اب دھرو راٹھی نے بھی ایک اور ویڈیو جاری کیا جو انڈین میڈیا کی رپورٹنگ کے حوالے سے کہا تھا، جس میں کراچی بندرگاہ پر قبضے جیسے دعوے کیے گئے ہیں۔ لیکن دھرو راٹھی نے جواب دیا کہ وہ اپنی تنقید انڈین میڈیا پر کرتے رہتے ہیں، لیکن اس کی گئی ہوئی خبر کو یکسر غلط قرار نہیں دیا جاسکتا۔
سوشل میڈیا پر دھرو راٹھی کے یوٹیوب پر 3 ملین سے زائد پلاٹ فارم्स پر اسے بلاول بنانے کی کوششوں سے وہیں بھرپور ماحولیات دیکھنے آئیں! انہوں نے اپنی رائے میں یہ بات تھی کہ "آپریشن سندور" کے حوالے سے دی گئی حوالہ جات صحیح ہیں، لیکن دیکھنے والوں کی کچھ غلط فہمی تھی... اور ثوبان طارق نے بھی اس موضوع پر ایک اور موقف پیش کیا جو کہ دیکھنے والوں کو ڈھیل مچا دیا!
دھرو راٹھی کی تنقید پر سچمایں کرتا ہے کہ یہ انڈین میڈیا پر مبنی ہونے کی وجہ سے ہو رہی ہے اور اس کی وجہ سے بھارتی عوام کا اعتماد وिश्वاس کو نقصان پہنچتا ہے یہ سب سوشل میڈیا پر ظاہر ہوتا رہا، اور میری بات سے سچمائیوں کی یہ بات محض وائرل ہونے والی ہے ہانہ۔
دھرو راٹھی اور ثوبان طارق کے ملاقات کا یہ وائرل ویڈیو ہر کوئی دیکھنا چاہتا ہے!
مگر پچھلے دن بھی دھرو راٹھی نے اپنی وائرل ویڈیو کے ساتھ ایک اور سوشیل میڈیا پر لگا دیا جس میں انھوں نے ایک ڈجیٹل میڈیا مارکیٹر کو یہ بتایا کہ ہم وائرل ویڈیو دیکھ رہے ہیں لیکن اس کے پیچھے ہونے والی شروعاتات کے بارے میں کوئی جان نہیں رکھتی
امید ہے کہ پانچویں سال کی دہائی میں بھی ہم اپنی ایسی ملاقاتوں اور وائرل ویڈیوز کے ذریعہ انفلوئینسرز اور سوشیل میڈیا پر دیکھنے والوں کو مل کر پہلی سے ہی رکھتے ہیں
دھرو راٹھی کو ایسے لوگ نہیں دیکھتے جو ان کے موقف سے متفق ہوں، اور وہیں ثوبان طارق کو بھی اس طرح کی ملاقات کے بعد دیکھنے کے لئے کافی ہے جو ان کا موقف دوسرے سے مختلف ہے، لیکن یہ بات صریح طور پر بتائی جاسکتی ہے کہ دھرو راٹھی نے انڈین میڈیا کی رپورٹنگ کو چیلنج کیا ہے اور وہ اپنی باتوں پر ہمیشہ یقینی ہوتے ہیں، مگر اس بات کو دیکھنا بہت دلچسپ ہے کہ ثوبان طارق نے اپنے موقف میں تبدیلی کی ہے یا نہیں؟
دھرو راٹھی کے یہ معاملہ میرے لئے بہت interessant hai ان کی تنقید کو مجھے متوجہیت ہے اور اس پر میں توجہ نہیں دیکھ رہا ہوں گا۔ ثوبان طارق کے جواب دہ جواب کا پختا انٹرلیول میں تو یہاں تک پہنچا جاتا ہے کہ اس معاملے کی کوئی لگام نہیں ہوئی۔ دھرو راٹھی کے بھارتی مواد کو اور اس کی تنقید کو مجھے سمجھنے میں Problem nahi hai انہوں نے ہمیشہ ایسا ہی کہا ہے کہ بھارتی میڈیا سے دूर رہو اور پاکستانی اور بین الاقوامی مواد کو پڑھیں۔
عجب کیا دھرو راٹھی اور ثوبان طارق ایسی فیلڈ میں آئے ہیں جہاں وہ اپنی بیٹھی ہوئیں؟ اس نے ان کے جواب کچھ بھی نہیں دیا اور اب وہ ان کے ساتھ ہم آہنگی میں ہیں، یہ دیکھنا حیرانی کیا ہوا ہے?
دھرو راٹھی کا یہ ایسا ہوا جیسے بھارتی عہد انڈیا سے ہٹ کر ایک نئی دنیا میں قدم رہا ہو... پہلی بار کہنا تھا کہ وہ یہاں آئے، اور اب دیکھنا تھا کہ ان کے لائسنس کی بھارتی ریڈیو اور ٹیلی ویژن اسٹیشنز نے جب تک ممکن کیا... ثوبان طارق کا یہ جواب ایک سوال ہے جو بھرپور عہد انڈیا سے پूछنا چاہیے تھا...