دنیا کے تیز ترین ڈرون نے دوبارہ عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا

ستار نواز

Well-known member
دنیا کے تیز ترین کوڈکوپٹر ڈرون نے دوبارہ عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا ہے اور اس کے ساتھ ایک بھرپور تاریخ بھی رچائی ہے۔ پیری گرین وی 4 کواڈ کاپٹر جنوبی افریقہ کے کیپ ٹاؤن میں مقیم ایک فضائی ویڈیو گرافر لیوک بیل نے اپنے والد مائیک کی مدد سے بنایا تھا اور اس نے ایک تاریخی ریکارڈ توڑ دیا ہے جس کے لئے یہ پہلا عالمی اعزاز کا نام کرنا ہے۔

لیوک بیل، جو جنوبی افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں، نے اپنے والد مائیک کی مدد سے ایک تیز ترین کوڈکوپٹر ڈرون تیار کیا ہے جو دنیا کے تیز ترین ڈرون کی حیثیت سے عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا تھا۔ تاہم، اس ریکارڈ کو زیادہ دیر تک قائم نہیں رکھ سکا۔

گزشتہ ماہ آسٹریلوی انجینیئر بینجمن بیگس کے بنائے گئے ڈرون نے اس ریکارڈ کو توڑ دیا تھا اور 626 کلومیٹر کی رفتار سے پرواز کر کے دنیا کی سب سے تیز ڈرون میں شمار ہوا تھی۔ تاہم، ایک ماہ بعد لُک اور مائیک بیل نے اپنے ڈرون کی رفتار میں حیرت انگیز اضافہ کرتے ہوئے اسے دوبارہ عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے اور اب یہ 657.59 کلومیٹر کی رفتار سے پرواز کر رہا ہے جو دنیا کے تیز ترین ڈرون کی حیثیت سے عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا ہے۔
 
یہاں تک کہ ڈراپ 656 کلومیٹر سے بھی چل sakta hai, yeh kaisi cheez hai? 🤯 pehli baar paryi green 4 ko kaap karne ke liye 626 km/hr tak pahunch gaya tha, ab logon ne apni madad se record tood diya toh phir bhi inhone record back kar liya, sachai ka matlab kaisa hai?

aur ek baat jo mujhe pasand aayi hai woh yeh hai ki lek aur mika ke beech mehfil ko khelta hai aur unki usne kaam ki quality par charcha bhi nahi karni pad rahi. wo toh apni quality hi achhi karta hai, abhi baaki sab kuch kisi ke saath compare karna zaroorat nahi hai.

aur agar 657 km/hr tak pahunchne mein uski madad mehfil bhi hui toh yeh to ek aur cheez hai.
 
یہ بات سچ ہے کہ لوگ ایسے ڈرون بناتے ہیں جو ہر ریکارڈ توڑ دیتے ہیں اور فیلڈ میں بھی نئے ریکارڈ کی تلاش میں گہرت اور دلچسپت کا مظاہرہ کرتے ہیں 😅

لیک اور مائیک بیل کو اس پر اپنی جسیرتی کوشش کرنے کی بھلائی ہوگئی ہو گئی، یہ دیکھنا کہ وہ ایک تیز ترین کوڈکوپٹر ڈرون بنانے میں کس طرح کوشش کر رہے تھے اور اب اس نے دنیا کے تیز ترین ڈرون کی حیثیت سے عالمی اعزاز اپنایا ہے وہ ایک بڑی کامیابی ہے 🚀

دنیا میں انجینئرنگ میں نئے اور Innovative تیزاب پر کاوش کرنا اچھا ہے، یہ ریکارڈ توڑنے کے ساتھ ساتھ دلچسپت پیدا کرنے کے لیے بھی ایک اچھا مظاہرہ ہے 💡
 
یہ واضح ہو گیا ہے کہ لوگ دوسرے کو ایک توڑ اور اسے دوسرا توڑ کے ہی جھٹلایا کرتے ہیں!

لیوک بیل نے اپنے والد مائیک کی مدد سے تیز ترین کوڈکوپٹر ڈرون بنایا اور اس نے ایک تاریخ رچائی تھی، حالانکہ وہ اس ریکارڈ کو زیادہ دیر تک قائم نہیں کر سکا تھا۔

حال ہی میں آسٹریلوی انجینیئر بینجمن بیگس کے بنائے گئے ڈرون نے اس ریکارڈ کو توڑ دیا تھا اور دنیا کی سب سے تیز ڈرون میں شمار ہوا تھی، لیکن اب یہ لوک اور مائیک بیل نے اپنے ڈرون کی رفتار میں حیرت انگیز اضافہ کرتے ہوئے اسے دوبارہ عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے اور اب یہ 657.59 کلومیٹر کی رفتار سے پرواز کر رہا ہے!

یہ نئا ریکارڈ ایک عجیب بات ہے، مگر یہ واضح کھلا ہو گیا ہے کہ یہ لوگ دوسرے سے بہتر ہی بننے کی کوشش کر رہے ہیں!
 
یہ تو دیکھنا جاتا ہے کہ ایک ماہ میں کچھ نئی اور بہترین چیزوں کی بات ہوتی ہے! 🤯 پہلے لука نے اپنے والد مائیک کی مدد سے ایک تیز ترین کوڈکوپٹر ڈرون بنایا اور اس ریکارڈ کا نام کر لیا، اور اب وہ اس ریکارڈ کو توڑنا چاہتے ہوئے لاک اور مائیک نے دوبارہ اپنے ریکارڈ کا نام کرلیا ہے! ایک بھرپور تاریخ بنائی گئی ہے، لیکن یہ سوال ہے کہ یہ سب کیا لینے کے لیے ہوا? 🤔
 
اس دuniya bhar mein aage badhne ke liye humein aisa ek drone banaya hona chahiye jo koi problem na ho. Luka aur Mike Bell ko unki mehnat se main respect karta hoon, ab vah dono sabse tez drone banaane wale hain 🚀
 
واپس
Top