دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے آیت اللّٰہ خامنہ ای

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران میں مداخلت پر ردعمل میں کہا ہے کہ دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے، جو کہ اس کی لازمی ذمہ داری ہے۔

ایران میں مظاہروں سے متعلق یہ بیان ان حالات میں پیش کیا گیا جب امریکی صدر نے ایران میں جاری مظاہروں کو دھمکاؤنے کی دھمکی دی اور تہران کو وارننگ دی۔

ان کی یہ سند کہیں تو پہلے سے ہوئی ہو گی جب کہ امریکی صدر نے ایران میں جاری مظاہروں کا تذکرہ کرتے ہوئے ان لوگوں کی پوری مدد کیلئے طاقت کے استعمال پر مظاہرین کی دھمکی دی۔

آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدر کو یہ بتایا ہے کہ اگر ایران اپنی روایت سے باہمی مظاہروں اور تحرک کی جانب ختم کر دیتا ہے تو اس کا جواب ہو گا کہ وہ لوگ جو اس پر گولیاں برساتی ہیں ان کی مدد کیلئے آئے گا۔
 
ایران کے یہ معاملہ میری خواہش سے دور ہو گا اور امریکی صدر کو اس پر چیلنج کرنا پڑ گا تو وہ بھی ناکام ہو جائیگا ⚔️ ایران کے لیے یہ سب کچھ سستا اٹھانے کا وقت نہیں۔
 
ایسا کہنا ہر گز مشکل نہیں ہوگا کہ ایران اور امریکہ اپنی دو sided صلاحیتوں کو استعمال کر کے ایک اور حل تلاش کریں۔ اس بات پر یقین کے ساتھ بھی کہ اگر کچھ لوگ جھٹلے رشتے بناتے ہیں تو اس گروپ کو ختم کرنا چاہئے اور ایسے نئے مظاہرین کی طرف بڑھنا چاہئے جو دو sided تاکیدوں پر مبنی نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ لوگ جنہیں ان مظاہروں میں شامل ہونے کی ترغیب دی گئی، ان پر شہید کی جانوں کا پابند بھی نہیں کر دیا جائے۔
 
🤯 ایران میں مظاہروں سے متعلق باتوں کے درمیان ایک بات نہیں رہتی جس میں یہ بات کہی جا سکے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایسی بات کہی ہو سکتی ہے جو دنیا کی توجہ کا مرکز بن جائے گئی اور دنیا بھر میں لوگ اس پر اپنی رाय کے لیے تیار ہو گئے ہوں گے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جو تنाव موجود ہے وہ ایسا تو کبھی نہیں ہوا ہو گا جس پر دنیا بھر کے لوگ اپنی رائے کے لیے تیار ہو گئے ہوں گے اور یہ بات ہوگی کہ ابھی تک کہہ لینا بھی ایک ناڈی ہو گئی ہوں گی۔
 
اس کھلے چککر کی تحریر ایت اللہ خامنہ ای نے جاری کر دی ہے تو یہ صرف مظاہروں کی طرف اشارہ کر رہی ہے، لیکن اس میں کچھ زیادہ گہری جگہ ہے۔

امریکہ نےIran میں مداخلت پر غضب کا اظہار کیا تو یہ صرف Iran میں موجود امریکی شہریوں کی جانب سے لیا گیا اور اس پر غور نہیں کیا جاسکا، مگر وہ لوگ جو ایران میں رہتے ہیں ان کے لئے یہ بھی ایک خطرناک بات ہوگی۔

ایران میں اب دوسری طرف سے جانور ہونے لگا ہے، اس نے وہ لوگ جو امریکہ سے اچھی طرح ہٹ گئے تھے کو اپنے پاس لٹکایا ہے اور اب وہ ان کی جانب سے بھی مدد کی کوشش کر رہا ہے۔

اس کے برعکس Iran میں پہلے تو ان لوگوں نے جو امریکہ سے اچھی طرح ہٹ گئے تھے ان کی مدد بھی کرنے کی کوشش کی، مگر اب وہ دوسری بار اس طرف سے اپنی جان جبک کر رہے ہیں۔
 
آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدر کو ایسی لازمی ذمہ داری سے بھر دی ہو گی جس کے بغی وہ ایران کی مظاہروں سے نمٹنے میں اپنی تمام طاقت استعمال کریں گے 😬

امریکہ نے جو اس کے لئے دھمکی دی ہے وہی اِس لائے سے بھر گیا ہو گا جبکہ ایران کی شان و مراد کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر وہ اپنی روایت سے باہمی مظاہروں اور تحرک کی جانب ختم کر دیتا ہے تو ان کی مدد کیلئے نازک لائے سے بھی کام نہیں کریں گے 🙅‍♂️
 
ایران کا یہ رد عمل جسمانی طور پر منظر عام پر لانا چاہیے، یہ صرف تھوٹ پھولنا نہیں بلکہ ایسے ڈرامے کی پیشکارانہ کھیلنے سے بھی کئی بار ان کا مظاہرہ اس پر زیادہ بھارپور بن جاتا ہے...
 
امریکی صدر کو ایران میں مداخلت کرنے کی دھمکی دے کر پہلے بھی کیا نہیں تھا؟ مظاہروں سے متعلق اس بیان پر یہ بات بھی ہو گی کہ وہ ان لوگوں کی مدد کیلئے آئے گا؟ اور اگر ایران اپنی روایت سے باہمی مظاہروں اور تحرک کی جانب ختم کر دیتا ہے تو اس کا جواب ہو گا کہ وہ لوگ جو اس پر گولیاں برساتی ہیں ان کی مدد کیلئے آئے گا؟ ایسے میں یہ بات بھی دیکھنی پڑتی ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں کو اپنے حریفوں کی مدد کیلئے وارننگ دی گئی ہے؟
 
ایسے میں تو یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ مظاہروں میں بھاگتے ہوئے لوگ دھمکاؤں اور تنہائی کی طرف راسٹی گئے تو۔ جب تک آپ اپنے دماغ کو صاف نہیں کرتے، آپ خود میں ڈھونڈتے رہو گا، یوں سے آپ کتنے بھی مظاہر اور تحریکیں کر سکتے ہیں تو اس کا نتیجہ ہوتا ہے کہ آپ کو اپنا مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔
 
واپس
Top