مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی لمبی اننگز کھیلتے جانے کا ارادہ ہے، جس میں دونوں جماعتوں کو مل کر politician میں کام کرنا چاہئے اور وہ ملک کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کی کوشش کریں گی۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے دوسرے جیسے 1988 میں الیکشن کا مظاہرہ کیا تھا جب بے نظیر بھٹو وزیر اعظم اور میاں نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے تھے، لیکن اب دونوں جماعتیں ایک دوسری کی مخالف رہیں ہیں۔
دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی مخالف رہنے کے بعد بھی اب ان کا تعلقات خوشگوار ہے اور دونوں پارٹیاں ایک دوسری کی مخالفت سے دور ہو گئی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے 2006 میں ایک معاہدہ پر دستخط کیے تھے جس کے تحت دونوں جماعتیں ایک دوسری کی مخالف رہنے سے دور ہونے کی کوشش کرتی رہیں۔
ابھی 2024 میں الیکشن کا اعلان ہوا تھا جس پر دونوں پارٹیاں ایک دوسری کی مخالف رہنے سے دور ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔
یہ بات حقیقی طور پر دل چور ہے کہPolitics میں ایسا کام کیسے کیا جائے جس سے ملک کو فائدہ پہنچے... کہاں ہوں politics کے نال بھی اچھے لگنے کا ایک مثال یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے ماضی میں ایسا معاہدہ کیا جیسے اس سے ملک کے لیے فائدہ ہوگا... لیکن اب وہی سیاسی ماحول تازہ ہو رہا ہے، جس سے اس معاہدے کو پورا کرنا مشکل ہوگیا ہے... Politics میں ایک دوسرے سے ملنے کا اہل بھی رہتے ہیں، لیکن اب یہ بات ایک سوال بن گئی ہے کہPolitics کی چالاکیا کیسے ختم کی جائے؟
عجیب گALTAY HAI, مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے ماضی میں دوسرے جیسا مظاہرہ کیا تھا، لیکن اب وہ ایک دوسری کی مخالف ہیں؟ یہ تو بہت گم شہیر ہے! پہلے کہا کرتے تھے کہ دونوں جماعتیں ایک دوسری کی مخالف نہیں رہیں گی، اور اب وہی کہتے ہیں؟ یہ تو Politics میں ہمیشہ اچھا سیر تھوڑا دیتے ہیں!
یہ تو ایک نئی کھیلیڈی ہے، مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی مخالفت سے دور ہونے کی کوشش کر رہی ہیں؟ یہ بہت اچھا ہے، لگتا ہے کہ ابھی الیکشن کا اعلان ہوا تو اس سے قبل دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی مخالفت سے دور ہونے کی کوشش کر رہی ہیں? لگتا ہے یہ سب کو مل کر کوئی اچھا نتیجہ دینے میں مدد کرے گا، یا تو مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی مل کر معاشی پچھتاز ہو جائیں گے، یا اس نئی کھیلیڈی سے کچھ نتیجہ نکلا ہoga!
اورہر وہ کہتے ہیں کہ دونوں جماعتیں ایک دوسری کی مخالف رہنے سے دور ہونے کی کوشش کرتی ہیں لیکن پچھلے کہتے تھے کہ دونوں جماعتیں ایک دوسری کو ساتھ دینا چاہئیں اور اب کہتے ہیں کہ دونوں جماعتیں politician میں کام کرنا چاہئیں تو یہ سب کچھ کیا کرتا ہے؟
ایک دوسرے کی مخالفت سے دور ہونے کے بعد بھی دونوں جماعتیں ایک دوسری کی مخالف رہنے کی جگہ پر آئی ہیں اور اب یہ سب کچھ کیسے توئل لگاتا ہے?
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے 2006 میں ایک معاہدہ پر دستخط کیے تھے لیکن اب وہ کیسے توئل لگاتے ہیں? 1988 میں الیکشن کا مظاہرہ کیا گیا تھا جب بے نظیر بھٹو وزیر اعظم اور میاں نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے تھے لیکن اب وہ کیسے توئل لگاتے ہیں?
مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے ابھی الیکشن کا اعلان کیا تو مجھے لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مخالف رہنے سے دور ہونے کی کوشش کرتی ہیں اور اس لئے انہوں نے لمبی اننگز کھیلنا شروع کی ہے। میں نہیں جانتا کہ یہ کس طرح کے منصوبے سے منسلک ہے، لیکن اس بات پر شک نہیں کہ وہ معاشی طور پر ملک کو مستحکم بنانے کی کوشش کرتی ہیں
ایسی بات کی اچھی نہیں ہوتی کہ دونوں جماعتیں ایک دوسری کی مخالف رہیں ہیں، یہ صرف الیکشن کی بیداری میں ہوئی تھی؟ اب اس سے نتیجہ ملے گا کہ دونوں جماعتیں ایک دوسری پر ٹھیس پہنچائیں گی اور وہ تعلقات خوشگوار بنتے رہتے ہیں؟ سچ میں یہ 1988 کی طرح ہی ہو گئے ہیں جس کا نتیجہ بھٹو اور نواز شریف کی حکومت کا ہوا تھا، لہذا اب تک سے نتیجہ ایک بد سیرے میں ہوئے گئے ہیں...
ابھی مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسری کی طرف بیدار ہونے کا اعلان کیا ہے, لگتا ہے اسے ابھی بھی ایک کامیاب راز نہیں پایا گیا؟ میرے خیال میں یہ بات اچھی ہے کہ اگر دو دوسرے جماعتیں ایک دوسری کی طرف ہیڈ وٹس کریں تو اب بھی وہ دونوں پوری طاقت کا استعمال کر سکتے ہیں اور ملک کو معاشی طور پر مستحکم بنانے میں کام نہیں آ سکتا۔
ہمیشہ سے میں سمجھتا آ رہا ہوں کہ اسے بہتر ہے جب کچھ جماعتیں ایک دوسری کی مخالف رہنی چاہیں، کھل کر۔ یہ لوگوں کو پتہ لگایga کہ ان کے ووٹز کو کم سے کم ہونے پر مجبور کیا جائے گا۔
یہ لگتا ہے کہ یہ پیغام پوری طرح ناکام ہو جائے گا… وہ دونوں جماعتیں دوسرے کی مخالفت سے دور ہونے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن آگے بڑھتے ہوئے یہ واضح نہیں ہوتا کہ انہوں نے اس کے لئے کیا استدلال دیا ہے؟ 1988 کی طرح دوسرے جیسا مظاہرہ کرنا اور الیکشن کا اعلان کرنا ہی بڑا مفید نہیں ہوگا…
یہ بات بھی پتہ چل گئی ہوں گی کہ دونوں جماعتوں نے ابھی الیکشن کا اعلان کیا ہے اور ابھی انھوں نے کیا یہ دوسرے جیسے 1988 میں الیکشن کا مظاہرہ کیا گیا تھا؟ ایسا لگتا ہے کہ دونوں جماعتیں ایک دوسری کی مخالف رہنے کے لیے جھجڑت بڑھانے والی ہیں، لیکن ابھی تک میں کیا یہ انھوں نے الیکشن سے پہلے ایسا دوسرے جیسے مظاہرہ کیا تھا؟
اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسری کی مخالف رہنے سے دور ہونے کی کوشش کرتی رہی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں اپنی جماعتوں کی پالیسیوں میں کسی بھی تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے، اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ ایک دوسری کی مخالفت سے دور ہونے کے لیے اپنی پالیسیوں میں ایسے تبدیلیاں لائیں جس سے دونوں جماعتیں اپنے مقاصد کو حاصل کر سکیں
جیسا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے 1988 میں الیکشن کا مظاہرہ کیا تھا، اب وہ ایک دوسری کی مخالف رہنے سے دور ہونے کی کوشش کرتی ہیں। لیکن ابھی میڈیا میں اس بات کو دیکھنا مفرح کن لگ رہا ہے کہ وہ ایک دوسری کی مخالف نہیں ہیں، بلکہ ان کے درمیان یہ تعلقات اب بھی خوشگوار ہیں۔
ابو تھوڑا سا حوالہ لینا چاہئے تو وہ دونوں 2006 میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت وہ ایک دوسری کی مخالف رہنے سے دور ہونے کی کوشش کرتی رہیں۔ لیکن ابھی میڈیا میں اس بات کو دیکھنا مفرح کن لگ رہا ہے کہ وہ ایک دوسری کی مخالف نہیں ہیں، بلکہ ان کے درمیان یہ تعلقات اب بھی خوشگوار ہیں۔
جب میں اپنے گریجویشن کے دوران کوئین سیہا سے بات کر رہا تھا تو وہ نے کہا تھا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی صدر کے طور پر اپنی جماعت کی مہارتوں کو دکھانے کے لئے 2024 میں الیکشن میں حصہ لیں گے۔ اور اب اس بات کو سمجھنا بھی مشکل لگ رہا ہے کہ ان کا یہ اعلان کیا ہو گا یا نہیں?
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے 1988 میں الیکشن کا مظاہرہ کیا تھا جس پر ابھی بھی دھڑکے ہوئے ہیں. ان دونوں جماعتوں نے 2006 میں ایک معاہدہ پر دستخط کیے تھے جو اب تک کبھی نہیں ٹوٹا ہے.
لیکن اب الیکشن کا اعلان ہوا ہے اور دونوں پارٹیاں ایک دوسری کی مخالف رہنے سے دور ہونے کی کوشش کرتی ہیں.
میری رाय میں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے دیر سے ٹھوس فریڈ کم لگایا ہے اور اب الیکشن کا اعلان ہوا ہے.
اس لیے یہ سچ ہے کہ دونوں جماعتوں کو ایک دوسری کی مخالف رہنے کی بجائے، ایک دوسری کی مخالفت سے دور ہونے کی کوشش کرنی چاہیے.
ایسا محसوس ہوتا ہے جیسے دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو اسٹھری نہیں کیوں رہتے ہیں? پہلے 1988 میں تو انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر الیکشن جیت لیا تھا، اب وہ ایک دوسرے کی مخالف رہتے ہیں؟ یہ تو کیسے ممکن ہوگا؟
یہ بات بہت اچھا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک دوسری کی مخالف رہنے سے دور ہو گئیں... حالانکی کہ 1988 میں انہوں نے وہی محسوس کیا تھا جو اب انہیں محسوس ہو رہا ہے... لیکن یہ بات بھی اچھی ہے کہ دونوں جماعتیں معاشی طور پر مل کر ملک کو مستحکم بنانے کی کوشش کریں گی... وہ ایک دوسرے کی مدد سے بہت کچھ کر سکتے ہیں... لیکن یہ بات بھی یقینی نہیں کہ انہوں نے اس وقت کی حقیقت کو سمجھ لیا ہے یا نہیں...
بہت ہی دلچسپ بات ہے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو ایک ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ ہے? یہ ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا!
جیسا کہ جسمانی اور Mental fitness دونوں کی ضرورت ہوتے ہیں وہی ٹینشینل اور Polticical Fitness کے لیے بھی ضروری ہے! اس معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے دونوں جماعتیں اپنی internal politics کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کریں گی اور ان کی political strategy کو یکجا کرنے کی کوشش کریں گی!
اس معاہدے نے 1988 میں الیکشن کا مظاہرہ کیا تھا جب دونوں جماعتیں ایک دوسری کی مخالف رہیں، لیکن اب دونوں جماعتیں ایک دوسری کی مخالف نہیں ہیں اور ان کا تعلقات خوشگوار ہوا ہے!
ابھی الیکشن کا اعلان ہوا تھا اور دونوں جماعتیں ایک دوسری کی مخالف رہنے سے دور ہونے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن یہ معاہدہ اس وقت تک کام کرسکتا ہے جب تک دونوں جماعتیں ایک دوسری کی مخالفت سے دور رہن!
میری نظر میں یہ بات ٹھیک ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنی طاقت کا استعمال وہیں سے شروع کیا جہاں بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان 1988 میں الیکشن کا مظاہرہ تھا، لیکن اب یہ بات قابل حیرت ہے کہ دونوں جماعتیں ایک دوسری کی مخالف رہی ہیں اور وہیں سے 2006 میں معاہدہ کر کے اپنے تعلقات کو خوشگوار بنانے کی کوشش کرتی رہیں ہیں...
میں سوچتا ہوں کہ دونوں جماعتیں ایک دوسری کی مخالف رہنے سے دور ہونے کی کوشش کرتی رہیں تو، اب وہ کوئی نئی بات کھیل سکیں گی? میں یہ چاہتا ہوں کہ دونوں جماعتیں ایک دوسری کی جانب مبذول ہو جائیں اور مل کر معاشی طور پر ملک کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں گی.
امر اور دوسری جماعت کو اتنا ہی اچھا لگتا ہے جتنی تباہ کرتے ہیں وہ دو سال سے ایک دوسرے کی مخالف رہے ہیں، اور اب اس کی بجائے اس پر ایک ڈھال مل کر کام کرنا چاہیے؟ مگر یہ پوری بات لگتا ہے کہ وہ دو سال سے ہو کر ٹیکسٹ کیپڑے پہن رہے ہیں اور ابھی نئی گارمنٹ بنانے کو تیار ہوچکے ہیں!