E-challan of another stolen motorcycle reaches original owner's house in Karachi | Express News

لوڈو کنگ

Well-known member
کراچی میں ایک شہری نے دو سال قبل چوری ہونے والی اپنی موٹر سائیکل پر ایچالان ملنا، وہ حیران رہ گئے تھے۔ اس کی موٹر سائیکل 7 دسمبر 2023 کو لیاقت آباد کے علاقے سے چوری ہوئی تھی اور ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی تھی، تاہم اس کی برآمد نہیں ہوسکی تھی۔ لیکن کچھ دنوں میں یہ بات سامنے آئی کہ اس پر ای چالان مل گیا۔

اس شہری کا کہنا ہے کہ اس کو اچانک 28 دسمبر 2025 کو ای چالان موصول ہوا تھا، جس میں نیشنل اسٹیڈیم فلائی اوور کے قریب ایک ایف آئی آر سے چلایا گیا تھا۔ لیکن جب وہ اپنی موٹر سائیکل کی پوسٹنگ کر رہے تھے تو اس پر یہ ای چالان لگایا گیا تھا جو دو سال سے اس کے قبضے میں نہیں ہوئی، اس لیے اس پر ٹریفک خلاف ورزی کی بات سے بھی بالکل بالاتر ہے۔

اس شہری نے پولیس اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ موٹر سائیکل کی برآمدگی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ای چالان کے معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل ذمہ داروں کا تعین ہوسکے۔

شہری یہ بات بھی بتائے کہ ایسے واقعات شہر میں مزید مشکلات اور ذہنی پریشانی کا باعث بن رہے ہیں، جس سے شہریوں کو اپنے محفوظ اور آمن مومن تھان تک بھی نہیں جانے کی صورت میں پریشانی کا سامنا کرنا पड़तا ہے۔
 
اس دوسرے ماحول میں چوری ہونے والی سائیکل پر ایچالان ملنا تو بھی نہیں ہوتا کتنا عجیب! 🤯
 
یہ واقعات ایسے لمحوں کو یاد دلاتے ہیں جب بھی کچھ نئے معاملے پیدا ہوتے ہیں اور آپ سے سوچنا پڑتا ہے کہ پہلے کیا تھا؟ یہ شہری ایسے حالات کی بات کر رہے ہیں جس سے آپ بھی گلا ملایا ہوا پوچھتے ہیں اور ایسی صورت میں آپ کیا کرتے؟
 
اس شہری کی بات سے ایک کہوتا ہے اس سے بھی زیادہ متاثر تھوڑا بھی دیکھنا، یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ اپنی موٹر سائیکل کو چوری کیا کر رہے ہیں اور فائل ڈیرج کرائیں بلکہ پھر بھی اس پر ایسا چالان مل جاتا ہے جو دوسرے لوگوں کی موٹر سائیکل پر نہیں ملتا، یہ تو ہر سال کے حالات میں ایک نئا ریکارڈ بن رہا ہے، پھر ان شہریوں کے دائرے میں بھی ٹریفک خلاف ورزی کی بات سے واضح اور زیادہ نہیں تھی۔
 
ایسا تو حیرانیہ ہے! ایچالان ملنا دو سال بھی گزری ہیں اور اب بھی اس شخص کو یہ بات معلوم نہیں کہ وہ کیسے ایسا ہوا? اور جب اس پر ایچالان مل گیا تو کیسے نہیں پتہ چلا کہ وہ دو سال سے اس کی ملنے والی ہے؟

اس واقعات کو دیکھتے ہوئے، میرا خیال ہے کہ اس پر ایف آئی آر کے سسٹم میں بہتری لانے کی ضرورت ہے جبکہ شہریوں کو اپنی آپریشنل سائیسٹمز میں بھی بہتری ملے، اس سے ایسے واقعات ہونے کی صورت میں ذمہ دار لوگوں کو پتہ چلا سکے گا اور ان کے خلاف معاف کرنے کے لیے بھی اس سے فائدہ ہوگا
 
اس شہری کی بات سے ایک بات بھی زور دی جا رہی ہے کہ وہی ہم سب کو اچانک اس طرح کی حالات میں مبتلا کر سکتی ہیں جس سے ہمیں محفوظ اور آمن مومن تھان تک بھی نہ جانے کی صورت میں پریشانی کا سامنا کرنا पड़तا ہے۔ لگتا ہے ایسے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور Police aur adminstrators ko ہمیں بتانا چاہئیں کہ ایسے حالات میں سہی سے کام کرنا ہے
 
یہی وہ شہری ہے جس نے دو سال قبل اپنی موٹر سائیکل پر ایچالان ملنا اور اب اس کی برآمدگی کا معاملہ ٹھوس کیا، ان کا بات چیت کرنے کا راستہ بہت ہی مہم جاتا ہے، پہلے سے ایچالان ملنا اور اب اس پر لگایا گیا ای چالان کی بات سے یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ شہر میں ٹریفک خلاف ورزی کیسے چل رہی ہے، اور اس کے لیے کسی نے ذمہ داری وار نہیں لینا چاہتا ہے
 
اس طرح کے چالانوں کے بعد نئی دھندلڈی کا معاملہ تو بہت آگے بڑھتا دیکھ رہا ہے! 🤦‍♂️
 
یہ سچ ہو گا کہ یہ شہری ایسے شخص کو تلاش کرنے والی ایف آئی آر کے لیے ایک ناقص رکن بن گیا ہے... 🤔

لیکن، اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی موٹر سائیکل پر دو سال سے چوری کر لی گئی تھی اور اب وہ ایک ایسا شخص کو تلاش کرنے والی ایف آئی آر میں پھنس رہا ہے جو اس کا مقصد یہی ہے... 😬

اب یہ شہری پولیس اور حکام سے بات کر رہا ہے کہ ان کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اس معاملے کیشفاف تحقیقات کی جاں تاکہ اصل ذمہ داروں کا تعین ہوسکے... 👮‍♂️

لیکن، یہ بھی سچ ہے کہ شہر میں اس طرح کی واقعات شہریوں کو مزید پریشانی اور ذہنی متاثریت میں ڈالتے رہتے ہیں... 😩
 
واپس
Top