بلوچستان کے مختلف حصوں میں ایک شدید زلزلہ کے جھٹکے محسوس ہوئے ہیں، جس کی فوری رپورٹ بھی دے دی گئی ہے۔ یہ جھٹکے بلوچستان کے ضلع دالبندین اور اس کے آس پاس کی علاقوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں، جو صحت و سلامتی پر بھارپور اثر انداز ہوگا۔
زلزلہ پیما مرکز نے بتایا ہے کہ یہ زلزلہ پیما مرکز کی جانب سے 4.2 ریکارڈ کی شدت کے ساتھ منسلک ہوا، جو کہ بالکل بھی خوفناک بات ہے۔ اس جھٹکے کے بعد نتیجے میں ضلع دالبندین کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا اور انحطاط سے بچنے کے لیے فوری انتہائی دباؤ ہوگا۔
زلزلے کی صورت حال کو دیکھتے ہیں تو یہ بہت غمزناک لگ رہی ہے، بلوچستان کے مختلف حصوں میں ایسا سچم چل رہا ہے جو کسی کی उमید کو برطرف کر دے گا اور لوگوں کی زندگیوں کو بھی تباہ کر دے گا...
بلوچستان کے ضلع دالبندین کے آس پاس میں یہ جھٹکے محسوس ہوئے ہیں، جو صحت اور سلامتی پر بھارپور اثر انداز ہونے والا ہے...
وزن دار نیشنل اینجینسی سسٹم (NMS) کے مطابق یہ زلزلے 4.2 ریکارڈ شدت کے ساتھ منسلک ہوا، جو بہت خطرناکن بات ہے...
اس جھٹکے کی وجہ سے ضلع دالبندین کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا اور انحطاط سے بچنے کے لیے فوری انتہائی دباؤ ہوگا...
بلوچستان میں یہ جھٹکے پہلی بار لگتے ہی 50 ہزار افراد کو ملازمت کی ایک روز کی چکی دی گئی، اب یہ 1 لاکھ 30 ہزار سے زیادہ لوگوں کے لیے ایسی ہو رہی ہے। پیما مرکز نے بتایا کہ 4.2 ریکارڈ شدت کا یہ زلزلہ کچھ کھینچ سے زیادہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایسا ایک زلزلہ تھا جس کے بعد مہاراجہ کولن کی طرح وہاں کو ایسا ادراک ہوا جیسا کہ ان کو پورے پاکستان میں اس سے قبل بھی نہیں ہوا تھا।
یہ جھٹکے نتیجے میں بلوچستان کی ایک لاکھ 30 ہزار سے زیادہ لوگوں کو گزرنے کے لیے ایک دن میں دو دن کی کامیاب ملازمت دی جائیگی، جبکہ ہر سال 10 لاکھ سے بھی زیادہ لوگ یہاں کام کر رہے ہیں، اب ان سب کو ایک روز کی ملازمت دی جانی پڑے گی اور اس میں نکلنے کے لیے بھرپور انتہائی دباؤ پڑے گا، ایسا ہوگا کہ یہاں سے نکل کر پورے پاکستان میں کام کرنے والوں کو ایک روز کی ملازمت دی جائیگی اور ان لوگوں کو واپس آنے کے لیے انتہائی دباؤ ہی پڑے گا
میری بات یہ ہے کہ میرا باپ پچاس سال کی عمر میں تھا تو وہ بھی کوئی زلزلہ محسوس نہیں کر سکتا تھا، اس وقت کو لاکھوں لوگوں نے انکھٹ کیا ہوتا کہ ایسے ہی شدت کا زلزلہ کب آئے گا؟ اب یہ بات بھی دیکھنا محرک ہے کہ کیسے صحت و سلامتی پر انفرادی اور مشترکہ اثر انداز رہتا ہے، میری بہن نے اسے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں بھی لکھا ہوگا…
بلوچستان میں یہ زلزلہ پیما مرکز کی جانب سے بتایا گیا تھا تو کیا وہ اس بات کو بھی جانتے تھے کہ ضلع دالبندین اور اس کے آس پاس میں ایسا زلزلہ ہوا ہے؟ یہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ بلوچستان کی حکومت نے فوری جارہتی عمل کی ہوئی، اور زلزلے کے بعد نتیجے میں ضلع د albndin کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا؟ یہ بات بھی پتہ چلتا ہے کہ اس زلزلے کے بعد انحطاط سے بچنے کے لیے فوری انتہائی دباؤ ہوگا? یہ رپورٹ تو بھی کی جاسکتی تھی؟ میں صرف اس پر یقین نہیں کر سکتا!
بلوچستان میں یہ زلزلہ کیا کر رہا ہے! پیما مرکز نے 4.2 کی شدت سے منسلک کیا تو یہ دیکھنے کو ہی مुश्कیل ہوا کہ یہ کس قدر خطرناک تھا... ضلع دالبندین میں اس جھٹکے کا اثر پڑنا ایک بڑا معادل ہوگا، ضروری ہے کہ نتیجے میں فوری مدد ملے... یہ صرف ایک زلزلہ نہیں تھا بلکہ سرگرمی کی ایک مچھلی بھی ہوئی جو لوگوں کو پھیلانے والے خطرے سے بچائے...